شیعہ فرقوں کے وجود میں آنے کے علل و اسباب

شیعہ فرقوں کے وجود میں آنے کے علل و اسباب

کپی کردن لینک

شیعہ فرقوں کے وجود کی اصل وجوہات میں مذہبی، سیاسی، سماجی اور انسانی کمزوریاں شامل ہیں، جنہوں نے اعتقادات میں فرق اور غلو کو جنم دیا۔ یہ عوامل ملا کر شیعہ کے مختلف گروہوں کے ظہور کا باعث بنے۔

بارہ اماموں کے اسماء مبارک احادیث نبوی میں وارد ہوئے ہیں اور پہلے دور کے شیعہ ان حضرات کو دیکھنے سے پہلے ان کے نام جانتے تھے، جیسا کہ پیغمبر(ص) کے وفا دار صحابی جابر بن عبد اللہ انصاری نقل کرتے ہیں کہ جس وقت قرآن مجید کی یہ آیت: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ”[1] اے ایمان لانے والو! اللہ کی، اس کے رسول کی اور صاحبان امر کی اطاعت کرو۔

نازل ہوئی تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ص)! میں خدا اور اس کے رسول (ص) کو پہچانتا ہوں اور ان کی اطاعت بھی کرتا ہوں لیکن اولی الامر سے مراد کون لوگ ہیں جن کی اطاعت کو خداوند عالم نے اپنی اور آپ کی اطاعت کے ساتھ ذکر کیا ہے؟

حضرت (ص) نے فرمایا: اولی الامر سے مراد میرے جانشین اور میرے بعد کے پیشوا ہیں، ان میں سب سے پہلے علی بن ابی طالب (ع) اور ان کے بعد حسن ان کے بعد حسین ان کے بعد علی بن حسین ان کے بعد محمد بن علی جو توریت میں باقر کے نام سے معروف ہیں تم ان کی زیارت بھی کرو گے جس وقت تم ان کو دیکھنا میرا سلام کہنا، ان کے بعد جعفر بن محمد ان کے بعد موسیٰ بن جعفر ان کے بعد علی بن موسی ان کے بعد محمد بن علی ان کے بعد علی بن محمد پھر ان کے بعد حسن بن علی اور ان کے بعد ان کا فرزند جو میرا ہمنام اور جس کی کنیت میری کنیت ہوگی وہ امام ہو گا، اسی کے ذریعہ شرق وغرب فتح ہوں گے وہ لوگوں کی آنکھوں سے غائب ہوگا اس کی غیبت اتنی طولانی ہوگی جس کی وجہ سے لوگ اس کی امامت میں شک کریں گے سوائے ان لوگوں کے جن کے دلوں کو خدا وند عالم نے ایمان کے ذریعہ پاک کیا ہے۔[2]

یہی جابر مسجد نبوی کے دروازے پر بیٹھ کر کہتے تھے اے باقر العلم! آپ کہاں ہیں؟

لوگ کہتے تھے: جابر ہذیان بک رہا ہے۔ جابر کہتے تھے کہ میں ہذیان نہیں بک رہا ہوں بلکہ مجھ کو رسول اکرم (ص) نے خبر دی ہے کہ میرے خاندان میں سے ایک شخص جو میرا ہم نام اور میرا ہم شکل ہوگا تم اس کی زیارت کرو گے وہ علم کو شگافتہ کرے گا۔[3]

ائمہ معصومین (ع) نے بھی دلیلوں اور معجزوں کے ذریعہ اپنی حقانیت ثابت کی ہے اس کے با وجود بعض اسباب و عوامل اس بات کا باعث بنے کہ بعض شیعوں پر حقیقت مشتبہ ہوگئی اور وہ راہ حق سے منحرف ہوگئے ان عوامل کو ہم ذیل میں ذکر کرتے ہیں ۔

١: اختناق – گھٹن، اضطراب-

٤٠ھ کے بعد خاندان پیغمبر(ص) اور ان کے چاہنے والوں پر اس قدر گھٹن کا ماحول چھایا ہوا تھا کہ شیعہ کے لئے ممکن نہیں ہوسکا کہ وہ اپنے اماموں سے رابطہ برقرار کریں اور ان کی ضروری معرفت حاصل کرتے پہلی صدی میں ٧٢ ھ اور ابن زبیر(جو شیعوں کا دشمن تھا) کی شکست کے بعد حجاج بن یوسف بیس سال تک عراق و حجاز پر حاکم رہا اور شیعوں کو بہت زد و کوب کیا ان کو قتل کیا زندان میں ڈالا اور عراق و حجاز سےشیعوں کو فرار ہونے پر مجبور کیا۔[4]

امام سجاد (ع) تقیہ میں تھے اور شیعہ معارف کو دعائوں کی شکل میں بیان کرتے تھے فرقہ کیسانیہ اسی زمانہ میں رونما ہوا، امام باقر (ع) اور امام صادق (ع) کو اگرچہ نسبتاً آزادی ملی تھی، انہوں نے شیعہ معارف کو وسعت بخشی لیکن جب منصور عباسی کو حکومت ملی تو شیعوں کی طرف متوجہ ہوا اور جس وقت اس کو امام صادق (ع) کی خبر شہادت ملی تو اس نے مدینہ میں اپنے والی کو خط لکھا کہ امام صادق (ع) کے جانشین کی شناسائی کر کے ان کی گردن اڑا دے، امام جعفر صادق (ع) نے پانچ لوگوں کو اپنا جانشین بنایا تھا، ان میں ابو جعفر منصور (خلیفہ) محمد بن سلیمان، عبداللہ، موسیٰ اور حمیدہ تھے۔[5]

امام کاظم (ع) کی عمر کا زیادہ حصہ زندان میں گذرا سب سے پہلے موسیٰ ہادی عباسی نے حضرت کو زندان میں ڈالا اور کچھ مدت کے بعد آزاد کر دیا ہارون نے چار بار امام کو گرفتار کیا اور شیعوں کو آپ کے پاس آنے جانے اور دیدار سے منع کیا۔[6]

شیعہ حیران و سرگردان اور بغیر سرپرست کے رہ گئے، اسماعیلیہ اور فطحیہ کے مبلغین کے لئے راستہ ہموار ہو گیا، اس زمانہ میں کوئی ایسا نہیں تھا جو شیعوں کو ان کے شبہ کا جواب دیتا، عباسی حکومت اور اس کے جاسوسوں کی نظر امام کاظم (ع) کی کوششوں کے بارے میں اس حد تک تھی کہ علی بن اسماعیل جو آپ کے بھتیجے تھے وہ بھی اپنے چچا کی مخالفت میں چغل خوری کرتے تھے[7] اکثر شیعہ اس وقت یہ نہیں جانتے تھے کہ امام موسیٰ کاظم (ع) زندہ ہیں یا نہیں؟

چنانچہ یحییٰ بن خالد برمکی کا بیان ہے: میں نے رافضیوں کے دین کو ختم کر دیا اس لئے کہ ان کا خیال ہے کہ دین بغیر امام کے زندہ اور استوار نہیں رہ سکتا آج وہ نہیں جانتے کہ ان کے امام زندہ ہیں یا مردہ۔[8]

حضرت کی شہادت کے وقت ایک بھی شیعہ حاضر نہیں تھا اسی لئے واقفیہ نے آپ کی موت (شہادت) سے انکار کر دیا اگرچہ مالی مسائل واقفیہ کے وجود میں زیادہ مؤثر تھے، ائمہ معصومین (ع) مسلسل عباسی حکومت کے زیر نظر تھے، یہاں تک کہ امام ہادی (ع) اور امام عسکری (ع) کو سامرہ کی فوجی چھاونی میں رکھا گیا تاکہ ان دونوں اماموں پر کڑی نظر رکھ سکیں.

امام حسن عسکری (ع) کی شہادت کے بعد آپ کے جانشین (حضرت ولی عصر عج) کو پہچاننے کے لئے امام حسن عسکری (ع) کی کنیزوں اور بیویوں کو قید خانوں میں ڈال دیا، یہاں تک کہ جعفر بن علی (جو جعفر کذاب کے نام سے مشہور ہیں) نے اپنے بھائی امام حسن عسکری (ع) کے خلاف جد و جہد کی اسی وجہ سے غلات کے عقائد نصیری یعنی محمد ابن نصیر فہری کے ذریعہ پھیل گئے چند لوگ جعفر کے ارد گرد جمع ہوگئے اور انہوں نے امامت کا دعویٰ کردیا۔[9]

٢: تقیہ

یعنی جب جان کا خوف ہو تو حقیقت کے خلاف اظہار کرنا، شیعوں نے اس طریقہ کار کو گذشتہ شریعتوں اور شریعت اسلام کی پیروی میں عقل و شرع سے اخذ کیا ہے جیسا کہ مومن آل فرعون نے فرعو ن اور فرعونیوں کے خوف سے اپنے ایمان کو چھپایا، اصحاب رسول (ص) میں سے عمار یاسر نے بھی مشرکین کے شکنجہ اور آزار کی وجہ سے تقیہ کیا اور کفر کا اقرار کیا اور روتے ہوئے پیغمبر (ص) کے پاس آئے تو حضرت نے فرمایا: اگر دوبارہ تم کو شکنجہ کی اذیت دیں تو پھر اس کام کو انجام دینا۔[10]

شیعہ چونکہ بہت ہی کم مقدار میں تھے اس لئے اپنی حفاظت کے لئے تقیہ کرتے تھے اور اس روش کی بنا پر مکتب تشیع باقی رہا جیسا کہ ڈاکٹر سمیرہ مختار اللیثی نے لکھا ہے: شیعہ تحریک جاری رہنے کے عوامل میں سے ایک عامل تقیہ اور مخفی دعوت ہے کہ جس نے یہ فرصت دی کہ شیعوں کی نئی تحریک خلفائے عباسی اور ان کے حاکموں کی آنکھوں سے دور رہ کر ترقی کرے ۔[11]

لیکن دوسری طرف تقیہ شیعوں کے مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے کا سبب بنا کیونکہ شیعہ وقت کے ظالموں کے خوف سے اپنے عقائد کو مخفی رکھتے تھے اور ہمارے ائمہ بھی ایسا کرتے تھے چنانچہ اس دور کی خفقانی کیفیت اور گھٹن اور سختی کی وجہ سے اپنی امامت کو ظاہر نہیں کرتے تھے یہ بات امام رضا (ع) اور واقفیوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے روشن ہو جاتی ہے۔

علی بن ابی حمزہ کہ جس کا تعلق واقفی مذہب سے تھا اس نے امام علی رضا (ع) سے سوال کیا کہ آپ کے والد کیا ہوئے؟

امام نے فرمایا: انتقال کر گئے، ابن ابی حمزہ نے کہا: انہوں نے اپنے بعد کس کو اپنا جانشین قرار دیا؟ امام نے فرمایا: مجھ کو، اس نے کہا: تو پس آپ واجب الاطاعت ہیں؟

امام نے فرمایا: ہاں، واقفیوں کے دو افراد، ابن سراج اور ابن مکاری نے کہا: کیا آپ کے والد نے امامت کے لئے آپ کو معین کیا ہے؟ امام رضا (ع) نے فرمایا: وای ہو تم پر یہ لازم نہیں ہے کہ میں خود کہوں کہ مجھے معین کیا ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ میں بغداد جائوں اور ہارون سے کہوں کہ میں امام واجب الاطاعت ہوں؟ خدا کی قسم یہ میرا وظیفہ نہیں ہے.

ابن ابی حمزہ نے کہا: آپ نے ایسی چیز کا اظہار کیا کہ آپ کے آباء و اجداد میں سے کسی نے بھی ایسی چیز کا اظہار نہیں کیا، امام (ع) نے فرمایا: خدا کی قسم میں ان کا بہترین جانشین ہوں یعنی پیغمبر (ص) پر جس وقت آیت یہ نازل ہوئی اور خداوند متعال نے حکم دیا کہ تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراو تو آپ نے اس کا اظہار کیا۔[12]

امام محمد باقر (ع) نے اپنے زمانہ میں کئی مسئلہ کے جواب میں تقیہ سے کام لیا جس کی وجہ سے کچھ شیعہ آپ کی امامت سے منحرف ہو کر فرقۂ زیدیہ بتریہ کے پیروں ہوگئے۔[13]

دوسری طرف بعض افراد تقیہ کی مصلحت کو نہیں سمجھ سکے اور ائمہ اطہار (ع) کا اپنی امامت کے بارے میں کھل کر اظہار نہ کرنے کو خطا سے تعبیر کیا یعنی وہ لوگ تندخو اور افراطی تھے یہ بات بھی زیدیہ مذہب کے وجود میں آنے کا سبب بنی، جس وقت فشار و گھٹن کا ماحول کم ہوا اور حالات کچھ بہتر ہوئے اور ائمہ (ع) نے اپنی حجت تمام کی تو شیعوں کے اندر فرقہ بندی بھی کم ہوگئی امام صادق (ع) کے زمانہ میں امویوں اور عباسیوں کے درمیان کشمکش کی وجہ سے ایک بہترین موقع فراہم ہوگیا تھا اور امام صادق (ع) کو عملی اعتبار سے آزادی حاصل تھی اس بنا پر شیعہ فرقہ بندی میں کمی واقع ہوگئی تھی، لیکن آپ کی شہادت کے بعد منصور خلیفہ مقتدر عباسی کا دباو بہت زیادہ تھا، فرقۂ ناؤسیہ، اسماعیلیہ، خطابیہ، قرامطہ، سمطیہ اور فطحیہ وجود میں آئے۔[14]

امام رضا (ع) کے زمانہ میں حالات بہتر ہو گئے یہاں تک کہ ہارون کے زمانہ میں حضرت نسبتاً عمل میں آزاد تھے اور اس زمانہ میں واقفیہ کے چند بزرگ مثلاً عبد الرحمٰن بن حجاج، رفاعة بن موسیٰ، یونس بن یعقوب، جمیل بن دراج، حماد بن عیسیٰ، وغیرہ اپنے باطل عقیدہ سے پھر گئے اور حضرت کی امامت کے قائل ہو گئے، اسی طرح امام رضا (ع) کی شہادت کے بعد باوجود اس کے کہ امام جواد (ع) سن میں چھوٹے تھے لیکن امام رضا (ع) کی کوششوں اور اپنے فرزند کو جانشین کے عنوان سے پہچنوانے کی بنا پر شیعوں کے اندر فرقہ بندی میں کمی آگئی تھی۔

٣: ریاست طلبی اور حب دنیا

جس وقت گھٹن کا ماحول ہوتا تھا تو ائمہ اطہار (ع) اساس تشیع کے تحفظ نیز شیعوں کی جان کی حفاظت کے لئے تقیہ کرتے تھے، اس وقت مطلب پرست اور ریاست طلب افراد جو شیعوں کی صفوں میں شامل ہوتے تھے لیکن دیانت پر بالکل اعتقاد نہیں رکھتے تھے وہ اس وضعیت سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے جیسا کہ امام جعفر صادق (ع) نے ایک صحابی کے جواب میں کہ جس نے احادیث کے اختلاف کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ (ع) نے فرمایا: کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہماری حدیثوں کی تاویل کر کے دنیا اور ریاست تک پہنچنا چاہتے ہیں۔[15]

اس بنیاد پر دوسری صدی ہجری میں اور اس کے بعد جب شیعیت پھیل گئی تھی امام صادق (ع)، امام کاظم (ع) اور امام عسکری (ع) کی شہادت کے بعد مطلب پرست اور ریاست طلب افراد شیعوں کے درمیان کچھ زیادہ پیدا ہوگئے تھے، مال اور ریاست کی بنیاد پر فرقوں کو ایجاد کرتے تھے امام باقر (ع) کی شہادت کے بعد مغیرہ بن سعید نے اپنی امامت کا دعویٰ کیا اور کہا: امام سجاد (ع) اور امام باقر (ع) نے میرے بارے میں تاکید کی ہے اس وجہ سے اس کے طرفدار مغیریہ کہلائے۔

امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد نائوسیہ اور خطابیہ فرقے پیدا ہوئے جن کے رہبروں نے لوگوں کو اپنی طرف جذب کرنے کے لئے امام صادق (ع) اور ان کے فرزند اسماعیل کے نام سے فائدہ اٹھایا، فرقۂ نائوسیہ کا رہبر ابن نائوس ہے اس نے امام صادق (ع) کی رحلت کا انکار کیا اور ان کو مہدی مانا ہے اور خطابیہ امام صادق (ع) کے فرزند اسماعیل کی موت کے منکر ہیں اور ان کے رہبروں نے ان دو بزرگوں کے بعد خود کو امام کے عنوان سے مشہور کیا۔[16]

امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت کے بعد مال کی وجہ سے کثرت سے فرقے وجود میں آئے یونس جو امام کاظم (ع) کے صحابی ہیں نقل کرتے ہیں:

جس وقت امام موسیٰ کاظم (ع) دنیا سے گئے ان کے نوابین و وکلا کے پاس بہت سے مال اور رقوم شرعیہ موجود تھی اسی وجہ سے انہوں نے حضرت پر توقف کیا اور حضرت کی شہادت کے منکر ہوگئے، نمونہ کے طور پر زیاد قندی انباری کے پاس ستر ہزار دینار اور علی بن حمزہ کے پاس تیس ہزار دینار تھے۔

یونس کا بیان ہے: جس وقت میں نے ان کی اس وضعیت کو دیکھا تو میرے لئے حقیقت روشن ہوگئی اور حضرت امام رضا (ع) کی امامت کا قضیہ بھی مرے لئے واضح ہو گیا تھا، میں نے حقائق بیان کرنا شروع کر دیئے اور لوگوں کو حضرت (ع) کی جانب دعوت دی، ان دونوں نے میرے پاس پیغام کہلوایا کہ تم کیوں لوگوں کو امام رضا (ع) کی امامت کی طرف دعوت دیتے ہو اگر تمہارا مقصد مال حاصل کرنا ہے تو ہم تم کو بے نیاز کر دیں گے اور انہوں نے دس ہزار دینار کی مجھے پیش کش کی لیکن میں نے قبول نہیں کیا لہذا وہ غصہ ہوئے اور انہوں نے مجھ سے دشمنی اور عداوت کا اظہار کیا۔[17]

سعد بن عبداللہ اشعری کا بیان ہے: امام کاظم (ع) کی شہادت کے بعد فرقۂ ہسمویہ کا یہ عقیدہ تھا کہ امام موسیٰ کاظم (ع) کی وفات نہیں ہوئی ہے اور وہ زندان میں بھی نہیں رہے ہیں بلکہ وہ غائب ہو گئے ہیں اور وہی مہدی ہیں، محمد بن بشیر ان کا رہبر تھا اس نے دعوٰی کیا کہ ساتویں امام نے خود اس کو اپنا جانشین بنایا ہے، انگوٹھی اور وہ تمام چیزیں جن کی دینی اور دنیوی امور میں احتیاج ہوتی ہے اسے میرے حوالے کیا ہے اور اپنے اختیارات بھی مجھے دیئے ہیں اور مجھے اپنی جگہ بٹھایا ہے لہذا میں امام کاظم (ع) کے بعد امام ہوں محمد بن بشیر نے اپنی موت کے وقت اپنے فرزند سمیع بن محمد کو اپنی جگہ بٹھایا اور اس کی اطاعت کو امام موسیٰ کاظم (ع) کے ظہور تک واجب قرار دیا اور لوگوں سے کہا کہ جو بھی خدا کی راہ میں کچھ دینا چاہتا ہے وہ سمیع بن محمد کو عطا کرے ان لوگوں کا نام ممطورہ پڑا۔[18]

 ٤: ضعیف النفس افراد کا وجود

شیعوں میں کچھ ضعیف النفس افراد موجود تھے جس وقت امام سے کوئی کرامت دیکھتے تھے تو ان کی عقلیں اس کو تحمل نہیں کر پاتی تھیں اور وہ غلو کرنے لگتے تھے اگرچہ خود ائمہ طاہرین (ع) نے شدت سے اس طرح کے عقائد کا مقابلہ کیا ہے، رجال کشی کے نقل کے مطابق بصرہ کے سیاہ نام لوگوں میں سے ستّر لوگوں نے جنگ جمل کے بعد حضرت علی (ع) کے بارے میں غلو کیا۔[19]

مفاد پرست اور ریاست طلب افراد ان لوگوں کے عقیدے سے سوء استفادہ کرتے تھے ایسا عقیدہ رکھنے والوں کو منحرف کرتے تھے اور اپنے مفاد میں ان سے کام لیتے تھے جیسا کہ ابی خطاب نے فرقۂ خطابیہ کو ایجاد کیا اور امام صادق (ع) کو مقام پیغمبری میں قرار دیا اور کہا: خدا ان میں حلول کر گیا ہے اور خود کو ان کا جانشین بتایا۔[20]

امام زمانہ (عج) کی غیبت صغریٰ میں بھی ابن نصیر نے خود کو پہلا باب اور احکام کے نشر کرنے اور اموال جمع کرنے میں خود کو امام کا وکیل مشہور کیا، اس کے بعد پیغمبری کا دعویٰ کیا اور آخر میں خدائی کا دعویٰ کیا،[21] اس کے چاہنے والوں نے اس کو قبول بھی کر لیا بلکہ اپنے چاہنے والوں کے ایمان کی بنا پر ہی اس نے یہ دعوے کئے تھے اور اسی طرح فرقہ غلات وجود میں آئے۔

 

خاتمہ

شیعہ فرقوں کے وجود میں آنے کی اصل وجہ صرف دینی اختلاف نہیں بلکہ اختناق، تقیہ، دنیا پرستی اور غلو جیسے گہرے سماجی، سیاسی اور نفسیاتی عوامل تھے۔ ائمہ معصومین (ع) نے ہمیشہ واضح دلائل، معجزات اور علمی رہنمائی کے ذریعے حق کا پرچار کیا، لیکن حالات کی پیچیدگی، کمزور عقیدہ، اور بعض افراد کے ذاتی مفادات نے شیعہ صفوں میں تفرقے اور فرقوں کی بنیاد ڈال دی۔

حوالہ جات

[1] سور‍‍‍ۃ نساء، آیۃ ۵۹۔

[2] پیشوائی، شخصیت ہای اسلامی، ص٦٣، تفسیر صافی سے نقل کیا ہے، ج١، ص٣٦٦، کمال الدین وتمام النعم‍‍‍ۃ، ج١، ص٣٦٥، فارسی ترجمہ۔

[3] طوسی، اختیار معرف‍‍‍ۃ الرّجال، (رجال کشی)، ج ١، ص٢١٨۔

[4] زین عاملی،  شیعہ در تاریخ، ص١٢٠۔

[5] طبرسی، اعلام الوریٰ، ج٢، ص١٣۔

[6] مظفر، تاریخ شیعہ، ص٤٧۔

[7] ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص٤١٤۔

[8] زین عاملی، شیعہ در تاریخ، ج١، ص٢٣۔

[9] طوسی، اختیار معرف‍‍‍ۃ الرجال (رجال کشی)، ج٢، ص219۔

[10] امین، اعیان الشیع‍‍‍ۃ، ج١، ص١٩٩۔

[11] لیثی، جھاد الشیع‍‍‍ۃ، ص٣٩٤۔

[12] لیثی، جھاد الشیع‍‍‍ۃ، ص۷۶۳۔

[13] اشعری قمی، مقالات و الفرق، ص٧٥۔

[14] اشعری قمی، مقالات و الفرق، ص٧۹۔

[15] طوسی، اختیار معرف‍‍‍ۃ الرجال، رجال کشی، ج١، ص٣٧٤۔

[16] طوسی، اختیار معرف‍‍‍ۃ الرجال، رجال کشی، ج١، ص۸۰۔

[17] زین عاملی، شیعہ در تاریخ، ص١٢٣، شیخ طوسی کی غیبت سے نقل کی ہے ص٤٦۔

[18] اشعری قمی، المقالات والفرق، ص٩١۔

[19] جب امیر المومنین (ع) جنگ جمل سے فارغ ہوئے ٧٠ لوگ جو سیاہ پوست جو بصرہ میں رہتے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے نے اپنی زبان میں علی سے بات کرنا شروع کی علی نے ان کی زبان میں ان کو جواب دیا انہوں نے آپ کے بارے میں غلو کیا علی نے فر مایا: میں خدا کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں انہوں نے قبول نہیں کیا انہوں نے کہا: آپ ہی خدا ہیں، آپ نے ان سے توبہ کرنے کی در خواست کی لیکن انہوں نے توبہ نہیں کی اس وجہ سے آپ نے ان کو پھانسی دی، شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، رجال کشی، ج١، ص٣٢٥۔

[20] شہرستانی، ملل و نحل، ج١، ص١٦٠۔

[21] شیخ طوسی، رجال کشی، ج٢، ص٨٠٥۔

فہرست منابع

1- القرآن الکریم۔
2- ابن ‌بابویه، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمۃ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1354 ه‍ ق۔
3- ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، قم، منشورات الشریف الرضی ، ١٤١٦ھ۔
4- اشعری قمی، سعد بن عبداللہ، مقالات و الفرق، تہران، مرکز انتشارات علمی فرہنگی۔
5- امین، سید محمد، اعیان الشیعۃ، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، بغیر تاریخ۔
6- پیشوائی، مہدی، شخصیت ہای اسلامی، انتشارات توحید۔، قم ١٣٥٩۔
7- زین عاملی، محمد حسین، شیعہ در تاریخ، ترجمہ محمد رضا عطائی، انتشارات آستانہ قدس رضوی، طبع دوم، ١٣٧٥ھ ش۔
8- شہرستانی، ملل و نحل، قم، منشورات شریف رضی۔
9- طبرسی، بو علی فضل بن حسن، اعلام الوریٰ، قم، موسسہ آل البیت، لاحیاء التراث، ١٤١٧ھ۔
10- طوسی، اختیار معرفۃ الرجال (رجال کشی)، قم، موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ١٤٠٤ھ۔
11- لیثی، سمیره مختار، جھاد الشیعۃ، بیروت، دارالجیل، ١٣٩٦ھ۔
12- مظفر، محمد حسین، تاریخ شیعہ، قم، منشورات مکتب بصیرتی، بغیر تاریخ۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

محرمی غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ: سید نسیم رضا آصف، ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)، طبع اول: ١٤٢٩ھ ۔ ٢٠٠٨ء ۔ چھٹی فصل تشیع کے اندر مختلف فرقے، ص248-238۔

 

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔