ہجرت امام علی علیہ السلام مکہ سے مدینہ کا سفر

ہجرت امام علی علیہ السلام مکہ سے مدینہ کا سفر

کپی کردن لینک

پیغمبر ﷺ کی ہجرت اور آپ کے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کے بعد امام علی (ع) نے عورتوں اور دیگر افراد کو اپنے ساتھ لے کر ہجرت کرنے کےلئے انتظار کیا، جب تک کہ پیغمبر ﷺ کی اجازت نہیں ملی۔

ہجرت امام علی (ع) کا آغاز

پیغمبر اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد حضرت امام علی (ع) پیغمبر اکرم ﷺ کے خط کے منتظر تھے۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ’’ابو واقد لیثی‘‘ حضرت محمد ﷺ کا خط لے کر مکہ پہونچا اور حضرت امام علی (ع) کے سپرد کیا۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے جو کچھ بھی ہجرت کی تیسری شب غار ثور میں زبانی حضرت امام علی (ع) سے کہا تھا اس خط میں ان چیزوں کی تأکید کی اور حکم دیا کہ خاندان رسالت کی عورتوں کو لے کر ہجرت کرجائیں اور غریب و ناتوان افراد جو ہجرت کی طرف مائل ہیں ان کی مدد کریں۔

حضرت امام علی (ع) لوگوں کی امانت ادا کرنے کے سلسلے میں پیغمبر اکرم ﷺ کے حکم پر پورے طور پر عمل کرچکے تھے اور اب صرف ایک کام باقی تھا اور وہ یہ کہ خود اور خاندان رسالت کی عورتوں کو مدینے ہجرت کرنے کا اسباب فراہم کریں۔ لہٰذا مومنین کا وہ گروہ جو ہجرت کےلئے آمادہ تھا اسے حکم دیا کہ خاموشی سے مکہ سے باہر نکل جائیں اور چند کیلو میٹر دور ’’ذو طویٰ‘‘ مقام پر قیام کریں تاکہ امام کا قافلہ وہاں پہونچ جائے۔

حضرت امام علی (ع) نے مؤمنین کو خاموشی سے ہجرت کرنے کا حکم دیا تھا مگر خود دن کے اجالے میں سفر کےلئے آمادہ ہوئے اور عورتوں کو امِ ایمن کی بیٹی ایمن کے ذریعے عماریوں پر سوار کرایا اور ابو واقد سے کہا اونٹوں کو آہستہ آہستہ لے جاؤ کیونکہ عورتیں تیز تیز جانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

ابن شہر آشوب کا بیان

ابن شہر آشوب لکھتے ہیں: جب عباس حضرت امام علی (ع) کے اس ارادے سے باخبر ہوئے کہ وہ دن کے اجالے میں دشمنوں کے سامنے سے مکہ سے ہجرت کررہے ہیں اور عورتوں کو بھی اپنے ساتھ ہجرت کےلئے لے جا رہے ہیں تو فوراً حضرت امام علی (ع) کی خدمت میں آئے اور کہا کہ محمد ﷺ پوشیدہ طور سے مکہ سے ہجرت کرگئے تو قریش ان کو تلاش کرنے کےلئے پورے مکہ اور اطراف مکہ میں ڈھونڈتے رہے، تو تم کس طرح سے دشمنوں کے سامنے عورتوں کے ہمراہ مکہ سے باہر نکلو گے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ دشمن تمھیں مکہ سے باہر نہیں جانے دیں گے؟

علی نے اپنے چچا کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: کل رات جب میں نے غار ثور میں پیغمبر اکرم ﷺ سے ملاقات کی اور پیغمبر اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ ہاشمی عورتوں کے ساتھ مکہ سے ہجرت کرنا تو اسی وقت مجھے خوشخبری بھی دی کہ اب مجھے کوئی بھی تکلیف نہیں پہونچے گی، میں اپنے پروردگار پر اعتماد اور احمد مصطفی ﷺ کے قول پر ایمان رکھتا ہوں اور ان کا اور میرا راستہ ایک ہی ہے اسی لئے میں دن کے اجالے اور دشمنوں کی آنکھوں کے سامنے سے مکہ سے ہجرت کروں گا۔

پھر، حضرت امام علی (ع) نے مندرجہ ذیل اشعار پڑھے

إِنَّ ابْنَ آمِنَةَ النَبِيَّ مُحَمّداً *** أَرْخِ الزِّمامَ وَ لا تَخَفْ عَنْ عائِق
إِنِّي بِرَبّي واثِقٌ وَ بِأَحْمَد *** رَجُلٌ صَدُوقٌ قالَ عَنْ جِبْرِيلِ
فاللّهُ يُرديهِمْ عَنِ التَنْكِيل *** وَ سَبِيلُهُ مُتَلاحِقٌ بِسَبِيلي

بیشک آمِنہ کا بیٹا، نبیِ محمد ﷺ ہے *** لگام ڈھیلی چھوڑ دو، اور کسی رکاوٹ سے نہ ڈرو۔

میں اپنے رب پر یقین رکھتا ہوں اور احمد ﷺ پر بھی *** وہ ایک سچے آدمی ہیں، جنہوں نے جبرائیل کی بات نقل کی۔

اللہ انہیں اذیت اور تکلیف سے بچاتا ہے *** اور ان کا راستہ میرے راستے سے جُڑا ہوا ہے۔

امام (ع) نے نہ صرف اپنے چچا کو ایسا جواب دیا، بلکہ جب لیثی نے اونٹوں کی ذمہ داری اپنے سر لی اور قافلے کو جلدی جلدی لے جانے لگا تاکہ دشمنوں کے سامنے سے جلدی سے دور ہوجائے تو حضرت امام علی (ع) نے اُسے اونٹوں کو تیز تیز لے جانے سے منع کیا اور فرمایا: پیغمبر اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا ہے کہ: اس سفر میں تمھیں کوئی تکلیف و اذیت نہیں پہونچے گی پھر اونٹوں کو لے جانے کی ذمہ داری خود لے لی اور یہ رجز پڑھا۔

تمام امور کی باگ ڈور خدا کے ہاتھ میں ہے لہٰذا ہر طرح کی بدگمانی کو اپنے سے دور کرو کیونکہ اس جہان کا پیدا کرنے والا ہر اہم حاجت کےلئے کافی ہے۔[1]

قریش نے حضرت امام علی (ع) کا تعاقب کیا

حضرت امام علی (ع) کا قافلہ سرزمین ’’ضجنان‘‘ پہونچنے والا تھا کہ سات نقاب پوش سوار سامنے سے آتے ہوئے دکھائی دیئے جو اپنے گھوڑوں کو بہت تیزی کے ساتھ قافلے کی طرف دوڑائے ہوئے تھے۔ امام نے عورتوں کو ہر طرح کی مشکلات سے بچانے اور ان کی حفاظت کےلئے واقد اور ایمن کو حکم دیا کہ فوراً اونٹوں کو بٹھا دو اور ان کے پیروں کو باندھ دو۔

پھر عورتوں کو اونٹوں سے اتارنے میں مدد فرمائی، جیسے ہی یہ کام ختم ہوا تمام نقاب پوش سوار برہنہ تلواریں لئے ہوئے قافلے کے قریب آگئے اور چونکہ وہ غصے سے بھرے ہوئے تھے اس لئے اس طرح برا و ناسزا کہنا شروع کر دیا: کیاتم یہ سوچتے ہو کہ ان عورتوں کے ساتھ ہمارے سامنے فرار کرسکتے ہو؟ بس اس سفر سے باز آجاؤ!

حضرت امام علی (ع) نے کہا: اگر واپس نہ گیا تو کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: زبردستی تم کو اس سفر سے روکیں گے یا تمہارے سر قلم کردیں گے۔اتنا کہنے کے بعد وہ لوگ اونٹوں کی طرف بڑھے تاکہ ان کو واپس لے جائیں اس وقت حضرت امام علی (ع) نے اپنی تلوار نکال کر ان کو اس کام سے روکا۔ ان میں سے ایک شخص نے اپنی برہنہ تلوار حضرت امام علی (ع) کی طرف بڑھائی۔ ابوطالب کے لال نے اس کی تلوار کے وار کو روکا اور غصے کی حالت میں تھے ان پر حملہ کیا اور اپنی تلوار سے ’’جناح‘‘ نامی شخص پر وار کیا۔

قریب تھا کہ تلوار اس کے شانے کو کاٹتی کہ اچانک اس کا گھوڑا پیچھے کی طرف ہٹا اور حضرت امام علی (ع) کی تلوار گھوڑے کی پشت پر جالگی، اس وقت حضرت امام علی (ع) نے ان سب کو متوجہ کرتے ہوئے بآواز بلند کہا: ’’میں عازم مدینہ ہوں اور رسول خدا ﷺ کی ملاقات کے علاوہ میرا کوئی اور مقصد نہیں ہے، جو شخص بھی یہ ارادہ رکھتا ہے کہ انھیں ٹکڑے ٹکڑے کرے اور ان کا خون بہائے وہ میرے ساتھ یا میرے نزدیک آئے‘‘

اتنا کہنے کے بعد آپ نے ایمن اور ابو واقد کو حکم دیا کہ فوراً اٹھ کر اونٹوں کے پیر کھول دیں اور ہجرت کےلئے آمادہ ہوجائیں۔ دشمنوں نے یہ احساس کرلیا کہ حضرت امام علی (ع) جنگ کرنے کےلئے آمادہ ہیں اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص عنقریب مرنے ہی والا تھا، لہٰذا اپنے ارادے سے باز آگئے اور مکہ کے راستے کی طرف چل پڑے۔ امام (ع) نے بھی اپنے سفر کو مدینے کی طرف جاری رکھا۔

ہجرت امام علی (ع) اور استقبال رسول ﷺ

آپ (ع) نے کوہ ضجنان کے نزدیک ایک دن اور ایک رات قیام کیا تاکہ وہ لوگ جو ہجرت کےلئے آمادہ تھے وہ بھی آجائیں۔ تمام افراد میں سے جو حضرت امام علی (ع) اور ان کے ہمراہیوں سے ملحق ہوئے ان میں ایک ام ایمن تھیں جو ایک پاکدامن عورت تھیں جنھوں نے آخر عمر تک خاندان رسالت کو نہیں چھوڑا۔

تاریخ کا بیان ہے کہ حضرت امام علی (ع) نے یہ پورا راستہ پیدل چل کر تمام کیا، اور ہر ہر منزل پر خدا کا ذکر کرتے رہے اور پورے سفر میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نماز پڑھی۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ درج ذیل آیت ان افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[2]

’’الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا‘‘[3]

جو لوگ اٹھتے، بیٹھتے، کروٹ لیتے (الغرض ہر حال میں) خدا کا ذکر کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں غور و فکر کرتے ہیں اور (بے ساختہ) کہہ اٹھتے ہیں کہ خداوندا تو نے اس کو بیکار پیدا نہیں کیا ہے۔

جب حضرت امام علی (ع)، اور ان کے ہمراہی مدینہ منورہ پہونچے تو رسول اکرم ﷺ ان کے دیدار کےلئے فوراً گئے جس وقت پیغمبر اکرم ﷺ کی نگاہ حضرت امام علی (ع) پر پڑی تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ ان کے پیر ورم کر گئے ہیں اور ان سے خون کے قطرے گر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فوراً حضرت امام علی (ع) کو گلے سے لگایا اور فرط محبت سے آپ کی چشم مبارک سے آنسوؤں کے قطرات جاری ہوگئے۔[4]

خاتمہ

کفار کے سخت پہرے کے باوجود حضرت علی (ع) تمام افراد کو لے کر دن کے اجالے میں ہی تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے مدینہ کی جانب ہجرت فرما گئے۔ کیونکہ پیغمبر ﷺ نے حضرت علی (ع) کو پہلے ہی غار ثور میں خوشخبری سنا دی تھی کہ آپ (ع) کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

حوالہ جات

[1]۔ طوسی، امالی، ص۲۹۹؛ مجلسی، بحار الانوار، ج۱۹، ص۲۵ میں رجز کی عبارت یہ ہے: ’’ليس إلا الله فارفع ظنكا * يكفك رب الناس ما أهمكا‘‘
[2]۔ طوسی، امالی، ص۳۰۱-۳۰۳۔
[3]۔ سورہ: آل عمران، آیت۱۹۱۔
[4]۔ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص۱۹۲؛ ابن اثیر، تاریخ کامل، ج۲، ص۷۵۔

کتابیات

1۔ قرآن مجید۔
2۔ ابن اثیر، علی بن محمد، الكامل في التاريخ، بیروت، دار الكتاب العربي، ۱۴۱۷ق۔
3۔ طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الهدی، قم، مؤسسة آل البیت (علیهم السلام) لإحیاء التراث، ۱۴۱۷ق۔
4۔ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دار الثقافة، 1414ق۔
5۔ مجلسی، محمد باقر، بِحارُ الاَنوار الجامِعَةُ لِدُرَرِ أخبارِ الأئمةِ الأطهار، قم، موسسة الوفاء، 1403ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، تیسرا باب، پہلی فصل، ص۶۱ تا ۶4، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔