ماہ رمضان المبارک کے آخری ایام تیزی سے گزر رہے ہیں۔ ستائیسویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے شب قدر کی فضیلت کا سوال کرتا ہے، اپنی مشکلات کو آسانی میں بدلنے کی التجا کرتا ہے، اور گناہوں کے بوجھ سے نجات کی درخواست کرتا ہے۔ یہ دعا امید اور خوف کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے۔
ماہ رمضان کے ستائیسویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ ارْزُقْنى فيهِ فَضْلَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ صَيِّرْ اُمُورى فيهِ مِنَ الْعُسْرِ اِلَى الْيُسْرِ وَ اقْبَلْ مَعاذيرى وَ حُطَّ عَنّىِ الذَّنْبَ وَ الْوِزْرَ يا رَؤُفاً بِعِبادِهِ الصّالِحينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! اس مہینے میں مجھے شب قدر کی فضیلت نصیب فرما، اور اس میں میرے امور و معاملات کو سختی سے آسانی کی طرف پلٹا دے، میری معذرتوں کو قبول فرما اور گناہوں کا بھاری بوجھ میری پشت سے اتار دے، اے نیک بندوں پر مہربانی کرنے والے۔“
شب قدر کی فضیلت: نزول قرآن کی رات
ماہ رمضان المبارک کے الوداعی ایام اپنے دامن میں بے پناہ رحمتیں سمیٹے ہوئے ہیں۔ جوں جوں یہ مبارک مہینہ اختتام کی جانب بڑھتا ہے، مومن کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں کہ کہیں وہ ان برکتوں سے محروم نہ رہ جائے۔ ستائیسویں دن کی دعا درحقیقت اسی بے قراری، امید اور طلبِ مغفرت کا حسین امتزاج ہے۔ اس دعا میں ہم اپنے پروردگار سے شبِ قدر کی عظیم فضیلت، کٹھن حالات کے بعد آسانی، اپنی ٹوٹی پھوٹی معذرتوں کی قبولیت اور گناہوں کے بھاری بوجھ سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔ ستائیسویں دن کی دعا انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر اللہ کی صفتِ رأفت (انتہائی مہربانی) کے سائے میں لے آتی ہے۔
دعا کے پہلے اور سب سے اہم حصے میں شب قدر کی فضیلت اور اس کے فیوض و برکات طلب کیے گئے ہیں: أَللّـهُمَّ ارْزُقْنى فيهِ فَضْلَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں شب قدر کی فضیلت نصیب فرما)۔
یہاں ایک انتہائی اہم اور علمی سوال پیدا ہوتا ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔ اگرچہ مکتبِ اہلِ بیت (ع) کی اکثر مستند روایات کے مطابق شب قدر گزر چکی ہے (جو کہ 19، 21 یا خاص طور پر 23 رمضان المبارک کی راتیں بتائی گئی ہیں)، لیکن برادران اہلِ سنت کے ہاں اور ان کی مستند کتب کی روایات کے مطابق ستائیسویں شب کو شب قدر ہونے کا سب سے زیادہ امکان اور اہمیت دی گئی ہے[1]۔ تو سوال یہ ہے کہ جو لوگ 23 رمضان کو شب قدر مانتے ہیں، وہ ستائیسویں دن کی دعا میں دوبارہ شب قدر کیوں مانگ رہے ہیں؟
اس کا نہایت خوبصورت اور منطقی جواب دعا کے لفظ "فيهِ" (اس میں) میں پوشیدہ ہے۔ عربی گرامر اور دعاؤں کے اسلوب کے مطابق یہاں "فیہ” کا اشارہ صرف ستائیسویں دن کی طرف نہیں ہے، بلکہ اس کا اشارہ پورے "ماہ رمضان” کی طرف ہے۔ بندہ دراصل یہ التجا کر رہا ہے کہ "اے اللہ! اس پورے مہینے میں جو شب قدر گزری ہے، چاہے وہ اکیسویں تھی، تیئیسویں تھی یا آج ستائیسویں ہے، مجھے اس کی فضیلت اور اس کا اجر و ثواب عطا فرما”۔
مزید برآں، اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پناہ حکمت کے تحت اس رات کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں مبہم اور پوشیدہ رکھا ہے۔ اس پوشیدگی کا مقصد یہ ہے کہ بندے کسی ایک رات پر اکتفا کر کے نہ بیٹھ جائیں، بلکہ وہ ہر رات کو شب قدر سمجھ کر عبادت میں گزاریں اور گناہوں سے بچیں۔
ستائیسویں دن کی دعا ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ شب قدر کی تلاش کا سفر 23 رمضان کو ختم نہیں ہوتا، بلکہ اللہ کی رحمت کے دروازے آخری رات تک کھلے رہتے ہیں۔ شب قدر وہ رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا[2] اور جو ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ اس رات میں پورے سال کے امور (رزق، حیات، موت، اور کائنات کے اہم فیصلے) کا تعین ہوتا ہے۔ لہٰذا، ستائیسویں دن کی دعا کے ذریعے ہم اس بات کی تجدید کرتے ہیں کہ پروردگار، ہمارے نامۂ اعمال میں اس عظیم رات کی عبادات کا پورا پورا حصہ لکھ دے۔
الٰہی سنت اور آزمائشوں کا فلسفہ
دعا کا دوسرا اہم جزو مشکلات اور کٹھن حالات کا آسانی میں بدلنا ہے: وَ صَيِّرْ اُمُورى فيهِ مِنَ الْعُسْرِ اِلَى الْيُسْرِ (اور میرے معاملات کو اس مہینے میں مشکل سے آسانی کی طرف موڑ دے)۔
دنیا دار الامتحان ہے اور مصائب، بیماریاں اور مشکلات اس کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ آزمائشیں انسان کے ارادوں کو نکھارتی ہیں اور اسے خدا کے قریب تر کرتی ہیں۔ ستائیسویں دن کی دعا ہمیں قرآنِ مجید کے اس ابدی اصول اور الٰہی سنت کی یاد دلاتی ہے کہ ہر مشکل کے دامن میں ایک آسانی چھپی ہوتی ہے۔ سورہ الم نشرح میں اللہ کا قطعی وعدہ ہے: ”ہاں زحمت کے ساتھ آسانی بھی ہے، بے شک تکلیف کے ساتھ سہولت بھی ہے“[3]۔
یہاں لفظ "صيّر” (تبدیل کر دے) استعمال ہوا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حالات کو بدلنا صرف اور صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ مومن کے لیے کوئی بھی مصیبت محض سزا نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک رحمت ہوتی ہے کیونکہ یہ اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے اور اسے صبر کا بے پناہ اجر ملتا ہے۔ ستائیسویں دن کی دعا پڑھتے ہوئے انسان اپنے رب پر یہ کامل توکل ظاہر کرتا ہے کہ جس طرح تو نے سردیوں کی خزاں کو بہار میں بدلا ہے، اسی طرح تو میری زندگی کے تمام معاشی، جسمانی اور روحانی معاملات کو مشکل (عسر) سے نکال کر راحت اور آسانی (یسر) کی طرف موڑ دے گا۔
بارگاہ الٰہی میں ندامت
تیسرا تقاضا عذر قبول کرنا اور گناہوں کا بوجھ اتارنا ہے: وَ اقْبَلْ مَعاذيرى وَ حُطَّ عَنّىِ الذَّنْبَ وَ الْوِزْرَ (اور میری معذرتوں کو قبول فرما، اور مجھ سے گناہوں اور بوجھ کو اتار دے)۔
ستائیسویں دن کی دعا کے اس حصے میں لفظ "معاذیر” (عذر کی جمع) استعمال ہوا ہے۔ انسان جب بھی کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اپنے دفاع میں کچھ بہانے اور عذر تراشتا ہے (جیسے نفس کی کمزوری، شیطان کا دھوکہ، یا حالات کی مجبوری)۔ اللہ کے حضور کوئی بھی عذر حقیقی معنوں میں "عذر” نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ ہمارے ظاہر و باطن، اور دلوں کے رازوں کو مکمل طور پر جانتا ہے۔ لیکن یہ اس کریم کا فضل اور احسان ہے کہ وہ بندے کی ٹوٹی پھوٹی، بے ربط اور کمزور معذرت کو بھی محبت سے قبول کر لیتا ہے۔
اسی طرح لفظ "وزر” کا مطلب ایک انتہائی بھاری بوجھ ہے۔ گناہ انسان کی پیٹھ پر ایک بھاری بوجھ کی طرح ہوتے ہیں، جو اس کی روحانی پرواز کو روک دیتے ہیں، خصوصاً اگر وہ گناہ ایسے ہوں جو دوسروں کو بھی گمراہ کرنے اور ان کے حقوق چھیننے کا سبب بنے ہوں۔ ستائیسویں دن کی دعا ہمیں اس بوجھ سے آزاد ہونے کا راستہ دکھاتی ہے۔
توبہ کے بعد اس بوجھ کا اتر جانا اور عذاب کا ٹل جانا سراسر اللہ کا احسان ہے، ورنہ اگر وہ خالص عدل اور انصاف کے تقاضوں پر فیصلہ فرماتا تو شاید ہی کوئی انسان اس کی گرفت سے بچ پاتا۔ ہم ستائیسویں دن کی دعا میں التجا کرتے ہیں کہ یا اللہ، جس طرح مسافر اپنی منزل پر پہنچ کر پیٹھ سے سامان کا بوجھ اتار دیتا ہے، تو بھی ہمارے نامۂ اعمال سے ان گناہوں کے انبار کو گرا دے (حُطَّ)۔
رؤف بالعباد: مہربان رب کی آغوش رحمت
ستائیسویں دن کی دعا کا اختتام اللہ کی صفتِ رأفت (انتہائی شفقت و مہربانی) پر ہوتا ہے: يا رَؤُفاً بِعِبادِهِ الصّالِحينَ (اے اپنے نیک بندوں پر بہت زیادہ مہربانی کرنے والے)۔
لفظ "رؤف” رحمت سے بھی آگے کا درجہ ہے۔ رحمت کا مطلب ہے کسی مصیبت زدہ پر رحم کرنا، جبکہ رأفت کا مطلب ہے اتنی محبت اور شفقت کرنا کہ مصیبت کو آنے ہی نہ دیا جائے۔ ستائیسویں دن کی دعا کا یہ اختتام مومن کے دل کو ایک گہرے سکون سے بھر دیتا ہے۔ جب بندہ سچے دل سے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے، اپنی معذرتیں پیش کرتا ہے، اپنی مشکلات کو آسانی میں بدلنے کی گڑگڑا کر التجا کرتا ہے، اور شبِ قدر کی لامحدود برکتوں کا سوال کرتا ہے، تو وہ مہربان اور رؤف رب اپنے بندے کو کبھی مایوس نہیں لوٹاتا۔
ستائیسویں دن کی دعا ہمیں یہ پختہ یقین دلاتی ہے کہ اگر ہم اپنی نیتوں کو خالص کر کے صالحین کے راستے پر چلنے کی کوشش کریں گے، تو اللہ کی رأفت و شفقت ہمارے تمام اعمال کو شرفِ قبولیت بخش دے گی۔
نتیجہ
ماہ رمضان کے ستائیسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ شب قدر کی فضیلت صرف جاگنے میں نہیں بلکہ اس کے پیغام کو سمجھنے میں ہے۔ زندگی کی مشکلات عارضی ہیں اور ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے گناہوں کا بوجھ اللہ کے حضور اتار دینا چاہیے، کیونکہ وہی ہے جو ہمارے عذر قبول کرتا ہے اور ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیتا ہے۔
حوالہ جات
[1] سیوطی، الدر المنثور، ج 6۔
[2] سورہ قدر، آیت 1۔
[3] سورہ انشراح، آیت 5-6۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، بیروت، دار الفکر، 1993ء۔
3۔ طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، 1372ش۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان؛ ماہِ رمضان کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔