حیوانوں کے حقوق کا تصور آج کی دنیا میں ایک کثیر الجہت بحث کا موضوع ہے۔ جب ہم حیوانوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، تو عموماً ہمارا ذہن جدید مغربی تنظیموں اور فلسفوں کی طرف جاتا ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات، بالخصوص امیرالمومنین حضرت علی (ع) کی حکمت سے لبریز دستاویز نہج البلاغہ، اس موضوع پر چودہ صدیاں قبل ہی ایسی گہری اور عملی بصیرت فراہم کرتی ہے جو آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ نہج البلاغہ کا خط نمبر ۲۵، جو امام (ع) نے اپنے ایک عاملِ زکوٰۃ کو تحریر فرمایا، درحقیقت حیوانوں کے حقوق کا ایک جامع اور بے مثال منشور ہے۔ یہ خط صرف مالیاتی ہدایات پر مشتمل نہیں، بلکہ یہ اسلامی نظامِ عدل میں اخلاقیات، ہمدردی اور مخلوقات کے ساتھ برتاؤ کے اعلیٰ ترین معیارات کو قائم کرتا ہے۔
خط نمبر ۲۵ کا پس منظر
امام علی (ع) کا یہ مکتوب اس وقت کے اسلامی معاشرے میں زکوٰۃ کی جمع آوری اور اس کی مرکز تک ترسیل کے نظام کو واضح کرتا ہے۔ یہ اموالِ مسلمین کا معاملہ تھا، اور امام (ع) اس میں معمولی سی کوتاہی یا بد انتظامی کے بھی روادار نہ تھے۔ مکتوب کا آغاز ہی اس حساسیت کی عکاسی کرتا ہے۔
امانت دار اور بااخلاق عاملین کا تقرر
امام (ع) خط کے آغاز میں زکوٰۃ کی وصولی اور منتقلی کے لیے مقرر کیے جانے والے افراد کی خصوصیات پر زور دیتے ہیں۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر حیوانوں کے حقوق سمیت تمام نظامِ عدل قائم ہوتا ہے۔ آپ (ع) فرماتے ہیں کہ اس مال (زکوٰۃ) کی ذمہ داری صرف اس شخص کو سونپی جائے جس کی دینداری پر تمہیں بھروسہ ہو (تَثِقُ بِدِينِهِ) اور جو مسلمانوں کے مال کے ساتھ نرمی برتنے والا (رَافِقاً بِمَالِ الْمُسْلِمِينَ) ہو۔
اس کے بعد امام (ع) مزید آٹھ صفات گنواتے ہیں: "یہ ذمہ داری کسی ایسے شخص کے سپرد نہ کرنا جو خیر خواہ (نَاصِحاً)، مہربان (شَفِيقاً)، امانت دار (أَمِيناً) اور محافظ (حَفِيظاً) نہ ہو؛ اور جو درشت خو (مُعْنِفٍ)، ضرر پہنچانے والا (مُجْحِفٍ)، تھکا دینے والا (مُلْغِبٍ) اور زحمت میں ڈالنے والا (مُتْعِبٍ) ہو، اس پر بھروسہ نہ کرنا۔”
شارحین، اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک چرواہا یا نگران جو خیر خواہ اور مہربان (ناصح و شفیق) ہوگا، وہ یقینی طور پر جانوروں کو نہ تو تھکائے گا اور نہ ہی انہیں تیزی سے ہانکے گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں: اول، یہ کہ جانوروں کو زحمت دینا اسلامی عدل کے خلاف ہے۔ دوم، اس سے جانور کمزور یا بیمار ہو سکتے ہیں، جو بالآخر ان غریب مسلمانوں کا نقصان ہے جن تک یہ زکوٰۃ پہنچنی ہے۔[۱]
یہاں یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ امام (ع) نے یہ ہدایات ایک ایسے دور میں دیں جب دنیا میں نہ تو حیوانوں کے حقوق کا کوئی باقاعدہ تصور موجود تھا اور نہ ہی انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی واضح عالمی میثاق پایا جاتا تھا۔ یہ اسلام کی جامعیت اور اس کے اخلاقی نظام کی برتری کا ثبوت ہے کہ اس نے حیوانوں کے حقوق کو بھی اپنی شفقت اور رحمت میں شامل کیا۔
حقوقِ حیوانات کا عملی منشور
مکتوب کا اگلا حصہ، جو ہمارا بنیادی موضوع ہے، زکوٰۃ کے جانوروں (اونٹوں) کو مرکزِ خلافت تک پہنچانے کی تفصیلی ہدایات پر مشتمل ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جو حیوانوں کے حقوق کے حوالے سے ایک بے نظیر دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ امام (ع) نے اس میں دس نہایت عمیق و دقیق اور لطیف نکات بیان فرمائے ہیں۔
۱. جذباتی اور نفسیاتی حقوق کا خیال
امام (ع) محض جانوروں کی جسمانی صحت ہی نہیں، بلکہ ان کی نفسیاتی اور جذباتی کیفیت کا بھی خیال رکھنے کی تلقین فرماتے ہیں۔
ماں اور بچے کے رشتے کا احترام: "جب تمہارا امین ان (جانوروں) کو اپنی تحویل میں لے، تو اسے تاکید کرنا کہ وہ اونٹنی اور اس کے دودھ پیتے بچے کے درمیان جدائی نہ ڈالے۔” (أَلَّا يَحُولَ بَيْنَ نَاقَةٍ وَ بَيْنَ فَصِيلِهَا)
یہ ہدایت حیوانوں کے حقوق میں ایک انقلابی نکتہ ہے۔ یہ جانوروں کے اندر موجود ممتا کے جذبے کا اعتراف ہے اور اس بات کی تلقین ہے کہ انتظامی ضرورتوں کے لیے بھی اس مقدس رشتے کو پامال نہ کیا جائے۔
بچے کے غذائی حق کی ضمانت: "اور اس کا دودھ اس قدر نہ دوہے کہ اس کے بچے کو نقصان پہنچے۔” (وَ لَا يَمْصُرَ لَبَنَهَا فَيَضُرَّ ذَلِكَ بِوَلَدِهَا)
یہاں ‘مَصْر’ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے مکمل طور پر دودھ دوہ لینا۔ امام (ع) اس سے منع فرما رہے ہیں کہ بچے کا حصہ لازماً باقی رکھا جائے۔ یہ نہ صرف ماں اور بچے، بلکہ حیوانوں کے حقوق میں ان کی نسل کے تحفظ کا بھی ضامن ہے۔
۲. جسمانی مشقت اور انصاف کے اصول
امام (ع) جانوروں سے کام لینے کی حدود متعین فرماتے ہیں، جو آج کے دور میں ‘Workplace Safety’ کے مترادف ہے۔
طاقت سے زیادہ سواری نہ لینا: "اور ان پر سواری کر کے انہیں ہرگز نہ تھکائے۔” (وَ لَا يَجْهَدَنَّهَا رُكُوباً) یہ واضح حکم ہے کہ جانور کو اس کی طاقت سے زیادہ مشقت میں نہ ڈالا جائے۔
سواری میں عدل و انصاف کا قیام: "اور اس (سواری لینے) کے معاملے میں اس اونٹنی اور اس کی ساتھی دیگر اونٹنیوں کے درمیان عدل کرے۔” (وَ لْيَعْدِلْ بَيْنَ صَوَاحِبَاتِهَا فِي ذَلِكَ وَ بَيْنَهَا)
یہ نکتہ عدلِ علوی (ع) کا ایک شاہکار ہے۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ ایک ہی جانور کو مسلسل سواری کے لیے استعمال کیا جائے، بلکہ باری باری (Rotation) کے اصول پر عمل کیا جائے تاکہ بوجھ سب پر یکساں تقسیم ہو۔
تھکے اور زخمی جانوروں سے نرمی: "تھکے ماندے جانور کو آرام دے، اور جو پاؤں زخمی ہونے (کھر گھس جانے) یا لنگڑاہٹ کی وجہ سے چلنے میں سستی دکھائے، اس سے نرمی کا برتاؤ کرے۔” (وَ لْيُرَفِّهْ عَلَى اللَّاغِبِ وَ لْيَسْتَأْنِ بِالنَّقِبِ وَ الظَّالِعِ)
یہاں ‘الناقب’ وہ اونٹ ہے جس کا کُھر زیادہ چلنے سے گھس گیا ہو، اور ‘الظالع’ وہ جو لنگڑا کر چلتا ہو۔ امام (ع) کا ان مخصوص اصطلاحات کا استعمال اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ حیوانوں کے حقوق کی کیسی باریک بینی سے نگرانی فرما رہے ہیں۔
۳. خوراک، پانی اور آرام کے حقوق
سفر کے دوران جانوروں کی بنیادی ضروریات (خوراک، پانی اور آرام) کا خیال رکھنا اولین ترجیح قرار دیا گیا۔
پانی کے مقامات سے گزارنا: "راستے میں جن پانی کے تالابوں سے گزرے، انہیں وہاں لے جائے۔” (وَ لْيُورِدْهَا مَا تَمُرُّ بِهِ مِنَ الْغُدُرِ)
یعنی جانوروں کو پیاسا نہ رکھا جائے اور جہاں پانی میسر ہو، انہیں سیراب کیا جائے۔
چراگاہوں سے راستہ نہ بدلنا: "اور انہیں زمین کی گھاس (چراگاہوں) سے ہٹا کر راستوں کی خشک زمین پر نہ لے جائے۔” (وَ لَا يَعْدِلْ بِهَا عَنْ نَبْتِ الْأَرْضِ إِلَى جَوَادِّ الطُّرُقِ)
عموماً راستوں کے کنارے گھاس ہوتی ہے جبکہ پختہ شاہراہیں (جوادّ الطرق) خشک ہوتی ہیں۔ حکم یہ ہے کہ جانوروں کے چارے کا خیال رکھا جائے اور انہیں ان کے قدرتی ماحول سے محروم نہ کیا جائے۔
سفر میں مناسب آرام کا وقفہ: "اور انہیں (دن کے) اوقات میں آرام دے۔” (وَ لْيُرَوِّحْهَا فِي السَّاعَاتِ)
مسلسل سفر جانوروں کو تھکا دیتا ہے۔ لہٰذا، سفر میں مناسب وقفے (Rest intervals) لازمی قرار دیے گئے۔
پانی اور چارے کے پاس مہلت دینا: "اور جب پانی اور گھاس والی جگہوں پر پہنچیں تو انہیں مہلت دے (تاکہ وہ تسلی سے کھا پی سکیں)۔” (وَ لْيُمْهِلْهَا عِنْدَ النِّطَافِ وَ الْأَعْشَابِ)
یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ جانوروں کو جلد بازی میں وہاں سے نہ ہٹایا جائے، بلکہ انہیں اتنا وقت دیا جائے کہ وہ اپنی پیاس بجھا سکیں اور پیٹ بھر کر چارہ کھا سکیں۔
حیوانوں کے حقوق کی رعایت کا مقصد
امام (ع) ان تفصیلی ہدایات کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "تاکہ وہ اللہ کے حکم سے ہمارے پاس فربہ اور تروتازہ (بُدَّناً مُنْقِيَاتٍ) ہو کر پہنچیں، نہ کہ تھکے ہوئی (مُتْعَبَاتٍ) اور نہ ہی مشقت زدہ (مَجْهُودَاتٍ)۔”
شارحین کے نزدیک ان ہدایات کا مقصد دوہرا ہے:
۱. اخلاقی و انسانی پہلو: یہ اسلام کی بنیادی تعلیم ہے کہ مخلوقِ خدا پر رحم کیا جائے، خصوصاً ان بے زبان جانوروں پر جو نہ اپنی تکلیف بتا سکتے ہیں اور نہ اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔
۲. معاشی و اجتماعی پہلو: یہ جانور بیت المال کی ملکیت اور غریبوں کا حق تھے۔ اگر ان کے ساتھ برا سلوک ہوتا تو وہ کمزور، لاغر یا بیمار ہو کر مرکز تک پہنچتے، جس سے بیت المال اور مستحقین کا نقصان ہوتا۔ لہٰذا، حیوانوں کے حقوق کا تحفظ دراصل غریبوں کے حقوق کا بھی تحفظ تھا۔
امام علی (ع) کا یہ مکتوب کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس وسیع تر اسلامی اخلاقی ڈھانچے کا حصہ ہے جو چودہ سو سال سے حیوانوں کے حقوق کا علمبردار رہا ہے۔
اسلام کا معتدل موقف
آج کی دنیا میں حیوانوں کے حقوق کی تنظیمیں موجود ہیں، لیکن اکثر اوقات یہ موضوعات سیاسی رنگ اختیار کر جاتے ہیں اور مخالفین کو دبانے کے لیے ایک "ہتھکنڈے” کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ہزاروں انسانوں کے قتلِ عام پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، لیکن ایک جانور کے ساتھ زیادتی پر شور مچایا جاتا ہے۔
اس کے برعکس، اسلام نے آغاز سے ہی اس معاملے میں اعتدال (حد اعتدال) کا راستہ دکھایا ہے۔ اس نے نہ تو جانوروں کو پوجا کے مقام تک پہنچایا (جیسا کہ بعض قدیم معاشروں میں تھا) اور نہ ہی انہیں محض استعمال کی بے جان شے سمجھا، بلکہ ان کے حقوق متعین کیے۔
اسلامی ذخیرۂ احادیث حیوانوں کے حقوق کے حوالے سے قیمتی ہدایات سے بھرا پڑا ہے۔
شیخ حر عاملی نے اپنی مشہور کتاب "وسائل الشیعہ” میں "ابواب احکام الدواب” (جانوروں کے احکام کے ابواب) کے عنوان سے ۵۰ سے زائد ابواب قائم کیے ہیں۔[۲]
نتیجہ
نہج البلاغہ کا خط نمبر ۲۵ حیوانوں کے حقوق کے حوالے سے ایک تاریخی اور انقلابی دستاویز ہے۔ یہ خط واضح کرتا ہے کہ اسلامی نظامِ عدل میں صرف انسانوں ہی نہیں، بلکہ بے زبان حیوانوں کے حقوق کا بھی کتنا گہرا شعور موجود تھا۔ امام علی (ع) نے زکوٰۃ کے جانوروں کی منتقلی کے لیے جو ہدایات جاری فرمائیں، وہ جانوروں کے جذباتی، نفسیاتی، اور جسمانی پہلوؤں کا مکمل احاطہ کرتی ہیں۔ ان ہدایات میں ماں اور بچے کے رشتے کا احترام، خوراک اور پانی کی فراہمی، تھکے اور زخمی جانوروں سے نرمی، اور سواری میں عدل جیسے نکات، حیوانوں کے حقوق کے لیے ایک جامع چارٹر فراہم کرتے ہیں۔
یہ مکتوب ثابت کرتا ہے کہ چودہ صدیاں قبل اسلام نے حیوانوں کے حقوق کا جو عملی اور ہمدردانہ ڈھانچہ پیش کیا تھا، وہ آج کے دور کے سیاسی نعروں سے کہیں زیادہ گہرا، حقیقی اور قابلِ عمل ہے۔ جس سے ہمیں عملی سبق یہ ملتا ہے کہ اللہ کی مخلوق کے ساتھ ہمارا برتاؤ ہماری اپنی انسانیت اور دینداری کا پیمانہ ہے، اور ان حقوق کی ادائیگی ہمارے اجر میں اضافے اور ہماری ہدایت میں قربت کا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ امام (ع) نے خط کے آخر میں فرمایا: "اگر تم نے ایسا کیا تو اس سے تمہارا اجر عظیم تر ہوگا اور تمہاری ہدایت (رُشد) کے زیادہ قریب ہوگا، ان شاء اللہ۔”
حوالہ جات
[۱] مکارم، پیام امام امیر المومنین (ع)، ج۹ ص۳۱۸۔
[۲] عاملی، وسائل الشيعہ، باب ۵۳ از احکام الدواب. ص ۳۹۷۔
فہرست منابع
حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، قم، موسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۹ھ۔
شریف الرضی، نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، قم، مرکز البحوث الاسلامیۃ، ۱۳۷۴ ہجری شمسی۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مكارم شيرازى، ناصر، پيام امام امير المومنين (ع)، دار الكتب الاسلاميہ، ۱۳۸۶ ه. ش، ج۹ ص۳۱۸ تا ۳۲۴۔