قرآن مجید میں اہل الذکر کی اصطلاح ایک کلیدی علمی اور اعتقادی حیثیت رکھتی ہے، جسے سورہ نحل (آیت ۴۳) اور سورہ انبیاء (آیت ۷) میں دینی معارف کے لیے ایک مستند مرجع کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس اصطلاح کے مصداق کے تعین میں مفسرین و محققین کے درمیان دو بنیادی نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ آیات کے سیاق و سباق کی بنیاد پر اہل الذکر سے مراد "اہل کتاب” یا "اہل علم” لیتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ شیعہ اور بعض سنی مکاتب فکر کی کثیر روایات کی روشنی میں اس کا واحد اور حقیقی مصداق پیغمبر اکرم (ص) کے اہل بیت (ع) کو قرار دیتا ہے۔
قرآنی پس منظر اور بنیادی سوال
قرآن کریم نے دو مقامات پر ایک ہی جیسے الفاظ میں ایک اہم اصول بیان فرمایا ہے۔ یہ اصول اس شبہ کے جواب میں پیش کیا گیا جو رسول اللہ (ص) کے زمانے میں مشرکین کے ذہنوں میں پایا جاتا تھا کہ اللہ کا پیغمبر ان کی طرح کا ایک عام انسان کیسے ہو سکتا ہے؟ قرآن نے اس شبہ کو دور کرنے کے لیے انہیں اہل الذکر سے رجوع کرنے کا حکم دیا تاکہ ان پر حجت تمام ہو جائے۔
1. "وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ * بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ"[1] "اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مردوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کرتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل الذکر سے پوچھ لو۔ (انہیں) ہم نے واضح دلائل اور کتابوں کے ساتھ بھیجا تھا۔”
2. "وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَکَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ"[2] "اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مردوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کرتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل الذکر سے پوچھ لو۔”
ان آیات کی روشنی میں کچھ کلیدی سوالات جنم لیتے ہیں:
تنزیل کی سطح پر نزولِ قرآن کے وقت اہل الذکر سے کون مراد تھے؟ اگر اس سے مراد اہل کتاب ہیں، تو کیا وہ قابلِ اعتماد تھے؟
تاویل کی سطح پر اس آیت کا حکم کس طرح وسیع ہو کر دوسرے مصادیق پر لاگو ہوتا ہے؟
ان کثیر روایات کو، جو اہل الذکر کا مصداق اہل بیت (ع) کو قرار دیتی ہیں، مکی سورتوں کے اس سیاق کے ساتھ کیسے منطبق کیا جائے؟
اہل سنت کا نقطہ نظر اور اس کا تجزیہ
اہل سنت کے اکثر مفسرین آیات کے سیاق (Context) اور ان کے مکی ہونے کی بنیاد پر اہل الذکر سے مراد "اہل کتاب” یعنی یہود و نصاریٰ لیتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ اہل کتاب کو ایک علمی مرجع سمجھتے تھے، اس لیے قرآن نے انہیں حکم دیا کہ وہ اہل کتاب سے پوچھیں کہ کیا گزشتہ انبیاء انسان تھے یا فرشتے۔ یحییٰ بن زیاد فراء (م ۲۰۷ھ) کہتے ہیں کہ اس سے مراد اہل تورات و انجیل ہیں[3]۔ طبری (م ۳۱۰ھ)، ثعلبی (م ۴۲۷ھ)، زمخشری (م ۵۲۸ھ)، اور فخر رازی (م ۶۰۶ھ) جیسے بڑے مفسرین نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق چونکہ اہل کتاب بھی رسول اللہ (ص) کے مخالف تھے، لہٰذا ان کا یہ اعتراف کہ تمام انبیاء بشر ہی تھے، مشرکین کے لیے زیادہ اطمینان بخش ہوتا[4]۔
البتہ اس نظریے پر کچھ سنجیدہ اعتراضات وارد ہوتے ہیں:
1. ناقابلِ اعتبار مرجع: قرآن خود کئی مقامات پر اہل کتاب کے حقائق چھپانے[5]، دین میں غلو کرنے[6] اور حق کو باطل سے ملانے[7] کی مذمت کرتا ہے۔ ایسے میں قرآن انہیں ایک قابلِ اعتماد مرجع کے طور پر کیسے پیش کر سکتا ہے؟
2. محدود اطلاق: اگر اس آیت کو صرف اسی ایک تاریخی واقعے تک محدود کر دیا جائے تو اس کا پیغام دائمی نہیں رہے گا، جبکہ قرآن کی تعلیمات ہر دور کے لیے ہیں۔ فخر رازی جیسے بعض علماء نے اس آیت کے حکم کو عام ماننے سے انکار کیا ہے، جو اس کی آفاقیت کو مجروح کرتا ہے[8]۔
3. اہل بیت (ع) سے متعلق روایات: دلچسپ بات یہ ہے کہ اہل سنت کے مصادر میں بھی ایسی روایات موجود ہیں جن میں اہل الذکر کا مصداق اہل بیت (ع) کو بتایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، طبری اور حاکم حسکانی نے امام علی (ع) اور امام محمد باقر (ع) سے روایات نقل کی ہیں کہ "ہم ہی اہل الذکر ہیں”[9]۔ ابن کثیر اس روایت کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن اس کی عجیب تاویل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امام (ع) کی مراد پوری امتِ مسلمہ تھی، جو کہ سیاقِ روایت اور اہل بیت (ع) کی مخصوص اصطلاحی حیثیت کے خلاف ہے[10]۔
اہل سنت کے ایک بہت چھوٹے گروہ نے اہل الذکر سے "اہل قرآن” مراد لیا ہے، مگر یہ قول زیادہ مقبول نہیں ہوا کیونکہ جو مشرکین قرآن اور رسالت کے ہی منکر تھے، وہ اہل قرآن سے رجوع کیوں کرتے؟
شیعہ نقطہ نظر: اہل بیت (ع) ہی ‘اہل الذکر’ ہیں
شیعہ مکتب فکر میں، اگرچہ بعض ابتدائی مفسرین جیسے شیخ طوسی (التبیان) اور علامہ طبرسی (مجمع البیان) نے سنی مفسرین کی طرح اہل کتاب والے قول کو بھی نقل کیا ہے، لیکن شیعہ عقیدے کی بنیاد اور اصل محور وہ متواتر روایات ہیں جو اہل الذکر کو اہل بیت (ع) میں منحصر کرتی ہیں۔
محدثینِ عظام نے اس موضوع پر مستقل ابواب قائم کیے ہیں۔ مرحوم محمد بن یعقوب کلینی (م ۳۲۹ھ) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "الکافی” میں "بابُ أنَّ أَهْلَ الذِّکْرِ الَّذینَ أمَرَ اللهُ الخَلْقَ بِسُؤالِهِمْ هُمُ الأَئِمَّةُ علیهم السلام” (باب: بے شک اہل الذکر، جن سے سوال کرنے کا اللہ نے حکم دیا، وہ ائمہ علیہم السلام ہیں) کے عنوان سے ایک باب قائم کیا اور اس میں نو روایات نقل کیں۔[11]۔ اسی طرح محمد بن حسن صفّار (م ۲۹۰ھ) نے "بصائر الدرجات” میں ۲۸ روایات اور علامہ مجلسی (م ۱۱۱۰ھ) نے "بحار الانوار” میں ۶۵ روایات اسی موضوع پر جمع کی ہیں[12]۔
ان روایات کا مواد انتہائی واضح اور دو ٹوک ہے:
1. شناخت کا تعین: ہشام بن سالم امام جعفر صادق (ع) سے آیت "فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّکْرِ” کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کون ہیں؟ امام (ع) فرماتے ہیں: "ھم، نحن” (وہ ہم ہیں)۔ ہشام پوچھتے ہیں: "تو کیا ہم پر واجب ہے کہ آپ سے سوال کریں؟” امام (ع) نے فرمایا: "ہاں”۔ ہشام نے پھر پوچھا: "اور کیا آپ پر جواب دینا واجب ہے؟” امام (ع) نے فرمایا: "یہ ہماری مرضی پر ہے”[13]۔ یہ روایت سوال کرنے کی ذمہ داری اور علم کے منبع کی نشاندہی کرتی ہے۔
2. غلط تفسیر کی تردید: محمد بن مسلم امام محمد باقر (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اہل الذکر سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ امام (ع) نے فرمایا: "اگر ایسا ہوتا تو وہ تمہیں اپنے دین کی طرف بلاتے!” پھر آپ (ع) نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: "نَحْنُ أَهْلُ الذِّکْرِ وَ نَحْنُ الْمَسْئُولُونَ” (ہم اہل الذکر ہیں اور ہم ہی وہ ہیں جن سے سوال کیا جائے گا)[14]۔ یہ روایت واضح طور پر اہل کتاب کی تفسیر کو رد کرتی ہے۔
3. "ذکر” کی تشریح: بعض روایات میں "ذکر” کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ امام صادق (ع) فرماتے ہیں: "فَرَسُولُ اللهِ (ص) الذِّکْرُ وَ أَهْلُ بَیْتِهِ الْمَسْئُولُونَ وَ هُمْ أَهْلُ الذِّکْرِ” (رسول اللہ (ص) خود "ذکر” ہیں اور ان کے اہل بیت (ع) وہ ہیں جن سے سوال کیا جائے گا، اور وہی اہل الذکر ہیں)[15]۔ ایک اور روایت میں رسول اللہ (ص) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: "الذِّکْرُ أَنَا وَ الْأَئِمَّةُ أَهْلُ الذِّکْرِ” (ذکر مَیں ہوں اور ائمہ اہل الذکر ہیں)۔ یہ تشریح اس اصطلاح کو براہِ راست ذاتِ رسالت اور ان کے جانشینوں سے جوڑتی ہے۔
یہ روایات اپنے تواتر اور صحتِ اسناد کی بنا پر کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ شیعہ نقطہ نظر میں اہل الذکر کا مصداق صرف اور صرف اہل بیت (ع) ہیں۔
روایات اور آیت کے سیاق میں تطبیق و ہم آہنگی
اب سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان واضح اور کثیر روایات کو آیات کے ظاہری سیاق کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جائے، کیونکہ آیات مکہ میں نازل ہوئیں اور بظاہر مشرکین کو اہل کتاب سے رجوع کا کہہ رہی ہیں؟ شیعہ محققین نے اس مسئلے کے کئی حل پیش کیے ہیں:
1. قاعدۂ عقلی: جاہل کا عالم سے رجوع
ایک مقبول نظریہ یہ ہے کہ آیت "فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّکْرِ” ایک عمومی اور عقلی اصول (Rational Principle) بیان کر رہی ہے، اور وہ اصول ہے "جاہل کا عالم کی طرف رجوع کرنا”۔ آیت میں مشرکین کو اہل کتاب کی طرف رجوع کرنے کا حکم دینا اس عمومی اصول کا ایک جزوی مصداق (Specific Instance) تھا۔ قرآن نے ایک وقتی اور مقامی مثال کے ذریعے ایک دائمی اور آفاقی قانون کی طرف رہنمائی کی ہے۔
اس نظریے کے مطابق، روایات اس عمومی اصول کے سب سے کامل، اتم اور حقیقی مصداق کا تعین کرتی ہیں۔ یعنی اگرچہ کسی بھی فن کا ماہر اس فن کے لیے "اہل الذکر” ہو سکتا ہے، لیکن جب بات دین کے حقیقی علم، معارفِ الٰہی اور شریعت کی ہو، تو اس کے واحد اور مطلق مصداق اہل بیت (ع) ہیں۔ استاد محمد ہادی معرفت اور دیگر معاصرین اسی قول کی طرف مائل ہیں[16]۔ روایات اس قرآنی حکم کی تخصیص نہیں کرتیں بلکہ اس کے حقیقی مصداق کی نشاندہی کرتی ہیں۔
2. تنزیل اور تاویل کا فرق
علامہ سید محمد حسین طباطبائی (رح) نے "المیزان فی تفسیر القرآن” میں اس مسئلے کا سب سے جامع اور واضح حل پیش کیا ہے۔ وہ تنزیل (موردِ نزول) اور تاویل (عمومی اطلاق) کے درمیان فرق قائم کرتے ہیں:
تنزیل کی سطح پر (موردِ نزول): علامہ طباطبائی فرماتے ہیں کہ آیت کے نزول کے وقت، مشرکین کے مخصوص سوال (انبیاء کا بشر ہونا) کے جواب میں انہیں اہل کتاب سے پوچھنے کا حکم دینا ایک بہترین حکمت عملی تھی۔ چونکہ اہل کتاب بھی مشرکین کی طرح نبی اکرم (ص) کی رسالت کے منکر تھے، اس لیے ان کی گواہی مشرکین کے لیے زیادہ قابلِ قبول ہوتی۔ یہ ایک طرح کا الزامی جواب تھا تاکہ حجت تمام ہو جائے۔ اس سطح پر مخاطب مشرکین ہیں اور جن سے سوال کیا جانا ہے وہ اہل کتاب ہیں[17]۔
تاویل کی سطح پر (عمومی اور دائمی حکم): علامہ کے مطابق، قرآن کی آیات اپنے موردِ نزول میں محدود نہیں ہوتیں۔ یہ آیت ایک عمومی قاعدہ بیان کرتی ہے کہ ہر وہ شخص جو نہیں جانتا، اسے جاننے والوں سے پوچھنا چاہیے۔ روایاتِ اہل بیت (ع) اس عمومی قاعدے کے "متعین مصداق” کو واضح کرتی ہیں۔ یعنی دینی علوم اور حقیقی معارف کے میدان میں اہل الذکر ایک خاص اصطلاح ہے جس کا اطلاق صرف اور صرف اہل بیت (ع) پر ہوتا ہے۔ لہٰذا، روایات آیت کے ظاہری معنی سے متصادم نہیں ہیں، بلکہ وہ اس کے دائرہ کار کو حقیقی علم کے منبع پر مرکوز کرتی ہیں۔ روایات بتاتی ہیں کہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ علمی مرجع کون ہے۔
علامہ کی اس تشریح سے سیاق اور روایات دونوں کی حفاظت ہو جاتی ہے۔ سیاق اپنی جگہ درست ہے جو ایک تاریخی واقعے کی عکاسی کرتا ہے، اور روایات اپنی جگہ اٹل ہیں جو اس آیت کے دائمی اور حقیقی پیغام کو بیان کرتی ہیں۔
نتیجہ
اگرچہ آیت اہل الذکر کے ظاہری سیاق سے ابتدائی طور پر اہل کتاب کا مفہوم نکلتا ہے، لیکن یہ صرف ایک محدود اور وقتی حکمت عملی تھی۔ اس کے برعکس، پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین (ع) سے منقول متواتر اور صحیح السند روایات اس اصطلاح کا واحد، حقیقی اور دائمی مصداق اہل بیت (ع) کو قرار دیتی ہیں۔
حوالہ جات
[1] سورہ نحل، آیت-۴۳-۴۴۔
[2] سورہ انبیاء، آیت۷۔
[3] فراء، معانی القرآن، ج۲، ص۱۹۹۔
[4] رازی، مفاتیح الغیب، ج۲۲، ص۱۴۴۔
[5] سورہ مائدہ، آیت۱۵۔
[6] سورہ مائدہ، آیت۷۷۔
[7] سورہ آل عمران، آیت۷۱۔
[8] رازی، مفاتیح الغیب، ج۲۲، ص۱۴۴۔
[9] طبری، جامع البیان، ج۱۰، ص۵؛ حسکانی، شواہد التنزیل، ج۱، ص۵۰۸۔
[10] آلوسی، تفسیر القرآن العظیم، ج ۲، ص ۵۷۱۔
[11] کلینی، الکافی، ج۱، ص۲۱۰-۲۱۲۔
[12] مجلسی۔ بحار الانوار، ج۲۳، ص۱۷۲-۱۸۸۔
[13] بصائر الدرجات، ص۳۹۔
[14] کلینی، الکافی، ج۱، ص۲۱۲۔
[15] کلینی، الکافی، ج۱، ص۲۱۱۔
[16] معرفت، التفسیر و المفسرون فی ثوبہ القشیب، ص۱۶۶۔
[17] طباطبایی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج۱۲، ص۲۵۹۔
فہرست منابع
1. آلوسی، محمود، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و سبعالمثانی، به کوشش: محمد حسین العرب، بیروت: دارالفـکر، ۱۴۱۷ق.
2. رازی، فخرالدین، مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر)، قم: مرکز نشر مکتب الاعلام الاسلامی، ۱۴۱۱ق.
3. طباطبایی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ترجمه: محمد باقر موسوی همدانی، قم: مؤسسه مطبوعات دارالعلم، ۱۳۴۸ش.
4. فراء، یحیی، معانی القرآن، تحقیق: احمد یوسف نجاتی و محمد علی النجار، تهران: انتشارات ناصر خسرو، ۱۳۶۰ق.
5. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح: علیاکبر غفاری، تهران: دارالکتب الاسلامیه، ۱۳۸۸ق.
6. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعه لدرر اخبار الائمه الاطهار، تهران: المکتبه الاسلامیه، ۱۳۹۷ق.
7. معرفت، محمد هادی، التفسیر و المفسرون فی ثوبه القشیب، مشهد: الجامعه الرضویه للعلوم الاسلامیه، ۱۳۷۷ش.
8. حسکانی، عبیدالله، شواهد التنزیل لقواعد التفضیل، تحقیق: محمد باقر المحمودی، قم: مجمع احیاء الثقافه الاسلامیه، ۱۴۱۱ق.
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
1. عباسی، فریدون، «بررسی روایات تفسیری شیعه و سنی در آیه «اهل ذکر» و عرضه آن بر قرآن»، اندیشههای قرآنی، بهار و تابستان ۱۳۹۷، شماره ۹، ص ۵–۳۴.
2. جبرائیلی، سجاد، «بررسی دلالت آیه فاسئلوا اهل الذکر از منظر مفسرین شیعه و سنی»، سخن جامعه، تابستان ۱۴۰۱، سال یازدهم، شماره ۲۲، ص ۴۴–۵۵.
3. نجارزادگان، فتحالله و سمیه هادیلو، «بررسی و ارزیابی وجوه جمع بین روایات «اهل الذکر»»، علوم حدیث، پاییز ۱۳۹۱، شماره ۶۵، رتبه: علمی–پژوهشی / ISC، ص ۲۸–۵۲.