قبولیت دعا کی شرائط: ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟

قبولیت دعا کی شرائط، ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟

2026-06-09

4 مشاہدات

کپی کردن لینک

قبولیت دعا ایک ایسا موضوع ہے جو ہر انسان کی زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے کیونکہ قبولیت دعا کے مرحلے میں اکثر یہ سوال ہمارے ذہنوں میں گردش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں قبولیت دعا کا وعدہ کیا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ ہماری بہت سی دعائیں قبول نہیں ہوتیں؟ کبھی کبھی قبولیت دعا کے سلسلے میں یہ سوال اللہ کے وعدوں پر بدگمانی کی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے اور انسان مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں: "ہم نے اتنی دعائیں کیں، لیکن ہمارا مریض شفا یاب نہ ہوا”، "ہمیں نوکری نہیں ملی”، "شادی کا مسئلہ حل نہ ہوا” یا "ہماری فلاں حاجت پوری نہ ہوئی”۔ اس اہم سوال کا جواب سمجھنے کے لیے ہمیں دعا کی حقیقت، قبولیت دعا کی شرائط اور ان رکاوٹوں کو جاننا ہوگا جو قبولیت دعا میں حائل ہو جاتی ہیں۔

دعا کی اہمیت اور اللہ سے توقعات کی حد

دعا کی حقیقت کو سمجھے بغیر ہم قبولیت دعا کے راز کو نہیں پا سکتے۔ قرآن و حدیث میں دعاؤں کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن دعاؤں کو قبولیت دعا کا ذریعہ[1]، خدا سے قربت کا وسیلہ[2] اور انسان کی قدر و قیمت کا معیار قرار دیتا ہے۔[3] روایات میں دعا کو "عبادت کا مغز”،[4] حاجات پوری کرنے والی[5] اور قضا و بلا کو ٹالنے والی شے کہا گیا ہے۔[6]

قبولیت دعا کی اس اہمیت کے باوجود، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دعا کامیابی کے اسباب میں سے صرف ایک سبب ہے۔ دعاؤں کے ساتھ ساتھ دیگر ظاہری اور مادی اسباب کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ بیمار کی شفا کے لیے دعا کے ساتھ دوا اور معالج سے رجوع کرنا، اور امتحان میں کامیابی کے لیے دعاؤں کے ساتھ محنت اور پڑھائی کرنا لازم ہے۔ اللہ کا نظام اسی طرح قائم ہے کہ ہر کام اپنے اسباب اور راستے سے انجام پاتا ہے۔ امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: "اَبَي الله اَنْ يَجْرِيَ الْاَشْيَاءَ اِلَّا بِاَسْبَابٍ فَجَعَلَ‌ لِكُلِّ‌ شَيْ‏ءٍ‌ سَبَباً وَ جَعَلَ لِكُلِّ سَبَبٍ شَرْحاً وَ جَعَلَ لِكُلِّ شَرْحٍ عِلْماً"؛ "اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ چیزوں کو ان کے اسباب کے بغیر جاری کرے، لہٰذا اس نے ہر چیز کے لیے ایک سبب، ہر سبب کے لیے ایک راستہ اور ہر راستے کے لیے ایک علم بنایا ہے۔”[7]

اس حدیث سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مادی اسباب (جیسے ڈاکٹر اور دوا) کا استعمال غیرُ اللہ کی طرف رجوع کرنا نہیں، بلکہ عین اللہ کی طرف توجہ ہے، کیونکہ دوا میں شفا دینے کی تاثیر اور ڈاکٹر میں تشخیص کی صلاحیت اللہ نے ہی رکھی ہے۔ لہٰذا ہمیں ہر کام میں معجزے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے بلکہ قبولیت دعا کے ساتھ اسباب کا دامن بھی تھامے رہنا چاہیے۔

قبولیت دعا میں تاخیر کی حکمتیں

کبھی کبھی ہماری دعائیں فوراً قبول نہیں ہوتیں بلکہ قبولیت دعا میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ قبولیت دعا کی اس تاخیر میں بھی اللہ کی کئی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

۱. اجر و ثواب میں اضافہ

امام علی (ع) فرماتے ہیں: "وَ رُبَّمَا أُخِّرَتْ عَنْكَ الْإِجَابَةُ لِيَكُونَ ذَلِكَ أَعْظَمَ لِأَجْرِ‌ السَّائِلِ‌ وَ أَجْزَلَ لِعـَطَاءِ الْآمـِل” "بسا اوقات قبولیت دعا میں اس لیے تاخیر کی جاتی ہے تاکہ سائل کا اجر بڑھ جائے اور امید رکھنے والے کی عطا میں اضافہ ہو۔”[8] جب بندہ بار بار دعا کرتا ہے تو اس کا اللہ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے اور ہر دعا پر اسے الگ سے اجر ملتا ہے۔

۲. محبوب کی آواز سننے کا اشتیاق

اللہ اپنے بعض بندوں کی آواز اور مناجات کو بہت پسند کرتا ہے جو قبولیت دعا میں مؤثر ہے۔ امام صادق (ع) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "قَالَ‌ اللَّهُ تَعَالَى وَ عِزَّتِي وَ جَلَالِي وَ عَظَمَتِي وَ بَهَائِي إِنِّي لَأَحْمِي‌ وَلِيِّي‌ أَنْ أُعْطِيَهُ فِي دَارِ الدُّنـْيَا شـَيْئاً‌ يَشـْغَلُهُ عَنْ ذِكْرِي حَتَّى‌ يَدْعُوَنِي‌ فَأَسْمَعَ صَوْتَهُ وَ إِنِّي لَأُعْطِي‌ الْكَافِرَ‌ مَنِيَّتَهُ حَتَّى لَا يَدْعُوَنِي فَأَسْمَعَ صَوْتَهُ بُغْضاً لَهـُ” "مجھے اپنی عزت، جلال، عظمت اور مرتبے کی قسم! میں اپنے دوست کو دنیا میں کوئی ایسی چیز دینے سے پرہیز کرتا ہوں جو اسے میری یاد سے غافل کر دے، تاکہ وہ مجھے پکارتا رہے اور میں اس کی آواز سنتا رہوں۔ اور میں کافر کی آرزو اس لیے پوری کر دیتا ہوں تاکہ وہ مجھے نہ پکارے کیونکہ میں اس کی آواز سننا پسند نہیں کرتا۔”[9] ایک اور حدیث میں ہے کہ جب کوئی محبوب بندہ دعا کرتا ہے تو اللہ فرشتوں سے کہتا ہے: "اس کی حاجت پوری کرو لیکن اسے روکے رکھو، کیونکہ میں اس کی آواز سننا چاہتا ہوں۔” اور جب کوئی ناپسندیدہ بندہ دعا کرتا ہے تو حکم ہوتا ہے: "اس کی حاجت جلدی پوری کر دو کیونکہ میں اس کی آواز نہیں سننا چاہتا۔”[10]

دعا کے آداب اور قبولیت دعا کے خاص اوقات و مقامات

قبولیت دعا کے لیے کچھ خاص آداب، اوقات اور مقامات ہیں جن کا قبولیت دعا میں خیال رکھنا چاہیے۔

۱. مقدس اوقات

جمعہ کا دن اور رات، واجب نمازوں کے بعد، ماہِ رمضان، سحر کا وقت، عرفہ کا دن اور رات اور طلوعِ آفتاب سے پہلے کا وقت دعا کی قبولیت کے لیے خاص ہیں۔ امام علی (ع) نے فرمایا: "چار اوقات میں دعا کو غنیمت جانو: تلاوتِ قرآن کے وقت، اذان کے وقت، بارش کے نزول کے وقت اور میدانِ جنگ میں کفار سے مقابلے کے وقت۔”[11]

2. مقدس مقامات

کعبہ، مسجد الحرام، مدینہ منورہ، مسجد نبوی، مسجد کوفہ اور تمام مساجد، بالخصوص امام حسین (ع) کا حرم، وہ مقامات ہیں جہاں قبولیت دعا کے امکان قوی ہیں۔ ایک بار امام صادق (ع) بیمار ہوئے تو آپ نے ایک شخص کو اجرت دے کر امام حسین (ع) کے روضے پر اپنی شفا کے لیے دعا کرنے بھیجا۔ اس شخص نے حیرت سے پوچھا کہ آپ بھی امام ہیں اور وہ بھی امام، پھر وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ (ع) نے فرمایا: "تم نے درست کہا، لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کے لیے کچھ خاص جگہیں ہیں جہاں دعا قبول ہوتی ہے، اور سید الشہداء (ع) کا حرم ان میں سے ایک ہے۔”[12]

3. دعا کے آداب

دعاؤں کے آداب بہت سے ہیں جو قبولیت دعا کا سبب بنتے ہیں۔ امام صادق (ع) کے مطابق ان میں سے چند یہ ہیں: باوضو ہونا، خوشبو لگانا، مسجد جانا، صدقہ دینا، رو بقبلہ ہونا، اللہ پر حسنِ ظن رکھنا، قلبی توجہ، توبہ کی تجدید، دعا پر اصرار، دعا کو عمومیت دینا (سب کے لیے دعا کرنا)، گریہ و زاری، گناہوں کا اعتراف، دعا سے پہلے اور آخر میں درود پڑھنا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنا۔[13]

ایک شخص نے امام صادق (ع) سے پوچھا کہ قرآن میں اللہ کا وعدہ ہے "مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا”[14] لیکن ہماری دعا قبول نہیں ہوتی؟ امام (ع) نے فرمایا: "جو شخص اللہ کے احکامات کی اطاعت کرے اور پھر دعا کے مخصوص طریقے سے دعا مانگے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔” اس شخص نے پوچھا کہ دعا کا طریقہ کیا ہے؟ آپ (ع) نے فرمایا: "پہلے اللہ کی حمد و ثنا کرو، پھر اس کی نعمتوں کا ذکر کر کے شکر ادا کرو، پھر نبی (ص) پر درود بھیجو، پھر اپنے گناہوں کو یاد کر کے ان کا اقرار کرو اور ان سے پناہ مانگو۔ یہ ہے دعا کا صحیح طریقہ۔”[15]

ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟

اب ہم ان بنیادی وجوہات اور رکاوٹوں کا ذکر کریں گے جو قبولیت دعا کی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔ یہ وہ اعمال اور رویے ہیں جن کی وجہ سے انسان کی پکار بارگاہِ الٰہی تک نہیں پہنچ پاتی۔

۱. قلبی خیانت اور عملی نفاق

ایک مرتبہ امام علی (ع) نے خطبہ دیا تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر یہی سوال کیا کہ ہماری دعائیں شرف قبولیت دعا حاصل نہیں کرتیں؟ آپ (ع) نے فرمایا: "اس لیے کہ تمہارے دلوں نے آٹھ چیزوں میں خیانت کی ہے:

پہلی: تم نے اللہ کو پہچانا لیکن اس کا وہ حق ادا نہیں کیا جو تم پر واجب تھا۔
دوسری: تم اس کے رسول (ص) پر ایمان لائے لیکن ان کی سنت کی مخالفت کی اور ان کی شریعت کو مردہ کر دیا۔
تیسری: تم نے قرآن پڑھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا۔
چوتھی: تم نے کہا کہ ہم جہنم سے ڈرتے ہیں لیکن ہر وقت اپنے گناہوں کے ذریعے اسی کی طرف بڑھتے رہے۔
پانچویں: تم نے کہا کہ ہم جنت کے مشتاق ہیں لیکن ایسے کام کیے جو تمہیں اس سے دور کرتے ہیں۔
چھٹی: تم نے اپنے مولا کی نعمتیں کھائیں لیکن اس کا شکر ادا نہیں کیا۔
ساتویں: اللہ نے تمہیں شیطان سے دشمنی کا حکم دیا لیکن تم نے اس سے ظاہری دشمنی کی اور خفیہ دوستی نبھائی۔آٹھویں: تم نے لوگوں کے عیبوں کو اپنے سامنے رکھا اور اپنے عیبوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔

پھر آپ (ع) نے فرمایا: ایسی حالت میں تمہاری دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے جبکہ تم نے خود ہی اس کے دروازے اور راستے بند کر دیے ہیں؟ اللہ سے ڈرو، اپنے اعمال کی اصلاح کرو، اپنی نیتوں کو خالص کرو اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرو، تب اللہ تمہاری دعاؤں کو قبول کرے گا۔”

"إِنَّ قُلُوبَكُمْ‌ خَانَتْ‌ بِثَمَانِ خِصَالٍ: أَوَّلُهَا أَنَّكُمْ عَرَفْتُمُ اللَّهَ فَلَمْ تُؤَدُّوا حَقَّهُ كَمَا أَوْجَبَ عَلَيْكُمْ‌ فَمَا‌ أَغْنَتْ عَنْكُمْ مَعْرِفَتُكُمْ شَيْئاً وَ الثَّانِيَةُ أَنَّكُمْ‌ آمَنْتُمْ‌ وَالَيْتُمُوهُ بِلَا مُخَالَفَةٍ وَ الثَّامِنَةُ‌ أَنَّكُمْ‌ جَعَلْتُمْ عُيُوبَ النَّاسِ نُصْبَ عُيُونِكُمْ وَ عُيُوبَكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ تـَلُومُونَ مَنْ أَنْتُمْ أَحَقُّ بـاللَّوْمِ مـِنْهُ فَأَيُّ دُعَاءٍ يُسْتَجَابُ لَكُمْ مَعَ هَذَا وَ قَدْ‌ سَدَدْتُمْ‌ أَبْوَابَهُ وَ طُرُقَهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ‌ وَ‌ أَصْلِحُوا أَعْمَالَكُمْ وَ أَخْلِصُوا سَرَائِرَكُمْ وَ أْمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَ انْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ فَيَسْتَجِيبَ اللَّهُ لَكُمْ دُعَاءَكُم"[16]

۲. گناہ

گناہ قبولیت دعا کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ امام سجاد (ع) نے ان گناہوں کی فہرست بیان کی ہے جو قبولیت دعا کو رد کر دیتے ہیں: "بدنیتی، باطن کی خباثت (حسد وغیرہ)، دینی بھائیوں سے منافقت، قبولیتِ دعا پر یقین نہ رکھنا، واجب نمازوں کو قضا ہونے تک مؤخر کرنا، نیکی اور صدقے کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل نہ کرنا، اور گفتگو میں فحش اور نازیبا الفاظ استعمال کرنا۔”

"وَ الذُّنُوبُ الَّتـِي تـَرُدُّ الدُّعـَاءَ سُوءُ النِّيَّةِ وَ خُبْثُ السَّرِيرَةِ وَ النِّفَاقُ مَعَ الْإِخْوَانِ وَ تَرْكُ التَّصْدِيقِ بِالْإِجَابَةِ وَ تَأْخِيرُ الصَّلَوَاتِ الْمَفْرُوضَاتِ حَتَّى تَذْهَبَ‌ أَوْقَاتُهَا وَ تَرْكُ التَّقَرُّبِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ بـِالْبِرِّ وَ الصَّدَقَةِ وَ اسْتِعْمَالُ الْبَذَاءِ وَ الْفُحْشِ فِي الْقَوْلِ[17]

۳. لقمۂ حرام اور حق الناس

حرام کمائی اور لقمۂ حرام کا دعا کی قبولیت پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ امام صادق (ع) فرماتے ہیں: "إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ‌ أَن يُسْتَجَابَ‌ لَهُ فَلْيُطَيِّبْ كَسْبَهُ وَ لْيَخْرُجْ مِنْ مَظَالِمِ النَّاسِ وَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُرْفَعُ إِلَيْهِ‌ دُعَاءُ‌ عَبْدٍ وَ فِي بَطْنِهِ حَرَامٌ أَوْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِه” "جو چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو، اسے چاہیے کہ اپنی کمائی کو پاک کرے اور لوگوں کے حقوق (مظالم) سے خود کو بری کرے۔ بے شک اللہ اس بندے کی دعا قبول نہیں کرتا جس کے پیٹ میں حرام لقمہ ہو یا اس پر مخلوق میں سے کسی کا حق ہو۔”[18]

رسول اللہ (ص) نے فرمایا: "أَطِبْ كَسْبَكَ تُسْتَجَبْ‌ دَعْوَتُكَ‌ فَإِنَّ الرَّجُلَ يَرْفَعُ اللُّقْمَةَ إِلَى فـِيهِ حـَرَاماً فـَمَا تُسْتَجَابُ لَهُ دَعْوَةٌ أَرْبَعِينَ يَوْماً‌” "اپنی کمائی کو پاک کرو، تمہاری دعا قبول ہوگی۔ بے شک جو شخص ایک لقمہ حرام اپنے منہ میں ڈالتا ہے، اس کی چالیس دن تک دعا قبول نہیں ہوتی۔”[19]

۴. بے تدبیری اور سعی و کوشش سے دوری

کچھ لوگ اپنی زندگی میں تدبیر اور کوشش سے کام نہیں لیتے اور صرف دعا پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ امام صادق (ع) نے فرمایا کہ تین گروہوں کی دعا قبول نہیں ہوتی: "وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور اس نے اسے غلط جگہ خرچ کر دیا، پھر کہتا ہے اے اللہ مجھے رزق دے۔ وہ شخص جو اپنی بیوی کے خلاف بددعا کرتا ہے حالانکہ اس کا معاملہ (طلاق) اللہ نے اسی کے ہاتھ میں دیا ہے۔ اور وہ شخص جو اپنے پڑوسی کے خلاف بددعا کرتا ہے جبکہ وہ اپنا گھر بیچ کر اس سے دور جا سکتا ہے۔” "الثـَّلَاثَةِ الَّذِينـَ لَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ دَعْوَةٌ رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا فَأَنْفَقَهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ ثـُمَّ قـَالَ اللَّهـُمَّ‌ ارْزُقْنِي‌ فَلَا‌ يُسْتَجَابُ لَهُ وَ رَجُلٌ يَدْعُو عَلَى امْرَأَتِهِ أَنْ‌ يُرِيحَهُ‌ مِنْهَا وَ قَدْ جَعَلَ اللَّهـُ عـَزَّ وَ جـَلَّ أَمْرَهَا إِلَيْهِ وَ رَجُلٌ يَدْعُو عَلَى جَارِهِ وَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ‌ عَزَّ‌ وَ‌ جَلَّ لَهُ السَّبِيلَ إِلَى أَنـْ يَتـَحَوَّلَ عَنْ جِوَارِهِ وَ يَبِيعَ‌ دَارَهُ"[20]

۵. عدمِ مصلحت

کبھی کبھی ہم اللہ سے ایسی چیز مانگ رہے ہوتے ہیں جو ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتی اسی لیے قبولیت دعا کے موانع میں سے عدم مصلحت بھی ہے، لیکن ہم اپنی لاعلمی کی وجہ سے اس پر اصرار کرتے ہیں۔ اللہ اپنی حکمت اور علم کی بنا پر وہ دعا قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ ہمارے مستقبل اور انجام سے واقف ہے۔ قرآن کہتا ہے: "ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔”[21] امام علی (ع) فرماتے ہیں: "فَلَرُبَّ أَمْرٍ قَدْ طَلَبْتَهُ وَ فِيهِ هَلَاكُ دِينِكَ وَ دُنـْيَاكَ لَوْ أُوتـِيتَهُ” "بسا اوقات تم ایسی چیز طلب کرتے ہو جس میں تمہارے دین اور دنیا کی ہلاکت ہوتی ہے اگر وہ تمہیں دے دی جائے۔”[22]

۶. غفلت اور عدم توجہ سے دعا

ایسی دعا جو صرف زبان پر ہو اور دل اس سے غافل ہو، قبول نہیں ہوتی۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: "جان لو کہ اللہ غافل اور لاپرواہ دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔”[23]

قبولیت دعا کے ان تمام شرائط اور موانع کو جاننے کے بعد قبولیت دعا کے سلسلے سے یہ نکتہ ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ مومن کی کوئی بھی خالص دعا ہرگز رائیگاں نہیں جاتی اور ضرور شرف قبولیت حاصل کرتی ہے۔ امام سجاد (ع) فرماتے ہیں: "مومن کو اپنی دعا سے تین میں سے ایک نتیجہ ضرور ملتا ہے: یا تو وہ اس کے لیے (آخرت میں) ذخیرہ کر دی جاتی ہے، یا دنیا میں جلد پوری کر دی جاتی ہے، یا اس کے ذریعے ایک ایسی بلا ٹال دی جاتی ہے جو اس پر نازل ہونے والی تھی۔”[24]

قیامت کے دن جب بندہ اپنی ان دعاؤں کا اجر دیکھے گا جو دنیا میں قبول نہیں ہوئی تھیں تو وہ آرزو کرے گا کہ کاش اس کی کوئی بھی دعا دنیا میں قبول نہ ہوئی ہوتی۔[25]

 نتیجہ

دعا عبادت کا جوہر اور اللہ سے تعلق کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر ہماری دعائیں شرف قبولیت دعا حاصل نہیں کرتیں تو ہمیں اللہ سے شکوہ کرنے کے بجائے اپنے اعمال اور طرزِ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے۔ قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ ہم گناہوں سے پرہیز کریں، اپنی کمائی کو حلال اور پاک رکھیں، لوگوں کے حقوق ادا کریں، اللہ کی معرفت حاصل کریں، اور دعا کے آداب اور شرائط کو ملحوظ رکھیں۔ ہمیں یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ ہماری مصلحت کو ہم سے بہتر جانتا ہے اور ہماری کوئی بھی خالص پکار ضائع نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ یا تو دنیا میں ہماری حاجت پوری ہونے کی صورت میں ملتا ہے، یا کسی مصیبت کے ٹل جانے کی شکل میں، یا پھر آخرت کے لیے ایک عظیم ذخیرے کی صورت میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ لہٰذآ انسان مایوس ہونے کے بجائے اپنی اصلاح کرے، اپنے اندر دعا کی شرائط پیدا کرے اور اللہ کی حکمت پر کامل بھروسہ رکھے۔

حوالہ جات

[1] سورہ غافر آیت 60۔
[2] سورہ بقرہ آیت 186۔
[3] سورہ فرقان آیت 77۔
[4] مجلسی، بحار الانوار، ج93، ص300۔
[5] کلینی، الکافی، ج2، ص466۔
[6] مجلسی، بحار الانوار، ج93، ص288۔
[7] کلینی، الکافی، ج1، ص183۔
[8] ری شهری، منتخب میزان الحکمہ، ص186۔
[9] مجلسی، بحار الانوار، ج90، ص317۔
[10] کلینی، الکافی، ج2، ص489۔
[11] مجلسی، زاد المعاد، ص256۔
[12] حرّ عاملی، وسائل الشیعہ، ج14، ص537۔
[13] قمی، سفینۃ البحار، ج3، ص49۔
[14] سورہ مومن آیت 60۔
[15] کلینی، الکافی، ج2، ص486۔
[16] قمی، سفینۃ البحار، ج3، ص57۔
[17] حرّ عاملی، وسائل الشیعہ، ج11، ص520۔
[18] مجلسی، بحار الانوار، ج93، ص321۔
[19] ری شہری، منتخب میزان الحکمہ، ص182۔
[20] کلینی، الکافی، ج2، ص510۔
[21] سورہ بقرہ آیت 216۔
[22] مجلسی، بحار الانوار، ج90، ص301۔
[23] ری شہری، منتخب میزان الحکمہ، ص182۔
[24] حرانی، تحف العقول، ص280۔
[25] کلینی، الکافی، ج2، ص491۔

فہرست منابع

1. ابن شعبه حرانی، ابومحمد حسن بن علی، تحف العقول، قم، مؤسسة النشر الاسلامی، ۱۴۰۴ق۔
2. حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعه، قم، مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث،۱۳۷۴ش/۱۴۱۶ق۔
3. ری شهری، محمد، منتخب میزان الحکمه، ترجمه حمید رضا شیخی، تلخیص حمید حسینی، قم، دارالحدیث، ۱۳۸۸ش۔
4. قمی، عباس، سفینه البحار و مدینه الحکم و الاثار، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۷۸ش۔
5. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تهران، دار الکتب الاسلامیه، ۱۳۶۳ش۔
6. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار، تحقیق محمدباقر محمودی و عبد الزهرا علوی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق۔
7. مجلسی، محمد باقر بن محمد تقی، زاد المعاد، سید حسن موسوی، قم، جلوه کمال، ۱۳۸۹ش۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

سید جواد هاشمی۔ «چرا برخی دعاهای ما مستجاب نمی شود؟۔» مبلغان اسفند 1389 – شماره 138 (‎24 صفحه – از 100 تا 123)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔