حضرت اویس قرنی عاشق رسول ﷺ کی شخصیت

حضرت اویس قرنی عاشق رسول ﷺ کی شخصیت

کپی کردن لینک

اویس قرنی تاریخ اسلام کی ان عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی زندگی اطاعتِ خدا، عشقِ رسول ﷺ اور وفاداریِ اہل بیت (ع) سے منور تھی۔ یمن کے سادہ ماحول میں پرورش پانے والے اویس نے بچپن ہی سے معرفتِ الٰہی کی جستجو کی اور جب نورِ اسلام ان کے دل میں داخل ہوا تو انہوں نے اسے پورے خلوص کے ساتھ قبول کیا۔ دیدارِ رسول ﷺ کی شدید خواہش رکھنے کے باوجود ماں کی خدمت کو ترجیح دینا ان کی عظمتِ کردار کی روشن دلیل ہے۔ رسول خدا ﷺ نے خود ان کی عظمت کا اعلان فرمایا اور انہیں بہترین تابعین میں قرار دیا۔

اویس قرنی پیغمبر ﷺ کے دور میں

اویس بن عامر قرنی یمن کے علاقے ”قرن“ میں پیدا ہوئے، اور ان کا نسب یمنی قبیلے ”مذحج“ سے جا ملتا ہے۔[1] متعدد قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ اویس قرنی نے حضرت علی بن ابی طالب (ع) کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کو یمن بھیجا تاکہ لوگوں کو دین اسلام کی طرف ہدایت کریں اور انہیں اس کے احکام و معارف سے آگاہ کریں، تو امام علی (ع) یمن میں کچھ عرصہ رہے، اور دین اسلام کی لوگوں کو دعوت دی۔ جیسا کہ ہر وہ شخص جس نے حدیث اور تاریخ کی کتابیں پڑھی ہیں، جانتا ہے کہ اویس قرنی بھی وہاں پر موجود تھے۔ پس بعید نہیں کہ اویس قرنی نے امام علی (ع) سے ملاقات کی اور ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہو۔[2]

پیغمبر ﷺ کے دیدار کے لئے اویس قرنی کا سفر

اویس قرنی کی والدہ ایک بیمار اور نابینا اور بوڑھی خاتون تھیں۔ اویس قرنی، رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق والدین کے ساتھ نیکی اور مہربانی کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اپنی والدہ کی خدمت اور نگہداشت کرنے میں مشغول رہتے۔ جب شوقِ دیدارِ رسول ﷺ نے ان کے دل کو پوری طرح گھیر لیا، تو انہوں نے اپنی ماں کی اجازت سے مدینہ کے سفر کا سوچا۔ اویس قرنی کی والدہ نے فرمایا: اگر رسول اکرم ﷺ مدینہ میں نہ ملیں، تو وہاں نہ رکنا اور فوراً واپس لوٹ آنا، کیونکہ مجھے تیری ضرورت ہے۔

اویس قرنی دیدارِ رسول ﷺ کی تڑپ لئے مدینہ پہنچے، مگر معلوم ہوا کہ آپ ﷺ سفر پر گئے ہوئے ہیں۔ اویس قرنی نے سوچا کہ رسول ﷺ کبھی پسند نہیں کریں گے کہ ان کی خاطر اپنی والدہ کی نافرمانی کریں، اس لئے انہوں نے حسرت بھری نگاہ نبی اکرم ﷺ کے کچے مکان پر ڈالی اور بڑی سختی اور بوجھل دل کے ساتھ مدینہ سے واپس لوٹ گئے۔ جب رسول اکرم ﷺ واپس مدینہ تشریف لائے، تو لوگوں نے عرض کیا:

یمن سے ایک چرواہا آیا تھا جس کا نام اویس قرنی ہے، وہ آپ کو سلام کہہ کر واپس لوٹ گیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ہاں، یہ اویس کا نور ہے جو ہمارے گھر کے لئے ہدیہ چھوڑ گیا اور خود واپس چلا گیا۔[3]

رسول ﷺ کی نظر میں اویس قرنی کا مقام

رسول خدا ﷺ سے ایسی احادیث منقول ہیں جن میں اویس قرنی کی عظمت اور مقام کو بیان کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے ایک حدیث میں اویس قرنی کو اپنا دوست اور یار قرار دیا اور انہیں بہترین اور نیکوکار تابعین میں سے بتایا۔ رسول اکرم ﷺ بارہا ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے اور فرماتے: جو کوئی بھی اویس سے ملے، وہ میرا سلام ان تک پہنچا دے۔[4]

کبھی آپ ﷺ یمن کی طرف رخ کرکے فرماتے: میں یمن کی جانب سے خدائی خوشبو کو محسوس کرتا ہوں۔ سلمان فارسی نے عرض کیا: یا رسول الله، یہ کون ہے جس کی خوشبو آپ ﷺ یمن سے اشمام کرتے ہیں؟ رسول خدا ﷺ نے فرمایا: یمن میں ایک شخص ہے جس کا نام اویس قرنی ہے۔ وہ قیامت کے دن محشور ہوگا اور اتنے بڑے گروہ کی شفاعت کرے گا جتنی بڑی تعداد قبیلہ ”ربیعہ“ اور ”مُضر“ کی ہے۔[5]

جنگ صفین میں امام علی (ع) سے ملحق ہونا

روایت ہے کہ جب حضرت علی (ع) کی فوج، جنگِ صفین کے لئے کوفہ سے شام کی طرف روانہ ہوئی، تو آپ ایک مقام ”ذی قار“ پر پہنچ کر رکے اور فرمایا: آج کوفہ سے ایک ہزار افراد[6] میرے پاس آئیں گے اور جان دینے تک میرا ساتھ دینے کی بیعت کریں گے۔ عبدالله بن عباس کہتے ہیں: میں نے ان آنے والوں کو گننا شروع کیا۔ تعداد ۹۹۹ تک پہنچی اور مزید کوئی نہ آیا۔ میں نے کہا: اِنّا للّه و اِنّا الیه راجعون، آخر حضرت (ع) نے ایسا کیوں فرمایا تھا؟ اتنے میں ایک آدمی کو دیکھا، جو پشمینے کا لباس پہنے ہوئے تھا اور اس کے کندھے پر ہتھیار تھے، وہ کوفہ کی سمت سے آرہا تھا۔

وہ امیرالمؤمنین (ع) کے پاس پہنچا اور عرض کیا: اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے تاکہ میں بیعت کروں۔ حضرت علی (ع) نے پوچھا: کس بات پر بیعت کرو گے؟ اس نے کہا: اس بات پر کہ آپ کی بات سنوں گا، آپ کے احکام کی پیروی کروں گا اور آپ کے ساتھ جہاد کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ موت آجائے یا خداوند آپ کو فتح عطا فرمائے۔

حضرت علی (ع) نے فرمایا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: اویس قرنی۔ امیرالمؤمنین (ع) نے فرمایا: اللّه اکبر! رسول خدا ﷺ نے مجھے خبر دی تھی کہ میں رسول ﷺ کی امت کے ایک شخص سے ملاقات کروں گا جسے اویس قرنی کہا جاتا ہے۔ وہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے سپاہیوں میں سے ہوگا۔ اس کی موت شہادت ہوگی اور آخرت میں وہ قبیلہ ربیعہ اور مُضر کی تعداد کے برابر لوگوں کی شفاعت کرے گا۔[7]

اویس قرنی کا جنگِ صفین میں حضرت علی (ع) کی فوج میں شامل ہونا، امام (ع) اور ان کے ساتھیوں کے لئے خوشی کا سبب بنا۔ حق کے لشکر میں اویس کی شمولیت کا اثر معاویہ کی فوج پر بھی پڑا۔ حتیٰ کہ جنگ کے پہلے دن ہی معاویہ کے لشکر کے ایک سپاہی نے امام علی (ع) کے لشکر والوں سے پوچھا: کیا اویس قرنی تمہارے ساتھ ہیں؟ جواب دیا گیا: ہاں، وہ ہمارے ساتھ ہیں، تمہیں ان سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا ہے کہ اویس قرنی بہترین تابعین میں سے ہیں۔ یہ کہتے ہی وہ شخص فوراً لشکرِ امام علی (ع) میں شامل ہوگیا۔

اویس قرنی کی شہادت

تاریخی روایات کے مطابق اویس قرنی جنگ صفین میں امام علی (ع) کے ساتھ شریک ہوئے اور میدان جنگ میں شہادت کا درجہ پایا۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ کے اختتام پر امام علی (ع) کے منادی نے شہداء کے درمیان اویس قرنی کو تلاش کیا اور ان کا پیکرِ مبارک میدانِ جنگ میں پایا۔ یہ واقعہ امیر المؤمنین (ع) اور ان کے اصحاب کی نگاہ میں اویس قرنی کے بلند مقام کی نشاندہی کرتا ہے۔[8]

اویس قرنی کی شہادت نہ صرف ان کی امام علی (ع) کے ساتھ وفاداری اور اسلامی اصولوں سے وابستگی کی دلیل ہے بلکہ یہ واقعہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ وہ اسلام کے مشہور زاہدین اور برگزیدہ تابعین میں سے تھے۔ جنگ صفین میں ان کی شہادت نے اس جنگ کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا اور یہ تاریخ اسلام کے اُن اہم لمحات میں شمار ہوتا ہے جو امام علی (ع) کے جانثاروں کی حق و عدل کے دفاع میں عظیم قربانیوں کو یاد دلاتا ہے۔[9]

خاتمہ

اویس قرنی کی زندگی اطاعت، عشق اور ایثار کے امتزاج کا عملی مظہر تھی۔ ان کی ماں کی خدمت، رسول اکرم ﷺ کی محبت اور امام علی (ع) کی نصرت نے ان کے کردار کو منفرد بنا دیا۔ پیغمبر اکرم (ص) کا ان کی عظمت کا اعلان کرنا اور قیامت کے دن ان کی شفاعت کی بشارت دینا ان کے بلند مقام کی دلیل ہے۔ جنگ صفین میں ان کی شہادت نہ صرف ایک عظیم قربانی تھی بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ اویس قرنی ہمیشہ حق کے علمبردار رہے۔ ان کی یاد تاریخ اسلام میں صدیوں بعد بھی زندہ ہے اور ان کا نام وفاداری، ایثار اور عشقِ الٰہی کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔

حوالہ جات

[1]۔ ابن سعد، الطبقات الکبرى، ج‏۶، ص۶۱۱۔
[2]۔ العلی، أویس القرنی فی التراث الإسلامی، ص۲۴۱، مجلہ علوم الحدیث۔
[3]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۲، ص۱۵۵۔
[4]۔ ابن شاذان قمی، الفضائل، ص۱۰۷؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۲، ص۱۵۵۔
[5]۔ ابن شاذان قمی، ص۱۰۷؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۲، ص۱۵۵۔
[6]۔ کشی، رجال کشی، ج۱، ص۳۱۵۔
[7]۔ مفید، الارشاد، ج۱، ص۳۱۵-۳۱۶؛ طبرسى، إعلام الورى بأعلام الهدى، ‏ص۱۷۰۔
[8]۔ طبری، تاریخ الطبري، ج11، ص۶۲۷۔
[9]۔ ذھبی، تاریخ الإسلام، ج3، ص۵۵۶۔

فہرست منابع

1۔ ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبرى، بیروت، دار الکتب العلمیه، 1410ق۔

2۔ ابن شاذان قمی، شاذان بن جبرئیل، الفضائل، قم، الشريف الرضي، ۱۳۶۳ش۔

3۔ ذهبی، محمد بن احمد، تاریخ الإسلام و وفیات المشاهیر و الأعلام، بیروت، دار الکتاب العربي، ۱۴۰۹ق۔

4۔ طبرسى، محمد بن علی، إعلام الورى بأعلام الهدى، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1405ق۔

5۔ طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، بیروت، مؤسسة عزالدين، ۱۴۱۳ق۔

6۔ کشی، محمد بن عمر، اختيار معرفة الرجال، قم، مؤسسة آل البیت (علیهم السلام) لإحیاء التراث، ۱۴۰۴ق۔

7۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔

8۔ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد، قم، المؤتمر العالمي لألفية الشيخ المفيد، ۱۴۱۳ق۔

9۔ العلی، محمد محمود، أویس القرنی فی التراث الإسلامی، مجله علوم الحدیث، شمارہ ۴، آبان 1377۔

مضمون کا مآخذ (ترمیم اور تلخیص کے ساتھ)

1۔ تفقدی، لیلا، اویس قرنی، مجله گلبرگ، شماره ۶۱، فرودین ۱۳۸۴۔
2۔ اویس قرنی، مرکز دائرة المعارف بزرگ اسلامی، ج۱۰، ص۴۱۴۱۔
3۔ ذهبی، محمد بن احمد، تاریخ الإسلام، ج۳، ص۵۵۲، بیروت، دار الکتاب العربي، ۱۴۰۹ق۔
4۔ طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، ج۱۱، ص۶۲۷، بیروت، مؤسسة عزالدين، ۱۴۱۳ق۔
5۔ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، تحقیق مؤسسة آل البیت، قم، کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ق‌۔
6۔ العلی، محمد محمود، أویس القرنی فی التراث الإسلامی، ص۲۴۱، مجله علوم الحدیث، شمارہ ۴، آبان 1377۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔