حضرت ابوذر غفاری ایک مؤمن موحد اور سچے عاشق رسول ﷺ تھے انہوں نے اپنی صداقت کی وجہ سے بہت سختیاں برداشت کیں۔ یہاں تک کہ خلیفہ سوم نے انہیں ”ربذہ“ جیسے گرم اور خشک علاقے کی جانب جلاوطن کر دیا۔ لیکن ابوذر غفاری کبھی بھی کسی دباؤ میں نہیں آئے اور ہمیشہ سچ بولا ان کی اسی صداقت کی وجہ سے وہ عرب میں ایک ضرب المثل بن گئے تھے۔
ابوذر غفاری کا نام و نسب
ابوذر غفاری[۱] جُندب (بریر) بن جنادہ بن کُعیب بن صُعیر، قبیلہ بنیغفار سے تعلق رکھتے تھے اور ابوذر غفاری کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ رسولِ خدا ﷺ کے جلیل القدر صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔[۲] اسلام سے پہلے ان کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق وہ زمان جاہلیت میں چرواہی کرتے تھے[۳] اور اپنی شجاعت کی بنا پر کبھی کبھی اکیلے قافلوں کے سامنے ڈٹ جاتے تھے۔[۴]
قبولِ اسلام
ابوذر غفاری اسلام قبول کرنے سے تین سال پہلے ہی خدائے واحد کی عبادت کرتے تھے، نماز پڑھتے اور بتوں سے دور رہتے تھے۔[۵] وہ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔ اپنے بیان کے مطابق وہ پانچویں شخص تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔[۶] یعقوبی نے ان کے اسلام لانے کو علی بن ابی طالب (ع)، خدیجہ (س) اور زید بن حارثہ کے بعد قرار دیا ہے۔
اگرچہ ایک قول کے مطابق انہوں نے ابوبکر کے بعد اسلام قبول کیا۔[۷] ان کے اسلام لانے کے واقعہ کو مختلف انداز سے اور بعض اوقات غیر معمولی[۸] طور پر بیان کیا گیا ہے۔ لیکن صحیح اور مشہور روایت یہ ہے کہ جب انہوں نے پیغمبر اکرم ﷺ کی بعثت کی خبر سنی تو اپنے بھائی کو معلومات لانے کے لئے مکہ بھیجا، اور اپنے بھائی کی باتیں سن کر پیغمبر ﷺ سے ملاقات کے لئے آئے اور اسلام قبول کیا۔[۹]
ابوذر غفاری پیغمبر ﷺ کی نظر میں
ابوذر غفاری وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے رسولِ خدا ﷺ کو اسلامی طریقے سے سلام کیا۔[۱۰] اسلام لانے کے بعد رسولِ خدا ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ دین کو پوشیدہ رکھیں اور ہجرت کا حکم آنے تک اپنے قبیلے میں واپس چلے جائیں۔ مگر ان کا عشقِ اسلام انہیں مشرکین کے سامنے اظہارِ عقیدہ[۱۱] اور اعتراض[۱۲] پر آمادہ کرتا رہا، جس کے نتیجے میں مشکلات برداشت کرنا پڑیں۔[۱۳] بعد میں وہ واپس گئے اور جنگ اُحد (یا خندق)[۱۴] کے بعد مدینہ آئے اور رسولِ خدا ﷺ کے وصال تک آپ کے ساتھ رہے۔[۱۵] فتحِ مکّہ کے موقع پر غالباً بنی غفار کا جھنڈا انہی کے ہاتھ میں تھا[۱۶] اور جنگ حنین میں بھی وہ پرچمدار تھے۔[۱۷]
انہوں نے ”عمرة القضاء“[۱۸] اور ”غزوۂ ذات الرقاع“ میں مدینہ میں رسولِ خدا ﷺ کی نیابت کی اور امامتِ جماعت کی ذمہ داری انجام دی۔[۱۹] جنگِ تبوک میں کمزور سواری کے باعث تاخیر سے اور پیدل چل کر رسولِ خدا ﷺ تک پہنچے۔[۲۰] اسی موقع پر رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا: وہ اکیلا زندگی گزارے گا، اکیلا مرے گا اور اکیلا ہی جنت میں داخل ہوگا۔[۲۱] امام علی (ع) سے روایت ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا: آسمان نے ابوذر غفاری سے زیادہ سچا انسان نہیں دیکھا اور زمین نے اس جیسا کوئی اپنے دامن میں نہیں اٹھایا۔[۲۲] ابوذر غفاری کی راست گوئی عرب میں ضرب المثل بن گئی چکی تھی۔[۲۳]
قرآن میں ابوذر غفاری کا ذکر
ابن عباس نے سورت مزمل کی آیت نمبر ۲۰ کی تفسیر میں حضرت علی (ع) کے ساتھ ابوذر غفاری کو آیت ”وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ“ کا مصداق قرار دیا ہے۔[۲۴] ابوذر غفاری بھی رسولِ خدا ﷺ کے ساتھ دو تہائی یا نصف یا ایک تہائی رات تک بیداری اور عبادت میں گزارتے تھے۔ آیت ”كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ“[۲۵] کے نزول کے بعد ابوذر غفاری عصاء کے سہارے رات بھر عبادت کرتے تھے یہاں تک کہ آیت ”قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا“[۲۶] نازل ہوئی۔[۲۷] میبدی نے اس آیت: ”وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ“[۲۸] کو ابوذر غفاری اور دیگر غریب صحابہ کے بارے میں قرار دیا ہے۔[۲۹]
ابوذر غفاری کی جلا وطنی
ابوذر غفاری بیت المال کے استعمال میں انتہائی سخت گیر تھے اور مسلمانوں اور حکمرانوں سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ رسولِ خدا ﷺ کے طریقے کو اپنائیں۔ ان کا اختلاف معاویہ اور تیسرے خلیفہ سے اسی معاملے میں تھا کہ وہ بیت المال کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ ابوذر غفاری کا عقیدہ تھا کہ سورہ توبہ کی آیت ۳۴: ”وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ“ صرف اہلِ کتاب کے لئے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو سونا اور چاندی ذخیرہ کرے اور راہِ خدا میں خرچ نہ کرے۔
وہ رسولِ خدا ﷺ کی احادیث سے استدلال کرتے ہوئے کہتے تھے کہ راہِ خدا میں خرچ کرنے کا مطلب صرف زکوٰۃ ادا کرنا نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع تر مفہوم رکھتا ہے جس میں زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ جہاد، دفاع اور جانوں کی حفاظت جیسے تمام معاشرتی ضروری اخراجات شامل ہیں۔
اس وقت کے حالات میں، جب کچھ مسلمان سخت تنگی میں تھے اور مالدار لوگ خرچ کرنے سے گریزاں تھے، تو ابوذر غفاری کا کہنا تھا کہ اسلامی حکومت کے حکمرانوں کو عوام کی زندگی کے تمام پہلوؤں کی اصلاح کرنی چاہئے اور ہر طبقے کو بیت المال سے حصہ ملنا چاہئے۔ اسی وجہ سے انہوں نے شام میں معاویہ کے محل بنانے پر اعتراض کیا اور آیت کنز تلاوت کی۔ لیکن یہ اعتراض معاویہ کی طرف سے ان کی توہین، لوگوں کو ان سے دور رکھنے، اور آخرکار معاشرتی فساد کے الزام میں انہیں مدینہ جلا وطن کرنے کا سبب بنا۔[۳۰]
مدینہ میں بھی ابوذر غفاری خاموش نہ بیٹھے اور عثمان بن عفان سے کہا کہ صرف اس پر راضی نہ رہو کہ لوگ ایک دوسرے کو تکلیف نہ دیں بلکہ انہیں نیکی کرنے پر آمادہ کرو۔ زکوٰۃ دینے والا شخص محض زکوٰۃ ادا کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ پڑوسیوں اور بھائیوں پر احسان کرے اور رشتہ داروں سے تعلق قائم رکھے۔ اس مجلس میں موجود کعب الاحبار نے کہا کہ جو شخص زکوٰۃ ادا کر دے اس نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، اس پر مزید کچھ لازم نہیں۔ ابوذر غفاری نے عصاء سے اس کے سر پر مارا اور کہا: اے یہودی زادے! تجھے کیا حق ہے کہ اس طرح کی باتیں کرے.[۳۱]
اس کے کلام سے صاف ظاہر ہے کہ وہ تمام انفاقات کو واجب نہیں سمجھتے تھے۔ یہ بات درست نہیں کہ ابوذر غفاری اپنی رائے سے کہتے تھے کہ ضرورت سے زائد مال کو راہِ خدا میں خرچ کرنا لازم ہے۔ وہ کہتے تھے: جو کچھ میں بیان کرتا ہوں، وہ رسولِ خدا ﷺ یا اپنے خلیل سے سنا ہے۔[۳۲] ابوذر غفاری کے عثمان پر اعتراضات اور دین داری و پارسائی پر اصرار نے انہیں ربذہ جلا وطن کروا دیا۔ ایک ایسی جگہ جو انہیں ہرگز پسند نہ تھی۔[۳۳]
ابوذر غفاری کی وفات
ابوذر غفاری ۳۱ یا ۳۲ ہجری میں ربذہ میں وفات پا گئے۔[۳۴] ان کی اہلیہ کہتی ہیں: جب موت کے آثار ظاہر ہوئے تو میں رو پڑی، ابوذر غفاری نے فرمایا: رونا مت، جب میں مر جاؤں تو میرا چہرہ ڈھانپ دینا اور راستے کے کنارے بیٹھ جانا۔ کچھ لوگ آئیں گے اور مجھے دفن کریں گے۔ رسول ﷺ نے فرمایا تھا: تم میں سے ایک بیابان میں مرے گا اور مومنین اس کے جنازے میں شریک ہوں گے۔ پھر وہ دنیا سے رخصت ہوئے، لوگوں نے انہیں غسل و کفن دیا، ابن مسعود یا مالک اشتر نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور انہیں دفن کیا۔[۳۵]
خاتمہ
حضرت ابوذر غفاری کی شخصیت اسلامی تاریخ میں حق پسندی، دینی غیرت اور سماجی عدل کی علامت کے طور پر نمایاں ہے۔ انہوں نے اپنے قول و عمل سے یہ واضح کیا کہ بیت المال محض حکمرانوں کی ملکیت نہیں بلکہ تمام طبقاتِ امت کا حق ہے۔ ان کی جلاوطنی اور ربذہ میں تنہائی میں وفات اس حقیقت کی گواہ ہے کہ صداقت پر قائم رہنے والے افراد آزمائشوں اور مصائب کا سامنا کرتے ہیں۔ ابوذر غفاری نے ہمیں یہ سبق دیا کہ ایک حقیقی مؤمن کے لیے حق گوئی اور عدل قائم کرنا محض اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ دینی ذمہ داری ہے۔
حوالہ جات
[۱]۔ ابن سعد، الطبقات، ج۴، ص۱۶۶؛ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج۱، ص۳۲۱۔
[۲]۔ طبرانی، المعجم الكبير، ج۶، ص۲۱۶۔
[۳]۔ کلینی، الكافى، ج۸، ص۲۹۷۔
[۴]۔ ابن سعد، الطبقات، ج۴، ص۱۶۷۔
[۵]۔ کلینی، الكافى، ج۸، ص۱۶۸؛ مسلم، صحيح مسلم، ج۸، ص۳۶۰۔
[۶]۔ ابن سعد، الطبقات، ج۴، ص۱۶۹۔
[۷]۔ يعقوبى، تاريخ يعقوبى، ج۲، ص۲۳۔
[۸]۔ کلینی، الكافى، ج۸، ص۲۹۷۔
[۹]۔ ابن سعد، الطبقات، ج۴، ص۱۶۹؛ مسلم، صحيح مسلم، ج۸، ص۳۶۹۔
[۱۰]۔ مسلم، صحيح مسلم، ج۸، ص۳۶۸۔
[۱۱]۔ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج۴، ص۲۱۷۔
[۱۲]۔ ابن سعد، الطبقات، ج۴، ص۱۷۰۔
[۱۳]۔ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج۴، ص۲۱۷۔
[۱۴]۔ ابن سعد، الطبقات، ج۳، ص۴۱۹؛ ابن سعد، الطبقات، ج۴، ص۱۶۸۔
[۱۵]۔ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج۱، ص۳۲۱۔
[۱۶]۔ واقدى، المغازى، ج۲، ص۸۱۹۔
[۱۷]۔ واقدى، المغازى، ج۳، ص۸۹۶۔
[۱۸]۔ ابن مغازلی، مناقب، ج۱، ص۲۱۱۔
[۱۹]۔ ابن هشام، السيرة النبويه، ج۳، ص۲۰۳۔
[۲۰]۔ واقدى، المغازى، ج۳، ص۱۰۰۰؛ ابن سعد، الطبقات، ج۲، ص۱۲۵۔
[۲۱]۔ طوسی، رجال کشی، ص۲۴؛ واقدى، المغازى، ج۳، ص۱۰۰۰۔
[۲۲]۔ شیخ صدوق، الامالى، ص۷۱۰؛ ابن سعد، الطبقات، ج۴، ص۱۷۲۔
[۲۳]۔ ابن عبد ربه، العقد الفريد، ج۳، ص۷۲۔
[۲۴]۔ طبرسی، مجمع البيان، ج۱۰، ص۵۷۵۔
[۲۵]۔ ذاریات: ۱۷۔
[۲۶]۔ مزمل: ۲۔
[۲۷]۔ قرطبی، الجامع لأحكام القرآن، ج۱۷، ص۱۵۔
[۲۸]۔ انعام: ۵۰۔
[۲۹]۔ میبدی، كشف الاسرار، ج۳، ص۳۶۱۔
[۳۰]۔ ابن سعد، الطبقات، ج۴، ص۱۷۳؛ يعقوبى، تاريخ يعقوبى، ج۲، ص۱۷۲۔
[۳۱]۔ طبری، تاريخ طبرى، ج۲، ص۶۱۶؛ مسعودی، مروج الذهب، ج۲، ص۳۷۵-۳۷۷۔
[۳۲]۔ طباطبائی، الميزان، ج۹، ص۲۵۸-۲۶۱؛ مکارم شیرازی، نمونه، ج۷، ص۳۹۵-۴۰۱۔
[۳۳]۔ طبری، تاريخ طبرى، ج۲، ص۶۱۶؛ مسعودی، مروج الذهب، ج۲، ص۳۷۵-۳۷۷۔
[۳۴]۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۴، ص۱۶۵۵۔
[۳۵]۔ موسوی، مقالہ ابوذر غفاری (دایرة المعارف صحابه پیامبر اعظم)، ج۲، ص۴۴۔
منابع
- قرآن مجید۔
- ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، دار الفکر، ۱۳۷۳ش۔
- ابن عبد البر، یوسف بن عبد الله، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، القاهرة، مرکز هجر للبحوث و الدراسات العربیة و الاسلامیة، ۱۴۴۰ق۔
- ابن عبد ربه، احمد بن محمد، العقد الفريد، قاہرہ، لجنة التألیف و الترجمة و النشر، ۱۳۶۷ق۔
- ابن مغازلی، علی بن محمد، مناقب أهل البیت (ع)، تهران، المجمع العالمي للتقريب بين المذاهب الإسلامية، ۱۴۲۷ق۔
- ابنبابویه، محمد بن علی، أمالی شیخ صدوق، قم، آدینه سبز، ۱۳۹۱ش۔
- جمعی از نویسندگان، دائرة المعارف صحابه پیامبر اعظم ﷺ، تهران، سازمان تبليغات اسلامی شركت چاپ و نشر بين الملل، ۱۳۹۳ش۔
- طباطبایی، محمد حسین، تفسير الميزان، قم، بنياد علمی و فکری علامه طباطبايی، ۱۳۷۰ش۔
- طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الكبير، قاہرہ، مکتبة ابن تيمية۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البيان في تفسير القرآن، بیروت، دار المعرفة، ۱۴۰۸ق۔
- طبری، محمد بن جریر، تاريخ الطبري: تاريخ الامم و الملوک، بیروت، دار الکتب العلمية، ۱۳۶۷ش۔
- طوسی، محمد بن حسن، اختيار معرفة الرجال المعروف برجال الکشي، قم، مؤسسة آل البیت (ع) لإحیاء التراث، ۱۳۶۳ش۔
- قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لأحكام القرآن و المبین لما تضمنه من السنة و آی الفرقان، بیروت، مؤسسة الرسالة، ۱۴۲۷ق۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، أصول کافي، تهران، علميه اسلاميه، ۱۴۱۰ق۔
- مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب و معادن الجوهر، قم، مؤسسة دار الهجرة، ۱۴۰۹ق۔
- مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، بيروت، مؤسسة عزالدين، ۱۴۰۷ق۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، مدرسة الإمام علي بن أبي طالب (علیه السلام)، ۱۳۸۰ش۔
- میبدی، احمد بن محمد، کشف الاسرار و عدة الابرار: معروف به تفسیر خواجه عبدالله انصاری، تهران، اميرکبير، ۱۳۷۱ش۔
- واقدی، محمد بن عمر، المغازي، ببتست مشن، ۱۸۹۹م۔
- یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبي، بیروت، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، ۱۴۱۳ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
۱۔ موسوی، سید موسی، ابوذر غفارى، دایرة المعارف صحابه پیامبر اعظم ﷺ ج۲، تهران، سازمان تبليغات اسلامی شركت چاپ و نشر بين الملل، ۱۳۹۳ش۔
2۔ واسعى، علی رضا، ابوذر غفارى، اعلام القرآن، ج۱، قم، مؤسسة بوستان كتاب، ۱۳۸۵ش۔