بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم پر معصومین (ع) کی تأکید

بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم پر معصومین (ع) کی تأکید

کپی کردن لینک

تمام لوگوں کو قرآن مجید سیکھنے کی تأکید کرنے کے ساتھ ساتھ بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم کو زیادہ اہمیت دینے کے بارے میں خاص ترغیب دی گئی ہے۔ کیونکہ انسان بچپن میں قرآن سیکھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے زیادہ آمادگی رکھتا ہے۔ بلکہ بچپن میں قرآن مجید کو سیکھنے پر اس لئے بھی زیادہ زور دیا گیا ہے، کیونکہ  اس کے ذہن کے صفحات صاف اور شفاف ہوتے ہیں لہذا بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم اس کے ذہن میں نقش ہو جاتی ہے۔

بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم دینے کی اہمیت اس حد تک ہے کہ بعض احادیث میں اسے باپ پر بچے کا حق کہا گیا ہے۔

امام علی (ع) فرماتے ہیں: باپ پر فرزند کا حق یہ ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، اس کی اچھی تربیت کرے اور اسے قرآن سکھائے۔[1]

قرآن مجید کی تعلیم اور اولاد کے لئے نمونہ عمل

والد اپنے فرزند کے لئے نمونہ عمل ہوتا ہے۔ وہ اس پر سب سے زیادہ گہرا اثر ڈالنے کا موجب بن سکتا ہے۔ لہٰذا پہلے مرحلے میں بہتر ہے کہ وہ اپنے فرزند کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کی ذمہ داری ذاتی طور پر خود سنبھالے، کیونکہ یہ کام بچے کی پاک فطرت میں قرآن مجید کی بنیادوں کو راسخ کرنے میں زیادہ مدد دے سکتا ہے۔

البتہ واضح ہے کہ اگر باپ خود اس کام کو انجام دینے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اسے اس فریضہ کو انجام دینے کے لئے اپنے فرزند کو لائق اور متدین اساتذہ کے پاس بھیجنا چاہئیے۔

بچپن میں قرآن مجید کی تعلیمی مرکزیت

اسی طرح امیر المؤمنین (ع) کا درج ذیل ارشاد، اسلامی تعلیم و تربیت میں قرآن مجید کی مرکزیت کو اجاگر کرتا ہے کیونکہ بچے کی تربیت بچپن میں قرآن مجید کو بنیادی مواد کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور باپ جو فرزند کی تربیت میں (بالواسطہ یا بلاواسطہ) موثر کردار ادا کرسکتا ہے، کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے فرزند کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کا اہتمام کرے۔

امیر المؤمنین علی (ع) امام حسن (ع) کے نام اپنی وصیت میں بنیادی تعلیمی محور کی حیثیت سے قرآن مجید سیکھنے کے بارے میں تأکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں نے سب سے پہلے خدا کی کتاب کی تعلیم و تفسیر، اسلام کی شریعت، اس کے احکام اور حلال و حرام کا تم سے ذکر کیا اس کی تعلیم کے علاوہ کوئی اور چیز بیان نہیں کی۔[2]

امام علی (ع) اپنے اصحاب اور شیعوں کو بھی اپنے بچوں کو بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم دینے کی سفارش اور تأکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: غالب بن صعصعہ شہر بصرہ میں اپنے بیٹے فرزدق کے ہمراہ امام علی (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا امام (ع) نے اس سے فرمایا: تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: غالب بن صعصعہ مجاشعی ہوں۔

حضرت نے فرمایا: وہی جو بہت سے اونٹوں کا مالک ہے؟ جواب دیا: جی ہاں حضرت نے فرمایا: اونٹوں کو کیا کیا؟ اس نے جواب میں کہا: مشکلات نے انہیں نابود کردیا اور ان کے حقوق کی افدائیگی کو بھی ختم کر کے رکھ دیا۔

حضرت نے فرمایا: اونٹوں کو مصرف کرنے کا یہ بہترین طریقہ تھا اس کے بعد امام (ع) نے فرمایا: اے ابا الاخطل! یہ بچہ جو تمہارے ساتھ ہے، کون ہے؟ غالب بن صعصعہ نے کہا: یہ میرا بیٹا ہے، شاعر ہے اور شعر کہتا ہے۔ حضرت نے فرمایا: اسے قرآن مجید سکھاؤ، کیونکہ اس کے لئے قرآن مجید شعر سے بہتر ہے۔

امام کا یہ فرمان فرزدق کے دل میں بیٹھ گیا اور فرزدق نے خود کو پابند بنا لیا اور قسم کھائی کہ اس بند و قید کو تب تک نہ کھولوں گا جب تک قرآن کو حفظ نہ کرلوں۔ اس نے اسے تب تک نہ کھولا جب تک قرآن مجید کو حفظ نہ کرلیا۔ یہ ہے اس مقولے کا معنی جو کہتا ہے: میرا پاؤں مجاشع کے لوہے کی قید میں داخل نہیں ہوا مگر اس حاجت کے لئے جسے میں نے چاہا تھا۔[3]

فرزدق شعر و شاعری کے لحاظ سے کافی استعداد کا مالک تھا۔ امام علی (ع) نے اس کے باپ کو ابا الاخطل کی کنیت سے خطاب کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت (ع) علم امامت سے اس کی شعر گوئی کی صلاحیت اور اس کے روشن مستقبل سے آگاہ تھے لیکن ان سب کے باوجود آپ (ع) نے اسے قرآن مجید سیکھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: قرآن مجید سیکھنا اس کے لئے شعر سے بہتر ہے اور یہ قرآن مجید کی تعلیم کے عمومی سطح پر، حتیٰ بچپن میں قرآن مجید کا سیکھنا لازم ہونے اور دوسرے علوم پر اسے ترجیح دینے کی ایک اور دلیل ہے۔

حقیقت میں ائمہ اطہار (ع) بچوں کو بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم دینے کے سلسلے میں اپنے قول و فعل سے خاطرخواہ اہتمام فرما رہے تھے تاکہ قرآنی نسل کی تربیت ہوسکے۔ ایک ایسی نسل جس کے وجود اور شخصیت کی بنیاد کا ایک حصہ قرآن مجید اور اس کے معارف ہوں، کیونکہ بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم اور قرآن مجید سے آشنائی بچے کے دل و جان اور اس کے پورے وجود میں قرآن مجید کی نجات بخش تعلیمات کے آمیختہ ہونے کا سبب بنتی ہے۔

بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم کا فائدہ

امام جعفر صادق (ع) اس معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جو مومن جوانی میں قرآن پڑھے، تو قرآن اس کے گوشت اور خون میں آمیختہ ہوجاتا ہے اور خداوند متعال اسے قرآن مجید لکھنے اور حمل کرنے والے مکرم فرشتوں کا دوست اور رفیق بناتا ہے اور قیامت کے دن قرآن مجید اس کا محافظ قرار پائے گا۔ قرآن مجید کہے گا: اے میرے پروردگار! ہر مزدور نے اپنی اجرت پائی ہے، سوائے اس کے جس نے مجھ پر عمل کیا ہے۔ پس تو اسے بہترین اجر عطا کر۔

حضرت (ع) نے فرمایا: اس کے بعد خداوند عزیز و جبار بہشت کے لباسوں میں سے دو لباس اسے پہنائے گا اور اس کے سر پر کرامت کا تاج رکھے گا اور اس کے بعد خداوند متعال قرآن مجید سے مخاطب ہو کر فرمائے گا: کیا میں نے اس شخص کے بارے میں تیری رضامندی حاصل کی؟ قرآن مجید جواب دے گا: مجھے اس سے کہیں زیادہ کی توقع تھی۔ اس وقت اس شخص کے دائیں ہاتھ میں امن و امان اور بائیں ہاتھ میں خلود و جاویدانگی دی جائے گی۔ اس کے بعد وہ بہشت میں داخل ہوگا اور اس سے کہا جائے گا: ایک ایک آیت پڑھو اور ایک ایک درجہ اوپر جاؤ۔

پھر قرآن سے پوچھا جائے گا: کیا اس شخص کو میں نے بہترین اجر تک پہنچا دیا اور تجھے راضی کردیا؟ قرآن مجید جواب دے گا: ہاں۔ امام نے فرمایا: جو کوئی قرآن مجید کو زیادہ پڑھے، اگرچہ قرآن مجید کو حفظ کرنا سخت ہے پھر بھی محنت و مشقت سے اسے حفظ کرے تو خداوند متعال اسے اس کے بدلے میں دہرا اجر عنایت فرمائے گا۔[4]

بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم کا ثواب

پیغمبر اکرم (ص) اولاد کو بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم دینے کے معنوی اجر کے بارے میں فرماتے ہیں: جو اپنے فرزند کو قرآن سکھائے، گویا اس نے دس ہزار حج اور دس ہزار عمرے بجالائے، اسماعیل (ع) کے فرزندوں میں سے دس ہزار غلاموں کو آزاد کیا، دس ہزار جنگیں لڑیں، دس ہزار مسلمان مسکینوں کو کھانا کھلایا، دس ہزار بے لباس مسلمانوں کو لباس پہنایا۔

ہر حرف کے بدلے اس کے حق میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، دس گناہ اس کے معاف کئے جاتے ہیں، دوبارہ اٹھائے جانے تک قرآن اس کے ہمراہ ہوگا، اس کا پلہ بھاری ہوگا، قرآن مجید کے ذریعے پل صراط سے بجلی کے مانند گزرے گا اور قرآن اس سے جدا نہیں ہوگا یہاں تک کہ اسے اس کی آرزو کے مطابق عزت و بزرگی سے ہمکنار کرے گا۔[5]

ایک اور بیان میں آنحضرت (ص) حضرت علی (ع) سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں: قرآن مجید کے قاری کے والدین کے سر پر عزت کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس سے دس ہزار سال کی دوری سے نور چمکے گا۔ انہیں ایک ایسا لباس زیب تن کیا جائے گا کہ دنیا میں موجود لباس کا ایک لاکھ گنا بھی اپنی ساری خوبیوں کے ساتھ اس کے ایک دھاگے کی قیمت کے برابر نہیں ہوگا…[6]

اولاد کو بچپنمیں قرآن مجید کی تعلیم دینے کے بارے میں جو عظیم ثواب مذکورہ دو احادیث میں ذکر ہوا ہے وہ اسلام میں صحیح تربیت کی اہمیت کو (جو ہر معاشرے میں خوبیوں کی ترویج کا سرچشمہ ہے) اچھی طرح سے واضح کرتا ہے۔

بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم سے عذاب کا ٹل جانا

بچوں کا بچپن میں قرآن مجید اپنی پاک فطرت کے ساتھ سیکھنے کے لئے اقدام کرنا (شاید معاشرے میں بنیادی اثر رکھنے کی بناء پر) اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ خداوند متعال اس کے ذریعے دنیا کے لوگوں سے (جو عذاب الٰہی کے مستحق ہوتے ہیں) عذاب کو دور کر دیتا ہے۔

امام علی (ع) فرماتے ہیں: جب اہل زمین گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور برائیوں کو ہوا دیتے ہیں تو خداوند متعال تمام اہل زمین پر بلا استثناء عذاب نازل کرنے کا ارادہ کرتا ہے لیکن جب بوڑھوں کو دیکھتا ہے کہ نماز کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں اور بچوں کو دیکھتا ہے کہ وہ قرآن مجید سیکھ رہے ہیں تو اہل زمین پر رحم فرماتا ہے اور عذاب نازل کرنے میں تاخیر کرتا ہے۔[7]

معلمِ قرآن کا دنیا اور آخرت میں مقام

اگرچہ خود باپ اپنے فرزند کو بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم دینے اور اس کے ابتدائی مراحل طے کرانے میں کلیدی رول ادا کرتا ہے لیکن بچوں اور جوانوں کی قرآنی معلومات کو مکمل کرانے کے لئے معاشرے کو قرآن مجید کے مبلغین کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ واضح ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم کے کام کی توسیع، قرآن مجید کے معلم کے کام کی قدردانی سے وابستہ ہے۔ اس لئے ہم اہل بیت (ع) کی سیرت میں قرآن مجید کے معلم کی قدر و منزلت کے بےمثال نمونے پاتے ہیں۔

نقل کیا گیا ہے کہ عبد الرحمان بن سلمی نے امام حسین (ع) کے فرزند کو سورہ حمد سکھایا۔ جب فرزند نے باپ کے پاس اسے پڑھا تو حضرت نے معلم کو ایک ہزار دینار اور ایک ہزار لباس عطا کئے اور اس کے منہ کو موتیوں سے بھر دیا۔ اس پر امام (ع) پہ اعتراض کیا گیا۔ حضرت نے فرمایا: میری بخشش معلم کی بخشش کے ساتھ قابل موازنہ نہیں ہے۔ (مراد وہی سورہ حمد کی تعلیم تھی)[8]

بچوں کو بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم دینے کے معاملے میں اس قدر اہتمام کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنا کسی خاص عمر سے مخصوص ہے بلکہ قرآن مجید کو سیکھنا انسان کے ایمانی سفر کی راہ میں اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ انسان کو ہر عمر میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔

قبر میں قرآن مجید کا سکھایا جانا

قرآن مجید سیکھنے کا عمل اس دنیا سے بھی وسیع تر دائرے کو شامل ہے۔ اسی لئے بعض احادیث میں بیان ہوا ہے کہ اگر اہل بیت (ع) کے پیروکاروں میں سے کوئی اس دنیا میں قرآن مجید کو سیکھنے میں کامیاب نہ ہوسکے تو اسے مرنے کے بعد عالم برزخ میں قرآن مجید سیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

امام صادق (ع) نے فرمایا: ہمارے دوستوں اور شیعوں میں سے جو بھی مرجائے جبکہ اس نے اچھی طرح سے قرآن مجید نہ سیکھا ہو تو اسے قبر میں قرآن مجید سکھایا جائے گا تاکہ خداوند متعال اس کے سبب اس کا درجہ بلند کرے کیونکہ بہشت کے درجات قرآن مجید کی آیتوں کی تعداد کے برابر ہوں گے۔ قرآن مجید پڑھنے والے سے کہا جائے گا: پڑھو اور ترقی کرتے جاؤ۔[9]

یہ قرآن مجید کی خاص عظمت کی علامت ہے کہ دونوں جہانوں میں انسان کے الٰہی سفر کے لئے قرآنی معارف کی ضرورت ہے۔ اگر مومن کوتاہی اور لاپروائی برتے یا امکان نہ ہونے کے سبب اس دنیا میں قرآن مجید کو نہ سیکھ سکے، تو اپنے معنوی سفر کے لئے اسے عالم برزخ میں بھی سیکھنا ہوگا۔

دوسرے الفاظ میں قرآن مجید کے معارف اتنے عمیق اور گہرے ہیں کہ اس دنیا سے رحلت کر جانا نہ صرف یہ کہ انسان کو قرآن مجید سے بے نیاز نہیں کرتا بلکہ مادیّت کے تاریک پردوں کا ہٹ جانا اور منزلِ یقین تک پہنچنا اس بات کا وسیلہ بنتا ہے کہ انسان قرآن اور اس کے معارف سے بہتر انداز میں بہرہ مند ہوسکے۔

نتیجہ

ائمہ معصومین (ع) نے بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم اور اس کے معارف کو سیکھنے کی بہت تأکید کی ہے بعض روایات کی رو سے اگر کوئی بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتا ہے تو قرآن مجید اس کے گوشت و پوست میں سرایت کر جاتا ہے اور بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اس کا پورا وجود قرآنی اور نورانی ہو جاتا ہے۔

حوالہ جات

[1]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج19، ص365۔
[2]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ؛ ابن شعبه، تحفہ العقول، ص71۔
[3]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج10، ص21۔
[4]۔ حرعاملی، وسائل الشیعہ، ج6، ص178؛ کلینی، کافی، ج2، ص603۔604۔
[5]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج89، ص188۔189۔
[6]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج89، ص268۔
[7]۔ صدوق، علل الشرائع، ج2، ص521؛ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج1، ص239۔
[8]۔ ابن شہر آشوب، المناقب، ج3، ص222؛ مجلسی، بحار الانوار، ج44، ص191 ۔
[9]۔ کلینی، کافی، ج2، ص606۔

فہرست منابع

1۔ ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن هبةالله، شرح نہج البلاغة، قم، کتبة آیت‌الله المرعشي النجفي (ره)، 1404ھ ق۔
2۔ ابن بابویہ، محمد بن علی، علل الشرائع، نجف، مکتبة الداوري المکتبة الحيدرية، 1385ھ ق۔
3۔ ابن بابویه، محمد بن علی، من لا‌يحضره الفقيه، قم، مؤسسة النشر الإسلامي، 1363ھ ش۔
4۔ ابن شعبه، حسن بن علی، تحف العقول عن آل الرسول (ص)، قم، مؤسسة النشر الإسلامي، 1404ھ ق۔
5۔ ابن شهر آشوب، محمد بن علی، المناقب، قم، مؤسسة علامة، 1379ھ ق۔
6۔ حرعاملی، الشیخ محمد بن حسن، وسائل الشيعة إلي تحصيل مسائل الشريعة، بیروت، مؤسسة آل البیت، 1392ھ ش۔
7۔ کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، تہران، دار الکتب الاسلامیة، 1407ھ ق۔
8۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار (ع)، قم، موسسة الوفا، 1403ھ ق۔

مضمون کا مآخذ (ترمیم کے ساتھ)

ترابی، مرتضی، اہل بیت (ع) کی قرآنی خدمات، ج1، ص7 تا 82، اہل البیت (ع) عالمی اسمبلی قم، 1442ق؛ ترجمہ سید قلبی حسین رضوی۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔