فدک میراث حضرت فاطمہ (ع) قرآن اور حدیث کی روشنی میں

فدک میراث حضرت فاطمہ (ع) قرآن اور حدیث کی روشنی میں

کپی کردن لینک

فدک قرآن کریم کی روشنی میں پیغمبر اکرم (ص) کی ذاتی ملکیت تھا، جس میں مسلانوں کا کوئی حصّہ نہیں تھا۔ آپ نے اس کو اپنی لخت جگر جناب فاطمہ زہرا (ع) کو اپنی حیات ہی میں دے دیا تھا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد ابوبکر نے ظلم و ستم کے ذریعہ غصب کر کے اس کو بیت المال میں شامل کرلیا تھا۔ جو بلکل قرآن و سنت رسول کے خلاف کام تھا۔ ہم فدک سے متعلق بعض چیزوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:

فدک نبی(ص) کی ملکیت تھی

باغ فدک حجاز کا ایک قریہ ہے، اس کے اور مدینہ کے درمیان دو یا تین دن کا فاصلہ ہے۔ یہ یہودیوں کے قریوں میں سے ایک قریہ تھا اور اس کے اور خیبر کے درمیان کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔[1]

خدا نے فدک اپنے پیغمبر (ص) کو ۷ ھجری میں بخشا تھا۔ مسلمانوں نے جب خیبر کے قلعوں کو فتح کیا، تو خداوند عالم نے فدک کے اطرف میں بسنے والے یہودیوں کے دلوں میں وحشت ڈال دی۔ جس کی وجہ سے وہ تیزی سے پیغمبر اسلام (ص) کے پاس آئے اور آپ سے اپنی نصف زمین کے اوپر صلح کر لی تھی۔ لہذا تمام فدک رسول خدا (ص) کا حق تھا۔

رسول خدا کا فدک کو فاطمہ زہرا (ع) کو بخشنا

خدا نے جب فدک پیغمبر (ص) کے اختیار میں دیا، تو قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی: "وَ ءَاتِ ذَا الْقُرْبیٰ‏ حَقَّه”[2] اور قرابتداروں کو ان کا حق دے دو۔ آپ (ص) نے جناب فاطمہ زہرا (ع) کو بلا کر فدک اور اس کے اطرف کی زمین ان کو عطا کر کے فرمایا: "ھٰذا قِسْم، قَسَمَہُ اللَّہ لَکِ وَ لِعُقبِکِ"[3] یہ وہ حصہ ہے جو اللہ نے تمہارے اور تمہاری نسل کی لئے مخصوص کیا ہے۔ جناب فاطمہ زہرا (ع) نے مالکوں کی طرح اس میں تصرف کیا۔

ابوبکر نے خلیفہ بنتے ہی اس کو چھین کر بیت المال میں شامل کرلیا، تاکہ حضرت علی (ع) مالی اعتبار سے اتنا ضعیف و کمزور ہوجائیں، کہ ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کر سکیں۔

ابن ابی الحدید کا بیان ہے: "میں نے بغداد کے مدرسہ عربیہ کے مُدرِّس علی بن فاروقی سے سوال کیا کہ کیا حضرت فاطمہ (ع) فدک کے سلسلہ میں اپنے دعوی میں سچی تھیں؟

انہوں نے کہا: ہاں

میں نے کہا: اگر فاطمہ (ع) ان کے نزدیک سچی تھیں، تو پھر ابوبکر نے فدک ان کو واپس کیوں نہیں دیا؟

وہ مسکراتے ہوئے بولے: اگر وہ آج صرف فاطمہ زہرا (ع) کے دعویٰ پر فدک کو دے دیتے، تو فاطمہ (ع) اگلے روز اپنے شوہر کی خلافت اور ابوبکر کے منصب خلافت سے ہٹنے کا دعویٰ کرتیں اور اس صورت میں ابوبکر کے لئے کوئی بھی عذر باقی نہ رہتا، کیونکہ وہ اپنے نزدیک فاطمہ زہرا (ع) کو سچّا مان چکے ہوتے۔

لہٰذا اب وہ جو بھی دعویٰ کرتیں بغیر کسی دلیل و گواہ کے ان کو ماننا پڑتا۔[4]

ابوبکر کے بعد عثمان نے اس کو اپنے داماد مروان بن حکم کو بخشا، جو بعد میں دونوں کے لئے بدبختی کا سبب بنا[5] اور مروان کے ہلاک ہونے کے بعد اس کے بیٹوں نے اس کو بطور میراث میں پایا۔ جب عمر ابن عبد العزیز آیا، اس نے مروانیوں سے لے کر صدقات میں قرار دیا۔[6]

فاطمہ زہرا (ع) اور مطالبہ فدک

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ابو بکر کے پاس گئیں اور اس سے فدک کو واپس پلٹانے کا مطالبہ کیا ابوبکر نے جناب فاطمہ (ع) سے اس پر گواہ مانگے کہ رسول خدا (ص) نے کب آپ کو عطا کیا تھا۔ جناب فاطمہ زہرا (ع) نے گواہی میں حضرت علی (ع) اور ام ایمن کو پیش کیا۔

ام ایمن وہ خاتون ہیں جن کے بارے میں رسول خدا (ص) نے فرمایا تھا: وہ اہل جنت میں سے ہیں "أَنَّھَا مِنْ أَہلِ الجَنَّة” گواہی کے بعد ابوبکر نے فدک فاطمہ زہرا (ع) کو واپس کئے جانے کا نوشتہ لکھ دیا، لیکن عمر نے اس کو لے کر اس پر تھوکا اور اس کو پھاڑ ڈالا۔[7]

غصب فدک پر شیعہ علماء کے اعتراضات

١۔ ابو بکر نے جناب فاطمہ زہرا (ع) سے گواہ طلب کئے جب کہ شریعت کے مطابق خود ان پر لازم تھا کہ وہ دلائل قائم کرے۔ اس لئے کہ وہ خود مدعی تھے۔ لہٰذا مدعی پر لازم ہے کہ دلیل پیش کرے اور منکر کے لئے ضروری ہے کہ وہ قسم کھائے۔ لیکن انہوں نے اس کی مخالفت کی، اس لئے کہ اگر وہ اس پر عمل کرتے، تو پھر اپنے مقصد میں ناکام ہوجاتے۔

٢۔ ابو بکر نے جناب فاطمہ زہرا (ع) کی عظمت کو جانتے ہوئے، یہ سب کچھ کیا۔ جناب سیدہ تمام عورتوں کی سردار ہیں، جن کی رضا خدا کی رضا، ان کا غضب خدا کا غضب اور جن کی محبت کو خدا نے مسلمانوں پر واجب قرار دیتے ہوئے فرمایا: "قُل لَّا أَسْئلُكمُ‏ْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فىِ الْقُرْبى‏”[8] آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو۔

کیا یہی حق محبت تھا کہ انہوں نے سیدہ کے گھر پر چڑھائی کی، دروازہ میں آگ لگا دی اوران کو اتنی ضرب پہنچائی کہ محسن (ع) کی شہادت واقع ہوگئی۔

علامہ شرف الدین فرماتے ہیں: اے کاش ابوبکر کسی بھی طریقہ سے فاطمہ زہرا (ع) کو ناراض ہونے سے بچا لیتے۔ اگر وہ ایسا کر لیتے، تو ان کی عاقبت کے لئے بہت اچھا ہوتا۔ ان کو پشیمانی نہ ہوتی اور ہر قسم کی ملامت سے محفوظ رہتے۔ امت کی وحدت قائم رہتی اور یہ خود خاص طور سے ان کے حق میں بہتر ہوتا۔

امانت پیغمبر (ص) کو رنجیدہ خاطر نہ ہونے دیتے اور ان کو اس حال میں اپنے پاس سے منہ موڑ کر نہ جانے دیتے، کہ ان کی چادر زمین پر خط دیتی جارہی تھی۔ آخر کیا ہو جاتا اگر وہ بغیر محاکمہ کے فدک کو ان کے حوالہ کردیتے؟![9]

فاطمہ زہرا (س) کا تاریخی خطاب

حضرت فاطمہ زہرا (ع) امت کے درمیان رسول خدا (ص) کی امانت تھی۔ ابوبکر کے سخت رویوں سے تنگی کا احساس کرنے لگیں، تو آپ نے ان پر حجت تمام کرنے کے لئے چادر اوڑھی اور اپنے خاندان کی کچھ خواتین کے حلقہ میں مسجد کی طر ف روانہ ہوئیں۔ آپ کی چادر زمین پر خط دیتی جارہی تھی اور آپ کی رفتار سے رسول خدا (ص) کی رفتار جھلک رہی تھی۔ جب آپ مسجد میں پہنچیں، تو مجمع کے اور آپ کے درمیان ایک پردہ ڈال دیا گیا۔

اس کے بعد آپ نے روتے ہوئے حسرت و یاس سے ایک چیخ ماری کہ جس پر سب رونے لگے، اور سب کو آپ کی شخصیت میں رسول (ص) کی تصویر نظر آنے لگی، جنہوں نے دین و دنیا میں ان پر احسان کیا تھا، لیکن لوگوں نے اپنے رسول خدا (ص) کی پارۂ جگر کے متعلق ان کے حق کو ادا نہ کیا۔ جب تمام لوگوں کی چیخ پکار ختم ہوگئی اور آنسوؤں کا سیلاب رک گیا، تو آپ نے اپنے اس یاد گار خطبہ کا آغاز کیا جو آج بھی تاریخ کے صفحات پر آپ کی سچائی اور سامنے والے کے جھوٹے ہونے کا گواہ ہے۔

آپ نے خطبہ میں معارف اسلام کے فلسفہ اور اس کے احکام کی علتوں کو بیان کیا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ ظہور اسلام سے پہلے امتوں کی حالت بڑی بدتر تھی۔ وہ کج فکری اور بد عقلی کا شکار تھیں، خاص طور سے جزیرة العرب جو جہالت و نادانی اور دنیاوی برائیوں میں پوری طرح سے غرق تھا۔ وہاں کی زندگی اقتصادی کشمکش کا شکار تھی، اکثر لوگ ہلاکت کے دھانے پر تھے۔ وہ شعلہ آتش کی طرف بڑھتے جا رہے تھے۔ اونٹ کے پیشاب سے آلودہ پانی پیتے تھے اور درختوں کے پتے ان کی خوراک تھی۔ انھیں ہر وقت موت کا ڈر رہتا تھا اور وہ ہمیشہ پاؤں سے کچلے جاتے تھے۔

خدا نے ان کے درمیان رسول کو بھیج کر ان پر احسان کیا، جنہوں نے ان لوگوں کو ذلت و خواری اور غربت و فقیری سے نجات دی۔ ان کو تہذیب و تمدن اور بلندیوں سے نوازا اور وہ تمام امتوں میں سورج کی طرح چمکنے لگے۔ اب اس سے بڑھ کر اور کیا خوش نصیبی ہوگی کہ جو قوم دنیا کی بدترین قوموں میں شمار ہوتی ہو، وہ بہترین قوم شمار ہونے لگے۔

اس کے بعد آپ نے اپنے شوہر حضرت علی (ع) کے فضائل اور خدا کی راہ اور رسول خدا (ص) کی حفاظت میں ان کے جہاد کا ذکر کیا کہ جب بھی مشرکین، اسلام اور رسول خدا (ص) کے خلاف آتش جنگ بھڑکاتے تھے، تو حضرت علی (ع) ان کی ناک کو توڑ ڈالتے اور اپنی تلوار سے آتش جنگ کو خاموش کرتے تھے۔

اس وقت مہاجرین قریش امن و امان کی زندگی گذارتے تھے۔ اور نصرت اسلام یا حمایت رسول میں ان کا کوئی کردار نہ ہوتا تھا وہ میدان جنگ میں جانے سے گھبراتے اور جنگ سے فرار کرتے۔

آپ نے فرمایا: مہاجرین ہمیشہ اس بات کے منتظر رہتے تھے کہ نبی کے اہلبیت (ع) مشکلات سے دوچار ہوں۔ وہ ہمیشہ ان کے لئے نئے نئے حادثات کی جستجو میں لگے رہتے تھے اور ان کی شکست کی خواہشیں کیا کرتے تھے۔

اس کے علاوہ آپ نے نہایت افسوس کے ساتھ راہ رسالت و صراط مستقیم سے مسلمانوں کے انحراف کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان خواہشات نفس اور محبت دنیا میں گرفتار ہو گئے ہیں، جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔

آپ نے آئندہ کے خطرات کی طرف بھی اشارہ کیا جن میں مسلمان مبتلا ہوئے اور جو در حقیقت خدا و رسول (ص) کے حکم کی نافرمانی اور ان کے اہلبیت (ع) سے دوری کا نتیجہ ہیں۔

اس کے بعد آپ نے اپنے بابا کی میراث سے محروم ہونے کا المیہ بیان کیا، چنانچہ آپ فرماتی ہیں: "اب تم یہ خیال کرتے ہو کہ خدا نے ہمارے لئے کوئی میراث قرار نہیں دی اور ہم پیغمبر (ص) کے ورثہ کے حقدار نہیں ہیں” کیا تم جاہلانہ احکام کی پیروی کر رہے ہو؟ اہل یقین کے لئے خدا کے فیصلہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے”۔[10]

کیا تم ان مسائل کو نہیں جانتے؟ ہاں تم کو علم ہے، سورج کی طرح تم پر روشن ہے کہ میں تمہارے رسول (ص) کی بیٹی ہوں۔ اے مسلمانوں! کیا یہ انصاف ہے کہ میری میراث کو زبردستی چھینا جائے؟!

آپ نے ابو بکر سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اے پسر قحافہ! کیا یہ قرآن میں ہے کہ تو اپنے باپ کی میراث کا حقدار ہو اور میں اپنے باپ کی میراث سے محروم رہوں؟ یہ تم دین میں کیسی بدعت پیدا کر رہے ہو؟ کیا تم نے کتاب خدا کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا ہے اور اس کو اپنے پس پشت ڈال دیا ہے؟

خدا ارشاد فرماتا ہے: "وَ وَرِثَ سُلَيْمٰانُ دٰاوُدَ”[11] اور سلیمان نے داؤد کی میراث پائی۔ یحی بن زکریا نے دعا کی: "فَهَبۡ لِی مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا يَرِثُنِی وَ يَرِثُ مِنۡ ءَالِ يَعۡقُوب"[12] مجھ کو اپنے پاس سے ایک ایسا جانشین عطا کر جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔

اسی طرح خدا فرماتا ہے: "وَ أُولُوا الْأَرْحٰامِ بَعْضُهُمْ أَوْلىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتٰابِ اللّٰهِ”[13] اور کتاب خدا میں قرابتدار ایک دوسرے سے زیادہ اولویت اور قربت رکھتے ہیں۔

ایک اور مقام پر فرماتا ہے : "يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلاٰدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ”[14] خداوند عالم تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ لڑکی کے حصہ سے دو برابر ہے۔

نیز فرماتاہے: "إِنْ تَرَكَ خَيْراً الْوَصِيَّةُ لِلْوٰالِدَيْنِ وَ الْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ"[15] جب تم میں سے کسی کی موت سامنے آجائے، تو اگر کوئی مال چھوڑا ہے تو اپنے ماں باپ اور قرابتداروں کے لئے وصیت کر دیں یہ صاحبانِ تقویٰ پر ایک طرح کا حق ہے۔

تم یہ گمان کرتے ہو کہ میرے بابا کی میراث میں میرا کوئی حق نہیں ہے؟ اور میرے اور ان کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے!؟ کیا خدا نے تمہارے اوپر کوئی آیت نازل کی ہے جو میرے بابا کو مجھ سے جدا کرتی ہے؟!

یا تم یہ کہتے ہو کہ ہم دو مذہب کے آدمی ہیں جو ایک دوسرے کی میراث نہیں پاسکتے؟ اور کیا میرا اور میرے باپ کا ایک مذہب نہیں ہے؟ کیا تم قرآن کے عام و خاص کو میرے بابا اور میرے شوہر سے زیادہ سمجھتے ہو؟

حضرت فاطمہ زہرا (ع) کا قرآن سے استدلال

١۔ تمام انبیاء بقیہ لوگوں کی طرح اپنی اولاد کے لئے میراث چھوڑتے ہیں۔ آپ نے جناب سلیمان، جناب داؤد اور جناب یحی بن زکریا کے عمل کو دلیل بنایا ہے۔

٢۔ آپ نے آیات میراث اور وصیت کے عموم سے استدلال کیا ہے۔ لہذا اس میں رسول اکرم (ص) بھی شامل ہیں اور ان کا بقیہ مال جناب فاطمہ زہرا (ع) کی میراث ہے۔

٣۔ میراث سے جوچیز روکتی ہے وہ باپ اوراولاد کا مختلف مذہب پر ہونا ہے یعنی یہ کہ باپ مسلمان ہو اور اولاد کافر ہو۔ لیکن رسول اعظم (ص) اور ان کی بیٹی دونوں جوہر اسلام ہیں۔

حضرت فاطمہ زہرا (ص) نے ابو بکر کو یہ کہتے ہوئے خطاب کیا: "فَدُونَكَهَا مَخْطُومَةً مَرْحُولَةً تَلْقَاكَ يَوْمَ حَشْرِكَ فَنِعْمَ الْحَكَمُ اللَّهُ وَ الزَّعِيمُ مُحَمَّدٌ وَ الْمَوْعِدُ الْقِيَامَةُ وَ عِنْدَ السَّاعَةِ يَخْسَرُ الْمُبْطِلُونَ‏ وَ لَا يَنْفَعُكُمْ إِذْ تَنْدَمُونَ وَ لِكُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ وَ سَوْفَ تَعْلَمُونَ‏ … مَنْ يَأْتِيهِ عَذابٌ يُخْزِيهِ وَ يَحِلُّ عَلَيْهِ عَذابٌ مُقِيمٌ‏”

اگر ایسا ہی ہے تو اس (فدک) کو لے لو جو مہار شدہ سواری کی طرح ہے۔ محشر کے دن میں تجھ سے ملاقات کروں گی کہ جس دن فیصلہ کرنے والا خدا ہوگا کہ جو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور مدعی رسول ہوں گے اور محل قضاوت روز قیامت ہوگا۔

اس دن باطل پرست گھاٹا اُٹھا نے والے ہوں گے، اور تمہاری شرمندگی تم کو کوئی فائدہ نہ پہنچائے گی۔ اور ہر خبر کے لئے ایک وقت مقررہے، پس تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر آئے گا اور ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب کس پر نازل ہوگا۔

اس کے بعد آپ فرماتی ہیں: "إیھاً بَنِي قَیلةَ، أَ اُھْضمُ تُراثَ أَبِي وَ أَنْتُم بِمَرأیٰ مِنِّي وَ مَسْمَعٍ وَ مُنْتَدَیٰ وَ مَجْمَعٍ” اے بنی قیلہ! کیا یہ صحیح ہے کہ میری میراث پایمال ہوتی رہے اور تم دیکھتے اور سنتے رہو۔

"أَلا تُقَاتِلُونَ قوماً نَکَثُوا أَیْمَانَھُم وَ ھَمُّوا بِاِخْراجِ الرَّسُولِ وَ ھُمْ بَدَءُوکُم أَوَّلَ مَرَّةٍ أَ تَخْشَونَھُم فاللہُ أحَقُّ أَنْ تَخْشَوہُ اِنْ کُنْتُم مومنِین”[16]

کیا تم اس قوم سے جہاد نہ کرو گے جس نے اپنے عہد و پیمان کو توڑ دیا ہے اور رسول خدا کو وطن سے نکال دینے کا ارادہ بھی کرلیا ہے اور تمہارے مقابلہ میں مظالم کی پہل بھی کی ہے- کیا تم ان سے ڈرتے ہو تو خدا زیادہ حقدار ہے کہ اس کا خوف پیدا کرو اگر تم صاحب ایمان ہو۔

جب جناب فاطمہ زہرا (ع) نے انصار کی کمزوری اور لاپرواہی کا مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ انصارآپ کی آواز پر لبیک کہنے میں سہل انگاری سے کام لے رہے ہیں توآپ نے ان کی یوں ملامت کی:

"أَلَا وَ قَدْ قُلْتُ مَا قُلْتُ هَذَا عَلَى مَعْرِفَةٍ مِنِّي بِالْجِذْلَةِ الَّتِي خَامَرَتْكُمْ‏ وَ الْغَدْرَةِ الَّتِي اسْتَشْعَرَتْهَا قُلُوبُكُمْ وَ لَكِنَّهَا فَيْضَةُ النَّفْسِ وَ نَفْثَةُ الْغَيْظِ وَ خَوَرُ الْقَنَاةِ وَ بَثَّةُ الصَّدْرِ وَ تَقْدِمَةُ الْحُجَّةِ فَدُونَكُمُوهَا فَاحْتَقِبُوهَا دَبِرَةَ الظَّهْرِ نَقِبَةَ الْخُفِ‏ بَاقِيَةَ الْعَارِ مَوْسُومَةً بِغَضَبِ الْجَبَّارِ وَ شَنَارِ الْأَبَدِ مَوْصُولَةً بِنَارِ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ فَبِعَيْنِ اللَّهِ مَا تَفْعَلُونَ وَ سَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ"[17]

یاد رکھو جو مجھ کو جو کہنا تھا وہ میں نے کہہ دیا ہے۔ اس کے باجود مجھے بخوبی اس بات کا علم ہے کہ حق کی مدد نہ کرنا تمہارے گوشت و پوست میں شامل ہو چکا ہے، مکاری نے تمہارے دل پر قبضہ جما لیا ہے، لیکن اس کے باوجود چونکہ میری روح جسم سے نکلی جا رہی تھی اور میرا دل غم و غصہ سے بھرا تھا، تو میں نے اپنے دل کو ہلکا کرنے اور تم پر اتمام حجت کرنے کے لئے یہ سب کہا ہے۔

اب اس خلافت کی سواری کو تم ہی لے لو اور اس پر اپنا بار رکھ لو، لیکن اتنا یاد رکھنا کہ اس سواری کی پشت زخمی اور پاؤں میں شگاف ہے اور اس کو ذلت و خواری سے داغا گیا ہے۔ یہ غضب پروردگار سے موسوم ہے اور ہمیشہ کی رسوائی اس کے لگی ہوئی ہے کہ جو آخر تم کو اس بڑھکتی ہوئی آگ میں لے جائے گی جو غضب الہٰی سے شعلہ ور ہے۔

اور یہ بھی مت بھلا دینا کہ جو تم انجام دے رہے ہو وہ سب خدا کے سامنے ہے اور جنہوں نے ظلم کیا ہے وہ بہت جلد ہی جان لیں گے کہ ان کا ٹھکانہ کہاں ہے۔

یہ فاطمہ زہرا (ع) کا وہ خطبہ تھا جس سے آپ کی عظمت و رفعت کا اندازہ ہوتا ہے اور آپ کی علمی منزلت کا پتہ چلتا ہے کہ آپ اپنے پدر بزرگوار کے علوم و معارف کا ایک عظیم سلسلہ تھیں کہ جس نے دنیا میں علم و حکمت کی نہریں جاری کی تھیں۔

نتیجہ

قرآن اور حدیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ فدک حضرت زہرا (ع) کا قانونی حق تھا۔ جس طرح سے کسی بھی وارث کو اس کی میراث سے محروم نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح سے رسول (ص) کی لخت جگر کو میراث سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کو محروم کرنا قرآن کے حکم کے خلاف ہے۔

حوالہ جات

[1]۔ طريحى، مجمع البحرین، ج۵، ص۲۸۳۔
[2]۔ اسراء: ۲۶۔
[3]۔ حسکانی، شواهد التنزيل لقواعد التفضيل، ج۱، ص۴۴۱؛ سیوطی، الدر المنثور، ج۲، ص۱۵۱؛ متقی، کنزل العمال، ج۲، ص۱۵۸؛ مجلسی، بحار الانوار، ج ۲۹، ص۱۳۲۔
[4]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص۱۹۸۔
[5]۔ ابن عبد ربہ، العقد الفرید، ج۴، ص٢٨٣۔
[6]۔ ابوالفداء، تاریخ ابی الفداء، ج۱،ص ١۶٨ ۔
[7]۔ طبرسی، الاحتجاج، ج۱، ص١٢٢؛ قرجه ‌داغی‌ تبریزی، اللمعة البيضاء، ص٣٠٩۔
[8]۔ شوریٰ: ۲۳۔
[9]۔ موسوی، النص و الاجتہاد، ص۳۷۔
[10]۔ مائدہ: ۵۰۔
[11]۔ نمل: ۱۶۔
[12]۔ مریم: ۵۔۶۔
[13]۔ انفال:۷۵؛ احزاب: ۶۔
[14]۔ نساء: ۱۱۔
[15]۔ بقرہ: ۱۸0۔
[16]۔ توبہ: ۱۳۔
[17]۔ ابن طیفور، بلاغات النساء، ص۴۱۴؛ ابن ‌حیون، شرح الأخبار، ج۳، ص۳۹؛ ابن اثیر، النہای‍ۃ، ج۴، ص۱۱۶۔۱۱۹؛ مسعودی، مروج الذہب، ج۲، ص۳۱۱۔

منابع

1. قرآن کریم
2. ابن ابی الحدید، عبد الحميد‏، شرح نہج البلاغۃ، مكتبة آية الله المرعشي، قم‏، ۱۳۷۸- ۱۳۸۳ ش۔
3. ابن اثیر، علی، النہایہ، قم، موسسہ اسماعلیان، ١٣٦٤ش۔
4. ابن طیفور، احمد، بلاغات النساء، قم، الشريف الرضي، بغیر تاریخ۔
5. ابن عبد ربه، احمد، العقد الفرید، احمد محقق: قمیحه، مفید محمد؛ ترحینی، عبد المجید بیروت، دار الکتب العلمية ۱۴۰۷ھ /۱۹۸۷ء۔
6. ابن‌حیون، نعمان، شرح الأخبار، محقق: حسینی جلالی، محمد، قم، جماعة المدرسين في الحوزة العلمیة مؤسسة النشر الإسلامي ۱۴۰۹ھ۔
7. ابو الفداء، اسماعیل، تاريخ أبي الفداء، مصحح: دیوب، محمود، بیروت، دار الکتب العلمية، ۱۴۱۷ھ / ۱۹۹۷م۔
8. حسكانى، عبيد الله، شواهد التنزيل لقواعد التفضيل، محقق: محمودى، محمد باقر، تهران، وزارة الثقافة و الإرشاد الإسلامي، مؤسسة الطبع و النشر، ۱۴۱۱ھ۔
9. سيوطى، عبدالرحمن، الدر المنثور، قم‏، كتابخانه آيت الله العظمى مرعشى، ۱۴۰۴ھ۔
10. طبرسی، احمد‏، الإحتجاج، نشر المرتضى‏، مشهد، ۱۴۰۳ھ۔
11. طريحي، فخر الدين، مجمع البحرين‏، مصحح: حسينى اشكورى، احمد، تهران، مرتضوى، ‏۱۳۷۵ ش‏۔
12. قرجه ‌داغی‌ تبریزی، محمدعلی، اللمعة البيضاء، تصحيح: میلانی، هاشم، بیروت، دار التبلیغ الاسلامی، ۱۴۳۲ھ /۲۰۱۱م۔
13. متقي، علي، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، بيروت، مؤسسة الرسالة، ۱۹۸۹ء۔
14. مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار (ع)، مؤسسة الوفاء، بيروت‏، لبنان، ۱۴۰۴ھ۔
15. مسعودی، علی، مروج الذھب، محقق: داغر، یوسف اسعد، قم، مؤسسة دار الهجرة، ۱۴۰۹ھ۔
16. موسوي، عبد الحسين، النص والاجتهاد، قم، سيد الشهداء عليه السلام، ۱۴۰۴ھ۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):

قرشی، باقر شریف، سقیفہ کانفرنس، مترجم: ذیشان حیدر عارفی، تصحیح: سيد محمد سعيد نقوی، نظر ثانی: سید مبارک حسنین زیدی، مجمع جہانی اہل بیت، ۱۴۴۲ھ۔ ق،۲۰۲۱ء۔ ص۲۳۲-۲۴۷

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔