ماہ رمضان کے اٹھائیسویں دن کی دعا: مسائل کی قبولیت

ماہ رمضان کے اٹھائیسویں دن کی دعا: مسائل کی قبولیت

کپی کردن لینک

ماہ رمضان المبارک کے آخری لمحات آن پہنچے ہیں۔ اٹھائیسویں دن کی دعا مومن کو واجبات سے بڑھ کر "نوافل” کی طرف متوجہ کرتی ہے، دعاؤں کی قبولیت کی امید دلاتی ہے اور اللہ کے قرب کے لیے بہترین "وسیلہ” تلاش کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ دعا بندے کو اللہ سے قریب تر کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

ماہ رمضان کے اٹھائیسویں دن کی دعا

أَللّهُمَّ وَفِّرْ حَظّى فيهِ مِنَ النَّوافِلِ وَ أَكْرِمْنى فيهِ بِاِحْضارِ الْمَسائِلِ وَ قَرِّبْ فيهِ وَسيلَتى اِلَيْكَ مِنْ بَيْنِ الْوَسائِلِ يا مَنْ لا يَشْغَلُهُ اِلْحاحُ الْمُلِحّينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! اس مہینے کے نوافل اور مستحبات سے میرا حصہ بڑھا دے، اور اس میں میری التجاؤں کی قبولیت سے مجھے عزت دے، راستوں کے درمیان میرا راستہ (وسیلہ) اپنے حضور قریب فرما، اے وہ جس کو اصرار کرنے والوں کا اصرار (دوسروں سے) غافل نہیں کرتا۔“

نوافل: قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ اور روحانی ارتقاء

رمضان المبارک اپنی تمام تر روحانی تجلیوں اور برکتوں کے ساتھ رخصت ہونے کے قریب ہے۔ الوداعی ایام میں مومن کا دل ایک عجیب کیفیت کا شکار ہوتا ہے؛ ایک طرف جدائی کا غم اور دوسری طرف اللہ کی رحمتوں کی امید۔ اٹھائیسویں دن کی دعا درحقیقت اسی روحانی سفر کے اختتامی مراحل کا ایک خوبصورت اور جامع خلاصہ ہے۔

اٹھائیسویں دن کی دعا میں انسان اپنے پروردگار سے محض بنیادی فرائض کی تکمیل نہیں مانگتا، بلکہ وہ بندگی کی اس معراج کو چھونا چاہتا ہے جہاں وہ نوافل، مستحبات اور دعاؤں کی قبولیت کے ذریعے اللہ کا خاص قرب حاصل کر سکے۔ اٹھائیسویں دن کی دعا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب انسان اپنے خالق کے در پر سچے دل سے کھڑا ہوتا ہے، تو وہ کس طرح اپنی مناجات، اپنے وسیلے اور اپنی فریادوں کو بارگاہ الٰہی میں پیش کرتا ہے۔

دعا کے پہلے حصے میں نوافل سے وافر اور بھرپور حصے کی درخواست کی گئی ہے: أَللّهُمَّ وَفِّرْ حَظّى فيهِ مِنَ النَّوافِلِ (اے اللہ! اس مہینے میں نوافل میں سے میرا حصہ وافر اور بھرپور کر دے)۔

"نافلہ” کا لغوی مطلب ہے "زیادہ”، "اضافی” اور "غنیمت”۔ فقہی اور عبادی اصطلاح میں اس سے مراد وہ مستحب نمازیں اور عبادات ہیں جو فرض تو نہیں ہیں، لیکن اللہ کے قرب کا سب سے موثر ذریعہ ہیں۔ فرائض تو ہر مسلمان پر لازم ہیں اور ان کی ادائیگی سے انسان عذاب سے بچ جاتا ہے، لیکن محبت اور قربت کا اصل سفر فرائض کے بعد نوافل سے شروع ہوتا ہے۔

مشہور اور متواتر حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "میرا بندہ فرائض کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، لیکن وہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرے اتنا قریب ہوتا چلا جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے”[1]۔ اٹھائیسویں دن کی دعا میں ہم دراصل اللہ کے اسی بے پایاں عشق اور قرب کی التجا کر رہے ہیں۔

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: ”سستی اور کاہلی سے بچو… دو رکعت نفل نماز جو خالصتاً رضاۓ الٰہی کے لیے پڑھی جائے، انسان کو سیدھا جنت میں داخل کر سکتی ہے“۔ اسی طرح امام زین العابدین (ع) فرماتے ہیں کہ نوافل واجب نمازوں کی ان خامیوں اور کمیوں کو پورا کرتے ہیں جو دورانِ نماز دھیان بٹنے سے پیدا ہو جاتی ہیں[2]۔

اٹھائیسویں دن کی دعا ہمیں روزمرہ کے ان نوافل کی طرف متوجہ کرتی ہے جن کی تعداد 34 رکعت ہے (ظہر سے پہلے 8، عصر سے پہلے 8، مغرب کے بعد 4، عشاء کے بعد 2 بیٹھ کر جو ایک شمار ہوتی ہے، شب کی 11 رکعتیں، اور صبح کی فرض نماز سے پہلے 2 رکعتیں)۔ ان تمام مستحبات میں نمازِ شب (تہجد) کی فضیلت سب سے بلند اور عظیم ہے۔ اٹھائیسویں دن کی دعا میں "وفّر حظّی” (میرا حصہ وافر کر دے) کے الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ مومن تھوڑی عبادت پر قناعت نہیں کرتا بلکہ وہ اللہ کے خزانوں سے زیادہ سے زیادہ روحانی فیض سمیٹنا چاہتا ہے۔

بارگاہ صمدیت میں عزت اور وقار کا باعث

اٹھائیسویں دن کی دعا کا دوسرا اہم اور پرامید جزو دعاؤں اور حاجتوں کی باعزت قبولیت ہے: وَ أَكْرِمْنى فيهِ بِاِحْضارِ الْمَسائِلِ (اور مجھے اس میں میری مانگی گئی دعاؤں / مسائل کی حضوری اور قبولیت کے ذریعے عزت بخش)۔

دنیا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ انسانوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا، ان سے مانگنا اور اپنی حاجت پیش کرنا ذلت اور رسوائی کا باعث بنتا ہے۔ مخلوق سے مانگنے میں انسان کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ لیکن ہمارا خالق کتنا کریم ہے کہ اس سے مانگنا ذلت نہیں بلکہ عین عزت ہے۔ اٹھائیسویں دن کی دعا میں لفظ "اکرمْنی” (مجھے عزت عطا کر) اس بات کا واضح اعلان ہے کہ بندگی کا وقار جھولی پھیلانے میں ہے۔ اللہ نے خود قرآن مجید میں صریح حکم دیا ہے: ”مجھ سے مانگو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا“[3]۔

دعا محض اپنی ضرورتیں پوری کروانے کا نام نہیں، بلکہ یہ بذاتِ خود ایک عظیم الشان عبادت ہے۔ تمام انبیاء (ع) مشکل ترین کٹھن حالات اور دشواریوں میں بھی صرف اللہ ہی سے مانگتے تھے۔ مانگنے کے لیے مسلمان ہونا بھی شرط نہیں، اللہ تو ہر اس پکارنے والے کی سنتا ہے جو سچے دل سے اسے پکارے۔ اٹھائیسویں دن کی دعا ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ جب ہم اپنی حاجتوں (مسائل) کو اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں، تو وہ رب العالمین ہماری دعاؤں کو رد نہیں کرتا بلکہ انہیں اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت بخش کر ہمیں عزت و تکریم سے نوازتا ہے۔

شفاعت، توسل اور نجات کا ابدی راستہ

اٹھائیسویں دن کی دعا میں تیسرا اور عقیدتی لحاظ سے انتہائی اہم تقاضا بہترین وسیلے کا قرب ہے: وَ قَرِّبْ فيهِ وَسيلَتى اِلَيْكَ مِنْ بَيْنِ الْوَسائِلِ (اور تمام وسیلوں میں سے میرے وسیلے کو اپنی ذات کے قریب تر کر دے)۔

اٹھائیسویں دن کی دعا کا یہ حصہ قرآنی تعلیمات کی روح ہے۔ قرآن مجید میں واضح حکم موجود ہے: ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو“[4]۔ اللہ کی ذات بے نیاز اور لامحدود ہے، جبکہ انسان ضعیف اور خطا کار ہے۔ اس کمزور انسان کو اس ذاتِ مطلق تک پہنچنے کے لیے ایک مضبوط کڑی اور ذریعے کی ضرورت ہوتی ہے جسے "وسیلہ” کہا جاتا ہے۔

امیر المومنین حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ بہترین وسیلہ اللہ پر ایمان، جہاد، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور صلہ رحمی ہے[5]۔ یہ تمام اعمال وسیلہ ہیں، لیکن روایات اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں "حبل اللہ” (اللہ کی وہ رسی جس کے ذریعے اس تک پہنچا جاتا ہے) سے مراد محمد و آلِ محمد (ع) کی پاکیزہ ہستیاں ہیں[6]۔ سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا (ع) اپنے ایک خطبے میں نہایت بلیغ انداز میں فرماتی ہیں: ”اللہ اور اس کی تمام مخلوقات کے درمیان ہم اہلِ بیت (ع) ہی اصل وسیلہ اور رابطہ ہیں“[7]۔

توسل کا یہ عقیدہ کوئی نیا یا غیر قرآنی نظریہ نہیں ہے۔ قرآن پاک میں خود حضرت یعقوب (ع) کے بیٹوں کے واقعے میں اس کا ذکر موجود ہے۔ جب یوسف (ع) کے بھائیوں کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا، تو وہ براہِ راست اللہ سے معافی مانگنے کے بجائے اپنے والد یعقوب (ع) کے پاس آئے اور عرض کی: "اے ہمارے والد! ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے اللہ سے دعا کیجیے”[8]۔ یہ توسل کی واضح اور ناقابلِ تردید دلیل ہے۔

اٹھائیسویں دن کی دعا پڑھتے ہوئے ہم اللہ سے التجا کرتے ہیں کہ یا رب، ہم نے تیرے محبوبین اور مقربین کی محبت اور ولایت کو اپنا وسیلہ بنایا ہے، تو ہمارے اس وسیلے کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا کر اور ہمیں ان کے صدقے اپنے قریب کر لے۔

اللہ کی شان بے نیازی اور دعاؤں میں استقامت

اٹھائیسویں دن کی دعا کا اختتام اللہ کی اس عظیم الشان صفت پر ہوتا ہے کہ وہ کسی کے اصرار اور بار بار مانگنے سے نہ تھکتا ہے اور نہ بیزار ہوتا ہے: يا مَنْ لا يَشْغَلُهُ اِلْحاحُ الْمُلِحّينَ (اے وہ ذات جسے اصرار کرنے والوں کا اصرار دوسروں کی طرف متوجہ ہونے سے باز نہیں رکھتا)۔

دنیوی بادشاہ، حکمران یا بڑے سے بڑا سخی انسان بھی ایک وقت میں صرف ایک سائل کی بات سن سکتا ہے۔ اگر بہت سارے لوگ ایک ساتھ اس کے سامنے اصرار کرنا اور گڑگڑانا شروع کر دیں، تو وہ گھبرا جاتا ہے، تنگ آ جاتا ہے اور ایک کی بات سن کر دوسرے سے غافل ہو جاتا ہے۔ لیکن اٹھائیسویں دن کی دعا کے یہ اختتامی کلمات ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمارا رب وہ ہے جسے کروڑوں انسانوں کا بیک وقت رونا، گڑگڑانا، اور "الحاح” (یعنی انتہائی اصرار اور ضد کے ساتھ دعا مانگنا) ذرہ برابر بھی پریشان یا غافل نہیں کرتا۔

وہ ایک ہی وقت میں ہر زبان، ہر لہجے اور ہر ٹوٹی ہوئی آواز کو سنتا ہے اور سب کی حاجتیں پوری کرنے کی مکمل قدرت رکھتا ہے۔ اٹھائیسویں دن کی دعا ہمیں یہ حوصلہ دیتی ہے کہ ہم اپنے رب کے سامنے گڑگڑانے، آنسو بہانے اور اپنی التجاؤں پر اصرار کرنے میں کبھی پیچھے نہ ہٹیں۔

نتیجہ

ماہ رمضان کے اٹھائیسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ فرض عبادات کے ساتھ ساتھ نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے، اللہ سے اپنی حاجات مانگنے میں شرمانا نہیں چاہیے، اور اس تک پہنچنے کے لیے بہترین وسیلہ (اہل بیتؑ اور نیک اعمال) تلاش کرنا چاہیے۔ اللہ کی بارگاہ وہ ہے جہاں مانگنے والے کا اصرار اسے ناگوار نہیں گزرتا بلکہ وہ اسے پسند کرتا ہے۔

حوالہ جات

[1] کلینی، الکافی، ج 4، ص 53۔
[2] قمی، منتہی الآمال، ج 1، باب 6۔
[3] سورہ غافر، آیت 60۔
[4] سورہ مائدہ، آیت 35۔
[5] شریف رضی، نہج البلاغہ، خطبہ 110۔
[6] مجلسی، بحار الانوار، ج 24، ص 84۔
[7] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 2، ص 267۔
[8] سورہ یوسف، آیت 97۔

فہرست منابع

1۔ قرآن کریم۔
2۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، قاہرہ، دار احیاء الکتب العربیہ، 1965ء۔
3۔ شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، قم، انتشارات ہجرت، 1414ق۔
4۔ قمی، عباس، منتہی الآمال، قم، موسسہ انتشارات ہجرت، 1422ق۔
5۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق۔
6۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان؛ ماہِ رمضان کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔