خلافت اور حضرت علی (ع) کا موضوع اسلامی تاریخ کا وہ اہم باب ہے جو نہ صرف فکری و روحانی گہرائی رکھتا ہے بلکہ امت مسلمہ کے ابتدائی دور کی سیاسی پیچیدگیوں کو بھی عیاں کرتا ہے۔
حضرت علی (ع) کی زندگی کے تین مرحلوں نے آپ کی عمر عزیز کے 33 سال لے لئے، اور امام (ع) اس مختصر سی مدت میں اسلام کے سب سے بڑے شجاع و بہادر اور اسلام کے عظیم الشان رہبر کی حیثیت سے پہچانے گئے۔
اور پوری تاریخ اسلام میں پیغمبر اسلام (ص) کے بعد کوئی بھی شخص فضیلت، تقویٰ، علم و دانش، خدا کی راہ میں جہاد و کوشش، برادری و مواسات، غریبوں اور یتیموں کی دیکھ بھال وغیرہ میں آپ (ع) کے ہم رتبہ نہ تھا۔
اور تمام جگہوں پر خصوصاً حجاز و یمن میں آپ (ع) کی شجاعت و بہادری، فداکاری، جانبازی، اور پیغمبر اسلام (ص) کی مہر و محبت علی (ع) کے ساتھ مشہور تھی۔
ان تمام کمالات کے بعد ضروری تھا کہ پیغمبر اسلام (ص) کی وفات کے بعد اسلام کا محور اور اسلامی معاشرہ کی باگ ڈور حضرت علی (ع) کے ہاتھوں میں ہوتی، لیکن جب تاریخ کے صفحات پر نظر پڑتی ہے تو اس کے برخلاف نظر آتا ہے۔
کیونکہ امام (ع) اپنی زندگی کے چوتھے مرحلے میں جو ایک چوتھائی صدی تھی اور وہ شرائط و حالات جو رونما ہوئے تھے اس عمومی جگہ سے اپنے آپ کو کنارے کر کے خاموشی اختیار کرلی تھی نہ کسی جنگ میں شرکت کی نہ کسی عمومی جلسے میں رسمی طور پر تقریر فرمائی۔ تلوار کو نیام میں رکھ لیا تھا اور تنہائی کی زندگی بسر کرنے لگے۔
یہ خاموشی اور طولانی کنارہ کشی اس شخص کے لئے جو اس کے پہلے ہمیشہ عمومی مجمع میں رہا ہو اور اسلام کی دوسری عظیم شخصیت اور مسلمانوں کے لئے ایک عظیم رکن کی حیثیت سے شمار ہو اس کے لئے یہ سہل و آسان نہ تھا۔ روح بزرگ، حضرت علی (ع) سے چاہتی تھی کہ خود اس پر مسلط ہوجائے اور خود کو نئے حالات جو ہر اعتبار سے سابقہ حالات سے مختلف تھے، تطبیق کرے۔
خلافت اور حضرت علی (ع) کی فکری و روحانی خدمات
خلافت اور حضرت علی (ع) کی پچیس سالہ خاموشی کے زمانے میں امام (ع) چند چیزوں میں مصروف تھے جو درج ذیل ہیں:
خدا کی عبادت
وہ بھی ایسی عبادت جو حضرت علی (ع) کی شخصیت کی شایان شان تھی یہاں تک کہ امام سجاد (ع) اپنی تمام عبادت و تہجد کو اپنے دادا کی عبادت کے مقابلے میں بہت ناچیز جانتے ہیں۔
قرآن کی تفسیر
اور آیتوں کی مشکلات کو حل اور شاگردوں کی تربیت کرتے تھے وہ بھی ابن عباس جیسے شاگرد جو امام (ع) کے بعد سب سے بڑے مفسر قرآن کے نام سے مشہور ہوئے۔
سوالات کے جوابات
تمام فرقوں اور مذہبوں کے دانشمندوں کے سوالات کے جوابات دیتے تھے، خصوصاً وہ تمام یہودی اور عیسائی جو پیغمبر اسلام (ص) کی وفات کے بعد اسلام کے سلسلے میں تحقیق کرنے کے لئے مدینہ آئے تھے۔
ان لوگوں نے ایسے ایسے سوالات کئے تھے کہ جس کا جواب حضرت علی (ع)، جو توریت اور انجیل پر مکمل تسلط رکھتے تھے اور جیسا کہ ان کی گفتگو سے بھی واضح تھا، کے علاوہ کوئی بھی صلاحیت نہیں رکھتا، اگر یہ فاصلہ امام کے ذریعے پرُ نہ ہوتا تو جامعہ اسلامی شدید شکست کھا جاتا، اور جب امام (ع) نے تمام سوالوں کا محکم اور مدلل جواب دیدیا تو وہ خلفاء جو پیغمبر اسلام (ص) کی جگہ بیٹھے تھے ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور عظیم خوشی کے آثار نظر آئے۔
مسائل کا حل
بہت زیادہ ایسے نئے مسائل کا حل پیش کرنا جس کا اسلام میں وجود نہ تھا اور اس کے متعلق قرآن مجید اور حدیث پیغمبر اسلام (ص) موجود نہ تھی یہ امام (ع) کی زندگی کا ایک حساس پہلو ہے اور اگر صحابیوں کے درمیان حضرت علی (ع) جیسی شخصیت موجود نہ ہوتی، جو پیغمبر اسلام (ص) کی تصدیق کے مطابق امت کی سب سے دانا اور قضاوت و فیصلہ کرنے میں سب سے اہم شخصیت تھی، تو صدر اسلام کے بہت سے ایسے مسائل بغیر جواب کے رہ جاتے اور بہت سی گتھیاں نہ سلجھتیں۔
خلافت اور حضرت علی (ع) کی پچیس سالہ خاموشی کے دوران یہی نئے نئے رونما ہونے والے حادثات و واقعات ثابت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت کے بعد ایک آگاہ اور معصوم، مثل پیغمبر اسلام (ص) کے لوگوں کے درمیان موجود ہو جو اسلام کے تمام اصول و فروع پر کافی تسلط رکھتا ہو اور اس کا علم و کمال امت کو غیر شرعی اور بے جا عمل اور وہم و گمان سے دور کردے۔
اور یہ تمام عظیم خصوصیتیں پیغمبر اسلام (ص) کے تمام دوستوں اور صحابیوں کی تصدیق کی بنیاد پر حضرت علی (ع) کے علاوہ کسی اور میں نہ تھیں۔ امام (ع) کے کچھ فیصلے اور قرآن مجید کی آیتوں سے ان کو ثابت کرنا وغیرہ حدیث و تاریخ کی کتابوں میں تحریر ہیں۔ محقق عالیقدر جناب شیخ محمد تقی شوستری نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا ترجمہ فارسی میں بھی ہوا ہے۔
سیاسی مسائل کا حل
جب خلافت پر بیٹھنے والے سیاسی مسائل یا مشکلات کی وجہ سے مجبور و لاچار ہوئے تو ان کی نگاہ میں تنہا امام (ع) مورد اعتماد تھے جو ان کے سروں پر منڈلاتی ہوئی مشکلات کو حل کرتے اور ان کی راہ ہموار کرتے ان میں سے بعض مشورے نہج البلاغہ اور تاریخ کی کتابوں میں نقل ہوئے ہیں۔
بہترین مربّی
پاک ضمیر اور پاکیزہ روح رکھنے والوں کی تربیت تاکہ وہ امام (ع) کی رہبری اور معنوی تصرف کے زیر نظر معنوی کمالات کی بلندیوں کو فتح کرسکیں اور وہ چیزیں جسے آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے وہ دل کی نورانی آنکھوں اور باطنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔
یتیموں کی مدد
بہت زیادہ بیوہ اور یتیموں کی زندگی کے روز مرہ کے امور کے لئےکوشش و تلاش کرنا یہاں تک کہ امام (ع) نے خود اپنے ہاتھوں سے باغ لگایا اور آب پاشی کے لئے نہریں نکال کر اسے خدا کی راہ میں وقف کر دیا۔
پچیس سالہ خاموشی اور تاریخ کی نظراندازی کا المیہ
خلافت اور حضرت علی (ع) کی پچیس سالہ خاموشی کے دوران مندجہ بالا مذکور تمام فعالیت اور امور آپ (ع) نے انجام دیئے تھے، لیکن یہ بات نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ اسلام کے بڑے بڑے تاریخ دانوں نے امام (ع) کی زندگی کے ان خدمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی، اور امام (ع) کی زنذگی کے اس دور کی خصوصیات و جزئیات کو صحیح طریقے سے نہیں لکھا ہے۔
جبکہ یہی تاریخ داں جب بنی امیہ اور بنی عباس کی خلافت اور ان کے سپہ سالاروں کے حالات لکھتے ہیں تو اتنا دقیق اور تفصیلی گفتگو کرتے ہیں کہ کوئی بھی چیز باقی نہ رہ جائے۔
کیا یہ افسوس کا مقام نہیں ہے کہ امام (ع) کی خلافت سے دور پچیس سالہ زندگی کے خصوصیات مبہم اور غیر واضح ہوں مگر ظالموں کی تاریخ، جنایت و بدبخت محققین اور معاویہ، مروان اور خلفا ء بنی عباس کے بیٹوں کی عیاشی و شرابخوری کی تاریخ بہت ہی دقت و محنت سے لکھی جائے، اور ان محفلوں میں پڑھے جانے والے اشعار وہ باتیں جو خلفاء اور ناچ و رنگ کی محفل منعقد کرنے والوں کے درمیان ہوئیں اور وہ راز و نیاز جو رات کے اندھیرے میں طے ہوئے تھے وہ تاریخ اسلام، کے نام سے اپنی اپنی کتابوں میں لکھیں؟
نہ صرف ان کی زندگیوں کا صرف یہ حصہ لکھا بلکہ ان کے حاشیہ نشینوں نوکروں، اور ان کے علاوہ خادموں اور بکریوں، اور زیور و آلات، عورتوں اور محبوبائوں کے آرائش و سنورنے، اور ان کی زندگی کے خصوصیات تک کو اپنی اپنی کتابوں میں بیان کیا۔
لیکن جب اولیاء خدا اور حق شناس افراد کی بات آتی ہے تو وہی، اگر ان کی جانثاری اور فدا کاری نہ ہوتی تو ہرگز یہ نالائق گروہ خلافت و سرداری کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں نہ دیتے گویا ان کی فکریں زنجیروں سے بندھی ہوں۔ اور تاریخ کے ان ابواب سے اتنی تیزی سے گزرنا چاہتے ہیں کہ جلد ازجلد تاریخ کا یہ حصہ ختم ہوجائے۔
خلافت اور وصال پیغمبر اسلام (ص) کا واقعه حضرت علی (ع) کی زبانی
خلافت اور حضرت علی (ع) کی پچیس سالہ خاموشی کا پہلا ورق اس وقت جدا ہوگیا جب پیغمبر اسلام (ص) کا سر امام (ع) کے سینے پر تھا اور آپ کی روح، خدا کی بارگاہ میں چلی گئی، حضرت علی (ع) اس واقعہ کو اپنے ایک تاریخیخطبے میں اس طرح بیان کرتے ہیں:
پیغمبر اسلام (ص) کے صحابہ جو آپ کی تاریخی زندگی کے محافظ ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی خدا اور اس کے پیغمبر ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے میں دوری اختیار نہیں کی جبکہ بڑے بڑے طاقتور لوگ بھاگ گئے اور جنگ سے پیچھے ہٹ گئے۔ میں نے اپنی جان کو پیغمبر اسلام (ص) کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہ کیا جب رسول خدا (ص) کا انتقال ہوا اس وقت ان کا سر میرے سینے پر تھا، اور میرے ہاتھوں پر ان کی روح بدن سے جدا ہوئی اور میں نے بطور تبرک اپنے ہاتھوں کو چہرے پر ملا۔
اس وقت ہم نے ان کے بدن کو غسل دیا اور فرشتوں نے ہماری مدد کی، فرشتوں کا ایک گروہ زمین پر آتا تھا تو دوسرا چلا جاتا تھا اور ان کے ہمہمہ کی آواز جبکہ وہ پیغمبر اسلام (ص) کے جنازے پر نماز پڑھ رہے تھے میرے کانوں سے ٹکرا رہی تھی یہاں تک کہ ہم نے انہیں ان کی قبر میں رکھ دیا۔ پیغمبر اسلام (ص) کی زندگی میں بھی اور ان کی رحلت کے بعد بھی کوئی مجھ سے زیادہ سزاوار نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام (ص) کے انتقال کے بعد بعض گروہ نے خاموشی اختیار کرلی اور دوسرا گروہ پوشیدہ طور پر راز و رموز تلاش کرنے میں مصروف ہوگیا۔[1]
پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت کے بعد سب سے پہلا واقعہ جس سے مسلمان روبرو ہوئے وہ عمر کی طرف سے پیغمبر اسلام (ص) کی وفات کو جھٹلانا تھا۔ اس نے پیغمبر اسلام (ص) کے گھر کے سامنے شور و غوغا کرنا شروع کردیا اور جو لوگ یہ کہتے تھے کہ پیغمبر اسلام (ص) کا انتقال ہوگیا ہے ان کو دھمکی دیتا تھا۔
جب کہ عباس اور ابن مکتوم ان آیتوں کی تلاوت کر رہے تھے جس کے مفہوم سے واضح ہو رہا تھا کہ پیغمبر اسلام (ص) کا انتقال ہوگیا ہے مگر اس کا لوگوں پر کوئی اثر نہ پڑا یہاں تک کہ عمر کا دوست ابوبکر جو مدینہ کے باہر تھا وہ آیا، اور جیسے ہی اس حالات سے باخبر ہوا تو اس نے بھی اسی آیت ”إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ”[2] تم مرجاؤ گے اور دوسرے بھی مرجائیں گے، کو پڑھا کہ جس کو دوسروں نے اس سے پہلے پڑھا تھا اور عمر کو خاموش کردیا۔
جس وقت حضرت علی (ع) پیغمبر اسلام (ص) کو غسل دے رہے تھے اس وقت اصحاب کا ایک گروہ ان کی مدد کر رہا تھا اور غسل و کفن کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا، اور خود پیغمبر اسلام (ص) کی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے آمادہ ہو رہا تھا اور اکثر افراد سقیفئہ بنی ساعدہ میں پیغمبر اسلام (ص) کے جانشین کا انتخاب کر رہے تھے۔
اگرچہ سقیفہ میں تمام امور کی باگ ڈور انصار کے ہاتھوں میں تھی لیکن جب ابوبکر و عمر اور ابو عبیدہ جو مہاجرین میں سے تھے اس واقعہ سے با خبر ہوئے تو پیغمبر اسلام (ص) کا جسم اطہر جو غسل کے لئے آمادہ تھا چھوڑ کر سقیفہ میں انصار کے ساتھ شریک ہوگئے، اور لفظی تکرار اور مار پیٹ کے بعد ابوبکر پانچ آدمی کے ووٹ سے رسول خدا (ص) کے خلیفہ منتخب ہوئے، جب کہ مہاجرین میں ان تین آدمیوں کے علاوہ کوئی بھی اس چیز سے آگاہ نہ تھا۔ (آیت اللہ جعفر سبحانی کی کتاب رہبری امت اور پیشوائی میں یہ واقعات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔)
ایسے پر آشوب ماحول میں امام علی (ع)، پیغمبر اسلام (ص) کے غسل و کفن میں مشغول تھے اور انجمن سقیفہ اپنے کام میں مشغول تھی۔ ابو سفیان جو بہت بڑا سیاسی اور سوجھ بوجھ رکھتا تھا مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لئے حضرت علی (ع) کے گھر آیا اور آپ سے کہنے لگا اپنا ہاتھ بڑھائے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں اور آپ کو مسلمانوں کے خلیفہ کے عنوان سے لوگوں کے سامنے روشناس کرائوں، کیونکہ اگر میں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی تو عبد مناف کے فرزندوں میں سے کوئی بھی آپ کی مخالفت کے لئے نہیں اٹھے گا اور آخر میں پورا عرب آپ کو اپنا حاکم و سردار قبول کرلے گا۔
لیکن حضرت علی (ع) نے ابو سفیان کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی کیونکہ اس کی نیت سے آگاہ تھے آپ (ع) نے فرمایا فی الحال میں پیغمبر اسلام (ص) کی تجہیز و تکفین میں مصروف ہوں۔ ابو سفیان کی درخواست کے وقت یا اس کے پہلے عباس نے بھی حضرت علی (ع) سے درخواست کی کہ اپنے بھتیجے حضرت علی (ع) کے ہاتھ پر بیعت کریں لیکن حضرت (ع) نے ان کی درخواست کو قبول نہیں کیا۔
تھوڑی دیر گزری تھی کہ تکبیر کی آواز کانوں سے ٹکرائی، حضرت علی (ع) نے عباس سے اس کا سبب پوچھا عباس نے کہا: میں نے نہیں کہا تھا کہ دوسرے لوگ بیعت لینے میں تم پر سبقت کرر ہے ہیں؟ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اپنا ہاتھ بڑھاو تاکہ تمھاری بیعت کریں؟ لیکن تم حاضر نہ ہوئے اور دوسروں نے تم پر سبقت حاصل کرلی۔
خاتمہ
خلافت اور حضرت علی (ع) کی پچیس سالہ خاموشی در اصل قیادت کے اس اعلیٰ معیار کی علامت ہے جس میں ذاتی حق سے زیادہ امت کی وحدت اور دین کے مفاد کو ترجیح دی گئی۔ حضرت علی (ع) نے اس طویل عرصے میں عبادت، تفسیر قرآن، علمی مناظرے، اور فکری رہنمائی کے ذریعے جو خدمات انجام دیں، وہ خلافت کے منصب سے کہیں زیادہ اہم اور پائیدار ثابت ہوئیں۔
حوالہ جات
[1] محمد عبدہ، نہج البلاغۃ، خطبۃ192، قاہرۃ، مطبعۃ الاستقامۃ، 1420ھ ق۔
[2] زمر: ۳۰۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، پہلا باب، چوتھی فصل، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔