قیامت پر ایمان، انسان کو آنے والی زندگی یعنی قیامت کے بعد کی زندگی کےلئے زمینہ سازی کرنے کا انگیزہ فراہم کرتا ہے۔ اور اس طرح انسان دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے اور اس دنیا میں بھی نیک کام انجام دیتا ہے اور گناہوں سے خود کو محفوظ رکھتا ہے۔ نا صرف یہ بلکہ مایوسی اور نا امیدی جیسی لعنت سے بھی انسان محفوظ رہتا ہے۔
قیامت پر اعتقاد کی ضرورت
زندگی کا جذبہ، اس کی ضرورت اور خواہشات اور ضروریات زندگی کی طرف اس کا رجحان اصل میں یہ تمام چیزیں صرف کمال اور ابدی سعادت تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں، اور اب رہی بات کہ انسان انہیں حاصل کرنے کےلئے کس راستے کا انتخاب کرے، تو اس کےلئے ضروری ہے کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ انسان ان اہداف کی شناخت کیسے کرے؟
جو اسے اس کے ہدف تک پہنچا دیں در حقیقت زندگی کے راستے کا تعیُّن اور اپنی رفتار و کر دار کو معین کرنے کا اصل سبب انسان کی اپنی سوجھ بوجھ اور تصور اور خود اپنے کمال و سعادت اور اپنی حقیقت کو پہچان لینا ہے، اور جو لوگ زندگی کو صرف مادیت اور اس سے متعلق عناصر کو اپنی حقیقت سمجھتے ہیں، اور یہ تصور کرتے ہیں کہ یہی چند روزہ زندگی ہی سب کچھ ہے اور موت کے بعد صر ف عدم اور فنا ہے، یا اخروی لذت اور سعادت ابدی کے منکر ہیں۔
وہ اپنی زندگی کو کچھ ایسا بنا لیتے ہیں کہ اب صرف ان کے پیش نظر یہی دنیاوی لذت اور خواہش ہی ان کی سعادت اور نیک بختی ہے لیکن جو افراد اپنی دنیاوی زندگی کو ہی نہیں بلکہ اس کے آگے آنے والی زندگی کی حقیقت سے آشنا ہیں وہ اپنے اعمال و کردار کو آنے والی ابدی زندگی کا وسیلہ بناتے ہیں اور ایسے بنیادی کام انجام دیتے ہیں۔
جو اُن کی آنے والی اس زندگی میں مددگار ثابت ہوں یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ مادی زندگی کی سختیوں اور نا کامیوں کے باوجود یہ لوگ مایوس اور نا امید نہیں ہوتے، بلکہ سعادت و کامیابی تک پہنچنے کےلئے اپنی بھرپور کوشش اور تلاش جاری رکھتے ہیں۔
انسانی زندگی کے یہ دو اہم رخ صرف اس کی انفرادی زندگی ہی پر منحصر نہیں ہیں بلکہ اجتماعی زندگی پر بھی گہرا اثر چھوڑتے ہیں چنانچہ آخرت پر ایمان اور جزا و سزا جیسی چیزیں انسان کو دوسروں کے حقوق کا خیال، ایثار اور احسان جیسے قابل تحسین کردار پر آمادہ کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ جس معاشرے یا قوم و ملت کا یہ عقیدہ ہوگا، اس کے یہاں قانون عدالت پر عمل، ظلم و ستم کا مقابلہ اور زور و زبردستی کا کم سے کم استعمال ہوگا، اور واضح رہے کہ اگر یہ اعتقادات دنیا کی تمام قومیں اپنا شیوہ بنالیں تو اس دنیا کی بین الاقوامی مشکلات خود بخود حل ہوجائیں گی
لہٰذا ان تمام بیانات کے پیش نظر قیامت کی اہمیت و ضرورت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے بلکہ تنہا عقیدہ توحید (بغیر عقیدہ قیامت کے) بھی انسانی زندگی کو صحیح راستہ دکھانے سے قاصر ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمام ادیان آسمانی خصوصاً دین اسلام اور تمام پیغمبران الہٰی قیامت کے عقیدہ کو بہت اہمیت دیتے تھے اور ان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ یہ عقیدہ انسانیت کا اہم ترین رکن بن جائے اور لوگوں کے دلوں میں یہ عقیدہ راسخ ہوجائے۔
آخرت پر اعتقاد، انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اعتبار سے صرف اسی صورت میں کارگر ثابت ہوں گے، جب ہم یہ مان لیں، کہ اس دنیا کے اعمال اور ابدی زندگی کی سعادت و بدبختی کے درمیان ایک قسم کا رابطہ علیت پایا جاتا ہے، یا کم از کم یہ ثابت ہوجائے، کہ وہاں کا ثواب و عذاب صرف اس دنیا میں عمل کرنے کا نتیجہ ہے (جیسے دنیوی فوائد اور نقصان) اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر مسئلہ آخرت اپنی حققیت و اصلیت کھو بیٹھے گا۔
کیونکہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ دنیوی سعادت حاصل کرنے کےلئے اسی دنیا میں کوشش ہونی چاہیے اور اخروی سعادت و نجا ت کےلئے وہاں کی دنیا ہونی چاہئے لہٰذا ضرورت ہے کہ قیامت کے اثبات کے ساتھ ساتھ دنیا و آخرت کے درمیان پائے جانے والے رابطے اور ابدی خوشبختی یا بدبختی میں انسان کے اختیار اعمال و کردار کی تاثیر کو بھی ثابت کر دیا جائے۔
قیامت کے مسئلے پر قرآن کی تاکید
قرآن کریم کی ایک تہائی سے زیادہ آیتیں انسان کی ابدی زندگی سے متعلق ہیں بعض آیات بیان کرتی ہیں کہ آخرت پر ایمان رکھنا لازم و ضروری ہے[1] اور بعض آیتیں انکار آخرت کے نقصانات کو بیان کرتی ہیں[2] بعض آیتیں ابدی نعمتوں کا تذکرہ کرتی ہیں[3] اور بعض آیات میں ابدی عذاب کا ذکر موجود ہے[4] اور اسی طرح سے بہت سی دوسری آیتوں میں بھی نیک اور بد اعمال اور آخرت میں اسی بنیاد پر ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر ہوا ہے۔
اور دوسرے طریقوں سے بھی قیامت کے امکان اور اس کی ضرورت و اہمیت پر قرآن نے تاکید کی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ منکران قیامت کے سامنے محکم اور ٹھوس دلیلیں بھی پیش کی ہیں اور ان کے اعتراضات کے جوابات دیئے ہیں چنانچہ گمراہی، انکار قیامت اور اس سے، فراموشی کی بنیا دی وجہ بھی بیان فرمائی ہے[5]
اگر قرآن مجید میں غور کیا جائے تو اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ پیغمبروں کی گفتگو اور ان کے اقوال نیز لوگوں سے بحث و مباحثے کا بیشتر حصہ قیامت کے موضوع سے متعلق ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کی کوششیں توحید کو ثابت کرنے سے زیادہ قیامت کو ثابت کر نے کےلئے رہی ہیں کیونکہ اکثر افراد قیامت کو قبول کرنے میں بہت ہی شدید و سخت رہے اور اس سختی کی بھی شاید دو وجوہات بیان ہوسکتی ہیں۔
پہلی وجہ جو مشترک ہے وہ یہ ہے کہ ہر غیبی اور نامحسوس چیزوں کا انکار کردینا ہے۔ اور دوسری وجہ جو قیامت کے مسئلے سے مخصوص ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا کسی قانون کا پابند نہ ہو نا (لا ابالی ہونا) ہے کیونکہ قیامت کا قبول کرنا گویا اپنی زندگی کو محدود کرلینا اور برے اعمال، منجملہ ظلم و فساد و گناہوں سے نفرت و بیزاری کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات سے دست بردار ہوجائے اور اس کے انکار کر دینے کی صورت میں ہوا و ہوس اور شہوت پر ستی و خود خواہی کے سارے راستے کھل جائیں گے قرآن مجید اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے۔ فسف
’’أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ ٭ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ ٭ بَلْ يُرِيدُ الْإِنسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ‘‘[6]
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے، یقیناً ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرلیں بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے سامنے برائی کرتا چلا جائے۔
اور اسی قیامت کے اس حقیقی معنی سے انکار و امتناع کو ان افراد میں ڈھونڈھا جا سکتا ہے جو اپنی تحریر و تقریر یا رفتار و گفتار کے ذریعے اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ قیامت کو اسی دنیا کا ایک حادثہ بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کریں جس سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں قومیں آئیں گی جن میں طبقاتی نظام نہ ہوگا، یا جنت سے مراد یہی زمین ہے یا آخرت اور اس سے متعلق دوسری چیزیں صرف فرضی اور تصوراتی یا خود ساختہ داستانیں ہیں۔[7]
قرآن مجید نے ایسے افراد کو (انسان نما شیطان) اور (انبیاء کے دشمنوں) سے تعبیر کیا ہے جو اپنے نرم و لطیف لہجے اور سحر آمیز باتوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور لوگوں کو صحیح عقیدہ و ایمان اور احکام الہٰی پر عمل کرنے سے منحرف کر دیتے ہیں۔
’’وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ ٭ وَلِتَصْغَىٰ إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ‘‘[8]
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کےلئے شیاطین جن و انس میں سے، ان کا دشمن قرار دیا ہے یہ آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کےلئے مہمل باتوں کے اشارے کرتے ہیں اور اگر خدا چاہتا تو یہ ایسا ہرگز نہیں کرسکتے تھے لہٰذا اب آپ انہیں ان کے افتراء پر چھوڑ دیجئے، اور یہ اس لئے کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کی طرف مائل ہو جائیں اور وہ اسے پسند کرلیں اور پھر خود بھی انہیں کی طرف افتراء پردازی کرنے لگیں۔
خاتمہ
انسان کو کمال تک پہنچنے کےلئے فقط عقیدہ توحید پر انحصار کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ قیامت پر ایمان لانا بھی لازمی امر ہے جس کے سبب انسان خود کو قیامت کے بعد اپنی آنے والی زندگی کےلئے بھی تیار کرتا ہے۔
کتابیات
[1]۔ بقرہ: ٤، لقمان: ٤، نمل: ٣۔
[2]۔ اسراء: ١٠، فرقان: ١١، صبا: ٨، مؤمنون: ٧٤۔
[3]۔ رحمٰن: ٤٦-۷۸، واقعہ: ١٥-٣٨، الدہر: ١١-٢١۔
[4]۔ حاقہ: ٢٠-٢٧، ملک: ٦-١١، واقعہ: ٤٢-٥٦۔
[5]۔ ص: ٢٦، سجدہ: ١٤٠۔
[6]۔ قیامت: آیت ٣-٥۔
[7]۔ نمل: ٦٨، الحقاف: ١٧۔
[8]۔ انعام: ١١٢-١١٣۔
منابع
قرآن مجید۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مصباح، محمد تقی، درس عقائد، مترجم: ضمیر حسین بہاولپوری، اکتالیسواں درس، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، 1427ھ۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔