امام علی (ع) کی جانشینی کے بارے میں پیغمبر (ص) کی تمام کوششوں اور واقعہ غدیر کے باوجود سقیفہ کا اجتماع واقع ہوا۔ خدا کا فرمان زمین میں دھرا رہ گیا اور رسول اکرم (ص) کا خانوادہ خانہ نشین ہو گیا، اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ قبیلہ قریش کے کردار کی نشاندہی کی جائے۔
حضرت علی (ع) بہانہ، اصل نبوت ہدف
بنیادی وجہ یہ ہے کہ قبیلہ قریش چاہتے تھے کہ پیغمبر (ص) کی عترت کا حق غصب کریں، حضرت علی (ع) نے مختلف مقامات پر قریش کے مظالم اور خلافت حاصل کرنے کی کوشش کو بیان کیا ہے۔[1]
امام علی (ع) اس طرح اپنے بھائی عقیل کے خط کے جواب میں فرماتے ہیں: قریش سخت گمراہی میں ہیں، ان کی دشمنی اور نافرمانی معلوم ہے۔ انہیں سر گردانی میں ہی چھوڑ دو۔
اس لئے کہ انہوں نے مجھ سے جنگ ٹھان لی ہے جس طرح رسول اللہ (ص) سے جنگ پر تلے ہوئے تھے۔ مجھ کو سزا دینے سے پہلے، انہیں چاہئے کہ وہ قبیلہ قریش کو سزا دیں اور انہیں مزہ چکھائے۔ کیونکہ انہوں نے رشتہ داری توڑ دی اور میرے بھائی کی حکومت مجھ سے چھین لی۔
امام حسن (ع) نے جو خط معاویہ کو لکھا تھا، اس میں سقیفہ کی تشکیل میں قبیلہ قریش کے کردار کو اس طرح بیان فرمایا: پیغمبر (ص) کی وفات کے بعد قبیلہ قریش نے اپنے آپ کو اس حیثیت سے پہچنوایا کہ ہم لوگ پیغمبر (ص) سے زیادہ نزدیک ہیں اور اسی دلیل کی بنا پر تمام عربوں کو کنارے کر دیا اور خلافت کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ہم اہل بیت محمد (ص) نے بھی یہی کہا تو ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا اور ہم کو ہمارے حق سے محروم کردیا۔[2]
امام باقر (ع) نے بھی اپنے ایک صحابی سے فرمایا: قبیلہ قریش نے جو ستم ہمارے اور ہمارے دوستوں اور شیعوں پر کئے ہیں اس کے بارے میں کیا کہوں؟ رسول خدا (ص) کی وفات ہوئی جب کہ پیغمبر (ص) نے کہا تھا کہ لوگوں کے درمیان (خلافت کے لئے) اولیٰ ترین فرد کون ہے؟
لیکن قبیلہ قریش نے ہم سے روگردانی کی اور خلافت کو اس کی جگہ سے منحرف کر دیا۔ ہماری دلیلوں کے ذریعہ انصار کے خلاف احتجاج کیا اور اس کے بعد خلافت کو ایک دوسرے کے حوالے کرتے رہے اور جس وقت ہمارے پاس واپس آئی تو بیعت شکنی کی اور ہم سے جنگ کی۔[3]
قبیلہ قریش کافی مدت پہلے ایسا عمل انجام دے چکے تھے، جس سے لوگ سمجھ گئے تھے کہ یہ خلافت کو غصب کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے انصار سقیفہ کی طرف دوڑے تاکہ قریش تک حکومت پہنچنے سے مانع ہوں، اس لئے کہ قبیلہ قریش فرصت طلب تھے۔
خاندان پیغمبر (ص) سے دشمنی کے اسباب
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں قریش خاندان پیغمبر (ص) سے دشمنی رکھتے تھے؟ کیا ان کا دین اور ان کی دنیا اس خاندان کی مرہون منت نہیں تھی؟ کیا انہوں نے اسی خاندان کی برکت کی وجہ سے ہلاک ہونے سے نجات نہیں پائی تھی؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے چند امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
١- قبیلہ قریش کی ریاست طلبی
قبیلہ قریش زمانہ جاہلیت میں پورے جزیرة العرب پر تمام عربوں میں ایک امتیاز رکھتے تھے۔ ابوالفرج اصفہانی کا اس بارے میں کہنا ہے: تمام عرب قومیں قریش کو شعر کے علاوہ ہر چیز میں مقدم جانتی تھی۔[4] یہ موقعیت اور حیثیت ان کو دو جہتوں سے حاصل ہوئی تھی۔
(الف) اقتصادی قوت: قبیلہ قریش نے پیغمبر (ص) کے جد جناب ہاشم کے زمانہ ہی سے پڑوسی ممالک جیسے یمن، شام، فلسطین، عراق، حبشہ سے تجارت کرنی شروع کر دی تھی اور اشراف قبیلہ قریش اس تجارت کی وجہ سے بہت زیادہ ثروتمند ہو گئے تھے۔[5]
خداوند عالم اس تجارت کو قبیلہ قریش کے لئے سرمایہ افتخار اور عیش و مسرت قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے: ایک دوسرے سے محبت و الفت پیدا کرنے گرمیوں اور سردیوں میں آپس میں رابطہ رکھنے کے لئے اللہ کی عبادت کریں۔ وہی پروردگار کہ جس نے بھوک سے انہیں نجات دی اور خوف و ہراس ان سے دور کیا۔[6]
(ب) معنوی حیثیت: قبیلہ قریش کعبہ کے وجود کی بنا پر کہ جو عرب دنیا میں، عرب قبائل کے درمیان ایک مشہور زیارت گاہ تھی، نیز اسے عربوں کے درمیان ایک خاص معنوی حیثیت حاصل تھی۔ خاص طور پر ہاتھیوں کے لشکر ابرہہ کی شکست کے بعد قبیلہ قریش کا احترام لوگوں کی نظر میں زیادہ ہو گیا تھا اور یہ کعبہ کے کلید دار بھی تھے۔
قبیلہ قریش نے اس واقعہ سے فائدہ اٹھایا اور خود کو آل اللہ، جیران اللہ اور سکان حرم اللہ کہلوانا شروع کر دیا۔ اسی وسیلہ کی بنیاد پر انہوں نے اپنے مذہبی مقام کو استوار کر لیا۔[7]
اسی احساس برتری و اقتدار کی وجہ سے قبیلہ قریش نے کوشش شروع کی کہ اپنی برتری کو ثابت کریں۔ چونکہ مکہ کعبہ کی وجہ سے عرب کے لئے مرکز تھا جزیرۃ العرب کے اکثر ساکنین وہاں آتے جاتے تھے، قبیلہ قریش اپنی رسومات کو مکہ آنے والوں پر تھوپتے تھے۔ طواف کعبہ کے وقت لوگوں کو متوجہ کرتے تھے کہ حاجی ان سے خریدے ہوئے لباس میں طواف کریں۔[8]
لیکن رسول اکرم (ص) کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے احساس کیا کہ تعلیمات اسلامی ان کی برتری اور انحصار طلبی کے منافی ہے۔ قبیلہ قریش نے ان کو قبول نہیں کیا اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ مخالفت میں کھڑے ہوگئے اور جو بھی اسلام کی نابودی کے لئے ممکن تھا اس کو انجام دیا۔ لیکن ہوتا وہی ہے جو خدا چاہتا ہے۔
آخرکار پیغمبر (ص) نے قبیلہ قریش پر کامیابی حاصل کرلی، آٹھویں ہجری میں قریش کے کچھ افراد مدینہ آئے اور مسلمانوں سے مل گئے لیکن دشمنی سے باز نہ آئے مثلاً حکم بن عاص نے پیغمبر (ص) کا مذاق اڑایا آنحضرت (ص) نے اسے طائف کی جانب شہر بدر کر دیا۔[9]
جب قبیلہ قریش میں رسول اکرم (ص) سے مقابلے کی طاقت نہیں رہی تو انہوں نے ایک نیا فارمولہ بنایا کہ آنحضرت (ص) کے جانشین سے مقابلہ کریں۔ عمر نے ہمیشہ ابن عباس سے کہا: عرب نہیں چاہتے کہ نبوت اور خلافت تم بنی ہاشم کے درمیان جمع ہو۔[10]
اسی طرح مزید کہا: اگر بنی ہاشم میں سے کوئی امر خلافت کا ذمہ دار بن گیا تو اس خاندان سے خلافت باہر نہیں جائے گی اور ہمارا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا لیکن اگر بنی ہاشم کے علاوہ کوئی اس کا ذمہ دار ہوگیا تو وہ لوگ اپنے ہی درمیان ایک دوسرے کو منتقل کرتے رہیں گے۔[11]
اس زمانے کے لوگ بھی قبیلہ قریش کے اس رویہ سے آگاہ تھے جیسا کہ براء بن عازب نے نقل کیا کہ میں بنی ہاشم کے چاہنے والوں میں سے تھا جس وقت رسول اکرم (ص) دنیا سے گئے تو مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ قریش بنی ہاشم سے خلافت کو نہ چھین لیں اور میں کافی حیران و سرگردان تھا۔[12]
قبیلہ قریش کا ابو بکر اور عمر کی خلافت پر راضی ہونا خود ان کے فائدے میں تھا جیسا کہ ابوبکر نے مرتے وقت قریش کے کچھ لوگوں سے کہ جو اس کی عیادت کے لئے آئے تھے کہا: میں جانتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک یہ خیال کرتا ہے کہ میرے بعد خلافت اس کی طرف منتقل ہوگی لیکن میں نے تم میں سے بہترین شخص کو اس کے لئے چنا ہے۔[13]
ابن ابی الحدید کہتا ہے: قبیلہ قریش عمر کی طولانی خلافت کی وجہ سے ناراض تھے اور عمر بھی اس بات سے آگاہ تھے۔ لہذا وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ مدینہ سے باہر جائیں۔[14]
٢- قبیلوں کی رقابت و حسادت
عربوں میں قبیلوں کے درمیان رقابت اور حسادت بہت تھی۔ خداوند عالم نے قرآن مجید میں سورہ تکاثر[15] اور سورہ سبا[16] میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے۔
زمانۂ جاہلیت میں بنی ہاشم اور دوسرے تمام قبائل کے درمیان رقابت موجود تھی۔ زمزم کھودتے وقت، جناب عبدالمطلب کے مقابلہ میں قبیلہ قریش کے تمام قبائل جمع ہوگئے تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ افتخار صرف عبدالمطلب کو حاصل ہو۔[17]
یہی وجہ ہے کہ ابو جہل کہتا تھا ہم بنی ہاشم سے ان کے شرف کی وجہ سے رقابت کرتے تھے وہ بھی لوگوں کو کھانا دیتے تھے تو ہم بھی لوگوں کو کھانا دیتے تھے۔ وہ لوگوں کو سواری مہیا کرتے تھے تو ہم بھی لوگوں کو سواری مہیا کرتے تھے۔
وہ لوگوں کو پیسے دیتے تھے تو ہم بھی لوگوں میں پیسے بانٹتے تھے اور ہم ان کے ساتھ اس طرح شانہ بشانہ بڑھ رہے تھے جیسے گھوڑوں کی دوڑ میں دو گھوڑے ساتھ چل رہے ہوں، یہاں تک کہ ان لوگوں نے کہا: ہم میں ایک ایسا پیغمبر منتخب ہوا ہے کہ جس پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے اب ہم ان تک کیسے پہونچتے؟ خدا کی قسم! ہم اس پر ہرگز ایمان لائے اور نہ ہی ان کی تصدیق کی۔[18]
امیہ بن ابی الصلت جو طائف کے اشراف میں سے تھا اس نے اسی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیا اور پیغمبر (ص) موعود کا سالہا سال انتظار کرتا رہا تاکہ اس انتطار میں خود کو اس منصب تک پہنچا دے۔
جب اس کو بعثت رسول (ص) کی خبر ملی تو پیروی کرنے سے اجتناب کیا اور اس کی علت یہ بتائی کہ مجھ کو ثقیف کی عورتوں سے شرم آتی ہے، اور اس کے بعد کہتا ہے: کافی عرصہ تک میں ان سے یہ کہتا رہا کہ وہ پیغمبر موعود میں ہوگا۔ اب کس طرح تحمل کروں کہ وہ مجھے بنی عبد مناف کے ایک جوان کا پیرو دیکھیں۔[19]
لیکن اس حسد و رقابت کے باوجود خدا نے پیغمبر (ص) کو کامیاب کیا اور قبیلہ قریش کی شان و شوکت کو خاک میں ملا دیا، آٹھویں ہجری کے بعد اکثر اشراف قریش مدینہ منتقل ہو گئے اور وہاں بھی خاندان پیغمبر (ص) کو تکلیف دینے سے باز نہ آئے۔
ابن سعد نے نقل کیا ہے کہ مہاجرین میں سے ایک نے عباس بن عبدالمطلب سے چند بار کہا: آپ کے والد عبدالمطلب اور بنی سہم کاہنہ غیطلہ دونوں جہنم میں ہیں، آخر کار عباس غصہ ہو گئے اور اس کے منھ پر طمانچہ مارا اور اس کی ناک سے خون نکل آیا۔
اس شخص نے پیغمبر (ص) سے آکر عباس کی شکایت کی رسول (ص) نے اپنے چچا عباس سے اس بات کی وضاحت چاہی، عباس نے سارا قضیہ بیان کیا تو پیغمبر (ص) نے فرمایا: کیوں عباس کو اذیت دیتے ہو؟[20]
حضرت علی (ع) اپنے مخصوص کمال کی بنا پر زیادہ مورد حسد قرار پائے۔ امام باقر (ع) فرماتے ہیں کہ جب بھی رسول اکرم (ص) علی (ع) کے فضائل بیان کرنا چاہتے تھے یا اس آیت کی تلاوت کرنا چاہتے تھے جو علی (ع) کی شان میں نازل ہوئی تھی تو کچھ لوگ مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے تھے، اس طرح کی روایت نبی اکرم (ص) سے بہت زیادہ وارد ہوئی ہیں۔[21]
آپ (ص) نے فرمایا: جس نے علی (ع) سے حسد کیا اس نے مجھ سے حسد کیا اور جس نے مجھ سے حسد کیا وہ کافر ہوگیا۔[22]
یہاں تک کہ پیغمبر (ص) کے زمانہ میں بعض افراد علی (ع) سے حسد کرتے تھے اور آ پ کو اذیت پہونچاتے تھے جیسا کہ سعد بن وقاص سے نقل ہواہے کہ میں اور دوسرے دو آدمی مسجد میں بیٹھے علی (ع) کی برائی کر رہے تھے کہ پیغمبر (ص) غصہ کی حالت میں ہم لوگو ں کی طرف آئے اور فرمایا: علی (ع) نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ جس نے علی (ع) کو اذیت دی اس نے مجھ کو اذیت دی۔[23]
(٣) حضرت علی (ع) سے قبیلہ قریش کی دشمنی
حضرت علی (ع) کی محرومیت اور مظلومیت کی اہم ترین دلیل قبیلہ قریش کی مخالفت اور دشمنی تھی۔ کیونکہ وہ حضرت علی (ع) سے زک کھا چکے تھے۔ حضرت (ع) نے رسول (ص) خدا کے زمانے میں جنگوں میں ان کے باپ، بھائیوں اور عزیزوں کو قتل کیا تھا۔
چنانچہ یعقوبی حضرت علی (ع) کی خلافت کے شروع کے حالات کے بارے میں لکھتا ہے: قبیلہ قریش کے مروان بن حکم، سعید بن عاص اور ولید بن عقبہ کے علاوہ تمام لوگوں نے حضرت علی (ع) کے ہاتھوں پر بیعت کی، ولید نے ان لوگوں کی طرف سے حضرت علی (ع) سے کہا:
آپ نے ہم لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے، بدرکے بعد میرے باپ کی گردن اڑائی، سعید کے باپ کو جنگ میں قتل کیا اور جب عثمان نے مروان کے باپ کو مدینہ واپس بلانا چاہا تو آپ نے اعتراض کیا۔[24]
اسی طرح خلافت علی (ع) کے وقت عبید اللہ بن عمر نے امام حسن (ع) سے سفارش کی کہ آپ مجھ سے ملاقات کریں مجھے آپ سے کام ہے۔ جس وقت دونوں کی ملاقات ہوئی تو عبید اللہ بن عمر نے امام حسن (ع) سے کہا: آپ کے والد نے شروع سے آخر تک قبیلہ قریش کو نقصان پہنچایا۔ لوگ ان کے دشمن ہو گئے ہیں آپ میری مدد کریں تاکہ ان کو ہٹا کر آپ کو ان کی جگہ بٹھا دیا جائے۔[25]
جب ابن عباس سے سوال کیاگیا: کیوں قبیلہ قریش حضرت علی (ع) سے دشمنی رکھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: پہلے والوں کو حضرت علی (ع) نے واصل جہنم کیا اور بعد والوں کے لئے باعث عار ہو گئے۔ حضرت علی (ع) کے دشمن قریش کی اس ناراضگی سے فائدہ اٹھاتے تھے اور قضیہ کو مزید ہوا دیتے تھے۔[26]
عمر بن خطاب نے سعد بن عاص سے کہا: تو مجھے اس طرح دیکھ رہا ہے جیسے میں نے ہی تیرے باپ کو قتل کیا ہو۔ میں نے اس کو قتل نہیں کیا بلکہ علی (ع) نے ان کو قتل کیا ہے۔[27]
خود حضرت علی (ع) نے بھی ابن ملجم کے ہاتھوں سے ضربت کھانے کے بعد ایک شعر کے ضمن میں قبیلہ قریش کی دشمنی کی طرف اشارہ کیا ہے: تکلم قریش تمنای لتقتلنی/ فلا و ربکٔ ما فازوا و ما ظفروا[28]
قبیلہ قریش کی خود تمنا تھی کہ وہ مجھے قتل کریں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔
خاتمہ
قبیلہ قریش اسلام کے شروع سے ہی پیغمبر (ص) و آل پیغمبر (ع) سے خوش نہیں تھے۔ وہ لوگ نبوت کے ان کے خاندان میں نہ آںے سے ناراض تھے۔ پیغمبر (ص) کی وفات کے بعد، امام علی (ع) سے خلافت چھین لینے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ امام علی (ع) کی اسلامی جنگوں میں قبیلہ قریش کے سورماؤں کو قتل کرنے کی وجہ سے ان سے کینہ رکھتے تھے۔
حوالہ جات
[1]۔ بطور نمونہ نہج البلاغہ، خطبہ ١٧، میں فرماتے ہیں: خدایا قبیلہ قریش اور ان لوگوں کے مقابلے میں جو ان کی مدد کرتے ہیں تجھ سے مدد چاہتا ہوں کیوںکہ انہوں نے میرے مرتبہ کو کم کیا اور وہ خلافت جو مجھ سے مخصوص تھی اس کے بارے میں میرے خلاف متفق ہوگئے۔
[2]۔ ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص٦٥۔
[3]۔ سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس العامری، ص١٠٨؛ شیرازی، الدرجات الرفیعۃ، ص٥۔
[4]۔ اصفہانی، الاغانی، ج١، ص٧٤۔
[5]۔ پیشوائی، تاریخ اسلام، ص٥٠۔٥١۔
[6]۔ سورہ قریش۔
[7]۔ پیشوائی، تاریخ اسلام، ص٥٢۔
[8]۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج١، ص٧٢۔
[9]۔ ابن اثیر، اسد الغابۃ، ج٢، ص٣٤۔
[10]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١، ص١٩٤۔
[11]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١، ص١٩٤۔
[12]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج٢، ص٥١۔
[13]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١، ص١١٠
[14]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج٢، ص١٥٩۔
[15]۔ تمہاری سرگرمی کا باعث زیادہ طلبی ہے یہاں تک کہ تم اپنے مرنے والوں کی قبروں سے ملاقات کرو۔
[16]۔ تم نے کہا: ہمارے پاس مال اور بیٹے زیادہ ہیں اسی وجہ سے ہم سزا نہیں پا سکتے ان سے کہہ دو کہ میرا خدا جب کسی کو چاہے گا اس کی روزی کم کر دے اور جب چاہے زیادہ کر دے گا لیکن زیادہ تر لوگ نہیں جانتے ہیں کہ اولاد اور مال کا زیادہ ہونا ان کو مجھ سے نزدیک نہیں کرے گا مگر یہ کہ وہ لوگ جو ایمان لائیں اور عمل صالح انجام دیں۔
[17]۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج١، ص١٤٣۔١٤٧۔
[18]۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج١، ص١٤٣۔١٤٧۔
[19]۔ ابن قتیبہ، المعارف، ص٦٠؛ پیشوائی، تاریخ اسلام، ص٨٨۔
[20]۔ ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج٤، ص٢٤۔
[21]۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج٣، ص٢١٤۔
[22]۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج٣، ص، ٢١٣-۔٢١٤۔
[23]۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج٣، ص٢١١۔
[24]۔ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٧٨۔
[25]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١، ص٤٩٨۔
[26]۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ص٢٢٠۔
[27]۔ ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج٥، ص٣١۔
[28]۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ص٣١٢۔
کتابیات
قرآن مجید۔
۱۔ سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، قم ایران، ہجرت، ۱۴۱۴ھ۔
۲۔ ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغہ، قم ایران، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ھ۔
۳۔ ابن اثیر، عز الدین، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت لبنان، دار الکتب العلمیة، ۱۴۰۰ھ۔
۴۔ ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، بیروت لبنان، دار صادر، ۱۳۹۰ھ۔
۵۔ ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، قم ایران، مؤسسہ انتشارات علامہ، تاریخ ندارد۔
۶۔ ابن قتیبہ، عبد اللہ بن مسلم، المعارف، قم ایران، منشورات الشریف الرضی، ۱۴۱۵ھ۔
۷۔ ابن ہشام، عبد الملک بن ہشام، السیرۃ النبویۃ، بیروت لبنان، دار المعرفہ، ۱۳۹۰ھ۔
۸۔ ابو الفرج اصفہانی، علی بن حسین، الاغانی، بیروت لبنان، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۰ھ۔
۹۔ اصفہانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبیین، بیروت لبنان، دار المعرفہ، ۱۴۰۸ھ۔
۱۰۔ پیشوائی، مہدی، تاریخ اسلام، قم ایران، نشر معارف، ۱۳۹۰ش۔
۱۱۔ سلیم، ابن قیس، کتاب سلیم بن قیس، بیروت لبنان، منشورات دار الفنون، ۱۴۰۰ھ۔
۱۲۔ شیرازی، سید علی خان، الدرجات الرفیعۃ فی طبقات الشیعۃ، بیروت لبنان، مؤسسہ الوفاء، ۱۳۹۵ھ۔
۱۲۔ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الجمل، قم ایران، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
۱۳۔ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، قم ایران، منشورات شریف رضی، ۱۴۱۴ھ۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):
محرّمی، غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ سید نسیم رضا آصف، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ١٤٢٩ھ۔ ٢٠٠٨ء۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔