قرآن کریم کی پیروی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز

قرآن کریم کی پیروی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز

2025-07-08

368 مشاہدات

کپی کردن لینک

انسان کے لئے سب سے اہم چیز آخرت کی کامیابی اور سعادت ہے، جسے عقل بھی ضروری سمجھتی ہے کہ اسے پوری محنت اور خلوص سے حاصل کیا جائے۔ اس لئے کہ اس دنیا کی زندگی، آخرت کی ابدی زندگی کا مقدمہ ہے۔ دنیا ایک عارضی سفر ہے، جہاں انسان کو قرآن کریم کی ہدایات کے مطابق نیک اعمال کر کے آخرت کے لئے سرمایہ جمع کرنا چاہیے تاکہ دائمی کامیابی حاصل ہو۔

قرآن کی پیروی کرنے والوں کی اخروی کامیابی

انسان کی مثل اس دنیا میں عالم آخرت کی نسبت اس مسافر کے مانند ہے کہ جو پردیس میں رات دن محنت و کوشش کرتا ہے، قناعت کر کے اپنی پونجی جمع کرتا ہے اور اسے اپنے اصلی وطن، اپنے گھر بھیج کر تمنا رکھتا ہے کہ اپنے لئے ایک گھر، ٹھکانہ اور سرمایہ فراہم کرے تاکہ اپنے وطن پلٹ کر پہلے سے بھیجے ہوئے ساز و سامان اور وسائل سے بہرہ مند ہو اور اپنی زندگی کے ان باقی ماندہ چند دنوں کو آرام، عزت اور سربلندی کے ساتھ گزارے، بس فرق یہ ہے کہ یہ دنیوی زندگی محدود اور فنا پذیر ہے لیکن اخروی زندگی ابدی اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔

انسان کے عقائد و اعمال وہ بیج ہیں جو اس دنیا میں انسان کے ہاتھ سے بوئے جاتے ہیں اور عالم آخرت میں اس کا نتیجہ اور محصول ظاہر ہوگا۔ اس دنیا میں اگر کوئی کسان علم زراعت کے ماہر عالم کی ہدایات کی بنیاد پر بیج بوئے تو کاٹنے کے وقت بہترین کیفیت کے ساتھ اپنی زحمتوں کا زیادہ سے زیادہ نتیجہ و محصول حاصل کرے گا۔

اسی طرح اگر لوگ اپنے عقائد و اعمال کو قرآن کریم کی ہدایات اور اہل بیت طاہرین (ع) کے علوم و معارف کی بنیاد پر قائم رکھیں اور اپنے فردی، اجتماعی اور سیاسی امور کو قرآن کریم کی ہدایات کی بنیاد پر منظم کریں، تو دنیا کی عزت و سربلندی کے علاوہ، عالم آخرت میں بھی اپنے نیک اعمال کے نتائج سے بہرہ مند ہوں گے اور اس بات سے خوش ہوں گے کہ اپنے اعمال صالحہ سے رحمت خدا کے جوار میں ایک سعادتمند تقدیر و سرنوشت کے حامل ہوگئے ہیں۔

امیر المومنین حضرت علی (ع) مذکورہ بالا مضمون کو ایک نہایت خوبصورت مثال کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اور لوگوں کو قرآن کریم پر عمل کرنے اور اس کے حیات بخش احکام کی پابندی کرنے کی طرف دعوت دیتے ہیں:

”فَاسْئَلُوا اللّٰهَ بِهِ وَ تَوَجَّهُوا الیهِ بِحُبِّهِ وَ لاتَسْئَلُُوْا بِهِ خَلْقَهُ إنّهُ مَا تَوَجَّهَ العِبَادُ اِلٰی اللّٰهِ بِمِثْلِهِ وَ اعْلَمُوْا إنّهُ شَافِع وَ مُشَفَّع وَ قَائِل مُصَدِّق وَ أَنَّهُ مَن شَفَعَ لَهُ الْقُرآنُ یَومَ الْقِیَامَةِ شُفِّعَ فِیهِ وَ مَن مَّحَلَ بِهِ الْقُرآنُ یَومَ الْقِیَامَةِ صُدِّقَ عَلَیهِ”[1]

”اس کے ذریعہ اللہ سے سوال کرو اور اس کی محبت کے وسیلے سے اس کی طرف رخ کرو، اور دوسرے لوگوں سے مدد طلب کرنے کے لئے قرآن کریم کو وسیلہ قرار نہ دو، اس لئے کہ اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہونے کا اس جیسا کوئی وسیلہ نہیں ہے، اور یاد رکھو! کہ وہ ایسا شفیع ہے جس کی شفاعت مقبول ہے اور ایسا بولنے والا ہے جس کی بات تصدیق شدہ ہے، جس کے لئے قرآن کریم روز قیامت شفاعت کردے اس کے حق میں شفاعت قبول ہے اور جس کا عیب قرآن کریم روز قیامت بیان کردے اس کا عیب تصدیق شدہ ہے۔”

اس کے بعد حضرت قرآن کریم سے لوگوں کی جدائی کے خطرے کو گوش گزار فرماتے ہیں، پھر ان کو اس آسمانی کتاب کی پیروی اور اسے فکر و عمل میں نمونہ قرار دینے کی طرف دعوت دیتے ہیں:

”یُنَادِی مُنَادٍ یَومَ الْقِیَامَةِ أَلاَ إنّ کُلَّ حَارِثٍ مُبْتَلیٰ فِی حَرثِهِ وَ عَاقِبَةِ عَمَلِهِ غَیرَ حَرَثَةِ القُرآنِ فَکُونُوا مِن حَرَثَتِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَ اسْتَدِلُّوهُ عَلٰی رَبِّکُم وَ اسْتَنْصِحُوهُ عَلٰیٰ أَنْفُسِکُمْ وَ اتَّهِمُوْا عَلَیهِ آرَائَکُمْ وَاسْتَغِشُّوْا فِیهِ أَهْوَائَکُمْ”[2]

جس وقت قیامت برپا ہوگی اور خلائق حساب و کتاب اور جزا و سزا کے لئے کھڑے ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا دے گا اور اہل قیامت کو اس حقیقت کی خبر دے گا کہ:

”ہاں اے لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ آج ہر کھیتی کرنے والا اپنی کھیتی اور اپنے عمل کے آثار و نتائج اور محصول و انجام میں مبتلا ہے، لیکن جو لوگ اپنے دل میں قرآن کریم کا بیج بونے والے تھے یعنی دنیا میں اپنے عقائد واعمال قرآن کریم کے احکام و ہدایات کی بنیاد پر قائم رکھے تھے صرف وہی لوگ کامیاب ہیں، لہٰذا تم لوگ انھیں لوگوں میں اور قرآن کریم کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ، اسے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں رہنما بناؤ اور اس سے اپنے نفسوں کے بارے میں نصیحت حاصل کرو اور اپنے خیالات کو متہم قرار دو اور اپنی خواہشات کو فریب خوردہ تصور کرو۔”

تنبیہ و آگاہی

ہر موجود و مخلوق منجملہ انسان کی زندگی اور حیات ایک محدود چیز ہے۔ یہ زندگی ایک خاص نقطۂ زمان (ولادت) سے شروع ہوتی ہے اور ایک خاص نقطۂ زمان میں موت کے ذریعہ ختم ہو جاتی ہے۔ انسان اس محدود زمانہ میں مسلسل متحرک اور ہست و بود کی حالت میں ہے، اور اس کی شخصیت مختلف شکلیں اور صورتیں اختیار کرتی رہتی ہے۔ انسان کی شخصیت جو کہ اس کے عقائد و نظریات سے ابھر کر وجود میں آتی ہے اس کے اعمال و کردار کا مصدر و منشأ ہوتی ہے۔ انسان کے اعمال و کردار بھی روز قیامت مجسم ہو جائیں گے اور ہر شخص اپنے اعمال کے آثار و نتائج دیکھ رہا ہوگا۔

لیکن جو بات یہاں پر قابل توجہ ہے، یہ ہے کہ جب تک انسان اس دنیا سے کوچ نہیں کرتا ہر لمحہ اپنے عقائد و افکار اور اعمال و کردار کا محاسبہ کر کے اپنے ماضی کا جبران اور اس کی اصلاح کرسکتا ہے اور اپنی تقدیر کے رخ کو دنیوی اور اخروی سعادت و کامیابی کی طرف موڑ سکتا ہے۔

کتنے ہی انسان ایسے ہیں جو ایک لمحہ میں سنبھل گئے اور ایک حقیقی توبہ و انابت کے ذریعے اپنے اندھیرے گھپ ماضی کو روشن و سعادتمند مستقبل سے بدل دیا اور سینکڑوں سال کے راستے کو ایک رات میں طے کرلیا، اس لئے کہ: معرفت کا ہر لمحہ عمر جاودانی ہے

لیکن یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ماضی کے محاسبہ، جبران، اصلاح اور تدارک کا امکان فقط اس دنیا میں ہے اور اس دنیائے فانی سے رحلت اور موت کے بعد اصلاح و تدارک کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔

اگر انسان عالم دنیا میں اپنے اعمال و کردار کو قرآن کریم اور الٰہی احکام و معارف کی بنیاد پر قائم رکھے اور حضرت علی (ع) کے ارشاد کے مطابق قرآن کریم کی بنیاد پر کھیتی کرنے والا ہو تو وہ عالم آخرت میں ان کے آثار و محصول سے فیضیاب اور خوش ہوگا۔

عمل اور اصلاح کا موقع صرف دنیا میں پایا جاتا ہے اور عالم آخرت اصلاح و تدارک کی جگہ نہیں ہے: ”اَلْیَومَ عَمَل وَ لاحِسَاب وَ غَداً حِسَاب وَ لاعَمَل”[3]

آج عمل کا دن ہے حساب کا نہیں، اور کل کا دن، حساب کا ہے عمل کا نہیں۔

امیر المومنین حضرت علی (ع) جو کہ دنیا و آخرت کی حقیقت کے عالم، ان کے درمیان رابطے سے آشنا اور مسلمانوں کے خیر خواہ و دلسوز ہیں، ارشاد فرماتے ہیں:

”فَکُوْنُوْا مِنْ حَرَثَةِ الْقُرآن”[4] یعنی اگر سعادت کے طلبگار ہو تو اپنی کھیتی قرآن کریم کے بابرکت کشت زار میں قرار دو، ان لوگوں میں ہو جاؤ جو کہ اس آسمانی کتاب کے حیات بخش احکام و ہدایات پرعمل کر کے اپنی دنیا و آخرت کو آباد کرتے ہیں، قرآن کریم کو نمونہ قرار دو تاکہ کبھی نقصان و خسارہ نہ اٹھاؤ۔

قرآن کریم کی تاثیر اور کامیابی کا راز

ہمارا مشاہدہ ہے کہ ہر اسکیم، دستور العمل اور سیاست کی کامیابی کے لئے خصوصاً تربیتی، ثقافتی اور اجتماعی مسائل کے متعلق تین بنیادی شرطوں کا ہونا ضروری ہے:

۔ اسکیم اور دستور العمل کا ملحوظ خاطر مقصد تک پہنچنے کے لئے درست اور صحیح ہونا۔

۔ اسکیم اور اس کے دستور العمل پر ایمان و اعتقاد رکھنا۔

۔ اسکیم میں ذکر شدہ احکام اور دستور العمل کی بنیاد پر عمل کرنا۔

واضح ہے کہ اگر تینوں شرطوں میں سے کوئی ایک شرط بھی نہیں پائی جائے گی تو اس اسکیم اور دستور العمل کی افادیت جیسا کہ چاہئے ظاہر نہ ہوگی اور ملحوظ خاطر مقصد حاصل نہ ہوگا۔

یہ بات ہم سب کہتے ہیں کہ قرآن کریم خدا کا کلام اور ہم مسلمانوں کی زندگی کا دستور العمل ہے۔ لیکن اس بات کا صرف کہنا اور ظاہری اقرار کافی نہیں ہے، اقرار و اظہار اس صورت میں قرآن کریم اور اس کے حیات بخش احکام پر ایمان سمجھا جائے گا جبکہ قلبی اعتقاد و یقین کی غمّازی کرے اور انسان روح و دل کی گہرائی سے قرآن کریم اور اس کے حیات بخش دستورات و ہدایات پر ایمان رکھتا ہو اور الٰہی ارشادات و پیغامات کے سامنے سراپا تسلیم ہو۔ ایسے ہی ایمان و یقین اور اعتقاد کے ساتھ معاشرہ کی ہدایت میں قرآن کریم کی افادیت کی شرط کا، یعنی قرآن کریم کے حیات بخش دستورات و ہدایات کی بنیاد پر عمل کا تحقق ہوتا ہے۔

قرآن کریم فرماتا ہے:

”ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛفِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ وَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَ مَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔”[5]

یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے، یہ صاحبان تقویٰ اور پرہیزگار لوگوں کے لئے ہدایت ہے، جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، پابندی سے پورے اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ان تمام باتوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جنھیں (اے رسول) ہم نے آپ پر اور آپ سے پہلے والوں پر نازل کیا ہے اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت کے حامل ہیں اور فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں۔

البتہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایمان کے بہت سے درجے ہیں اور اسلامی معاشرہ اس صورت میں اپنے مشکلات پر قابو اور دشمنوں پر غلبہ حاصل کر کے عزت و عظمت کا امیدوار اور قرآن کریم کی لفظوں میں دنیوی و اخروی فلاح و کامیابی کا امیدوار ہوسکتا ہے جبکہ معاشرہ کے ثقافتی عہدہ دار افراد، دینی حکومت اور قرآن کریم کے احکام و ہدایات پر تہ دل سے ایمان و اعتقاد رکھتے ہیں، نہ یہ کہ دین اور لوگوں کے دینی کلچر کی صرف کچھ باتوں سے استفادہ کر کے جاہ و منصب حاصل کرنے کے لئے اپنے کو قرآن کریم کا معتقد ظاہر کریں۔

قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو کہ الٰہی احکام و ہدایات پر ایمان نہیں رکھتے اور صرف مسلمانوں کو فریب دینے اور اپنے دنیوی مقاصد تک پہنچنے کے لئے ایمان کا اظہار کرتے ہیں، منافقین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس گروہ کی ظاہری، باطنی اور عملی خصوصیات قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں بیان ہوئی ہیں۔

بہرحال جس نکتہ پر ہم یہاں تاکید کر رہے ہیں، یہ ہے کہ اگر ہم چاہیں کہ قرآن کریم کے احکام و ہدایات کی بنیاد پر زندگی بسر کریں اور یہ آسمانی کتاب ہم لوگوں کو سعادتمند بنائے تو لازم ہے کہ تمام لوگ خصوصاً معاشرہ کے ثقافتی امور کے عہدہ دار افراد قرآن کریم پر ایمان و اعتقاد رکھتے ہوں اور اس الٰہی کتاب کے سامنے حضرت ابراہیم (ع) کے مانند سراپا تسلیم ہوں، یعنی قرآن کریم کے حیات بخش احکام و ہدایات کو بغیر کسی چون و چرا کے قبول کرتے ہوں۔

 حضرت ابراہیم تسلیم و بندگی کا نمونہ

قرآن کریم الٰہی احکام و اوامر کے سامنے حضرت ابراہیم (ع) کے سراپا تسلیم ہونے کے واقعہ کو تسلیم و رضا کا نمونہ بیان کرتا ہے نیز مشکلات کے مقابلہ آپ کی کامیابی اور مشرکین پر غلبہ کا راز، خداوند متعال پر توکل، ایمان اور صبر و استقامت کو بتاتا ہے اور ہم سے چاہتا ہے کہ ہم امر خدا اور قرآن کریم کے بارے میں ایسے ہی ایمان و اعتقاد کے حامل ہوں اور عملاً الٰہی احکام جاری کرنے میں حضرت ابراہیم (ع) کی طرح ثابت قدم ہوں۔

ہم یہاں حضرت ابراہیم (ع) کا واقعہ اپنے فرزند حضرت اسماعیل (ع) کو ذبح کرنے کے سلسلہ میں خداوند متعال کا حکم بجا لانے کے متعلق مختصر طور پر بیان کر رہے ہیں تاکہ اسی کے ضمن میں توحیدی مکتب فکر میں خدا محوری اور حق پرستی کی روح کو واضح کر کے قرآن کریم اور اس کے احکام کے بارے میں اپنی کمیوں کو دیکھیں اور اس کی روشنی میں عزیز قارئین کو معاشرہ کے اصلی مشکلات سے آشنا کریں۔

قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر الٰہی میں ایسا تھا کہ حضرت ابراہیم (ع) سو سال لا ولد رہیں اور مسلسل ناامیدی کے ساتھ طویل انتظار کے بعد صاحب اولاد ہوں اور یہ آپ کی دیرینہ تمنا پوری ہو، فطری بات ہے کہ ہر انسان زندگی میں ایک نیک بیٹے کی تمنا رکھتا ہے اور فرزند صالح کے وجود کو اپنے وجود کی بقا سمجھتا ہے۔

حضرت اسماعیل (ع) کی ولادت کے بعد حضرت ابراہیم (ع) خداوند متعال کی طرف سے مامور ہوئے کہ اپنے بیٹے کو ان کی مادر گرامی کے ساتھ مکہ کی سرزمین پر لے جائیں تاکہ سخت سے سخت حالات میں ایسی وادی میں تنہا چھوڑ دیں کہ جہاں آب و حیات کے آثار بالکل دکھائی نہیں دیتے پھر حکم الٰہی بجا لانے کی خاطر سرزمین مکہ کو ترک کر دیں۔

ایک مدت کے بعد واپسی کے وقت جبکہ آپ کا بیٹا بڑا ہوگیا اور ایک ایسا باادب اور خوبصورت جوان نظر آرہا ہے کہ جس کے جمال زیبا کو دیکھ کر ہر انسان کی آنکھ چوندھیا جاتی ہے اور جس کا پھول جیسا مکھڑا باپ کے تمام ہم و غم کو بھلا دیتا ہے نیز جدائی اور مشکلات کے رنج کو دور کر دیتا ہے، ایسا سپوت کہ جس میں نبوت کی صلاحیت نمایاں ہے اس سے کمال عشق و محبت کی حالت میں اچانک آپ کو خواب میں وحی ہوتی ہے کہ تم اپنے فرزند کو راہ خدا میں قربان کر دو۔

سچ مچ مناسب ہے کہ خدا، قرآن اور احکام الٰہی پر اپنے ایمان و اعتقاد اور خدا کے سامنے اپنے مراتب تسلیم کو حضرت ابراہیم (ع) کے ایمان اور مرتبۂ تسلیم و رضا کے ساتھ تولیں تاکہ اس فاصلہ کو بہتر طور سے سمجھ سکیں جو ہمارے اور ان چیزوں کے درمیان ہے جو قرآن کریم اور خداوند متعال ہم سے چاہتا ہے اور دینی اعتقاد کی بنیاد پر ایمان و عمل کی تقویت کے لئے پہلے سے زیادہ آمادہ ہو جائیں۔

اگر جبرئیل ایسا حکم ہم آپ کو دیتے، جو کہ اپنے ہی ہاتھ سے اپنے فرزند کی قربانی پر مبنی ہے وہ بھی بیداری میں نہ کہ خواب میں، تو ہم اس کے سننے کی تاب نہ رکھتے تو بھلا پھر یہ کیسے ممکن ہوتا کہ اپنے بیٹے کی قربانی میں الٰہی فرمان و حکم کو عملی جامہ پہنائیں، لیکن حضرت ابراہیم (ع) بے دھڑک فوراً حکم الٰہی کو بجا لانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور بغیر اس کے کہ وحی شدہ حکم کے صحیح ہونے میں شک و شبہہ کریں کہ آیا کون سی مصلحت بے گناہ بیٹے کو ذبح کرنے میں ہے؟ اس بات کو اپنے بیٹے سے پیش کرتے ہیں:

”فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَىٰ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ۔”[6]

پھر جب وہ فرزند اپنے باپ کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہوگیا تو انھوں نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمھیں ذبح کر رہا ہوں، اب تم بتاؤ کہ تمھارا کیا خیال ہے فرزند نے جواب دیا کہ بابا جو آپ کو حکم دیا جارہا ہے اس پر عمل کریں ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

حضرت ابراہیم (ع) فرماتے ہیں کہ: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمھیں راہ خدا میں ذبح کر رہا ہوں، تمھاری مرضی کیا ہے؟ حضرت ابراہیم (ع) کا ایمان و تسلیم اس مرتبہ پر ہے، اب بیٹے کے ایمان و تسلیم کا مرتبہ دیکھئے اور خدا اور اپنے باپ کے حکم کے سامنے بیٹے کی اطاعت کو ملاحظہ فرمائیے، اسی طرح ان انسانوں کے اخلاص و ایمان سے کہ قلم و بیان جن کے وصف سے عاجز ہے حیرت کیجئے اور اپنے کو مسلمان کہنے میں احتیاط و ہوشیاری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیئے۔

حضرت اسماعیل (ع) جیسے فرزند کہ جنھوں نے امر خدا کے سامنے تسلیم و رضا کا سبق اپنے باپ سے حاصل کیا تھا، اظہار موافقت سے بڑھ کر ایک جواب کے ذریعے اپنے باپ کو حکم الٰہی پر عمل کرنے میں تشویق دلاتے ہیں کہ خدانخواستہ حکم خدا چھوٹ نہ جائے۔

نیز حضرت اسماعیل (ع) بغیر اس کے کہ اپنے ذبح ہونے کے فلسفہ کے متعلق سوال کریں اور بغیر اس کے کہ باپ کواپنی ذمہ داری انجام دینے کے متعلق سوچنے پر مجبور کریں، اپنے بابا سے کہتے ہیں:

”يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُسَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ”[7] اے بابا اپنے فریضہ کو انجام دیجئے، انشاء اللہ آپ مجھے صابر اور ثابت قدم پائیں گے۔

البتہ عظیم انسان تمام فرائض اور بڑی سے بڑی ذمہ داری کے پورا کرنے میں خداوند متعال سے مدد چاہتے ہیں اور اس پر توکل کر کے قدم اٹھاتے اور تمام کاموں میں اس سے کمک اور مدد طلب کرتے ہیں اور نہایت ادب کے ساتھ اس طرح اظہار کرتے ہیں کہ اگر خدا چاہے اور اگر وہ مدد کرے تو میں فلاں کام کو انجام دوں گا۔

خداوند متعال حضرت ابراہیم (ع) کی جھلک اور اپنے سامنے سراپا تسلیم ہونے کی حالت کو خود ابراہیم کی زبان مبارک سے اس طرح بیان فرماتا ہے:

”إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ”[8]

میرا رخ (خالص ایمان کے ساتھ) پوری طرح اس خدا کی طرف ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں باطل سے کنارہ کش ہوں اور ہرگز مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

ہمیں چاہئے کہ خدا اور قرآن کریم کے بارے میں حضرت ابراہیم (ع) کے اعتقاد و ایمان کے مانند اعتقاد و ایمان رکھیں، اسی صورت میں قرآن کریم سے استفادہ کی دوسری بنیادی شرط یعنی قرآن کریم کی ہدایات کی بنیاد پر معاشرہ کی ہدایت ہوسکے گی۔

اس بنا پر قرآن کریم کا وجود، پختہ ایمان اور دلی اعتقاد کے بغیر ہرگز انسان اور معاشرہ کو سعادتمند نہیں بنائے گا، البتہ یہ بات بھی واضح ہے کہ ایمان و اعتقاد کے علاوہ جو چیز ہدایت قرآن کریم کی اسکیم اور دستور العمل کو وجود بخشتی ہے وہ تیسری شرط کا پایا جانا ہے یعنی فردی و اجتماعی زندگی میں قرآن کریم کے احکام و ہدایات اور اس کے حیات بخش دستور العمل کو وجود میں لانا اور ان پر عمل کرنا۔

خاتمہ

قرآن کریم کے دستورات کے مطابق آخرت کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے عقائد و اعمال کو قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق ڈھالے اور خدا کے احکامات کے سامنے سراپا تسلیم ہو۔

حوالہ جات

[1] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبہ 175
[2] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبہ 175
[3] مجلسی، بحار الانوار، ج ۳۲، ص ۳۵۴
[4] سید رضی، نہج البلاغۃ، خطبہ 175
[5] سورۃ بقرۃ، آیۃ ۲ -۵
[6] سورۃ صافات، آیۃ ۱۰۲
[7] سورۃ صافات، آیۃ ۱۰۲
[8] سورۃ انعام، آیۃ ۷۹

 

فہرست منابع

۱: القرآن الکریم
۲: سید رضی، نَهجُ البَلاغة، قم، دار الهجرة، ۱۴۰۹ ھ ق۔
۳: مجلسی، محمد باقر، بِحارُالاَنوار الجامِعَةُ لِدُرَرِ أخبارِ الأئمةِ الأطهار، تہران، دار الکتب الاسلامیة، 1315 ھ.ق۔

 

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

مصباح یزدی، محمد تقی، قرآن نہج البلاغہ کے آئینہ میں؛ مترجم: فیضی ہندی، ہادی حسن، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ص ۵۹ الی۷۱۔

 

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔