حضرت امام علی (ع) کا ۲۵ سال تک سکوت اختیار کرنا ایک اہم تاریخی حقیقت ہے، خاموشی کا دور حضرت امام علی (ع) کی زندگی کا وہ حصہ ہے، جس میں انہوں نے اسلامی وحدت، دینی مصالح، اور مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے، خلفائے ثلاثہ (ابو بکر، عمر، اور عثمان) کے ساتھ تعاون کیا۔ یہ سکوت کوئی عام خاموشی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک حکمت عملی تھی جس کا مقصد اسلامی معاشرے کی وحدت اور دین کی حفاظت کو برقرار رکھنا تھا۔
ایک اہم سوال اور جواب
حضرت علی (ع) نے سقیفہ اور ابو بکر کی حکومت کے آغاز کے بعد کیوں اپنے حق سے صرف نظر کیا؟ چند ماہ کے استدلال اور احتجاجات کے بے اثر ہونے کا یقین کر لینے کے بعد حکومت کے خلاف مسلحانہ جنگ کیوں نہیں کی؟ جب کہ بعض بزرگ اصحاب پیغمبر (ص) آپ کے واقعی طرفداروں میں تھے اور عمومی طور سے مسلمان بھی آپ سے مخالفت نہیں رکھتے تھے؟!
کلی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت امام علی (ع) نے اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو مد نظر رکھا اور سکوت اختیار کیا جیسا کہ خطبہ شقشقیہ میں آپ نے فرمایا:
’’میں نے خلافت کی قبا کو چھوڑ دیا اور اپنے دامن کو اس سے دور کر لیا حالانکہ میں اس فکر میں تھا کہ آیا تنہا بغیر کسی یاور و مددگار کے ان پر حملہ کردوں یا اس دم گھٹنے والی تنگ و تاریک فضا میں جوان کی کارستانیوں کا نتیجہ تھی اس پر صبر کروں ایسی فضا جس نے بوڑھوں کو فرسودہ بنا دیا تھا، جوانوں کو بوڑھا اور با ایمان لوگوں کو زندگی کے آخری دم تک کے لئے رنجیدہ کردیا تھا۔
میں نے انجام پر نگاہ کی تو دیکھا کہ بردباری اور حالات پر صبر کرنا ہی عقل و خرد سے زیادہ نزدیک ہے اسی وجہ سے میں نے صبر کیا لیکن میں اس شخص کی طرح رہا کہ جس کی آنکھ میں کانٹا اور گلے میں کھردری ہڈی پھنسی ہوئی ہو میں اپنی میراث کو اپنی آنکھ سے لٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔‘‘[1]
خاموشی کے علل و اسباب
۱۔ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ
حضرت امام علی (ع) کی خاموشی کی ایک اہم علت اور وجہ اسلامی معاشرے کے ٹوٹنے کا خوف تھا۔ حضرت امام علی (ع) فرماتے ہیں: جب خدا نے اپنے پیغمبر(ص) کی روح قبض کی قریش نے اپنے کو ہم پر مقدم کیا اور ہم (جو امت کی قیادت کے لئے سب سے زیادہ سزاوار تھے) کو ہمارے حق سے بازر کھا لیکن میں نے دیکھا کہ اس کام میں صبر و برد باری کرنا مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور ان کے خون بہنے سے بہتر ہے۔
کیونکہ لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے دین کی مثال بالکل دودھ سے بھری ہوئی اس مشک کی سی تھی کہ جس میں جھاگ بھر گیا ہوکہ جس میں ذرا سی غفلت اور سستی اسے نابود کر دے گی اور تھوڑا سا بھی اختلاف اسے پلٹ دے گا۔[2]
۲۔ لوگوں کے مرتد ہونے کا خطرہ
پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد، عرب قبائل کی بڑی تعداد کہ جنہوں نے پیغمبر اسلام (ص) کی آخری زندگی میں اسلام قبول کیا تھا وہ دین سے پلٹ گئے اور مرتد ہوگئے تھے کہ جس کی وجہ سے، مدینہ کے لئے خطرہ بہت بڑھ گیا تھا۔ ان کے مقابلہ میں مدینہ کی حکومت کمزور نہ ہو نے پائے۔ اس لئے حضرت امام علی (ع) نے ۲۵ سال تک سکوت اختیار کیا۔ حضرت امام علی (ع) نے فرمایا:
خدا کی قسم! میں نے یہ کبھی نہیں سوچا اور نہ میرے ذہن میں کبھی یہ بات آئی کہ پیغمبر (ص) کے بعد عرب منصب امامت اور رہبری کو ان کے اہل بیت (ع) سے چھین لیں گے اور خلافت کو مجھ سے دور کر دیں گے تنہا وہ چیز کہ جس نے مجھے ناراض کیا وہ لوگوں کا فلاں (ابو بکر) کے اطراف میں جمع ہو جانا اور اس کی بیعت کرنا تھا۔
میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کچھ گروہ اسلام سے پھر گئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دین محمد (ص) کونابود کردیں، میں نے اس بات کا خوف محسوس کیا کہ اگر اسلام اور اس کے اہل کی مددد نہ کروں نیز اسلام میں شگاف اور اس کے نابود ہونے پر شاہد رہوں تو میرے لئے اس کی مصیبت حکومت اور خلافت سے محروم ہونے سے زیادہ بڑی تھی۔
کیونکہ دنیا کا فائدہ چند روزہ ہے جو جلد ہی ختم ہوجائے گا جس طرح سراب تمام ہو جاتا ہے یا بادل چھٹ جاتے ہیں پس میں نے اس چیز کو چاہا کہ باطل ہمارے درمیان سے چلا جائے اور دین اپنی جگہ باقی رہے۔[3]
اسی وجہ سے امام حسن (ع) نے بھی معاویہ کو ایک خط میں لکھا کہ میں نے منافقوں اور عرب کے تمام گروہ کہ جو اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے ان کی وجہ سے اپنے حق سے چشم پوشی کی۔[4]
حتیٰ کہ ان لوگوں میں کچھ ایسے تھے جن کے لئے قرآن نے شہادت دی ہے: ان کے قلوب میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا تھا اور انہوں نے زبردستی اسلا م قبول کیا تھا اور اپنے نفاق کی وجہ سے حضرت امام علی (ع) کی ولایت کے منکر تھے حتیٰ کہ رسول اللہ (ص) کے دور میں بھی اس مطلب پر اعتراض کرتے تھے۔
طبرسی نے آیۂ ”سأل سائل بعذاب واقع” کی تفسیر میں حضرت امام صادق (ع) سے نقل کیا ہے: غدیر خم کے واقعہ کے بعد نعمان بن حارث فھری پیغمبر (ص) کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ کے حکم کے مطابق ہم نے خدا کی وحدانیت اور آپ کی رسالت کی گواہی دی اور آپ نے جہاد، روزہ، حج، زکوٰة، نماز کا حکم دیا ہم نے قبول کیا۔
ان تمام باتوں پر آپ راضی اور خوش نہیں ہوئے اور کہہ رہے ہیں کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے علی (ع) مولا ہیں، کیا یہ آپ کی طرف سے ہے یا خدا کی جانب سے؟ تو رسول خدا (ص) نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے یہ حکم خدا کی طرف سے ہے۔
نعمان بن حارث وہاں سے یہ کہتا ہوا واپس ہوا کہ اگر یہ مطلب حق ہے تو آسمان سے میرے اوپر پتھر نازل فرما، اسی وقت آسمان سے اس کے اوپر پتھر نازل ہوا اور وہ وہیں پر ہلاک ہوگیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔[5]
سقیفہ میں بھی یہ لوگ قریش کے حامی اور طرفدار تھے جیسا کہ ابو مخنف نے نقل کیا ہے کہ کچھ صحرائی عرب مدینہ کے اطراف میں کاروبار کے لئے آئے ہوئے تھے اور پیغمبر (ص) کی وفات کے دن مدینہ میں موجود تھے ان لوگوں نے ابو بکر کی بیعت کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔[6]
۳۔ عترت پیغمبر (ص) کی حفاظت کی ضمانت
پیغمبر (ص) کے اصلی وارث اور دین کے سچے حامی نیز خیر خواہ رسول (ص) کے خاندان والے تھے. یہ لوگ قرآن کے ہم پلہ اور ہم رتبہ، نیز پیغمبر (ص) کے دوسری عظیم یادگار یعنی قرآن و شریعت کی تفسیر کرنے والے تھے۔ انہوں نے پیغمبر (ص) کے بعد اسلام کا صحیح چہرہ لوگوں کے سامنے پیش کیا تھا۔ ان لوگوں کا قتل ہو جانا ناقابل تلافی نقصان تھا۔ حضرت امام علی (ع) فرماتے ہیں: میں نے سوچا اور فکر کی کہ اس وقت اہل بیت (ع) کے علاوہ کوئی میرا مدد گار نہیں ہے میں راضی نہیں تھا کہ یہ لوگ قتل کر دئیے جائیں۔[7]
خاتمہ
حضرت امام علی (ع) کی خاموشی و سکوت کوئی عام خاموشی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک حکمت عملی تھی جس کا مقصد اسلامی معاشرے کی وحدت، دین کی حفاظت، اور مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو برقرار رکھنا تھا۔ ۲۵ سال تک سکوت اختیار کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہوں نے اپنے حق سے دستبردار ہو کر بھی اسلامی معاشرے کو ٹوٹنے سے بچایا اور اپنے دورِ خلافت میں اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
حوالہ جات
[1]۔ سید رضی، نہج البلاغہ، خطبہ ۳ معروف بہ خطبہ شقشقیہ (فَسَدَلْتُ دُونَهَا ثَوْباً وَ طَوَيْتُ عَنْهَا كَشْحاً وَ طَفِقْتُ أَرْتَئِي بَيْنَ أَنْ أَصُولَ بِيَدٍ جَذَّاءَ أَوْ أَصْبِرَ عَلَى طَخْيَةٍ عَمْيَاءَ، يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ وَ يَشِيبُ فِيهَا الصَّغِيرُ وَ يَكْدَحُ فِيهَا مُؤْمِنٌ حَتَّى يَلْقَى رَبَّهُ، فَرَأَيْتُ أَنَّ الصَّبْرَ عَلَى هَاتَا أَحْجَى فَصَبَرْتُ وَ فِي الْعَيْنِ قَذًى وَ فِي الْحَلْقِ شَجًا، أَرَى تُرَاثِي نَهْباً)۔
[2]۔ انّ اللّه لمّا قبض نبیّه استاثرث علینا قریش بالامر ودفعتنا عن حقٍّ نحن احقُّ به مِن النّاسِ کافّةً فرایْتُ انَّ الصّبر علیٰ ذلکٔ افضَلُ مِن تفیقِ کلمةِ المُسلمین َ و سفْکِٔ دِمائِهم و النّاسُ حد یثو عهدٍ بالاسلام والدین ِ یُمخَص مخْصَ الوطب، یُفسَدهُ ادنیٰ و هَنٍ و یعکسه خُلفٍ۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص۳۰۸۔
[3]۔ فواللّه ما کان یلقی فی روعی و لا یخطر ببالی، انّ العرب تزعج هذا الامر من بعده عن اهل بیته ولا انهم منحّوه عنّی من بعده فما راعنی الّا انثیال النّاس علی فلان یبایعونه، فامسکت یدی حتّی رایت رجعة النّاس قد رجعت عن الاسلام یدعون الی محق دین محمد ٍ (ص) فخشیتُ ان لم انصر الاسلام و اهله ان اری فیه ثلماً او هدماً تکون المصیبة به علیَّ اعظم من قوت ولا یتکم الّتی انّما هی متاع ایّام قلائل یزول منها ما کان یزول السَّراب او کما یتقشّع السحاب فنهضت فی تلکٔ الاحداث حتی زاح الباطل و زهق، واطمانّ الدین و تنهنه۔ سید رضی، نہج البلاغہ، مکتوب ۶۲۔
[4]۔ ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص۶۵۔
[5]۔ طبرسی، مجمع البیان، ج١٠، ص۵۳۰۔
[6]۔ شیخ مفید، الجمل، ص۱۱۸ و ۱۱۹۔
[7]۔ فَنَظَرتُ فاِذَا لَیْسَ لِی مُعِینُ اِلّا اَهل بَیْتِی فَضَنَنْتُ بِهِمْ عَن المُوْت۔ سید رضی، نہج البلاغہ، خطبہ ٢٦۔
کتابیات
۱۔ سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، قم ایران، ہجرت، ۱۴۱۴ھ۔
۲۔ ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغہ، قم ایران، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ھ۔
۳۔ ابو الفرج اصفہانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبیین، بیروت لبنان، دار المعرفة، ۱۴۰۸ھ۔
۴۔ طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت لبنان، دار المعرفة للطباعة، ۱۴۰۸ھ۔
۵۔ شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الجمل، قم ایران، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):
محرّمی، غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ سید نسیم رضا آصف، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ١٤٢٩ھ ۔ ٢٠٠٨ء۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔