ماہ رمضان کے سترھویں دن کی دعا: اعمال صالحہ کی ہدایت

ماہ رمضان کے سترھویں دن کی دعا: اعمال صالحہ کی ہدایت

کپی کردن لینک

سترھویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے نیک اعمال کی ہدایت، اپنی حاجات اور آرزوؤں کی تکمیل، اور محمد و آلِ محمد (ص) پر درود بھیجنے کی توفیق طلب کرتا ہے۔ یہ دعا اس یقین کا اظہار ہے کہ خدا ہمارے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے اور اسے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

ماہ مبارک کے سترھویں دن کی دعا

أَللّهُمَّ اهْدِنى فيهِ لِصالِحِ الاَعْمالِ وَ اقْضِ لى فيهِ الْحَوآئِجَ وَ الآمالَ يا مَنْ لايَحْتاجُ اِلَى التَّفْسيرِ وَ السُّؤالِ يا عالِماً بِما فى صُدُورِ الْعالَمينَ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطّاهِرينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! آج (اس مہینے میں) مجھے نیک کاموں کی طرف ہدایت دے، اور میری حاجتوں اور خواہشوں کو برآوردہ فرما، اے وہ ذات جو کسی سے پوچھنے اور وضاحت و تشریح کی محتاج نہیں، اے جہانوں کے سینوں میں چھپے ہوئے اسرار کے عالم، درود بھیج محمد (ص) اور آپ (ص) کے پاکیزہ خاندان پر۔“

اعمالِ صالحہ: حیاتِ طیبہ کی ضمانت

ماہِ رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ تیزی سے اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سترھویں دن کی دعا ایک ایسے موڑ پر آتی ہے جہاں انسان کو محض خواہشات سے نکال کر ”عملی میدان“ میں لا کھڑا کرتی ہے۔ اب تک ہم نے رحمت اور مغفرت مانگی، لیکن سترھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ مغفرت صرف مانگنے سے نہیں، بلکہ ”کرنے“ سے ملتی ہے۔ یہ دعا انسان کی زندگی کے تین اہم ترین پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے: عمل کی درستگی، امیدوں کا مرکز، اور قبولیت کی مہر (صلوات)۔

دعا کے پہلے اور سب سے بنیادی حصے میں اعمالِ صالحہ کی توفیق اور ہدایت مانگی گئی ہے: أَللّهُمَّ اهْدِنى فيهِ لِصالِحِ الاَعْمالِ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں نیک اعمال کی طرف ہدایت فرما)۔ سترھویں دن کی دعا یہاں لفظ ”ہدایت“ استعمال کر کے یہ بتاتی ہے کہ نیک عمل کرنا بھی انسان کے بس کی بات نہیں، جب تک اللہ راستہ نہ دکھائے۔

جس طرح علم دو طرح کا ہوتا ہے، مفید اور مضر، اسی طرح عمل بھی ”صالح“ (نیک) اور ”طالح“ (برا) ہوتا ہے۔ سترھویں دن کی دعا ہمیں صالح عمل کا شعور دیتی ہے۔ صالح عمل وہ ہے جو وقت کی ضرورت کے مطابق ہو، جس میں نیت خالص ہو، اور جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے خیر کا باعث بنے۔ قرآن کی اصطلاح میں ایسے اعمال کو ”باقیات صالحات“ کہا جاتا ہے، یعنی وہ نیکیاں جو انسان کے مرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہیں۔ مثلاً کوئی تعلیمی ادارہ بنانا، پانی کا نلکا لگوانا، یا کسی کی ایسی تربیت کرنا جو آگے جا کر صدقہ جاریہ بنے۔

اس کے برعکس برے اعمال (جیسے معاشرے میں بے حیائی پھیلانا، سود کا نظام رائج کرنا، یا گمراہ کن فرقوں کی بنیاد رکھنا) ”باقیات طالحات“ بن جاتے ہیں۔ ایسے اعمال کرنے والا مر جاتا ہے لیکن اس کا گناہ اس کی قبر میں پہنچتا رہتا ہے۔ سترھویں دن کی دعا ہمیں اسی بدبختی سے بچنے کی تلقین کرتی ہے۔

قرآن کریم میں عملِ صالح کی جزا ”حیاتِ طیبہ“ (پاکیزہ زندگی) بتائی گئی ہے، بشرطیکہ وہ ایمان کے ساتھ ہو: ”جو کوئی بھی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے پاک و پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے“[1]۔ سترھویں دن کی دعا کا پیغام یہ ہے کہ حیاتِ طیبہ صرف آخرت میں نہیں، بلکہ دنیا میں بھی ملتی ہے۔ نیک عمل کرنے والے کو اللہ دنیا میں ایسا سکونِ قلب عطا کرتا ہے جو بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں ہوتا۔

قیامت کے دن انسان اپنے اعمال کو ”مجسم“ (In personified form) دیکھے گا، چاہے وہ ذرہ برابر نیکی ہو یا بدی[2]۔ وہاں کرنسی نوٹ نہیں چلیں گے، بلکہ کرنسی ”عمل“ ہوگی۔ امام جواد (ع) کا ایک لرزہ خیز فرمان ہے: ”جس طرح لوگ دنیا میں اموال کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے نکلنا چاہتے ہیں، آخرت میں وہ اپنے اعمال کے پیچھے بھاگیں گے“[3]۔ سترھویں دن کی دعا ہمیں یہ فکر دیتی ہے کہ ہم ایسا سرمایہ جمع کریں جو اس دن کام آ سکے جب کوئی سفارش نہیں چلے گی۔

حوائج اور آمال: خدا کا علم اور ہماری طلب

دعا کا دوسرا حصہ حاجات اور آرزوؤں کی تکمیل کے بارے میں ہے: وَ اقْضِ لى فيهِ الْحَوآئِجَ وَ الآمالَ (اور میری حاجتوں اور آرزوؤں کو پورا فرما)۔ سترھویں دن کی دعا یہاں انسانی نفسیات اور خدا کی شانِ الوہیت کا ایک حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔

"حوائج” سے مراد وہ فوری ضروریات ہیں جن کے بغیر زندگی مشکل ہو جاتی ہے (جیسے رزق، صحت، گھر)، اور "آمال” سے مراد مستقبل کی وہ لمبی آرزوئیں ہیں جو انسان امیدوں کے سہارے باندھتا ہے۔ سترھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت (جوتے کے تسمے سے لے کر) اور بڑی سے بڑی خواہش (جنت الفردوس تک) صرف اللہ سے مانگو۔

یہاں ایک لطیف نکتہ یہ ہے کہ کیا اللہ کو ہماری حاجات معلوم نہیں؟ پھر مانگنے کی ضرورت کیا ہے؟ سترھویں دن کی دعا خود اس کا جواب دیتی ہے: يَا مَنْ لَا يَحْتَاجُ إِلَى التَّفْسِيرِ وَ السُّؤَالِ (اے وہ ذات جو تفسیر اور سوال کی محتاج نہیں)۔ خدا وہ ذات ہے جسے ہماری حاجات بتانے یا سمجھانے کی ضرورت نہیں، وہ دلوں کے رازوں سے واقف ہے: ”وہ غائب و حاضر سب کا جاننے والا بزرگ و بالاتر ہے“[4]۔

اسے کسی ”تفسیر“ (Explanation) کی حاجت نہیں کہ ہم لمبی چوڑی تمہید باندھیں، اور نہ ہی اسے ”سوال“ کی حاجت ہے کہ ہم بار بار یاد دلائیں۔ وہ تو ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہے اور ہمارے دل کی دھڑکنوں سے بھی باخبر ہے۔ تو پھر سترھویں دن کی دعا کیوں مانگی جائے؟ اس لیے کہ مانگنا ہماری ”بندگی“ (Servitude) کا اظہار ہے۔ ہم مانگ کر اللہ کو سناتے نہیں، بلکہ اپنی عاجزی کا اعتراف کرتے ہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ ”یا اللہ! تو سب جانتا ہے، لیکن میں فقیر ہوں، تیرے در پر دامن پھیلانا میری ضرورت ہے، تیری مجبوری نہیں“۔

سترھویں دن کی دعا کا یہ حصہ انسان کو بہت بڑا اطمینان (Confidence) دیتا ہے۔ جب انسان کو یقین ہو جائے کہ میرا رب بن مانگے بھی جانتا ہے، تو اس کی بے چینی ختم ہو جاتی ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اگر میری زبان گنگ بھی ہو جائے، تب بھی میرا رب میری آنکھوں کی نمی کا مفہوم سمجھتا ہے۔ یہ جملہ دراصل ”توکل“ کی انتہا ہے۔

صلوات: دعاؤں کی قبولیت کا راز

دعا کا اختتام محمد و آلِ محمد (ص) پر درود بھیجنے پر ہوتا ہے: صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطّاهِرينَ (رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی پاکیزہ آلؑ پر)۔ سترھویں دن کی دعا کے آخر میں صلوات کا ذکر محض رسمی نہیں، بلکہ یہ دعا کی قبولیت کی ”چابی“ اور ”ضمانت“ ہے۔

صلوات بھیجنا اللہ کا حکم ہے اور یہ وہ واحد عمل ہے جس میں اللہ اور اس کے فرشتے بھی شامل ہیں[5]۔ لیکن سترھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ صلوات ”ناقص“ (مبتورہ) نہیں ہونی چاہیے۔ رسول خدا (ص) نے فرمایا: ”مجھ پر ناقص صلوات نہ بھیجو۔ صحابہ نے پوچھا: ناقص صلوات کیا ہے؟ فرمایا: یہ کہ تم کہو ‘اللهم صل علی محمد’ اور رک جاؤ۔ بلکہ میرے ساتھ میرے اہل بیت (ع) کو بھی شامل کرو“[6]۔

یہ صرف شیعہ عقیدہ نہیں، بلکہ اہل سنت کی معتبر ترین کتب (صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی وغیرہ) میں بھی آلِ محمد (ص) پر درود بھیجنے کا حکم واضح طور پر موجود ہے[7]۔ نماز میں تشہد کے اندر جو درودِ ابراہیمی پڑھا جاتا ہے، اس میں آلِ محمد کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بیت (ع) کے ذکر کے بغیر نماز بھی مکمل نہیں ہوتی۔

امام شافعی (رح) نے اپنے مشہور اشعار میں اہل بیت (ع) کی محبت کو فرض قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: ”اے اہل بیتِ رسول! آپ کی محبت اللہ کی طرف سے فرض ہے جو قرآن میں نازل ہوئی ہے۔ آپ کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ جو آپ پر درود نہ بھیجے، اس کی نماز نہیں ہوتی (لا صلاۃ لہ)“[8]۔

سترھویں دن کی دعا میں صلوات کو شامل کرنے کا فلسفہ یہ ہے کہ صلوات دعا کو آسمان تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ امام علی (ع) فرماتے ہیں کہ ہر دعا آسمان اور زمین کے درمیان رکی رہتی ہے (محجوب رہتی ہے) جب تک کہ محمد و آلِ محمد پر صلوات نہ بھیجی جائے۔ رسول خدا (ص) نے فرمایا: ”جو لوگ میری آل کو صلوات سے محروم کریں، ان تک جنت کی خوشبو نہیں پہنچے گی“[9]۔

نتیجہ

ماہ رمضان المبارک کے سترھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راز نیک اعمال میں ہے، اور ہماری حاجات صرف وہی ذات پوری کر سکتی ہے جو بن مانگے عطا کرتی ہے۔ اور سب سے اہم یہ کہ ہماری دعائیں تبھی بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پائیں گی جب ہم محمد و آلِ محمد (ص) پر درود بھیج کر ان سے اپنی عقیدت کا اظہار کریں گے۔

حوالہ جات

[1] سورہ نحل، آیت 97۔
[2] سورہ زلزلہ، آیت 7-8۔
[3] مجلسی، بحار الانوار، ج 75، ص 369۔
[4] سورہ رعد، آیت 9۔
[5] سورہ احزاب، آیت 56۔
[6] عاملی، وسائل الشیعہ، ج 7، ص 207۔
[7] طباطبائی، المیزان، ج 16، ص 365۔
[8] امینی، الغدیر۔
[9] عاملی، وسائل الشیعہ، ج 4، ص 1219۔

فہرست منابع

1۔ قرآن کریم۔
2۔ امینی، عبد الحسین، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب، بیروت، دار الکتاب العربی، 1397ق۔
3۔ طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، جامعہ مدرسین، 1417ق۔
4۔ عاملی، حر، وسائل الشیعہ، قم، موسسہ آل البیت، 1409ق۔
5۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق۔
6۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
7۔ مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ش۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔