حضرت امام علی (ع) اسلامی تاریخ میں نہایت اہم شخصیت ہیں۔ آپ (ع) کی حیات طیبہ میں کئی اہم تاریخی، سماجی، اور سیاسی واقعات پیش آئے، خاص طور پر پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد۔ یہ دور مسلمانوں کے لئے بے حد نازک تھا اور حضرت امام علی (ع) نے اس دوران اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور حکمت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
سقیفہ بنی ساعدہ خلافت کے اختلافات کا آغاز
حضرت رسول اكرم (ص) كى وفات كے فوراً بعد، بعض مسلمانوں نے سقيفہ بنى ساعدہ ميں جمع ہوكر جانشين پيغمبر (ص) معين كرنے كے بارے ميں ایک مٹينگ كى، باوجود اس كے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے اپنى زندگى ہى ميں حضرت امام علی (ع) كو حكم پروردگار كے مطابق اپنا جانشين مقرر فرما ديا تھا. ليكن اس كے برخلاف لوگوں نے حكومت، ابوبكر كے حوالہ كر دى. ابوبكر 13ھ ق ميں 63 سال كى عمر ميں اس دنيا سے چلے گئے. ان كى مدت خلافت دو سال تين ماہ تھي. [1]
ان كے بعد عمر بن خطاب نے ابوبكر كى وصيت كے مطابق خلافت كى زمام سنبھالى اور آخر ذى الحجہ 23ھ ق كو ابولولو ”فيروز” كے ہاتھوں قتل كر ديئے گئے اور ان كى خلافت كى مدت دس سال چھے ماہ اور چار دن تھى۔ [2]
عمر نے اپنا خليفہ معين كرنے كے لئے ایک كميٹى تشكيل دى جس كا نتيجہ و ثمرہ عثمان ابن عفان كے حق ميں ظاہر ہوا. انہوں نے عمر كے بعد محرم كے اواخر ميں 24ھ ق كو خلافت كى باگ ڈور سنبھالى اور ذى الحج 35ھ ق كو نا انصافى اور بيت المال ميں خرد برد كے الزامات كى وجہ سے مسلمانوں كى ايک شورش ميں ایک كثير جمعيت كے ہاتھوں قتل كر ديئے گئے اور ان كى خلافت بارہ سال سے كچھ كم مدت تک رہى. [3]
مذكورہ تينوں خلفاء، پیغمبر اکرم (ص) كے بعد، يكے بعد ديگرے تقريباً 25 سال تک لوگوں پر حكومت كرتے رہے اس طويل مدت ميں اسلام اور جانشينى پيغمبر (ص) كے حوالے سے سب سے زيادہ مستحق و سزاوار شخصيت اميرالمؤمنين حضرت امام علی (ع) كى تھى كہ جنھوں نے صبر و شكيبائي سے كام ليا۔
حضرت علی (ع) کا خلافت کے حق کے لئے احتجاج
حضرت امام علی (ع) خلافت كو اپنا مسلم حق سمجھتے تھے، ان لوگوں كے مقابل اٹھے جنہوں نے ان كے حق كو پامال كيا تھا، آپ (ع) نے اعتراض كيا اور جہاں تک اسلام كى بلند مصلحتوں نے اجازت دى اس حد تک اپنے احتجاج و استحقاق كو ان پر، روشن فرمايا۔
اسلام كى عظيم خاتون حضرت فاطمہ زہراء (ع) نے بھى اس احتجاج ميں حضرت امام علی (ع) كا مكمل ساتھ ديا اور تا حيات ہر موڑ پر آپ (ع) كى مدد كرتى رہيں اور انہوں نے عملى طور پر ثابت كر ديا كہ دوسروں كى حكومت غير قانونى ہے.
ليكن چونكہ اسلام ابھى نيا نيا تھا اس لئے حضرت امام علی (ع) نے تلوار اٹھانے اور جنگ كى آگ بھڑكانے سے گريز كيا. كيونكہ طبيعى طور پر اس فعل سے اسلام كو نقصان پہنچتا اور ممكن تھا كہ حضرت پيغمبر اکرم (ص) كى زحمتوں پر پانى پھیر جاتا۔
يہاں تک كہ حضرت امام علی (ع) نے اسلام كى آبرو بچانے كے لئے ضرورى مقامات پر تينوں خلفاء كى دينى امور اور بہت سے سياسى مشكلات ميں رہنمائي اور ان كى ہدايت سے دريغ نہيں فرمايا جيسا كہ يہ لوگ بھى مجبوراً، گاہے بہ گاہے حضرت امام علی (ع) كى علمى بزرگى اور قابل قدر خدمات كا اعتراف كرتے رہے چنانچہ خليفہ دوم اكثر كہا كرتے تھے: لو لا عليٌ لہلك عمر۔ [4] يعنى ”اگر على نہ ہوتے تو عمر ہلاك ہوگئے ہوتے.”
حضرت علی (ع) کا خلافت قبول کرنے سے انکار
عثمان كے قتل كے بعد اكثريت كے اصرار اور خواہش پر تقريباً مہاجرين و انصار كے اتفاق سے حضرت امام علی (ع) خلافت كے لئے منتخب كئے گئے. آپ (ع) نے پہلے اس عہدہ كو قبول كرنے سے انكار كيا. واضح رہے كہ يہ انكار اس لئے نہيں تھا كہ حضرت امام علی (ع) اپنے اندر زمامدارى كى توانائي اور مصائب برداشت كرنے كى طاقت نہيں پاتے تھے، يا يہ كہ ان سے زيادہ مناسب، اصحاب كے درميان كوئي اور شخص بھى موجود تھا.
بلكہ يہ انكار اس لئے تھا كہ آپ (ع) جانتے تھے كہ اسلامى معاشرہ گذشتہ خلفاء كى غلط سياست كى بنا پر خصوصاً عثمان كے زمانہ خلافت ميں طبقاتى اختلاف اور اجتماعى و اقتصادى تفريق كا شكار ہو چكا تھا.
حضرت امام علی (ع) ديكھ رہے تھے كہ اصلى اسلام كے اصول و مفاہيم كہ جن پر پیغمبر اکرم (ص) اپنى زندگى كے طويل عرصہ ميں عمل كرتے رہے ہيں وہ فراموشى كى نذر ہو كر ختم ہوچكے ہيں. ان تمام چيزوں كو اپنى جگہ پر لانے ميں مشكليں اور سختياں ہونگى اور ان تمام باتوں كے پيش نظر حضرت امام علی (ع) نے چاہا كہ لوگوں كو آزما كر ديكھا جائے كہ وہ انقلاب اسلامى كى روش كو عملى طور پر اختيار كرنے پر كس حد تک آمادہ ہيں، تا كہ بعد ميں ايسا نہ سمجھ بيٹھيں كہ آپ (ع) نے ان كو غافل بنا كر، ان كى انقلابى تحريک اور شورش سے فائدہ اٹھا ليا.
ان تمام باتوں اور دوسرى باتوں كو مد نظر ركھتے ہوئے حضرت امام علی (ع) نے اصحاب اور جمہور كے بہت اصرار كے با وجود فورى طور پر حكمرانى قبول كرنے سے انكار كر ديا اور لوگوں كے جواب ميں فرمايا:
”مجھے چھوڑ دو اور كسى دوسرے كو تلاش كرلو. كيونكہ جو كام سامنے ہے اس ميں طرح طرح كى ايسى مشكلات ہيں كہ دلوں ميں ان كے تحمل كى طاقت اور عقلوں ميں ان كے قبول كرنے كے توانائي نہيں ہے. عالم اسلام كے افق كو ظلم و بدعت كے سياہ بادلوں نے گھير ركھا ہے اور اسلام كا روشن راستہ متغير ہوچكا ہے تم يقين جانو كہ اگر ميں نے خلافت كو قبول كيا تو جو كچھ ميں جانتا ہوں اس كے مطابق تمہارے ساتھ سلوک كرونگا اور كسى بھى بولنے والے كى بات يا ملامت كرنے والے كى ملامت پر كان نہيں دھروں گا”.[5]
حضرت امام علی (ع) منصب فرماں روائی پر
مجمع عام ميں تقرير اور اتمام حجت كے بعد جب لوگوں نے بہت زيادہ اصرار كيا تو حضرت امام علی (ع) نے جمعہ كے دن 25 ذى الحجہ 25ھ ق [6] كو مجبوراً خلافت قبول كر لى اور لوگوں نے آپ (ع) كى بيعت كي.
حضرت امام علی (ع) نے ايسے حالات ميں حكومت كى باگ ڈور سنبھالى كہ جب اسلامى معاشرہ شگاف اور اجتماعى و اقتصادى اختلاف كى بناپر تباہى و ہلاكت كے دہانے پر پہنچ چكا تھا اور ہر طرح كى دشوارياں اور پيچيدہ مشكلات آپ (ع) كے انتظار ميں تھيں.
جن مقاصد كے لئے حضرت امام علی (ع) نے حكومت قبول كى تھى ان كو بروئے كار لانے كے لئے آپ (ع) نے اپنى انقلابى سياست كو چند مرحلوں ميں رائج كيا.
اس سياست كے تين مرحلے تھے: حقوق كا مرحلہ 2. مال كا مرحلہ 3. انتظام كا مرحلہ؛ اب ہم اختصار كے ساتھ مندرجہ بالا، مراحل كا تجزيہ پيش كرتے ہيں:
الف. حقوق كا مرحلہ
حقوق كے سلسلہ ميں حضرت امام علی (ع) كى اصلاحات، تمام لوگوں كو مساوى حقوق دينے اور بيت المال سے بخشش و عطا كے سلسلہ ميں امتياز اور برترى كو لغو قرار دينے پر مبنى تھے. حضرت امام علی (ع) نے فرمايا: ”ذليل اور ستم ديدہ ميرے نزديک طاقتور ہيں يہاں تک كہ ميں ان كا حق انھيں واپس دلادوں اور طاقتور ميرے نزديک ناتواں ہے يہاں تک كہ ميں مظلوم كا حق اس سے واپس لے لوں.” [7]
ب. مالى مرحلہ
اس سلسلہ ميں حضرت امام علی (ع) نے جو پہلا اقدام كيا وہ اس دولت و ثروت كو واپس لينا تھا كہ جو عثمان كى خلافت كے زمانہ ميں ديدى گئي تھي. آپ (ع) نے اموال، ملكيت، پانى اور زمين (يعنى تيول) [8]كو كہ جنہيں عثمان نے اپنے رشتہ داروں اور كارندوں كو بخش ديا تھا، بيت المال ميں واپس لے ليا. [9]
اس كے بعد حضرت امام علی (ع) اموال كى تقسيم ميں لوگوں كو اپنى سياست سے آگاہ كيا اور فرمايا:
”اے لوگو ميں بھى تم ميں سے ایک فرد ہوں اور سود و زياں ميں تمہارے ساتھ شريک ہوں ميں پیغمبر اکرم (ص) كى روش كى طرف تمہارى رہنمائي كروں گا اور ان كے قوانين كو تمہارے درميان جارى كروں گا. آگاہ ہوجاؤ كہ ہر قطعہ زمين اور تیول (يعنى ملك، آب اور زمين) جو عثمان نے دوسروں كو دے ديئے ہيں اور ہر وہ مال، كہ جو مال خدا سے ديا گيا ہے ان سب كو بيت المال ميں واپس لوٹ جانا چاہئے. بيشك كوئي بھى چيز حق كو ختم نہيں كرسكتي. خدا كى قسم اگر ميں ديكھوں كہ يہ مال كسى عورت كو جہيز ميں ديا گيا ہے يا اس سے كوئي كنيز خريدى گئي ہے تو ميں سب كو واپس پلٹا دوں گا. بيشک عدالت ميں وسعت ہے اور اگر كسى پر عدالت سخت اور دشوار ہے تو ظلم و ستم اس پر اور بھى زيادہ دشوار ہوگا” [10]
ج . انتظامى مرحلہ
حضرت امام علی (ع) نے انتظامى سياست كو دو مرحلوں ميں عملى جامہ پہنايا:
1. غير صالح حكمرانوں كو معزول كرنا اور ہٹانا اس سلسلہ ميں آپ (ع) فرماتے ہيں:
”مجھے اس بات سے بہت دكھ ہے كہ اس امت كے بيوقوف اور بدكار لوگ، امور كى باگ ڈور اپنے ہاتھوں ميں لئے ہوئے ہيں اس كے نتيجہ ميں مال خدا كو اپنے درميان ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ ميں الٹ پھير كرتے ہيں اور خدا كے بندوں كو اپنى غلامى كى طرف كھينچے جا رہے ہيں يہ لوگ نيكوكاروں سے لڑتے ہيں اور فاسقوں كو اپنا ساتھى بناتے ہيں اس گروہ ميں كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو شراب پى چكے ہيں اور ان پر حد بھى جارى ہوچكى ہے اور ان ميں سے بعض نے اسلام كو قبول ہى نہيں كيا جب تک كہ ان كے لئے كوئي عطيہ معين نہيں ہوا۔ …” [11]
2. صالح اور لائق حكمرانوں كى تعيين اور ان كو مختلف شہروں ميں بھيجنا. عثمان بن حنيف كو بصرہ كا حاكم، سہل بن حنيف كو شام كا حاكم اور قيس بن زياد كو مصر كا حاكم بنايا اور ابو موسى اشعرى كو مالك اشتر كے اصرار كى بنا پر ان كے عہدہ پر كوفہ ميں باقى ركھا. [12]
خاتمہ
حضرت امام علی (ع) کی زندگی، ان کی حکمت، علم اور قیادت کی مثال ہے۔ آپ کے دور کا یہ اہم موقع اسلامی تاریخ میں ایک نازک موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت امام علی (ع) کی قربانی، استقامت اور حق کے لئے جدوجہد ایک ایسی مثال ہے جو آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ اور آپ کی تعلیمات اور روحانی ورثہ مسلمانوں کی زندگیوں میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔
حوالہ جات
[1]۔ مسعودی، مُروجُ الذَّهَب، ج۲، ص298۔
[2]۔ مسعودی، مُروجُ الذَّهَب، ج۲، ص304۔
[3]۔ مسعودی، مُروجُ الذَّهَب، ج۲، ص333۔
[4]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۴، ص149؛ امینی، الغدیر، ج4، ص66-64، و ج۶، ص81، 93، 106، 113، و ج17، ص151، و ج8، ص186؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغة، ج۱، و58۔
[5]۔ سید رضی، نہج البلاغة، 92۔
[6]۔ ابن اثیر، کامل، ج۳، ص193۔
[7]۔ سید رضی، نہج البلاغة، ”الذليل عندى عزيز حتى اخذ الحق له و القوى عندى ضعيف حتى اخذ الحق منه۔”
[8]۔ ”تيول” سے مراد وہ ملک، پانى اور زمين ہے جو حكومت كى طرف سے كسى كو واگذار كى جائے تا كہ وہ اس كى آمدنى سے استفادہ كرے۔ (عمید، فرہنگ عميد، ج2، ص654)
[9]۔ مسعودى نے مروج الذہب ج2، ص 353 پر اور ابن ابى الحديد نے شرح نہج البلاغہ ج1، ص27 پر اس بات كى تصريح كى ہے زيادہ معلومات كے لئے مذكورہ بالا منابع كى طرف اور اسى طرح شرح نہج البلاغہ خوئي ج3، ص215 اور فى ظلال نہج البلاغة ج1، ص130، شرح بحرانى ج1، ص296 اور كتاب سيرة الائمة مصنف علامة سيد محمد امين ج1، جزء دوم ص11 ملاحظہ ہوں.
[10]۔ شمس الدين، ثورة الحسين، ص75؛ سید رضی، نہج البلاغة، خ15؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغة، ج۱، ص269۔
[11]۔ سید رضی، نہج البلاغة، خ62۔
[12]۔ يعقوبى، تاريخ يعقوبى، ج2، ص179؛ ابن اثیر، كامل ابن اثير، ج3، ص201۔
منابع و مآخذ
1: ابن ابي الحديد، عبد الحميد بن هبة الله، شرح نهج البلاغة، بیروت، موسسة الاعلمی للمطبوعات، 1375ش۔
2: ابن الأثير، علي بن أبي الكرم، الكامل في التاريخ، بيروت، دار الكتاب العربي، ١٤١٧ھ.ق۔
3: ابن ميثم بحرانى، میثم بن علی، شرح نهج البلاغة، تهران، دفتر نشر الکتاب، 1379 ھ.ق۔
4: امین، سید محمد، سیرة الأئمة، تہران، دار الکتب الاسلامیة، تاریخ کے بغیر۔
5: امینی، عبد الحسین، غَدیر فِی الْکِتابِ وَ السُّنّة وَ الْاَدَب، بیروت، موسسة الاعلمی، 1426ھ ق.
6: خویی، میرزا حبیب الله، مِنْهاجُ البَراعَة فی شَرْح نَهجُ البَلاغَة، بیروت، چاپ علی عاشور، ۱۴۲۹ھ ق۔
7: سید رضی، نَهجُ البَلاغة، قم، دار الهجرة، ۱۴۰۹ھ ق۔
8: شمس الدين، محمد مهدي، ثورة الحسين في الوجدان الشعبي، بيروت، دار الکتب الاسلامیة، 1315 ھ.ق۔
9: عمید، حسن، فرهنگ عمید، تہران، امير کبير، 1364ھ ش۔
10: مجلسی، محمد باقر، بِحارُالاَنوار الجامِعَةُ لِدُرَرِ أخبارِ الأئمةِ الأطهار، تہران، دار الکتب الاسلامیة، 1315 ھ.ق۔
11: مسعودی، علی بن حسین، مُروجُ الذَّهَب و مَعادنُ الجَوهَر، قم، دار الهجرة، ۱۴۰۹ھ ق۔
12: مغنیه، محمدجواد، في ظلال نهج البلاغة، بیروت، دار العلم للملايين، 1979م۔
13: یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب؛ تاریخ الیعقوبی، بیروت، دار الكتب العلمية، 1358 ھ.ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مركز تحقيقات اسلامي، تاريخ اسلام جلد۴(حضرت فاطمہ (س) اور ائمہ معصومين عليهم السلام كى حيات طيبة)، مترجم: معارف اسلام پبلشرز، نور مطاف، 1428 ھ ق؛ ص 24 الی 29۔