سجدہ گاہ پر (خاک یا مُہر پرسجدہ) نماز ادا کرنا ایک ایسی عبادت ہے جس کی جڑیں سنتِ نبوی (ص) میں گہرائی تک موجود ہیں۔ بعض اوقات معلومات کی کمی اور تفرقہ انگیز پروپیگنڈے کے باعث، کچھ لوگ اسے شیعوں کی ایجاد اور ایک اختلافی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن جب اسلامی مصادر، بالخصوص اہل سنت کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو حقیقت بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ مُہر کا استعمال نہ صرف سنتِ رسول (ص) اور صحابہ کرام کے عمل کے عین مطابق ہے، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
نماز کے ارکان میں سجدہ سب سے اہم ہے، جو بندے کے عجز و انکسار اور اللہ کی کبریائی کے اعتراف کا مظہر ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ رسول خدا (ص) اور آپ کے صحابہ کس چیز پر سجدہ کیا کرتے تھے۔
خاک پر سجدہ، سنتِ نبوی (ص)
یہ ایک متفقہ تاریخی حقیقت ہے کہ رسول اللہ (ص) کے زمانے میں مساجد اور گھروں میں قالین یا چٹائیاں نہیں بچھی ہوتی تھیں۔ مسجد نبوی کا فرش بھی کچی مٹی، ریت اور کنکریوں پر مشتمل تھا۔ لہٰذا، آپ (ص) اور صحابہ کرام براہِ راست زمین پر ہی سجدہ فرماتے تھے۔ خاک پر سجدہ کرنا ہی اصل سنتِ نبوی (ص) ہے۔ متعدد روایات اس عمل کی تائید کرتی ہیں:
شیعہ و سنی دونوں مکاتب فکر میں یہ حدیثِ مشہور ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: "جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا” یعنی "میرے لیے تمام زمین کو سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی قرار دیا گیا ہے”۔[1] یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ زمین اپنی فطرت میں سجدہ گاہ ہے۔
صحابہ کی گواہی
وائل بن حجر سے روایت ہے: "میں نے رسول اللہ (ص) کو دیکھا کہ جب آپ (ص) سجدہ کرتے تو اپنی پیشانی اور ناک زمین پر رکھتے تھے۔”[2]
ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ایک بارش کی رات کے بعد جب آپ (ص) نے نماز پڑھائی تو میں نے آپ کی پیشانی مبارک اور ناک پر مٹی اور پانی کے نشانات دیکھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خاک پر سجدہ آپ (ص) کا معمول تھا۔[3]
حضرت عائشہ فرماتی ہیں: "میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ (ص) نے سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی کو (زمین پر لگنے سے بچانے کے لیے) کسی چیز سے ڈھانپا ہو۔”[4]
زمین کے علاوہ دیگر اشیاء پر سجدہ
روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ آپ (ص) نے زمین کے علاوہ ان چیزوں پر بھی سجدہ کیا جو زمین سے اُگتی ہیں لیکن کھانے یا پہننے کے کام نہیں آتیں۔
روایت ہے کہ آپ (ص) کے پاس ایک چٹائی (حصیر) تھی جسے بچھا کر آپ (ص) اس پر نماز ادا فرماتے۔[5]
ابن عباس سے مروی ہے کہ "پیغمبر اکرم (ص) نے پتھر پر سجدہ کیا۔”[6]
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری فرماتے ہیں کہ "ہم ظہر کی نماز رسول اللہ (ص) کے ساتھ پڑھتے تھے تو میں (شدید گرمی کی وجہ سے) اپنی مٹھی میں کچھ کنکریاں لے کر انہیں ٹھنڈا کرتا تاکہ ان پر سجدہ کر سکوں۔”[7] یہ عمل بھی خاک پر سجدہ اور اس سے متعلقہ اشیاء کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
ان روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول اللہ (ص) اور آپ کے صحابہ کا معمول تھا کہ وہ براہِ راست زمین، پتھر، کنکریوں یا پھر زمین سے اُگنے والی اشیاء جیسے چٹائی پر سجدہ کرتے تھے اور اسے سجدہ گاہ بناتے تھے۔ وہیں لباس یا عمامے کے کسی حصے پر سجدہ کرنے اور اسے سجدہ گاہ بنانے سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔ حضرت علی (ع) کا فرمان ہے: "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنی پیشانی سے عمامہ ہٹا دے (تاکہ زمین پر سجدہ کرے)۔”[8]
سجدہ گاہ پر سجدہ (مُہر، تربت) کا استعمال
یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ اگر خاک پر سجدہ اصل ہے تو شیعہ مُہر یا سجدہ گاہ کا استعمال کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ بعد کی ایجاد ہے؟
تربت یا مُہر (سجدہ گاہ) کیا ہے؟
لفظ "تربت” عربی کے لفظ "تراب” سے نکلا ہے جس کا معنی مٹی ہے۔ تربت یا مُہر دراصل پاک مٹی کا وہ خشک ٹکڑا ہے جسے پانی میں گوندھ کر سکھا لیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف سجدے کے لیے ایک پاک اور صاف چیز فراہم کرنا ہے۔ یہ بذات خود کوئی عبادت نہیں بلکہ سجدہ گاہ ہے۔ سجدہ بر خاک کے حکم پر عمل کرنے کا یہ ایک آسان اور منظم طریقہ ہے۔ جس طرح سجدہ قالین پر کرنا "قالین کی عبادت” نہیں، اسی طرح مُہر یا سجدہ گاہ پر سجدہ کرنا "مُہر یا سجدہ گاہ کی عبادت” نہیں بلکہ اللہ کی عبادت ہے۔
استعمال کا آغاز
تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ صدرِ اسلام میں بھی صحابہ اور تابعین پاک مٹی یا پتھر اپنے ساتھ رکھنے کا اہتمام کرتے تھے۔
مسروق بن اجدع کا عمل: مسروق بن اجدع، جو ایک جلیل القدر تابعی اور حدیث کے راوی ہیں، مدینہ کی مٹی سے ایک خشک ڈلا بنا کر اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ سفر کے دوران، حتیٰ کہ کشتی میں بھی، وہ نماز کے وقت اسی پر سجدہ کیا کرتے تھے۔[9]
علی بن عبداللہ بن عباس کی خواہش: مشہور مؤرخ ازرقی نقل کرتے ہیں کہ علی بن عبداللہ بن عباس (جو حضرت ابن عباس کے پوتے تھے) نے اپنے ایک دوست کو لکھا کہ "میرے لیے مروہ پہاڑی کا ایک ہموار پتھر بھیجو تاکہ میں اس پر سجدہ کروں۔”[10]
ان شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ پاک مٹی یا پتھر کو بطور سجدہ گاہ استعمال کرنے کا تصور نیا نہیں ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب گھروں اور مساجد میں قالین اور موکٹ بچھائے جانے لگے تو خاک پر سجدہ کے حکم پر عمل کرنا مشکل ہوگیا۔ کھلی مٹی ساتھ رکھنے سے لباس اور جگہ کے گندے ہونے کا خدشہ تھا۔ اس کا بہترین حل یہ تھا کہ پاک مٹی کو گوندھ کر خشک ٹکڑوں کی شکل دے دی جائے، جسے آج فارسی میں "مُہر” عربی میں "تربت” اور اردو میں "سجدہ گاہ” کہا جاتا ہے۔ یہ اہتمام اس لیے ہے تاکہ ہر حال میں سنتِ نبوی (ص) کے مطابق سجدہ کیا جا سکے۔
سجدہ گاہ کے بارے میں فقہی نقطہ نظر
شیعہ فقہ میں سجدہ گاہ کے حوالے سے واضح احکامات موجود ہیں، جن کی بنیاد قرآن، سنتِ نبوی (ص) اور ارشاداتِ اہل بیت (ع) پر ہے۔
شیعہ فقہ کی رو سے سجدہ گاہ
فقہ جعفری کے مطابق، سجدہ صرف زمین (مٹی، پتھر، ریت وغیرہ) یا ان چیزوں پر جائز ہے جو زمین سے اُگتی ہیں لیکن کھائی اور پہنی نہیں جاتیں (مثلاً لکڑی، پتے، گھاس، چٹائی)۔ اس کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً کپڑے، قالین، پلاسٹک یا دھات پر سجدہ کرنا جائز نہیں اور انھیں سجدہ گاہ بنانا درست نہیں۔
اس حکم کی حکمت امام جعفر صادق (ع) نے اپنے ایک صحابی ہشام بن حکم کے سوال کے جواب میں بیان فرمائی۔ آپ (ع) سے پوچھا گیا کہ کھانے اور پہننے کی اشیاء پر سجدہ کیوں جائز نہیں؟ امام (ع) نے فرمایا:
"کیونکہ سجدہ اللہ کے حضور خضوع اور فروتنی کا نام ہے، لہٰذا یہ مناسب نہیں کہ اسے کھانے اور پہننے کی چیزوں پر کیا جائے، اس لیے کہ دنیا پرست لوگ کھانے اور پہننے کی اشیاء کے غلام ہوتے ہیں۔ جبکہ سجدہ کرنے والا اللہ کی عبادت کر رہا ہوتا ہے، اس لیے یہ سزاوار نہیں کہ وہ اپنی پیشانی دنیا پرستوں کے معبود (یعنی دنیاوی اشیاء) پر رکھے۔”[11]
یہ بیان بتاتا ہے کہ خاک پر سجدہ اور اسے سجدہ گاہ بنانا انسان کو دنیوی رغبتوں سے دور کرتا ہے اور تکبر سے بچا کر حقیقی بندگی کا احساس دلاتا ہے۔ زمین پر پیشانی رکھنا عاجزی کی سب سے بڑی علامت ہے۔
دیگر اسلامی مکاتب فکر کا نظریہ
اہل سنت کے فقہاء بھی زمین اور اس سے اُگنے والی غیر ماکول و ملبوس (نہ کھائی جانے والی اور نہ پہنی جانے والی) اشیاء پر سجدے کو صحیح مانتے ہیں، اور اس حد تک شیعہ نقطہ نظر سے کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ وہ مجبوری کے بغیر بھی قالین، کپڑے اور دیگر مفروشات پر سجدے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کے دلائل کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر روایات یا تو عذر اور مجبوری کی حالت سے متعلق ہیں یا پھر ان کی سند اور دلالت میں ضعف پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، انس سے منسوب ایک روایت کہ گرمی کی شدت میں صحابہ کپڑے کے کونے پر سجدہ کر لیتے تھے، دیگر کئی صحیح روایات سے متصادم ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ رسول اللہ (ص) نے گرمی کی شکایت پر بھی مٹی پر سجدے سے رخصت نہیں دی اور خود عمامے پر سجدہ کرنے سے منع فرمایا۔ اس لیے ایسی روایات کو حالتِ اضطرار پر محمول کیا جائے گا، نہ کہ عمومی جواز پر۔[12]
خاکِ کربلا پر سجدے کی فضیلت
جب یہ واضح ہو گیا کہ خاک پر سجدہ افضل ترین عمل ہے اور اور اسے سجدہ گاہ بنایا گیا ہے، تو اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیعہ کربلا کی خاک (تربتِ حسینی) کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟
اس کی بنیاد یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح کچھ انسان (انبیاء، اولیاء) دیگر انسانوں پر اور کچھ اوقات (شبِ قدر، جمعہ) دیگر اوقات پر فضیلت رکھتے ہیں، اسی طرح کچھ مقامات اور زمین کے ٹکڑے بھی دوسرے مقامات پر فضیلت رکھتے ہیں۔ قرآن نے مکہ اور کعبہ کی حرمت کو بیان کیا ہے۔ اسی طرح کربلا کی سرزمین کو بھی اسلامی روایات میں ایک خاص تقدس اور فضیلت حاصل ہے۔
احادیث کی روشنی میں فضیلت
رسول اللہ (ص) کا عمل: متعدد سنی و شیعہ کتب میں یہ روایت موجود ہے کہ فرشتہ وحی (جبرائیل) نے رسول اکرم (ص) کو حضرت امام حسین (ع) کی شہادت کی خبر دی اور اس مقام کی مٹی لا کر پیش کی۔ آپ (ص) نے اس مٹی کو سونگھا، چوما اور فرمایا: "اس مٹی سے کرب و بلا (دکھ اور آزمائش) کی خوشبو آ رہی ہے۔” آپ (ص) نے وہ خاک حضرت ام سلمہ کو عطا کی جو شہادتِ حسین (ع) کے دن خون میں بدل گئی۔[13]
امیر المؤمنین حضرت علی (ع) کا گریہ: جنگِ صفین کی طرف جاتے ہوئے جب حضرت علی (ع) کا گزر کربلا کی سرزمین سے ہوا تو آپ اس جگہ کا نام سن کر اتنا روئے کہ زمین آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر آپ نے رسول اللہ (ص) کا وہ فرمان سنایا جس میں آپ (ص) کو جبرائیل (ع) نے حسین (ع) کی شہادت اور کربلا کی مٹی کے بارے میں بتایا تھا۔[14]
یہ روایات بتاتی ہیں کہ کربلا کی خاک عام خاک نہیں، بلکہ یہ توحید کے عظیم ترین مجاہد، نواسہ رسول (ص) اور جگر گوشہ بتول (ع)، حضرت امام حسین (ع) کے خون سے منسوب ہے۔ وہ خاک جو اللہ کی راہ میں فنا ہونے، عبودیت اور بندگی کی اعلیٰ ترین مثال کی یادگار ہے۔
ائمہ اہل بیت (ع) کا عمل: ائمہ معصومین (ع) خود بھی تربتِ امام حسین (ع) پر سجدہ کرنے کا اہتمام فرماتے اور اسے سجدہ گاہ بناتے تھے۔ امام جعفر صادق (ع) کے بارے میں روایت ہے کہ آپ کے پاس دیبا (ریشم) کی ایک زرد تھیلی تھی جس میں آپ خاکِ شفا (کربلا کی مٹی) رکھتے تھے اور نماز کے وقت اسے سجادے پر رکھ کر اسی پر سجدہ فرماتے۔[15]
خاک کربلا پر سجدہ اور اسے سجدہ گاہ بنانا دراصل اس عظیم قربانی کو یاد رکھنے کا ایک ذریعہ ہے، جو توحید کے لیے دی گئی۔ یہ سجدہ انسان کو سکھاتا ہے کہ بندگی کا حق ادا کرنے کے لیے سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے۔ یہ عمل شرک نہیں، بلکہ توحید سے گہرے عشق کا اظہار ہے۔
نتیجہ
سجدہ گاہ (خاک یا مُہر پرسجدہ) شیعہ مذہب کی کوئی ایجاد نہیں بلکہ یہ عین سنتِ نبوی (ص)، عملِ صحابہ اور حکمِ خداوندی کے مطابق ہے۔ اس کی اصل حکمت اللہ رب العزت کے سامنے تواضع، عاجزی اور بندگی کا اظہار کرنا ہے اور خود کو دنیوی آلائشوں اور تکبر سے پاک رکھنا ہے۔ سجدہ گاہ، مُہر یا تربت کا استعمال صرف اس لیے عام ہوا تاکہ ہر جگہ اور ہر حال میں ایک پاک اور صاف سجدہ گاہ میسر ہو، جس پر اطمینان کے ساتھ سجدہ کیا جا سکے۔ کربلا کی خاک کو فضیلت دینا اس کی تاریخی و روحانی قدسیت اور نواسہ رسول (ص) کی عظیم قربانی سے نسبت کی وجہ سے ہے، جو بندگی اور توحید کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ لہٰذا، سجدہ گاہ (خاک یا مُہر پرسجدہ) کو تفرقے کا نہیں بلکہ پیغمبرانہ سنت کی پیروی اور مسلمانوں کے درمیان فکری ہم آہنگی کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔
حوالہ جات
[1] كليني، اصول كافي، ج1، ص14؛ بخاری، صحيح بخاري، ج1، ص435، ج6، ص22۔
[2] احمد، مسند احمد، ج4، ص317۔
[3] بخاری، صحيح بخاري، ج1، ص162۔
[4] مسند عبد الله بن عباس، ج8، ص130، ح22241۔
[5] ابن حجر، فتح الباري، كتاب الصلاة، باب 20، الصلاة علي الحصير، ج1، ص491.
[6] حاكم، مستدرك، ج3، ص473۔
[7] بيهقي، سنن الكبري، ج2، ص105۔
[8] بيهقي، سنن الكبري، ج2، ص105۔
[9] ابن ابي شيبه، المصنف، ص270۔
[10] ازرقي، أخبار مكه، ج2، ص151۔
[11] حر عاملی، وسايل الشيعه، ج3، ابواب ما يسجد عليه باب1، ص591۔
[12] علي احمدي، السجود علي الارض، صص91 ـ 98۔
[13] ابن حجر هیتمی، الصواعق المحرقة، ص192۔
[14] ابن حجر هیتمی، الصواعق المحرقة، ص193۔
[15] حر عاملی، وسائل الشيعه، ج3، ص608۔
فہرست منابع
1۔ أحمد بن حنبل، ابو عبدالله، مسند احمد، تحقیق: شعیب الأرنؤوط، بیروت: مؤسسة الرسالة، ۱۴۲۱ ق۔
2۔ احمدی میانجی، علی، السجود علی الأرض، بیروت: مرکز جواد، ۱۴۱۴ ق۔
3۔ ازرقی، ابوالولید، أخبار مکة و ما جاء فیها من الآثار، تصحیح: رشدی صالح و محمد ملحس، بیروت، ۱۴۱۶ ق۔
4۔ ابن ابی شیبه، عبدالله بن محمد، المصنف فی الأحادیث و الآثار، ریاض: مکتبة الرشد، ۱۴۰۹ ق۔
5۔ ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباری فی شرح صحیح البخاری، بیروت: دار المعرفة۔
6۔ ابن حجر هیتمی، احمد بن محمد، الصواعق المحرقة علی اهل الرفض و الضلال و الزندقة، تحقیق: عبدالوهاب عبداللطیف، قاهره: مکتبة القاهرة، ۱۳۸۵ ق۔
7۔ بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، تحقیق: محمد زهیر بن ناصر، بیروت: دار طوق النجاة، ۱۴۲۲ ق۔
8۔ بیهقی، ابوبکر احمد بن الحسین، السنن الکبری، تحقیق: محمد عبدالقادر عطا، بیروت: دار الکتب العلمیة، ط۳، ۱۴۲۴ ق۔
9۔ حاکم نیشابوری، ابو عبدالله، المستدرک علی الصحیحین، بیروت: دار الکتب العلمیة، ۱۴۱۱ ق۔
10۔ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، قم: مؤسسة آل البیت، ۱۴۰۹ ق۔
11۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق: علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تهران: دار الکتب الاسلامیة، چوتهی اشاعت، ۱۴۰۷ ق۔
12۔ مسند عبدالله بن عباس، بیروت: مؤسسة الرسالة، ۱۴۲۱ ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
۱۔ اکبر اسد علی زاده۔ «سجده بر مهر – مجله مبلغان۔» مبلغان، اردیبهشت و خرداد 1385، شماره 78 (صفحات 53 – 67)۔
۲۔ جعفر سبحانی تبریزی۔ ««سجده بر خاک» در پرتو کتاب و سنت۔» فقه اهل بیت، بهار 1383، شماره 37 (صفحات 36 – 70)، ISC۔
۳۔ سبحانی تبریزی، جعفر، و حسینی نسب، رضا۔ ۱۳۸۸۔ سجده بر تربت۔ جلد ۱۔ قم – ایران: مؤسسة الإمام الصادق علیه السلام۔
۳۔ محمد یعقوب بشوی۔ «سجده بر خاک از دیدگاه فریقین۔» پژوهشنامه حکمت و فلسفه اسلامی، بهار 1382، شماره 5 (صفحات 76 – 97)۔