نماز عید غدیر کی فضیلت و اہمیت اور اس کے آداب کی ایک خاص منزلت پائی جاتی ہے اسی لیے اسلامی تقویم میں عید غدیر کو ایک منفرد اور عظیم المرتبت دن کے طور پر جانا جاتا ہے، جو نہ صرف ولایت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) کے اعلان کا دن ہے بلکہ دین کی تکمیل اور نعمت کے اتمام کا جشن بھی ہے۔ یہ دن امت مسلمہ کے لیے ایک اعتقادی و عملی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
شیعہ مکتب فکر میں عید غدیر کی عبادات، دعائیں، اور خصوصاً نماز عید غدیر کو غیر معمولی فضیلت حاصل ہے۔ اس نماز کے مخصوص آداب، کیفیت، اور روحانی آثار روایات اہل بیت (ع) میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ زیر نظر مقالہ انہی روایات کی روشنی میں نماز عید غدیر کی فضیلت، کیفیت، اور اس سے متعلقہ دعاؤں و اعمال کا جائزہ پیش کرتا ہے تاکہ مؤمنین اس دن کے روحانی فیض سے بہتر طور پر بہرہ مند ہو سکیں۔
نماز عید غدیر کے آداب و فضائل
نماز عید غدیر اسلامی عبادات میں ایک خاص اور مستحب عمل ہے جس کی فضیلت اور اہمیت متعدد معتبر روایات میں بے حد و حساب بیان کی گئی ہے۔ یہ نماز نہ صرف ولایت امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) کی عظمت اور اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس کے ادا کرنے والے کو عظیم روحانی درجات اور اجر کی نوید بھی دیتی ہے۔ نماز عید غدیر ایک مستحب عمل ہے جس کا ثواب روایات میں بے حد و حساب بیان کیا گیا ہے۔ روایات میں منقول ہے کہ اس نماز کا ثواب ایک لاکھ حج اور ایک لاکھ عمرہ کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ، جو شخص اس نماز کو ادا کرتا ہے اور اپنی دنیوی و اخروی حاجات طلب کرتا ہے، اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔[1]
یہ نماز اسے ادا کرنے والے کو اس شخص کے برابر مقام عطا کرتی ہے جو عید غدیر کے دن رسول اکرم (ص) کے سامنے حاضر ہو کر ولایت کے عہد کی تجدید کرتا ہو۔ اس کے علاوہ، یہ عمل اس شخص کو صادقین کے درجے تک پہنچاتا ہے جو خدا اور اس کے رسول (ص) کی تصدیق کرتے ہیں۔ روایات کے مطابق، اس نماز کا ادا کرنے والا گویا رسول خدا (ص)، امیرالمؤمنین (ع)، امام حسن (ع)، اور امام حسین (ع) کے ساتھ شہادت کا مقام حاصل کرتا ہے۔ مزید برآں، اسے حضرت قائم (ع) کے پرچم تلے نجباء و نقباء میں شمار کیا جاتا ہے۔[2]
نماز عید غدیر کی کیفیت
نماز عید غدیر دو رکعت ہے، جو ظہر کے وقت کے قریب مستحب طور پر ادا کی جاتی ہے۔ نماز عید غدیر کی ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد دس مرتبہ سورۂ توحید، دس مرتبہ آیۃ الکرسی، اور دس مرتبہ سورۂ قدر پڑھی جاتی ہے۔ نماز کے بعد مخصوص دعا اور دعائے ندبہ پڑھنا مستحب ہے۔ اس نماز کو فرادیٰ یا جماعت کے ساتھ ادا کیا جا سکتا ہے، مگر جماعت کی صورت میں فقہی احتیاط کے لیے مرجع تقلید سے رجوع کرنا بہتر ہے۔
نماز عید غدیر دو رکعت پر مشتمل ہے اور اسے ظہر کے قریب ادا کیا جاتا ہے۔ نماز عید غدیر سے قبل غسل کرنا مستحب ہے۔ نماز کی تفصیل درج ذیل ہے:
۱. وقت اور تیاری
وقت: نماز ظہر سے تقریباً آدھ گھنٹہ قبل ادا کی جاتی ہے۔[3]
غسل: نماز سے قبل غسل کرنا مستحب ہے، جیسا کہ عید فطر، عید قربان، یا جمعہ کے دن کیا جاتا ہے۔[4]
لباس اور عطر: بہترین لباس پہننا اور اگر ممکن ہو تو عطر استعمال کرنا مستحب ہے۔[5]
مکان: نماز کھلے آسمان تلے ادا کرنا افضل ہے، جبکہ سورج کی طرف توجہ رکھی جائے۔[6]
۲. نماز کا طریقہ
نماز دو رکعت ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
رکعت اول: سورہ حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید (قل ہو اللہ احد)، دس مرتبہ آیت الکرسی، اور دس مرتبہ سورہ قدر پڑھی جاتی ہے۔[7]
رکعت دوم: سورہ حمد کے بعد وہی سورتیں (دس مرتبہ سورہ توحید، دس مرتبہ آیت الکرسی، اور دس مرتبہ سورہ قدر) پڑھی جاتی ہیں۔[8]
تشہد و سلام: عام نماز کی طرح تشہد اور سلام کے ساتھ مکمل کی جاتی ہے۔
شیخ مفید (م ۴۱۳ ہجری) نے اپنی کتاب الإشراف میں اس نماز کی کیفیت کو کچھ مختلف بیان کیا ہے، جہاں سورہ توحید گیارہ مرتبہ پڑھنے کی روایت ہے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو قرآن کی کوئی بھی سورت پڑھی جا سکتی ہے۔[9]
۳. دعائیں اور اعمال بعد از نماز
نماز کے بعد چند دعائیں اور اعمال مستحب ہیں:
دعا: نماز کے بعد سجدے میں جاتے ہوئے سو مرتبہ "شکراً للہ” کہنا مستحب ہے۔ اس کے بعد دعا پڑھی جاتی ہے جو امام صادق (ع) سے منقول ہے: اللہم إنی أسألک بأن لک الحمد وحدک لا شریک لک…۔[10]
دعائے خاص: نماز کے بعد سورہ آل عمران کی آیت ۱۹۳ اور دیگر دعائیں پڑھی جاتی ہیں، جن میں ولایت امیرالمؤمنین (ع) کی تصدیق اور ظالمین پر لعن شامل ہے۔ "رَبَّنٰا إِنَّنٰا سَمِعْنٰا مُنٰادِياً يُنٰادِي لِلْإِيمٰانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنّٰا. رَبَّنٰا فَاغْفِرْ لَنٰا ذُنُوبَنٰا وَ كَفِّرْ عَنّٰا سَيِّئٰاتِنٰا وَ تَوَفَّنٰا مَعَ اَلْأَبْرٰارِ. رَبَّنٰا وَ آتِنٰا مٰا وَعَدْتَنٰا عَلىٰ رُسُلِكَ وَ لاٰ تُخْزِنٰا يَوْمَ اَلْقِيٰامَةِ إِنَّكَ لاٰ تُخْلِفُ اَلْمِيعٰادَ. اللّهمّ انّى اشهدك و كفى بك شهيدا، و اشهد ملائكتك و حملة عرشك، و سكّان سماواتك و أرضك، بأنّك أنت اللّه لا اله الاّ أنت، المعبود الّذى ليس من لدن عرشك الى قرار ارضك معبود يعبد سواك الاّ باطل مضمحلّ غير وجهك الكريم. لا اله الاّ أنت المعبود لا معبود سواك، تعاليت عمّا يقول الظّالمون علوّا كبيرا، و أشهد أنّ محمّدا عبدك و رسولك، و أشهد أنّ عليّا امير المؤمنين و وليّهم و مولاهم و مولاى …”
اس کے علاوہ، دعائیں جو ولایت اہل بیت (ع) کی تصدیق اور توحید کی گواہی پر مشتمل ہیں، پڑھی جاتی ہیں۔[11]
زیارت: امام صادق (ع) نے فرمایا کہ اس دن امیرالمؤمنین (ع) کی زیارت کرنا مستحب ہے۔[12]
دیگر کیفیات نماز عید غدیر
نماز عید غدیر کی چند دیگر روایات بھی ہیں، جو ذیل میں بیان کی جاتی ہیں:
الف: دو رکعت نماز، ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید، آیت الکرسی، اور سورہ قدر۔ تشہد اور سلام کے بعد دعائیں پڑھی جاتی ہیں۔[13]
ب. دو رکعت نماز، پہلی رکعت میں سورہ قدر اور دوسری میں سورہ توحید۔ سلام کے بعد سجدے میں سو مرتبہ "شکراً للہ” کہا جاتا ہے، پھر دعا پڑھی جاتی ہے، اور دوبارہ سجدے میں سو مرتبہ "الحمد للہ” اور "شکراً للہ” کہا جاتا ہے ۔[14]
ج. غسل کے بعد دو رکعت نماز ظہر سے آدھ گھنٹہ قبل، ہر رکعت میں سورہ حمد، دس مرتبہ سورہ توحید، آیت الکرسی، اور سورہ قدر۔ اس کا ثواب ایک لاکھ حج اور عمرہ کے برابر ہے۔[15]
د. دو رکعت نماز جو دن کے کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے، لیکن ظہر کے قریب افضل ہے۔ پہلی رکعت میں سورہ قدر اور دوسری میں سورہ توحید، اس کے بعد سجدے میں سو مرتبہ "شکراً للہ” اور دعا۔[16]
نماز جماعت
نماز عید غدیر شیعہ فقہ میں ایک متفق علیہ مستحب عبادت ہے، جسے قدیم و جدید فقہاء نے سنت مؤکدہ اور عبادتِ عظیمہ قرار دیا ہے۔ اس کے لیے مخصوص وقت، قرائت، جماعت، خطبہ، اور آداب کی بھی تفصیل بیان کی گئی ہے، اور اس کا روحانی ثواب بے حد و حساب ہے۔ نمازِ عید غدیر کا جماعت کے ساتھ پڑھنا فقہی لحاظ سے محلِ اختلاف ہے۔ بعض فقہاء نے اس کی جماعت کو مستحب قرار دیا ہے، جبکہ دیگر اسے انفرادی طور پر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ احتیاطاً بہتر ہے کہ جماعت سے پہلے اپنے مرجعِ تقلید کے فتوے سے رجوع کیا جائے تاکہ نماز شرعی اصولوں کے مطابق ادا ہو۔
نتیجہ
نماز عید غدیر ایک عظیم عمل ہے جو ولایت امیرالمؤمنین (ع) کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس کے فضائل، دعائیں، اور کیفیات اس دن کی عظمت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس عمل کے ذریعے مؤمنین اپنے ایمان کی تجدید کرتے ہیں اور اہل بیت (ع) کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعلان کرتے ہیں۔
حوالہ جات
[1] شیخ طوسی، التهذیب، ج۳، ص۱۴۳، ح۳۱۷۔
[2] سید ابن طاووس، الاقبال بالاعمال الحسنہ، ج۲، ص ۲۸۳-۲۸۹۔
[3] شیخ مفید، الإشراف، ص۲۸۔
[4] شیخ مفید، المقنعة، ص۲۰۴
[5] شیخ مفید، المقنعة، ص۲۰۴۔
[6] شیخ مفید، المقنعة، ص۲۰۴۔
[7] شیخ طوسی، العروة الوثقی، ج۲، ص۱۰۸۔
[8] شیخ طوسی، العروة الوثقی، ج۲، ص۱۰۸۔
[9] شیخ مفید، الإشراف، ص۲۸۔
[10] قمی، مفاتیح الجنان، اعمال روز غدیر۔
[11] سید ابن طاووس، الاقبال بالاعمال الحسنة، ج۲، ص۲۷۷۔
[12] مجلسی، بحار الانوار، ج۹۵، ص۲۹۸-۳۰۲۔
[13] شیخ طوسی، العروة الوثقی، ج۲، ص۱۰۸۔
[14] سید ابن طاووس، الاقبال بالاعمال الحسنة، ج۲، ص۲۷۷۔
[15] شیخ طوسی، التهذیب، ج۳، ص۱۴۳۔
[16] سید ابن طاووس، الاقبال بالاعمال الحسنة، ج۲، ص۲۷۹۔
فہرست منابع
1.ابن طاووس، سید، الاقبال بالاعمال الحسنة، قم: منشورات رضی، ۱۴۱۰ھ۔
2. قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، عمل روز غدیر، قم: انتشارات دارالحدیث، ۱۳۸۳ھ۔
3. مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، بیروت: دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
4. مفید، شیخ، الإشراف، قم: کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
5. مفید، شیخ، المقنعة، قم: کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
6. طوسی، شیخ، التهذیب، قم: دارالکتب الإسلامیة، ۱۴۰۷ھ۔
7. طوسی، شیخ، العروة الوثقی، قم: مؤسسه النشر الإسلامی، ۱۴۱۲ھ۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
1۔قمی، عباس، و انصاریان، حسین. ۱۳۸۸. مفاتیح الجنان. قم – ایران: دار العرفان. بخش2 ص440۔
2۔خانه کودک. ۱۳۸۶. آداب عید غدیر. قم – ایران: دليل. ج1، ص84۔
3۔محمد جعفر طبسی. «نماز عید غدیر – مجله فرهنگ کوثر.» اردیبهشت 1376 – شماره 2 (4 صفحه – 72 الی 75)۔