اسلامی تاریخ کی کتابوں میں محمد بن ابی بکر ایک عظیم المرتبت شخص کے طور پر جلوہ گر ہیں۔ آپ ابوبکر کے فرزند تھے، مگر پرورش امام علی (ع) کے دامن میں ہوئی، جہاں علم، فکر اور اعلیٰ تربیت حاصل کی۔ امام علی (ع) نے محمد بن ابی بکر کو اپنے بیٹے کی مانند عزیز رکھا۔ محمد بن ابی بکر حضرت علی (ع) کے پانچ خاص اصحاب میں شامل تھے اور عقیدہ رکھتے تھے کہ خلافت پر سب سے زیادہ حقدار حضرت علی (ع) ہیں۔ صداقت، دیانت اور فرض شناسی آپ کی شخصیت کے اہم جزو تھے۔ آپ کی سیاسی سرگرمیاں خلافت عثمان کے دور میں شروع ہوئیں اور امام علی (ع) کی نصرت میں اہم کردار ادا کیا۔
پیدائش اور پرورش
محمد بن عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ، جو قبیلہ بنی تیم قریش سے تعلق رکھتے تھے اور ’’عابد قریش‘‘ کے لقب سے مشہور تھے،[۱] 25 ذی الحجہ سال ۱۰ ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر، جب رسول اکرم ﷺ کاروان حج کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ تھے، تو محمد بن ابی بکر مقام ’’بیدا‘‘[۲] اور بعض روایات کے مطابق ’’ذی الحلیفه‘‘ یا ’’شجرہ‘‘[۳] میں پیدا ہوئے۔ رسول خدا ﷺ نے ان کی ولادت کی خوشخبری عائشہ کو ان کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے دی تھی[۴] اور پیدائش کے بعد خود ان کا نام رکھا۔[۵]
ان کے والد عبداللہ (ابوبکر) – جو کہ پہلے خلیفہ تھے- کی وفات کے وقت محمد بن ابی بکر کی عمر صرف دو سال اور چند مہینے تھی۔ ان کی والدہ اسماء بنت عمیس صدر اسلام کی عظیم خواتین میں سے تھیں۔ وہ پہلے جعفر بن ابی طالب (ع) کی زوجہ تھیں اور ان کی شہادت کے بعد ابوبکر سے نکاح کیا، جس سے محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے۔ ابوبکر کے انتقال کے بعد اسماء نے حضرت علی (ع) سے نکاح کیا۔[۶]
محمد بن ابی بکر نے حضرت علی (ع) کے گھر میں پرورش پائی اور وہیں علمی و فکری تربیت حاصل کی۔ محمد بن ابی بکر کا فہمِ دین اور فقہی نظریہ امام علی (ع) کی خالص تعلیمات پر مبنی تھا۔ وہ کسی کو بھی، حتیٰ کہ اپنے والد ابوبکر کو بھی، حضرت علی (ع) سے برتر نہیں مانتے تھے۔[۷] امام علی (ع) بھی انہیں بہت چاہتے تھے اور فرماتے تھے کہ وہ میرے بیٹے کی طرح ہیں اگرچہ ابوبکر کے صلب سے ہیں۔[۸] نہج البلاغہ میں امام علی (ع) کا ارشاد ہے: ”وہ (محمد بن ابی بکر) میرا دوست تھا اور میں نے اسے اپنے بیٹے کی طرح پرورش دی تھی۔“ [۹]
محمد بن ابی بکر کے فضائل اور عقائد
تاریخ اسلام کی زیادہ تر معتبر کتب محمد بن ابی بکر کی صداقت، دیانت اور نجابت کی گواہی دیتی ہیں۔ وہ حضرت علی (ع) کے خاص پانچ اصحاب میں سے ایک تھے۔[۱۰] ان کا عقیدہ تھا کہ پچھلے خلفاء نے حضرت علی (ع) کا حق غصب کیا اور کوئی بھی شخص خلافت کے لئے حضرت علی (ع) سے زیادہ حقدار نہیں تھا۔[۱۱]
امام جعفر صادق (ع) سے روایت ہے کہ جب محمد بن ابی بکر حضرت علی (ع) کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے تو عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہ امام ہیں جس کی اطاعت واجب ہے اور میرا باپ دوزخ میں ہے۔[۱۲]
محمد بن ابی بکر کا مقام امام علی (ع) کے نزدیک ویسا ہی تھا جیسا مقام ابوذر غفاری کا رسول خدا ﷺ کے نزدیک تھا۔ وہ امام کے حواریوں میں شمار ہوتے تھے۔[۱۳] وہ ایک باایمان اور فرض شناس شخص تھے جو اپنی ذمہ داریاں درست طور پر انجام دیتے تھے۔ امام علی (ع) نے ان کی شہادت کے بعد فرمایا: اللہ محمد پر رحم کرے، اس نے اپنی پوری طاقت سے کوشش کی اور اپنا فریضہ انجام دیا۔[۱۴]
وہ ایک لائق اور کاردان شخصیت بھی تھے۔ امام علی (ع) ان کے بارے میں فرماتے ہیں: اس نے عقل یا دین کی تباہی سے شکست نہیں کھائی۔[۱۵]
سیاسی سرگرمیاں اور عثمان سے اختلاف
محمد بن ابی بکر کی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کا آغاز خلافتِ عثمان کے دور میں ہوا۔ بعض مغربی مؤرخین مثلاً کایتانی[۱۶] نے انہیں خلیفہ دوم عمر کے قتل کی سازش میں شریک بتایا ہے،[۱۷] مگر یہ نظریہ کئی وجوہات کی بنا پر بالکل باطل ہے:
۱۔ ابتدائی اسلامی تاریخی مصادر میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔
۲۔ کایتانی نے امام علی (ع) کو بھی اس سازش میں شریک بتایا جو ان کے نظریات کے سراسر خلاف ہے۔
۳۔ قتلِ عمر کے وقت محمد بن ابی بکر تقریباً تیرہ سال کے نوجوان تھے اور کسی بڑی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔
بلوغ کے بعد وہ خلافت عثمان کے زمانے میں غیر مسلموں کے خلاف جنگوں میں شریک رہے۔ عثمان کے ساتھ ان کے اختلافات جنگِ ’’صواری‘‘[۱۸] کے موقع پر شروع ہوئے۔ اس جنگ میں عثمان نے بحری فوج کی کمان عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو دی تھی، حالانکہ رسول اکرم ﷺ نے اس کا خون مباح قرار دیا اور اسے حجاز سے نکال دیا تھا اور قرآن بھی اس کے کفر پر دلالت کرتا ہے۔[۱۹]
محمد بن ابی بکر اس فیصلے پر عثمان کو تنقید کا نشانہ بناتے اور صحابہ کرام کی حق تلفی پر اعتراض کرتے تھے۔ محمد بن حذیفہ[۲۰] بھی اس رائے میں ان کے شریک تھے۔ دونوں نے لشکر کو عبداللہ بن سعد کے خلاف کمزوری دکھانے پر آمادہ کیا۔ نتیجتاً عبداللہ نے عثمان کو شکایتی خط لکھا۔ عثمان نے جواب میں ہدایت دی کہ ان دونوں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔[۲۱]
محمد بن ابی بکر کے عثمان سے اختلافات کی کئی وجوہات تھیں:
۱۔ قرآن پر عمل نہ کرنا،[۲۲] خصوصاً عبداللہ بن سعد کو سپہ سالار اور گورنرِ مصر بنانے پر۔ وہ کہا کرتے تھے: ”جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر، ظالم اور فاسق ہیں” (قرآنی آیتوں سے اقتباس)“۔[۲۳]
۲۔ حق پر عمل نہ کرنا[۲۴] اور صحابہ میں عدل قائم نہ کرنا؛ کیونکہ عثمان نے اپنے رشتہ داروں جیسے مروان بن حکم کو اہم مناصب پر بٹھایا اور بڑے صحابہ کو نظرانداز کیا۔
۳۔ سنتِ رسول ﷺ کو ترک کرنا اور عثمان سے پہلے والے دو خلفاء کے طریقے کو چھوڑ دینا اور حکام کی من مانی پر خاموش رہنا، جیسے عبداللہ بن سعد مصر اور معاویہ شام میں خودسرانہ حکومت کرتے تھے۔ محمد بن ابی بکر نے اپنی ملاقات میں عثمان کو اس پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔[۲۵]
محمد بن ابی بکر کی مصر پر حکومت
محمد بن ابی بکر کو حضرت علی (ع) کی جانب سے سب سے اہم منصب مصر کی حکومت سونپا گیا۔ زیادہ تر مصادر کے مطابق وہ مالک اشتر کے مصر جانے سے پہلے وہاں حاکم مقرر ہوئے، جبکہ بعض، خاص طور پر مصری مصادر، مانتے ہیں کہ مالک پہلے وہاں پہنچے۔ یہ مصادر بعض اوقات غلط ہیں اور محمد بن ابی بکر کی تعیناتی کا سال ۳۷ ہجری بتاتے ہیں[۲۶] اور مدت حکومت پانچ ماہ لکھتے ہیں، حالانکہ معتبر اسلامی تاریخ کے مطابق وہ رمضان کی پہلی تاریخ، سال ۳۶ ہجری میں مصر کے گورنر مقرر ہوئے۔[۲۷] کچھ منابع مالک کے مصر بھیجنے کو محمد کی شہادت کے بعد ذکر کرتے ہیں۔[۲۸]
ابتدائی خلافت امام علی (ع) میں مصر کی حکومت قیس بن سعد بن عبادہ کے پاس تھی اور اس کے بعد محمد بن ابی بکر کو سونپی گئی۔ جب مصر میں محمد بن ابی بکر کے لئے مشکلات پیدا ہوئیں اور عثمانی عناصر نے مخالفت شروع کی تو امام علی (ع) نے مالک اشتر کو مصر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ محمد اس پر فکر مند ہوئے اور امام علی (ع) نے انہیں حوصلہ دیتے ہوئے خط لکھا۔[۲۹]
عبد اللہ بن ابی رافع[۳۰] کے ذریعے رمضان کی پہلی تاریخ ۳۶ ہجری کو مصر کی حکومت کے لئے جاری حکم میں امام علی (ع) نے محمد بن ابی بکر کو درج ذیل امور کی نصیحت کی:
۱۔ ظاہر اور باطن میں تقویٰ اور خدا کا خوف۔
۲۔ مسلمانوں کے ساتھ نرم رویہ، مظلوموں پر انصاف اور ان کی استطاعت کے مطابق ان پر احسان۔
۳۔ مجرموں کے ساتھ سختی اور ظالموں پر سخت کارروائی۔
۴۔ اہل ذمہ (اسلامی حکومت کے تحت غیر مسلم) اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ عدل و انصاف۔
۵۔ مصر کی عوام کو حقیقی اسلام کے تحت متحد کرنا۔
۶۔ بغیر دخل و تصرف کے محصول (ٹیکس) اکٹھا کرنا ، اور بیت المال کو عادلانہ تقسیم کرنا۔[۳۱]
محمد بن ابی بکر کی شہادت
امام علی (ع) نے ۳۶ ہجری میں عبد اللہ بن جعفر کے مشورے پر جب محمد بن ابی بکر کو مصر کا گورنر مقرر کیا، جو کہ قیس بن سعد کی عزلت کے بعد ہوا۔ مصر میں آپ کی تعیناتی کی وجہ سے ہی محمد بن ابی بکر جنگ صفین میں شریک نہیں ہوئے۔ اور محمد بن ابی بکر عثمان کے پیروکار یا عثمانی رجحان رکھنے والوں کے خلاف سخت رویہ بھی اختیار کرتے تھے۔
صفین کے بعد اور حکمیت کے نتیجے میں، عثمانی حمایتیوں نے بھی محمد بن ابی بکر کے خلاف بغاوت کی اور اسے مشکلات میں مبتلا کیا۔ معاویہ اور عمرو عاص نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے باغیوں کی حمایت کی۔ مصر کی صورتحال بگڑنے لگی اور امام علی (ع) نے مالک اشتر کو وہاں بھیجا تاکہ فتنے کو ختم کیا جا سکے، لیکن مالک اشتر، جسے امام (ع) نے مصر بھیجا، معاویہ کی فریب کاری کی وجہ سے راستے میں شہید ہو گئے۔ تو امام (ع) نے محمد بن ابی بکر کو دوبارہ مصر بھیج دیا۔
عمرو عاص جو کہ عمر کے دور میں مصر پر قبضہ کرچکا تھا وہ مصر سے خوب واقف تھا۔ اس نے شورشیوں کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تو محمد بن ابی بکر نے کنانہ کو دو ہزار افراد کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے لئے بھیجا لیکن وہاں ایسی جھڑپیں پیش آئیں جس میں وہ شہید ہو گیا۔
جس کی وجہ سے محمد بن ابی بکر تنہا رہ گئے اور ان کے ساتھیوں نے بھی محمد بن ابی بکر کو اکیلا چھوڑ دیا اور وہ دشمن کے نرغے میں آگئے۔ دوسری جانب امام علی (ع) کی کوفہ کے لوگوں سے مدد کی درخواست بھی کارگر نہ ہوئی۔ آخرکار، معاویہ بن خدیج نے محمد بن ابی بکر کو مردہ گدھے کی کھال میں ڈال کر آگ لگا دی، جبکہ وہ پیاسے تھے۔۔[۳۲]
خاتمہ
محمد بن ابی بکر کی حیات مبارکہ امام علی (ع) کے ساتھ بے مثال وفاداری اور اسلامی اصولوں کی پاسداری کی عکاس ہے۔ حضرت علی (ع) نے انہیں مصر جیسے اہم خطے کا گورنر مقرر کر کے ان کی قابلیت اور اعتماد پر مہر ثبت کی۔ آپ نے اپنی گورنری کے دوران تقویٰ، عدل و انصاف، اور مظلوموں پر احسان کے زریں اصولوں کو اپنایا، اور عوام کو حق و اسلام کے تحت متحد کرنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ تاہم، معاویہ اور عمرو عاص کی سیاسی سازشوں اور ہتھکنڈوں نے انہیں مشکلات میں گھیر لیا۔ بالآخر، یہ عظیم شخصیت راہ حق میں جامِ شہادت نوش کر گئی، اور ان کی المناک شہادت امام علی (ع) کے لئے شدید دکھ کا سبب بنی۔
حوالہ جات
[۱]۔ ابن قتیبه، المعارف، ص ۱۷۵؛ زرکلی، الاعلام، ج۶، ص۲۲۰۔
[۲]۔ بن اثیر، اسدالغابة، ج۴، ص۳۲۴۔
[۳]۔ ابن عبد البر، الاستیعاب، ج۳، ص۴۲۲۔
[۴]۔ ثقفی، الغارات، ج۱، ص۲۸۸؛ مامقانی، تنقیح المقال، ج۲، دوسرا حصہ، ص۵۸؛ مجلسی، بحارالأنوار، ج۳۳، ص۵۶۳۔
[۵]۔ ابن شبه، تاریخ مدینة المنوره، ج۴، ص۱۳۰۳۔
[۶]۔ ابن سعد، طبقات الکبری، ج۸، ص۲۸۲؛ زبیری، نسب قریش، ص۲۷۷۔
[۷]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۳، ص۱۹۰۔
[۸]۔ مامقانی، تنقیح المقال، ج۲، ص۵۸؛ حرزالدین، مراقد المعارف، ج۲، ص۲۴۶۔
[۹]۔ سید رضی، نہج البلاغہ، خطبہ۶۷۔
[۱۰]۔ طوسی، رجال الکشی، ص۶۳؛ مامقانی، تنقیح المقال، ج۲، ص۵۷۔
[۱۱]۔ مفید، الجمل و النصرة سید العترة فی حرب البصرة، ص۱۶۲؛ شوشتری، قاموس الرجال، ج۷، ص۴۹۵۔
[۱۲]۔ مامقانی، تنقیح المقال، ج ۲، ص ۵۷؛ طوسی، رجال الکشی، ص ۶۴؛ مجلسی، بحارالأنوار، ج۳۳؛ شوشتری، قاموس الرجال، ج۷، ص۴۹۶۔
[۱۳]۔ حرز الدین، مراقد المعارف، ج۲، ص۲۴۶۔
[۱۴]۔ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۸۳۔
[۱۵]۔ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۹۴۔
[۱۶]۔ کایتانی، تاریخ اسلام، ۱۹۰۵م۔
[۱۷]۔ مادلونگ، جانشینی حضرت محمد ﷺ، ص۱۰۱۔
[۱۸]۔ ابن تغری بردی، النجوم الزاهرة فی ملوک مصر و القاهره، ج۱، ص۱۰۲؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۳، ص۱۹۶؛ کندی، ولاة مصر، ص۵۰۔
[۱۹]۔ انعام: ۹۳۔
[۲۰]۔ ابن اثیر، الکامل فی تاریخ، ج۴، ص۲۱-۲۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۳۸۸۔
[۲۱]۔ بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۸۸؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۲۲؛ الجوزی، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، ج۳، ص۱۹۲۔
[۲۲]۔ دینوری، الامامة و السیاسه، ج۱، ص۴۴؛ ابن شبه، تاریخ مدینة المنورة، ج۴، ص۲۸۸۔
[۲۳]۔ سورت مائدہ: آیات ۴۴، ۴۵ اور ۴۷ سے ماخوذ۔
[۲۴]۔ ثقفی، الغارات، ج۱، ص۲۸۴۔
[۲۵]۔ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۳، ص۴۰۵۔
[۲۶]۔ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ج۱، ص۶۱۴؛ مقریزی، الخطط المقریزیه، ج۱، ص۸۲۸؛ کندری، ولاة مصر، ص۵۴؛ دمیری، حیات الحیوان الکبری، ج۱، ص۳۵۰؛ زرکلی، الاعلام، ج۶، ص۲۲۰۔
[۲۷]۔ ثقفی، الغارات، ج۱، ص۲۲۴؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۳، ص۵۵۶؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۳۹۳۔
[۲۸]۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج۳۳، ص۵۸۹۔
[۲۹]۔ شریف رضی، نہج البلاغہ، خط۳۴۔
[۳۰]۔ ابنشعبه، تحف العقول، ص۱۷۶۔
[۳۱]۔ ثقفی، الغارات، ج۱، ص۲۲۴؛ ابنشعبه، تحف العقول، ص۱۷۶؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۳، ص۲۰۲؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۳۹۳؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۳، ص۵۵۶؛ مجلسی، بحارالأنوار، ج۳۳، ص۵۴۰۔
[۳۲]۔ محمدی ریشهری، دانش نامه امیر المومنین (ع)، ص۵۳۷-۵۳۸۔
فہرست منابع
۱۔ قرآن مجید۔
۲۔ ابن ابی الحدید، عبد الحمید بن هبه الله، شرح نہج البلاغہ، ترجمہ: محمود مهدوی دامغانی، تهران، انتشارات نی، ۱۳۶۸ش۔
۳۔ ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، تهران، مؤسسه مطبوعاتی علمی، بی تا۔
۴۔ ابن تغری بردی، یوسف بن تغری بردی، النجوم الزاهرة فی ملوک مصر و القاهره، بیروت، دارالکتب العلمیه، ۱۴۱۳ق۔
۵۔ ابن خلدون، عبدالرحمن بن محمد، تاريخ ابن خلدون، بيروت، دار الفکر، ۱۴۰۸ق۔
۶۔ ابن سعد، محمد بن سعد، طبقات الکبری، بیروت، دارالکتب، ۱۹۹۰م۔
۷۔ ابن شبه نمیری، عمر بن شبه، تاریخ مدینة المنوره، قم، انتشارات دارالفکر، ۱۴۱۰ق۔
۸۔ ابن عبد البر، یوسف بن عبد الله، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب، تحقیق شیخ علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیه، ۱۴۱۵ق۔
۹۔ ابنجوزی، عبدالرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، بیروت، دارالفکر للطباعة و النشر، ۱۴۱۵ق۔
۱۰۔ ابنشعبه، حسن بن علی ، تحف العقول، قم، مؤسسه نشر اسلامی، ۱۳۶۳ش۔
۱۱۔ ابنقتیبه، عبدالله بن مسلم، المعارف، قاهره، الهیئة المصریة العامة للکتاب، ۱۹۹۲م۔
۱۲۔ بلاذری، احمد بن یحیی، أنساب الأشراف للبلاذری، مرکز بحوث و دراسات المدینة المنورة، ۱۴۴۰ق۔
۱۳۔ ثقفی، ابراهیم بن محمد ، الغارات، تحقیق میر جلال الدین حسینی ارموی، تهران، انتشارات انجمن آثار ملی، ۱۳۹۵ ق۔
۱۴۔ حرز الدین، محمد ، مراقد المعارف، قم، منشورات سعید بن جبیر، ۱۳۷۱ش۔
۱۵۔ دمیری، محمد بن موسی، حیات الحیوان الکبری، قاهره، مطبعة مصطفی البابی الحلبی و اولاده، ۱۳۸۹ق۔
۱۶۔ دینوری، ابن قتیبه، الامامة و السیاسه، بیروت، دارالمعرفة للطباعة و النشر، بی تا۔
۱۷۔ زبیری، عبداللہ بن مصعب، نسب قریش، قاهره، دارالمعارف للطباعة و النشر، ۱۹۵۳م۔
۱۸۔ زرکلی، خیر الدین، الأعلام: قاموس تراجم لأشهر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت، دار العلم للملايين، ۱۹۸۹م۔
۱۹۔ شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، ترجمہ: محمد دشتی، قم، انتشارات مشهور، ۱۳۸۰ش۔
۲۰۔ شوشتری، محمد تقی، قاموس الرجال، تهران، مرکز نشر کتاب، ۱۳۸۶ق۔
۲۱۔ طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبري: تاريخ الأمم و الملوك، بیروت، روائع التراث العربي، ۱۳۸۷ق۔
۲۲۔ طوسی، محمد بن حسن، رجال الکشی، تصحیح حسن المصطفی، بی جا، بی تا۔
۲۳۔ کایتانی، لئون، تاریخ اسلام، ۱۹۰۵م۔
۲۴۔ کندی، محمد بن یوسف، ولاة مصر، بیروت، دار بیروت، دار صادر للطباعة و النشر، ۱۳۷۹ق۔
۲۵۔ مادلونگ، ویلفرد، جانشینی حضرت محمد ﷺ، ترجمہ: احمد نمایی، بنیاد پژوهشهای اسلامی آستان قدس رضوی، ۱۳۷۷ش۔
۲۶۔ مامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال، نجف، مطبعة المرتضویه، ۱۳۵۲ق۔
۲۷۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار ، تهران، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی۔
۲۸۔ محمدی ریشهری، محمد، دانش نامه امیر المومنین (ع)، قم، مؤسسه علمی فرهنگی دار الحديث. سازمان چاپ و نشر، ۱۳۸۹ش۔
۲۹۔ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة سید العترة فی حرب البصرة، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۴۱۳ق۔
۳۰۔ مقریزی، احمد بن علی، الخطط المقریزیه، قاهره، مکتبة مدبولی، ۱۹۹۸م۔
۳۱۔ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، بیروت، دار صادر للطباعة و النشر، ۱۳۷۹ق۔
مضمون کا مآخذ (ترمیم اور تلخیص کے ساتھ)
۱۔ حسینی، سید حسن، نگاهی به زندگی و شخصیت محمد بن ابی بکر، مجلہ مشکوة، بنیاد پژوهشهای اسلامی، گروه تراجم و انساب، شمارہ ۸۳، شهریور۱۳۸۳۔
2۔ محمدی ریشهری، محمد، دانش نامه امیر المومنین (ع)، قم، مؤسسه علمی فرهنگی دار الحديث. سازمان چاپ و نشر، ۱۳۸۹ش۔