سقیفہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جس نے اسلام کی سیاسی سمت کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ سقیفہ کے بعد شیعیان علی (ع) کو سیاسی اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ اپنی جدوجہد سے دستبردار نہ ہوئے۔ سقیفہ کے نتیجے میں ایک ایسی حکومت قائم ہوئی جسے امیرالمومنین (ع) اور ان کے پیروکاروں نے قبول نہ کیا۔ اس کے باوجود، شیعہ اصحاب نے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں اور علی (ع) کے حق کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔
شیعیان علی (ع) کی جدوجہد
اگرچہ سقیفہ تشکیل پانے کے بعد حضرت علی (ع) سیاسی میدان سے دور ہوگئے تھے، شیعہ مخصوص گروہ کی صورت میں سقیفہ کے بعد سیاسی طور پر وجود میں آئے اور انفرادی یا جماعت کی صورت میں حضرت علی (ع) کی حقانیت کا دفاع کرتے رہے۔ پہلے حضرت فاطمہ (س) زہرا کے گھر جمع ہوئے اور بیعت سے انکار کیا اور سقیفہ کے کارندوں سے روبرو ہوئے۔[1]
لیکن حضرت علی (ع) تحفظ اسلام کی خاطر سقیفہ میں پیش آمدہ غصب خلافت کے خلاف، خشونت اور سختی کا رویہ ان کے ساتھ اپنانا نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ چاہتے تھے کہ بحث و مناظرہ کے ساتھ مسئلہ کا تصفیہ کریں، چنانچہ براء بن عازب نقل کرتا ہے: میں سقیفہ کے قضیہ سے دلبرداشتہ رات کے وقت مسجد النبی (ص) میں گیا اور دیکھا:
مقداد، عبادہ بن صامت، سلمان فارسی، ابوذر، حذیفہ اور ابوالہیثم بن تیہان، پیغمبر (ص) کے بعد رونما ہونے والے حالات کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ ہم سب ایک ساتھ ابی بن کعب کے گھر گئے تو اس نے کہا: جو بھی حذیفہ کہیں اس کی رائے بھی وہی ہوگی۔[2]
اثبات ولایت علی (ع) کے لئے مناظرہ
آخر کار شیعان علی (ع) نے جمعہ کے دن مسجد النبی (ص) میں ابوبکر کے ساتھ مناظرہ کیا اور اس کو ملامت کیا، طبرسی نقل کرتے ہیں:
ابان بن تغلب نے امام صادق (ع) سے پوچھا: میں آپ پر فدا ہو جاؤں، جس وقت ابوبکر رسول خدا (ص) کی جگہ پر بیٹھے تو کیا کسی نے اعتراض نہیں کیا؟ امام (ع) نے فرمایا:
کیوں نہیں انصار و مہاجرین میں سے بارہ افراد نے مثلاً خالد بن سعید، سلمان فارسی، ابوذر، مقداد، عمار، بریدہ اسلمی، ابن الہیثم بن تیھان، سہل بن حنیف، عثمان بن حنیف، خزیمہ بن ثابت (ذوالشہادتین)، ابی بن کعب، ابو ایوب انصاری ایک جگہ پر جمع ہوئے اور انہوں نے سقیفہ کے متعلق آپس میں گفتگو کی، بعض نے کہا:
مسجد چلیں اور ابوبکر کو منبر سے اتار لیں لیکن بعض لوگوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ یہ لوگ امیرالمومنین (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا چلتے ہیں اور ابوبکر کو منبر سے کھینچ لیتے ہیں۔ حضرت (ع) نے فرمایا:
ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اگرسختی کرو گے اور یہ کام انجام دو گے تو وہ لوگ آئیں گے اور مجھ سے کہیں گے کہ بیعت کرو ورنہ تمہیں قتل کردیں گے بلکہ اس کے پاس جاؤ جو کچھ رسول خدا (ص) سے سنا ہے اس سے بیان کرو، اس طرح سے اتمام حجت ہوجائے گی۔
وہ لوگ مسجد میں آئے اور سب سے پہلے خالد بن سعید اموی نے کہا: اے ابوبکر! آپ جانتے ہیں کہ پیغمبر (ص) نے جنگ بنی نضیر کے بعد کیا کہا تھا: یاد رکھو! اور میری وصیت کو حفظ کر لو۔ تمہارے درمیان میرے بعد میرے جانشین اور خلیفہ علی (ع) ہیں، اس کے بعد جناب سلمان فارسی نے اعتراض کیا۔ اس کے بعد جب دوسرے لوگوں نے احتجاج کیا تو ابوبکر منبر سے نیچے اترے اور گھر چلے گئے اور تین دن تک گھر سے باہر نہیں نکلے۔
خالد بن ولید، ابو حذیفہ کا غلام سالم اور معاذ بن جبل کچھ افراد کے ساتھ ابوبکر کے گھر آئے اور اس کے دل کو قوت دی، عمر بھی اس جماعت کے ساتھ مسجد میں آئے اور کہا کہ اے شیعیان علی (ع) اور دوستداران علی (ع)، جان لو اگر دوبارہ ان باتوں کی تکرار کی تو تمہاری گردنوں کو اڑا دوں گا۔[3]
امام علی (ع) کو پہچنوانے کی کوششیں
چند صحابہ جو وفات پیغمبر (ص) کے وقت زکوٰة وصول کرنے پر مامور تھے۔ جب وہ اپنی ماموریت سے واپس آئے جن میں خالد بن سعید اور اس کے دو بھائی ابان اور عمر تھے، ان حضرات نے ابوبکر پر اعتراض کیا اور دوبارہ زکوٰة وصول کرنے سے انکار کیا اور کہا: پیغمبر (ص) کے بعد ہم کسی دوسرے کے لئے کام نہیں کریں گے۔[4]
خالد بن سعید نے حضرت علی (ع) سے یہ درخواست کی آپ آئیے تاکہ ہم آپ کی بیعت کریں کیونکہ آپ ہی پیغمبر اکرم (ص) کی جگہ کے لائق و سزاوار ہیں۔[5]
سقیفہ کے بعد بھی خلفاء ثلاثہ کی حکومت کے پورے ۲۵ سالہ دور میں شیعیان علی (ع) آپ کو خلیفہ اور امیر المومنین (ع) کے عنوان سے پہچنواتے رہے۔ عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں: قرآن کی فرمائش کے مطابق خلیفہ چار ہیں؛ آدم، داؤد، ہارون اور علی۔[6] حذیفہ بھی کہتے تھے: جو بھی امیر المومنین (ع) برحق کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہے وہ علی (ع) سے ملاقات کرے۔[7]
حارث بن خزرج جو پیغمبر (ص) کی جنگوں میں انصار کے علمدار ہوا کرتے تھے نقل کرتے ہیں: نبی اکرم (ص) نے علی (ع) سے فرمایا: اہل آسمان آپ کو امیر المومنین کہتے ہیں۔[8]
سقیفہ کے آثار مٹانے کی کوشش
یعقوبی لکھتا ہے: عمر کی چھ رکنی کمیٹی کی تشکیل اور عثمان کے انتخاب کے بعد کچھ لوگوں نے یہ ظاہر کیا کہ ہم علی (ع) کی طرف رجحان رکھتے ہیں اور عثمان کے خلاف باتیں کرتے تھے، ایک شخص نقل کرتا ہے کہ میں مسجد النبی (ص) میں داخل ہوا، دیکھا ایک آدمی دو زانو بیٹھا ہے اور اس درجہ بیتاب ہو رہا ہے جیسے تمام دنیا اس کی تھی اور اب پوری دنیا اس سے چھن گئی ہے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے:
قریش پر تعجب ہے کہ خلافت کو خاندان پیغمبر (ص) سے خارج کر دیا حالانکہ ان کے درمیان سب سے پہلا مومن اور رسول خدا (ص) کا چچا زاد بھائی، دین خدا کا داناترین عالم و فقیہ ترین شخص اور صراط مستقیم موجود تھا، خدا کی قسم! امام ہادی و مہدی اور طاہر و نقی سے خلافت کو لے لیا گیا؛ کیونکہ ان کا ہدف اصلاح امت و دینداری نہ تھا بلکہ انہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔
راوی کہتا ہے: میں نزدیک ہوا اور دریافت کیا: خدا آپ پر رحمت نازل کرے آپ کون ہیں؟ اور یہ شخص جس کے بارے میں بیان کر رہے ہیں وہ کون ہے؟ فرمایا: میں مقداد بن عمرو ہوں اور وہ علی بن ابی طالب (ع) ہیں، میں نے کہا: آپ قیام کریں میں آپ کی مدد کروں گا، مقداد نے کہا: میرے بیٹے یہ کام ایک دو آدمی سے ہونے والا نہیں ہے۔[9]
ابوذر غفاری بھی عثمان کی خلافت کے روز مسجد نبوی (ص) کے دروازہ پر کھڑے کہہ رہے تھے جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا، وہ مجھے پہچان لے۔ میں جندب بن جنادہ، ابوذر غفاری، ہوں، محمد (ص) علم آدم کے وارث اور تمام فضائل انبیاء کے حامل ہیں اور علی (ع)، محمد (ص) کے جانشین اور ان کے علم کے وارث ہیں۔
اے پیغمبر (ص) کے بعد سرگرداں امت! آگاہ ہوجاؤ جس کو خدا نے مقدم کیا تھا، اس کو اگر تم مقدم رکھتے اور ولایت کو خاندان رسول (ص) میں رہنے دیتے تو خدا کی نعمتیں اوپر اور نیچے سے نازل ہوتیں، جو بھی مطلب تم چاہتے اس کا علم کتاب خدا اور سنت پیغمبر (ص) سے حاصل کر لیتے لیکن اب تم نے ایسا نہیں کیا تو اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھنا۔[10]
اصحاب کی کوششوں کا نتیجہ
ہاں شیعیان علی (ع) کے پہلے گروہ میں یہی پیغمبر اکرم (ص) کے اصحاب با وفا تھے۔ انہیں کے ذریعہ تشیع تابعین تک منتقل ہوئی اور انہیں کی تلاش و کوشش کی وجہ سے عثمان کی حکومت کے آخری دور میں سیاسی حوالہ سے حضرت علی (ع) کی خلافت کے اسباب فراہم ہوئے اور یوں سقیفہ کے بعد سے امام علی (ع) کے ۲۵ سالہ سکوت کا دور ختم ہو گیا۔
خاتمہ
سقیفہ کے بعد، شیعہ اصحاب نے امیرالمومنین (ع) کے حق خلافت کا دفاع کیا۔ سقیفہ کے اثرات خلفاء ثلاثہ کے دور میں بھی برقرار رہے، اور اہل بیت (ع) کے چاہنے والوں نے اپنے عقائد پر ثابت قدمی دکھائی۔ آخرکار، سقیفہ کے منفی اثرات کے باوجود، شیعیان علی (ع) کی مستقل مزاحمت کے نتیجے میں حکومت حضرت علی (ع) کے حوالے کی گئی۔
حوالہ جات
[1]۔ ابن یعقوب، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١٢٦
[2]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج٢، ص٥١
[3]۔ طبرسی، الاحتجاج، ص٨٦ا۔
[4]۔ ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفةالصحابہ، ج٢، ص٨٣۔
[5]۔ ابن یعقوب، تاریخ یعقوبی، ج٢ ص١١
[6]۔ خداوند عالم حضرت آدم کے لئے قرآن میں فرماتا ہے (انّی جاعل فی الارضِ خلیفة) (سورہ بقرہ، آیت٣٠)، خداوند عالم حضرت داؤد کے لئے فرماتا ہے (یا داؤد انّا جعلناکٔ خلیفة فی الارض) سورہ ص،آیت٣٦، خداوند عالم حضرت ہارون کے لئے موسیٰ کی زبانی نقل فرماتا ہے (اخلفنی فی قومی) سورہ اعراف، آیت١٤٢، خداوند عالم حضرت علی کے لئے فرماتا ہے (وعد اللّه الذین آمنوا منکم و عملوا الصّالحات لیستخلفنّهم فی الارض کما استخلف الذین من قبلهم) سورہ نور، آیت ٥٥۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج٣، ص٧٧۔٧٨۔
[7]۔ بلاذری، انساب الاشراف، ج٣،ص١١٥
[8]۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج٣، ص٥٤۔
[9]۔ ابن یعقوب، تاریخ یعقوبی، ص٥٧۔
[10]۔ ابن یعقوب، تاریخ یعقوبی، ص٦٧۔
کتابیات
قرآن مجید۔
۱۔ ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغہ، قم ایران، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ھ۔
۲۔ ابن اثیر، عز الدین، اسد الغابة فی معرفة الصحابہ، بیروت لبنان، دار الکتب العلمیة، ۱۴۰۰ھ۔
۳۔ ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، قم ایران، ، دارالاضواء، بیروت، ۱۴۰۵ھ۔
۴۔ احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، قم ایران، منشورات شریف رضی، ۱۴۱۴ھ۔
۵۔ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، بیروت لبنان، منشورات مؤسسه الاعلمی للمطبوعات، ۱۹۷۴ء۔
۶۔ طبرسی، ابی احمد منصور بن علی بن ابی طالب، الإحْتِجاجُ عَلی أهْلِ اللّجاج، قم ایران، انتشارات اسوہ، ۱۴۲۴ھ۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):
محرّمی، غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ سید نسیم رضا آصف، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ١٤٢٩ھ۔ ٢٠٠٨ء۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔