دعا کی فضیلت احادیث معصومین (ع) کی روشنی میں

دعا کی فضیلت احادیث معصومین (ع) کی روشنی میں

کپی کردن لینک

انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے، اور اسی عبادت کا سب سے گہرا اظہار دعا ہے۔ دعا کی فضیلت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے رب سے تعلق قائم کرتا ہے۔ رسولِ خدا ﷺ کے فرمان کے مطابق، دعا کرنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ دعا کی فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ صرف روحانی عمل نہیں بلکہ مومن کا مضبوط سہارا اور دین کا ستون بھی ہے۔ دعا دراصل اللہ کے حضور اپنا حال پیش کرنا ہے، اور خدا کے نزدیک سب سے قیمتی عمل بھی یہی ہے کہ بندہ اس سے مانگے، سوال کرے اور اپنی ضرورتیں ظاہر کرے۔

عبادت کی روح

جہاں دعا کی کئی اور فضیلتیں ہیں ان میں سے دعا کی فضیلت یہ بھی ہے کہ دعا عبادت کی روح ہے۔ انسان کی خلقت کی غرض عبادت ہے اور عبادت کرنے کی غرض خداوندِ عالم سے شدید رابطہ کرنا ہے۔ اور یہ رابطہ دعا کے ذریعے ہی محقق ہوتا ہے اور اس کے وسائل وسیع اور قوی ہوتے ہیں۔ حضرت رسولِ خدا ﷺ فرماتے ہیں:

الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ وَ لا يُهْلَكُ مَعَ الدُّعَاءِ أَحَدٌ.[۱]

دعا عبادت کی روح ہے، اور دعا کرنے سے کوئی بھی ہلاک نہیں ہوتا۔

دعا کی فضیلت کے بارے میں رسولِ خدا ﷺ کا ایک اور فرمان ہے کہ:

اِفْزَعُوا إِلَى اللَّهِ فِي حَوَائِجِكُمْ وَ اِلْجَئُوا إِلَيْهِ فِي مُلِمَّاتِكُمْ وَ تَضَرَّعُوا إِلَيْهِ وَ ادْعُوهُ فَإِنَّ الدُّعَاءَ مُخُّ الْعِبَادَةِ وَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَدْعُو اللَّهَ بِدُعَاءٍ إِلاَّ اسْتَجَابَ لَهُ فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ يُعَجِّلُ لَهُ فِي الدُّنْيَا أَوْ يُؤَجِّلُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَ إِمَّا أَنْ يُكَفِّرَ بِهِ عَنْ ذُنُوبِهِ بِقَدْرِ مَا دَعَا مَا لَمْ يَدْعُ بِمَأْثَمٍ.[۲]

”تم خدا کی بارگاہ میں اپنی حاجتوں کو نالہ و فریاد کے ذریعے پیش کرو، مشکلوں میں اسی کی پناہ مانگو، اس کے سامنے گڑگڑاؤ، اسی سے دعا کرو۔ بےشک دعا عبادت کی روح ہے، اور کسی مومن نے دعا نہیں کی مگر یہ کہ اس کی دعا ضرور قبول ہوئی؛ یا تو دنیا میں جلدی قبول کرلی جاتی ہے، یا آخرت کےلئے محفوظ کرلی جاتی ہے، یا بندہ جتنی دعا کرتا ہے اتنی تعداد میں اس کے گناہ ختم کر دیے جاتے ہیں، جب تک گناہ کی دعا نہ کرے۔“

گویا روایت ہم کو خداوندِ عالم سے دعا کرنے اور اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کا طریقہ سکھاتی ہیں۔

ان فقرات اِفْزَعُوا إِلَى اللَّهِ فِي حَوَائِجِكُمْ (اپنی حاجتیں خدا کی بارگاہ میں پیش کرو)، وَ اِلْجَئُوا إِلَيْهِ فِي مُلِمَّاتِكُمْ (مشکلوں میں اسی کی پناہ مانگو)، وتضرّعوا الیه (اسی کی بارگاہ میں گڑگڑاؤ) کے سلسلے میں غور و فکر کریں۔

اور رسولِ خدا ﷺ دوسری روایت میں دعا کی فضیلت اس طرح بیان کرتے ہیں:

اَلدُّعَاءُ سِلاَحُ اَلْمُؤْمِنِ وَ عِمَادُ اَلدِّينِ۔[۳]

دعا مؤمن کا ہتھیار اور دین کا ستون ہے۔

بےشک دعا دین کا ستون ہے اور اس کا مطلب اللہ کی طرف حرکت کرنا ہے، اور اللہ کی بارگاہ میں اپنے آپ کو پیش کرنے کا نام دعا ہے۔

اللہ کے نزدیک مکرم ترین چیز

اور جب خود کو خداوندِ عالم کی بارگاہ میں پیش کرنے کا نام دعا ہے تو دعا خداوندِ عالم کے نزدیک سب سے محبوب اور سب سے اکرم چیز ہے۔ حضرت رسولِ خدا ﷺ فرماتے ہیں:

مَا مِنْ شَيْءٍ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الدُّعَاءِ۔[۴]

خداوندِ عالم کے نزدیک سب سے اکرم چیز دعا ہے۔

حنان بن سدیر اپنے پدرِ بزرگوار سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت امام محمد باقر (ع) کی خدمت اقدس میں عرض کیا:

أَيُّ الْعِبَادَةِ أَفْضَلُ فَقَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ أَفْضَلَ عِنْدَ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ أَنْ يُسْئَلَ وَ يُطْلَبَ مِمَّا عِنْدَهُ وَ مَا أَحَدٌ أَبْغَضَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِمَّنْ يَسْتَكْبِرُ عَنْ عِبَادَتِهِ وَ لاَ يَسْأَلُ مَا عِنْدَهُ۔[۵]

کون سی عبادت سب سے افضل ہے؟ تو آپ (امام) (ع) نے فرمایا: خداوندِ عالم کے نزدیک سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس سے سوال کیا جائے۔ اور خداوندِ عالم کے نزدیک سب سے مبغوض شخص وہ ہے جو عبادت کے بارے میں تکبّر کرے اور خداوندِ عالم سے کچھ طلب نہ کرے۔

بدھ کے دن پڑھی جانے والی دعا میں حضرت امیرالمؤمنین (ع) فرماتے ہیں:

الحَمدُ للّه الَّذي مَرضاتُهُ فِي الطَّلَبِ إلَيهِ وَالتِماسِ ما لَدَيهِ، وسَخَطُهُ في تَركِ الإِلحاحِ فِي المَسأَلَةِ عَلَيهِ۔[۶]

اور دعاے کمیل میں فرماتے ہیں:

فَإِنَّكَ قَضَيْتَ عَلَى عِبَادِكَ بِعِبَادَتِكَ وَ أَمَرْتَهُمْ بِدُعَائِكَ وَ ضَمِنْتَ لَهُمُ الْإِجَابَةَ فَإِلَيْكَ يَا رَبِّ نَصَبْتُ وَجْهِي وَ إِلَيْكَ يَا رَبِّ مَدَدْتُ يَدِي۔۔۔

اس لئے کہ تو نے اپنے بندوں کے بارے میں طے کیا ہے کہ وہ تیری عبادت کریں، اور تو نے انہیں دعا کرنے کا حکم دیا ہے، اور تو اس کے قبول کرنے کا ضامن ہے۔ پس اے خدا! میں نے تیری طرف ہی رخ کیا ہے اور اے پروردگار! میں نے تیرے ہی حضور اپنے ہاتھ پھیلائے ہیں۔

دعا سے اعراضے کرن کی حقیقت

دعا سے روگردانی، خداوندِ عالم سے روگردانی ہے۔ خداوندِ عالم ارشاد فرماتا ہے:

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ۔[۷]

اور تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں قبول کروں گا۔ اور یقینا جو لوگ میری عبادت سے تکبّر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلّت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔

اس آیت کریمہ میں عبادت سے استکبار کرنا، دعا سے روگردانی کرنا ہے۔ پس سیاق آیت دعا کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ خداوندِ عالم فرماتا ہے: اُدْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکُمْ،

مجھ سے دعا کرو، میں قبول کروں گا اور اس کے بعد فوراً فرماتا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ۔

اور یقینا جو لوگ میری عبادت سے تکبّر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔

اس آیت کریمہ میں دعا سے اعراض کرنا عبادت نہ کرنے کے مترادف ہے، اس لئے کہ یہ اللہ سے روگردانی کرنا ہے۔ اور اس آیت کی تفسیر میں یہی معنی حضرت امام جعفر صادق (ع) سے نقل کیے گئے ہیں:

هِیَ وَاللّٰهِ العِبَادَةُ، هِیَ وَاللّٰهِ العِبَادَةُ۔
خدا کی قسم یہی عبادت ہے، خدا کی قسم یہی عبادت ہے۔

حماد بن عیسیٰ نے حضرت امام جعفر صادق (ع) سے نقل کیا ہے:

إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ العِبَادَةُ؛ إِنَّ اللّٰه عَزَّوَجَلَّ یَقُولُ: إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَ۔[۸]

بےشک دعا سے مراد عبادت ہے، اور خداوندِ عالم فرماتا ہے:
یقیناً جو لوگ میری عبادت سے تکبّر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔

اور اللہ کے نزدیک دعا اور دعا کی مقدار کے علاوہ انسان کی کوئی قیمت و ارزش نہیں ہے، اور خداوندِ عالم اپنے بندے کی اتنی ہی پرواہ کرتا ہے جتنی وہ دعا کرتا ہے اور اس کو قبول کرتا ہے:

قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ۔[۹]

(اے پیغمبر!) آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہوتیں تو پروردگار تمہاری پرواہ بھی نہ کرتا۔

بےشک دعا خداوندِ عالم کی بارگاہ میں خود کو پیش کرنے کے مساوی ہے، جیسا کہ دعا سے اعراض (منہ موڑنا) کرنا اللہ سے اعراض کرنا ہے۔ اور جو اللہ سے منہ موڑتا ہے تو خداوندِ عالم بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا، اور نہ ہی اللہ کے نزدیک اس کی کوئی قدر و قیمت ہے۔

حضرت امام باقر (ع) ایک حدیث میں فرماتے ہیں:

وَمَا أَحَدٌ أَبْغَضُ إِلَى اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ مِمَّنْ یَسْتَکْبِرُ عَنْ عِبَادَتِهِ، وَلَا یَسْأَلُ مَا عِنْدَهُ۔[۱۰]

اللہ کا سب سے پسندیدہ عمل

دعا کی فضیلت کے بارے میں رسول خدا ﷺ سے مروی ہے:

لَتَسْأَلُنَّ اللّٰهَ أَوْ لَیَغْضَبَنَّ عَلَیْکُمْ، إِنَّ لِلّٰهِ عِبَادًا یَعْمَلُونَ فَیُعْطِیهِمْ، وَآخَرِینَ یَسْأَلُونَهُ صَادِقِینَ فَیُعْطِیهِمْ، ثُمَّ یَجْمَعُهُمْ فِی الْجَنَّةِ، فَیَقُولُ الَّذِینَ عَمِلُوا: رَبَّنَا عَمِلْنَا فَأَعْطَیْتَنَا، فَبِمَا أَعْطَیْتَ هَؤُلَاءِ؟
فَیَقُولُ: هَؤُلَاءِ عِبَادِی، أَعْطَیْتُکُمْ أُجُورَکُمْ، وَلَمْ أَنْقُصْکُمْ مِنْ أَعْمَالِکُمْ شَیْئًا، وَسَأَلَنِی هَؤُلَاءِ فَأَعْطَیْتُهُمْ وَأَغْنَیْتُهُمْ، وَهُوَ فَضْلِی أُؤْتِیهِ مَنْ أَشَاءُ۔[۱۱]

بے شک اللہ اپنے بندے کی دعا کا مشتاق ہے۔ جب بندہ خداوندِ عالم کی بارگاہ میں دعا کےلئے حاضر ہوتا ہے تو اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔ اور جب بندہ اللہ سے روگردانی کرتا ہے تو خدا بھی اسے پسند نہیں کرتا۔

کبھی کبھی خداوندِ عالم اپنے مومن بندے کی دعا مستجاب کرنے میں اس لئے دیر لگا دیتا ہے تاکہ وہ دیر تک اس کی بارگاہ میں کھڑا رہے اور اس سے دعا کرکے گڑگڑاتا رہے۔ کیونکہ اسے اپنے بندے کا گڑگڑانا بھی پسند ہے، اسی لئے وہ دعا اور مناجات کا مشتاق رہتا ہے۔

عالمِ آلِ محمد یعنی امام رضا (ع) دعا کی فضیلت کے بارے میں فرماتے ہیں:

إِنَّ اَللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَيُؤَخِّرُ إِجَابَةَ اَلْمُؤْمِنِ شَوْقاً إِلَى دُعَائِهِ وَ يَقُولُ صَوْتٌ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ وَ يُعَجِّلُ إِجَابَةَ اَلْمُنَافِقِ وَ يَقُولُ صَوْتٌ أَكْرَهُ سَمَاعَهُ.[۱۲]

خداوندِ عالم مومن کی دعا کے شوق میں اس کی دعا کو دیر سے مستجاب کرتا ہے اور کہتا ہے: مجھے یہ آواز پسند ہے۔ اور منافق کی دعا جلد قبول کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ مجھے اس کی آواز پسند نہیں۔

حضرت امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے:

أَكْثِرُوا مِنْ أَنْ تَدْعُوا اَللَّهَ فَإِنَّ اَللَّهَ يُحِبُّ مِنْ عِبَادِهِ اَلْمُؤْمِنِينَ أَنْ يَدْعُوهُ وَ قَدْ وَعَدَ عِبَادَهُ اَلْمُؤْمِنِينَ اَلاِسْتِجَابَةَ۔[۱۳]
تم خداوندِ عالم سے بہت زیادہ دعائیں کرو، بےشک اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس کے مومن بندے اس سے دعائیں کریں، اور اس نے اپنے مومن بندوں کی دعا قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

حضرت امیرالمومنین (ع) دعا کی فضیلت کے بارے میں فرماتے ہیں:

أَحَبُّ اَلْأَعْمَالِ إِلَى اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فِي اَلْأَرْضِ اَلدُّعَاءُ۔[۱۴]
زمین پر اللہ کا سب سے پسندیدہ عمل: دعا ہے۔

حضرت امام محمد باقر (ع) دعا کی فضیلت کے بارے میں فرماتے ہیں:

إِنَّ اَلْمُؤْمِنَ لَيَسْأَلُ اَللَّهُ حَاجَةً فَيُؤَخِّرُ عَنْهُ تَعْجِيلَ إِجَابَتِهِ حُبّاً لِصَوْتِهِ وَ اِسْتِمَاعِ نَحِيبِهِ۔[۱۵]
بےشک جب کوئی مومن اللہ عزوجل سے کوئی سوال کرتا ہے تو خداوندِ عالم اس مومن کی دعا کی قبولیت میں اس کی آواز کو دوست رکھنے اور سننے کی خاطر تاخیر کرتا ہے۔

حاجت روائی میں تاخیر کی وجہ

دعا کی فضیلت میں حضرت امام جعفر صادق (ع) سے ایک اور بھی روایت مروی ہے:

إنَّ العبدَ لَيَدعو فيَقولُ اللّه عزّ و جلّ لِلمَلَكينِ: قد اِستَجَبتُ لَهُ و لكنِ احبِسوهُ بحاجتِهِ، فإنّي اُحِبُّ أن أسمَعَ صوتَهُ، و إنَّ العبدَ لَيَدعو فيَقولُ اللّه تَبارَكَ وَ تَعالى: عَجِّلُوا لَهُ حاجَتَهُ فإنّي اُبغِضُ صوتَهُ۔[۱۶]
جب ایک بندہ خداوندِ عزوجل سے دعا مانگتا ہے تو خداوندِ عالم دو فرشتوں سے کہتا ہے: میں نے اس کی دعا قبول کرلی ہے، لیکن تم اس کو اس کی حاجت کے ساتھ روک لو، کیونکہ مجھے اس کی آواز پسند ہے۔
اور جب ایک (دوسرا) بندہ دعا کرتا ہے تو خداوندِ عالم کہتا ہے: اس کی حاجت روائی میں جلدی کرو، کیونکہ مجھے اس کی آواز پسند نہیں ہے۔

اسی طرح دعا کی فضیلت کے بارے میں حضرت امام جعفر صادق (ع) سے ایک اور روایت مروی ہے:
اللہ کو دوست رکھنے والا بندہ دعا کرتے وقت اپنے امر میں اللہ کو اپنا نائب بنا دیتا ہے، تو خداوندِ عالم اس بندے پر موکل فرشتوں سے کہتا ہے: میرے اس بندے کی حاجت پوری کرلو مگر اسے پورا کرنے میں ابھی جلدی نہ کرنا، کیونکہ میں اس کی آواز سننے کو دوست رکھتا ہوں۔
اور جب اللہ کا دشمن بندہ اللہ سے دعا کرتے وقت اپنے کسی کام میں اللہ کو اپنا نائب بنانا چاہتا ہے تو خداوندِ عالم موکل فرشتوں سے کہتا ہے: اس کی حاجت پوری کرنے میں جلدی کرو، اس لئے کہ میں اس کی آواز سننا پسند نہیں کرتا۔[۱۷]

خداوندِ عالم کو ہرگز یہ پسند نہیں ہے کہ اس کے بندے ایک دوسرے سے سوال کریں بلکہ اگر وہ اپنی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں، تو اسے یہی پسند ہے۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بارگاہ میں مومنین کے سوال کو پسند کرتا ہے اور اپنے سامنے ان کے گریہ و زاری اور دعا کرنے کو پسند کرتا ہے۔

حضرت رسولِ خدا ﷺ فرماتے ہیں:

إِنَّ اَللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى أَحَبَّ شَيْئاً لِنَفْسِهِ وَ أَبْغَضَهُ لِخَلْقِهِ أَبْغَضَ لِخَلْقِهِ اَلْمَسْأَلَةَ وَ أَحَبَّ لِنَفْسِهِ أَنْ يُسْأَلَ وَ لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ فَلاَ يَسْتَحْيِي أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْأَلَ اَللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ وَ لَوْ بِشِسْعِ نَعْلٍ۔[۱۸]

خداوندِ عالم ایک چیز اپنے لئے پسند کرتا ہے ليکن اس کو مخلوق کےلئے پسند نہيں کرتا، وہ اپنے لئے اس بات کو دوست رکهتا ہے کہ اس سے سوال کيا جائے اور الله کے نزدیک اس سے سوال کرنے کے علاوہ کوئی چيز محبوب نہيں ہے پس تم ميں سے کوئی الله سے اس کے فضل کا سوال کرنے ميں شرم نہ کرے اگرچہ وہ جوتے کے تسمے کے بارے ميں ہی کيوں نہ ہو۔

حضرت امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے:

إنَّ اللّه يُحِبُّ العَبدَ أن يَطلُبَ إلَيهِ فِي الجُرمِ العَظيمِ، ويُبغِضُ العَبدَ أن يَستَخِفَّ بِالجُرمِ اليَسيرِ۔[۱۹]

اللہ بندے کی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اسے بڑے گناہ میں پکارے، اور اس بات سے ناراض ہوتا ہے کہ وہ اسے چھوٹے گناہ میں نہ پکارے۔

محمبد بن عجلان کا واقعہ

محمد بن عجلان سے مروی ہے کہ:

جب میں شدید فقر و تنگدستی میں مبتلا ہوا اور حالات نے اس قدر گھیر لیا کہ نہ کوئی وفادار دوست ساتھ تھا اور نہ قرض دینے والا مہلت دینے پر آمادہ تھا، تو میں نے اپنی مشکل کے حل کے لیے حسن بن زید کے گھر جانے کا ارادہ کیا، جو مدینہ کا امیر تھا اور ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

محمد بن عبداللہ بن علی بن الحسین جو پرانے دوست تھے میری حالت اور ارادے سے باخبر ہوگئے۔ راستے میں میری ملاقات ان سے ہوئی۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا:

میں تمہاری زندگی کی تنگی سے واقف ہوں۔ بتاؤ، اس وقت اپنے مسئلے کے حل کے لیے تم نے کس کا رخ کیا ہے؟

میں نے کہا: مدینہ کے امیر، حسن بن زید کا۔

انہوں نے کہا: اگر تم نے اسی کو مقصد بنایا تو تمہاری حاجت پوری نہیں ہوگی اور نہ تم اپنی تمنا تک پہنچو گے۔ تمہیں چاہیے کہ اس ذات کی طرف رخ کرو جو تمہاری مشکل کو دور کرنے پر پوری قدرت رکھتی ہے، اور جو سب سے بڑھ کر عطا فرمانے والی ہے۔ جو کچھ تم چاہتے ہو، اسی سے مانگو۔

میں نے اپنے چچا زاد بھائی، حضرت باقر (ع) سے سنا، اور انہوں نے اپنے والد اور اپنے آباؤ اجداد سے یہ روایت حضرت علی (ع) کے ذریعے پیغمبر اکرم ﷺ سے نقل کی کہ:

خداوندِ متعال نے اپنی ایک نبی پر نازل کردہ وحی کے حصے میں فرمایا:

خدا کی عزت و جلال کی قسم! میں اس شخص کی امید کو ضرور نامراد کرکے رہوں گا جو مجھ سے ہٹ کر کسی اور پر توکل کرے، اور میں اس پر ذلت و محتاجی کا لباس ڈال دوں گا، اور اسے اپنے فضل و کرم سے محروم کر دوں گا اور دور رکھوں گا۔

کیا میرا بندہ سختیوں اور مصیبتوں میں میرے سوا کسی اور سے امید باندھتا ہے؟ حالانکہ سختیاں میرے ہی ہاتھ میں ہیں۔

اور باوجود اس کے کہ میں غنی اور عطا کرنے والا ہوں، وہ اپنی امید کسی اور سے جوڑتا ہے؟

تمام دروازوں کی کنجیاں میرے ہاتھ میں ہیں، تمام دروازے بند ہیں، اور میری رحمت کا دروازہ وہ ہے جو ہمیشہ اس شخص پر کھلا رہتا ہے جو مجھے پکارتا ہے۔

کیا وہ نہیں جانتا کہ اگر کوئی مصیبت اسے بے بس کردے تو میرے سوا کوئی اس کی مشکل کو دور نہیں کرسکتا؟

تو پھر وہ مجھ سے روگردانی کیوں کرتا ہے اور مجھ سے امید کیوں نہیں رکھتا؟

میں نے اسے وہ چیزیں بھی عطا کیں جن کا اس نے مجھ سے سوال بھی نہیں کیا، لیکن وہ مجھ سے سوال نہیں کرتا اور دوسروں سے اپنی مشکل کے حل کی امید رکھتا ہے، جبکہ میں وہ خدا ہوں جو سوال سے پہلے عطا کرتا ہوں۔

کیا یہ ممکن ہے کہ میں سوال کے بعد جواب نہ دوں؟

کیا جود و کرم میری صفات نہیں؟

کیا دنیا و آخرت میرے قبضے میں نہیں؟

اگر آسمان و زمین کے تمام رہنے والے مجھے پکاریں اور اپنی اپنی حاجتیں پیش کریں، اور میں سب کی حاجتیں پوری کردوں، تو یہ عطا میرے ملک میں اتنی بھی کمی نہیں کرے گی جتنی مچھر کے پر کے برابر ہوتی ہے۔

اور کیسے کم ہوسکتا ہے وہ ملک جس کا میں نگہبان ہوں؟

اے بدبخت وہ شخص جو میری نافرمانی کرتا ہے جبکہ نہ وہ مجھے دیکھتا ہے اور نہ ہی میرے مراقبے کا خیال رکھتا ہے!

محمد بن عجلان کہتے ہیں: میں نے کہا، یا ابن رسول اللہ! یہ حدیث دوبارہ بیان کیجیے۔

انہوں نے تین مرتبہ اس حدیث کو دہرا کر سنایا۔

اس پر میں نے کہا: خدا کی قسم! اب اس کے بعد میں کبھی کسی کے سامنے سوال نہیں کروں گا۔

زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ خداوند نے میرے لیے زندگی میں فراخی اور کشادگی عطا فرما دی۔[۲۰]

خاتمہ

دعا کی فضیلت یہ ہے کہ دعا کو نظر انداز کرنا دراصل خدا کی عبادت سے بے رخی اور تکبّر کی علامت ہے۔ اور دعا کی فضیلت یہ بھی ہے کہ اللہ فرماتا ہے: جو لوگ اس کی عبادت سے اعراض کرتے ہیں، وہ رسوائی کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ دعا کی فضیلت یہ بھی ہے کہ مومن کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی یا وہ دنیا میں قبول ہوجاتی ہے یا آخرت کے لئے محفوظ کردی جاتی ہے یا اس کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں۔ اور دعا کی فضیلت یہ بھی ہے کہ اللہ مومن کی آواز اور عاجزی کو پسند کرتا ہے، اور ہمیں ہر چھوٹی بڑی ضرورت کے لئے اس سے مانگتے رہنا چاہئے۔


منابع

[۱]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۹۳، ص۳۰۰۔

[۲]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۹۳، ص۳۰۲۔

[۳]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۹۳، ص۲۸۸۔

[۴]۔ طبرسی، مکارم الاخلاق، ص۳۱۱

[۵]۔ طبرسی، مکارم الأخلاق، ج۱، ص۲۶۸؛ برقی، محاسن برقی، ص۲۹۲۔

[۶]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۹۰، ص۱۹۳۔

[۷]۔ مؤمن: ۶۰۔

[۸]۔ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۴، ص۱۰۸۳۔

[۹]۔ فرقان: ۶۰۔

[۱۰]۔ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۴، ص۱۰۸۴، ح۸۶۰۴۔

[۱۱]۔ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۴، ص۱۰۸۴، ح۸۶۰۹۔

[۱۲]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۹۷، ص۲۹۶۔

[۱۳]۔ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۴، ص۱۰۸۶، ح۸۶۱۶۔

[۱۴]۔ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۴، ص۱۰۸۹، ح۸۶۳۹۔

[۱۵]۔ حمیری، قرب الاسناد، ص۱۷۱؛ کلینی، اصول کافی، ج۲، ص۵۲۶۔

[۱۶]۔ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۴، ص۱۱۱۲، ح۸۷۳۱؛ کلینی، اصول کافی، ج۲، ص۵۲۶۔

[۱۷]۔ کلینی، اصول کافی، ج۲، ص۵۲۷؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۴، ص۱۱۱۲، ح۸۷۳۲۔

[۱۸]۔ برقی، المحاسن، ص۲۹۳؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۹۳، ص۲۹۲۔

[۱۹]۔ کلینی، الکافی، ج۲، ص۴۲۷۔

[۲۰]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۹۰، ص۳۰۳۔


کتابیات

۱۔ قرآن مجید۔

۲۔ برقی، احمد بن محمد، المحاسن، قم، مؤسسه بوستان کتاب، ۱۴۴۵ق۔

۳۔ حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة إلی تحصیل مسائل الشریعة، بیروت، دار إحياء التراث العربي، ۱۴۱۲ق۔

۴۔ حمیری، عبد الله بن جعفر، قرب الإسناد، قم، مؤسسة آل البیت (ع) لإحیاء التراث، ۱۴۱۳ق۔

۵۔ طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الأخلاق، قم، الشريف الرضي، ۱۳۷۰ش۔

۶۔ کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، قم، انتشارات اسوه (سازمان اوقاف و امور خیریه)، ۱۳۸۷ش۔

۷۔ مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، بحارالانوار: الجامعة لدرر اخبار الائمه الاطهار، بیروت، دار إحياء التراث العربي، ۱۴۱۲ق۔


مضمون کا مآخذ (تلخیص و ترمیم کے ساتھ)

آصفی، محمد مهدی، الدعا عند أهل البيت (ع) جلد اول، مترجم: نقوی، سید ضرغام، قم، مجمع جهانی اهل بیت (ع)، ۱۴۱۶ق۔

 

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔