قرآن مجید کی آیات و سورتوں میں معارف کے ساتھ ساتھ روحانی و معنوی خواص بھی موجود ہیں۔ قرآن مجید کے غیبی پہلو اور خواص کی معرفت کا ذریعہ پیغمبر اکرم ﷺ اور اہلبیت (ع) کی معتبر احادیث ہیں۔ بعض قرآنی آیات کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں۔
سینے کے درد کی شفا
امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: کسی نے پیغمبر اسلام ﷺ کی خدمت میں سینے کے درد کی شکایت کی، آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اپنی بیماری کی شفا قرآن مجید سے حاصل کرو، کیونکہ خداوند متعال فرماتا ہے: "وَ شِفٰاءٌ لِمٰا فِي الصُّدُور"۔[1] جو کچھ سینوں میں ہے ان سب کی شفا قرآن مجید ہے۔
سورہ حمد اور مردوں کا زندہ ہوجانا
کچھ سورتوں کے سلسلے میں جن میں سے ایک سورت حمد ہے، امام صادق (ع) فرماتے ہیں: اگرکسی مردے پر سورہ حمد ستّر مرتبہ پڑھی جائے اور اس میں روح پلٹ آئے اور وہ زندہ ہوجائے تو کوئی تعجب نہیں ہے۔[2]
شیعوں پر خدا کی نگاہ
اسی طرح بعض قرآنی آیات کے فوائد کے متعلق فرماتے ہیں: جب خداوند متعال نے حکم دیا کہ یہ آیات زمین پر نازل ہوں، تو وہ عرش الٰہی سے لپٹ گئیں اور بولیں: اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں کہاں نازل فرما رہا ہے؟ کیا ہمیں گناہگاروں اور خطا کاروں کی طرف بھیج رہا ہے؟
خداوند متعال نے انہیں وحی کی: نازل ہوجاؤ! مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! آل محمد ﷺ اور ان کے شیعوں میں سے جو شخص واجب نماز کے بعد، جس کو میں نے ہر روز ان پر واجب کیا ہے تمہاری تلاوت کرے گا میں اپنی پوشیدہ آنکھوں سے ستّر بار اس پر نگاہ ڈالوں گا اور ہر نظر پر اس کی ستّر حاجتیں پوری کروں گا اور اس کے تمام گناہ معاف کردوں گا۔ یہ آیات کریمہ: ام الکتاب (سورہ حمد)، آیت شَهِدَ اللّه (سورہ آل عمران)، آیت الکرسی اور سورہ الملک ہیں۔
مال و جان کی حفاظت
ایک دوسری حدیث میں قرآنی آیات کے فوائد کے متعلق فرمایا: سوره انا فتحنا (سورہ فتح) کی تلاوت سے اپنے مال، اپنی عورتوں اور کنیزوں کو نابودی سے بچاؤ۔ جو اس سورہ کی ہمیشہ تلاوت کرے گا قیامت کے دن منادی اسے ایسے پکارے گا کہ سب لوگ سنیں گے اور اس سے کہے گا: تو میرے مخلص بندوں میں سے ہے، اسے صالحین اور نیک لوگوں میں قرار دو…[3]
چہرے کا نورانی ہونا
حضرت امام محمد باقر (ع) نے فرمایا: جو ہر شب سونے سے پہلے سورہ واقعہ کی تلاوت کرے، وہ اس حالت میں خدا سے ملاقات کرے گا کہ اس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی مانند ہوگا۔[4]
سورہ ملک کے فوائد
ایک دوسری حدیث میں بعض سورتوں اور قرآنی آیات کے فوائد کے سلسلے میں فرمایا: سورہ ملک عذاب قبر کے لئے رکاوٹ بنتا ہے۔ یہ سورہ توریت میں بھی سورہ ملک کے نام سے آیا ہے۔ جو شخص اس سورہ کو رات میں پڑھے گویا اس نے بہت سے نیک کام انجام دئیے۔ وہ اس شب غفلت برتنے والوں میں شمار نہیں ہوگا۔ میں نماز عشاء کے بعد بیٹھ کر پڑھی جانے والی نماز میں اس سورہ کو پڑھتا ہوں اور میرے والد اس سورہ کو دن اور رات میں پڑھتے تھے۔
جو شخص اس سورہ کو پڑھے اس کی قبر میں جب نکیر و منکر داخل ہوں گے تو اگر وہ پاؤں کی طرف سے قبر میں داخل ہونا چاہیں تو میت کے پاؤں ان دونوں سے کہیں گے:
تم ہمارے ہاں سے داخل نہیں ہوسکتے ہو۔ یہ بندہ ہم پر کھڑے ہو کر شب و روز سورہ ملک پڑھتا تھا اور اگر نکیر و منکر اس کے شکم کی طرف سے داخل ہونا چاہیں گے تو سورہ ملک ان سے کہے گا: تمہاری مجھ تک کوئی راہ نہیں ہے کیونکہ اس بندے نے سورہ ملک کو مجھ میں قرار دیا تھا اور اگر زبان کی طرف سے داخل ہونا چاہیں گے تو میت کی زبان ان سے کہے گی: تم مجھ تک کوئی راہ نہیں رکھتے ہو۔ یہ بندہ میرے ساتھ ہر شب و روز سورہ ملک کی تلاوت کرتا تھا۔[5]
سورہ توحید کے آثار و فوائد
امام صادق (ع) نے فرمایا ہے: میرے والد امام محمد باقر (ع) فرماتے تھے: سورہ ”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“ قرآن مجید کا ایک تہائی اور سورہ ”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ قرآن مجید کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔[6]
امام محمد باقر (ع) نے فرمایا: جو شخص سورہ ”قُلْ هُوَ اللَّهُ“ ایک بار پڑھے اسے برکت دی جاتی ہے۔ جو اسے دو بار پڑھے اسے اور اس کے اہل و عیال کو برکت دی جاتی ہے۔ جو تین بار پڑھے اسے، اس کے اہل و عیال اور اس کے ہمسایوں کو برکت دی جاتی ہے۔ جو اسے بارہ مرتبہ پڑھے، وہ اپنے لئے بہشت میں ایک محل تعمیر کرتا ہے اور اس کے محافظ فرشتے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: آؤ چلیں اور ہمارے فلاں بھائی کے محلات کو دیکھ لیں۔
جو اسے سو بار پڑھے اس کے پچاس سال کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ البتہ دوسروں کے خون اور مال سے متعلق گناہ عفو و بخشش سے مستثنیٰ ہیں۔ جو شخص اسے چار سو بار پڑھے اسے ایسے چار سو شہیدوں کا اجر دیا جاتا ہے جو اپنے گھوڑوں کو پے کرچکے ہوں اور ان کا خون بہ چکا ہو۔ جو شخص ایک دن رات میں اسے ہزار مرتبہ پڑھے، وہ تب تک نہیں مرتا جب تک بہشت میں اپنے مقام کو دیکھ نہ لے یا اس کی جگہ اسے دکھا نہ دی جائے۔[7]
امام صادق (ع) نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نکلتے وقت دس مرتبہ سورہ ”قل هوالله احد“ کی تلاوت کرے وہ ہمیشہ خدا کی حفاظت اور پناہ میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنے گھر واپس آئے۔[8]
ایک حدیث میں امام جعفر صادق (ع) سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: پیغمبر اکرم ﷺ نے سعد بن معاذ کے جنازے پر نماز پڑھی اور فرمایا: اس پر سترّ ہزار فرشتوں نے نماز پڑھی، جن میں جبرائیل امین بھی شامل تھے۔ میں نے جبرائیل سے کہا: سعد کو یہ لیاقت کیسے حاصل ہوئی کہ تم فرشتوں نے اس پر نماز پڑھی؟ جواب دیا: کیونکہ سعد کھڑے، بیٹھے، سوار، پیدل اور آمد و رفت کی حالت میں سورہ ”قل هوالله احد“ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔[9]
قرآن مجید سے متعلق جعلی حدیثیں
یہاں یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ، بعض افراد نے جو اہل بیت (ع) کی پیروی نہیں کرتے تھے اور تقویٰ کے نور سے بھی بہرہ مند نہیں تھے، اپنے بیہودہ خیالات کے مطابق لوگوں کی توجہ بعض قرآنی آیات کے فوائد کی طرف مبذول کرانے کے لئے، بعض سوروں اور بعض قرآنی آیات کے فوائد اور ان کی فضیلت میں کچھ احادیث گھڑ کر لوگوں میں منتشر کر رکھی ہیں۔ ابو عصمة نوح بن ابی مریم المروزی، محمد بن عکاشہ کرمانی اور احمد بن عبد اللہ جویباری وغیرہ جیسے افراد ان ہی لوگوں میں سے ہیں۔
ابو عمرو عثمان بن صلاح اپنی کتاب ”علوم الحدیث“ میں اس سلسلے میں یوں کہتا ہے: بعض لوگوں نے ابی بن کعب کے طریقے سے پیغمبر ﷺ سے قرآن مجید کی سوروں کی فضیلت کے بارے میں نقل شدہ احادیث کی سند کی تحقیق کی ہے۔ اس تحقیق کے دوران وہ اس شخص تک پہنچے ہیں جس نے خود اعتراف کیا ہے کہ ان احادیث کو اس نے گڑھ لیا ہے۔ یہاں تک نقل ہوا ہے کہ ابو عصمہ مروزی سے کہا گیا:
تم قرآن مجید کی تمام سوروں کی فضیلت کے بارے میں ان سب احادیث کو کس سند سے نقل کرتے ہو؟ عکرمہ سے اور ابن عباس سے نقل کرتے ہو؟ اس نے جواب میں کہا: جب میں نے دیکھا کہ لوگ ابو حنیفہ کی فقہ اور محمد بن اسحاق کی تاریخ کی طرف رجحان پیدا کررہے ہیں اور قرآن مجید کو اہمیت نہیں دے رہے، تو میں نے خدا کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے ان احادیث کو خود سے گڑھ لیا ہے۔ (تاکہ لوگوں کی قرآن مجید سے دلچسپی پیدا ہو)۔[10]
خدا اور رسول ﷺ پرجھوٹ اور بہتان کا عذاب
خداوند متعال اور پیغمبر اکرم ﷺ پر جھوٹ باندھنے کے قبیح اور حرام ہونے کے بارے میں صریح دلیلیں موجود ہیں مثلا پیغمبر اکرم ﷺ کی یہ حدیث: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النار"۔ جس نے بهی جان بوجھ کر مجھ پر جهوٹ باندھا اس کا ٹھکانا جھنم ہے۔
جو کہ حدیث متواتر ہے۔ اس کے باوجود جو کوئی بھی حدیث جعل کرنا چاہے وہ اہل بیت (ع) سے دور ہے۔ یہ عمل اہل بیت (ع) سے جدائی کے نتیجے میں لوگوں پر جہل کی تاریکی کے سایہ فگن ہونے کی علامت ہے۔ لیکن اہل بیت (ع) کے حقیقی پیروکاروں نے اس قسم کے موضوعات میں ہمیشہ اہل بیت (ع) کی احادیث کے صاف و شفاف سرچشمے کی طرف رجوع کیا ہے۔ وہ اس قسم کے کام (جعل حدیث) سے دور رہے ہیں۔ اصولی طور پر انہوں نے معصومین (ع) کی نورانی احادیث کے ہوتے ہوئے کسی قسم کے خلاء کا احساس نہیں کیا ہے۔
نتیجہ
قرآنی آیات کے فوائد معصومین (ع) سے متعدد منقول ہیں اور قابل اعتماد کتابوں میں درج ہیں، قرآنی آیات کے فوائد اور اثرات کو اس مختصر تحریر میں جمع کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ تاہم یہ ایک محدود کوشش ہے، کیونکہ قرآنی آیات کے فوائد کے لامحدود خزانے کو مکمل طور پر بیان کر پانا ناممکن ہے۔
حوالہ جات
[1]۔ کلینی، کافی، ج2، ص600۔
[2]۔ کلینی، کافی، ج2، ص620۔
[3]۔ صدوق، ثواب الاعمال، ص15؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج6، ص255۔
[4]۔ صدوق، ثواب الاعمال، ص117۔
[5]۔ کلینی، کافی، ج2، ص633۔
[6]۔ کلینی، کافی، ج2، ص621۔
[7]۔ کلینی، کافی، ج2، ص619۔ 620۔
[8]۔ کلینی، کافی، ج2، ص542۔
[9]۔کلینی، کافی، ج2، ص 622۔
[10]۔ قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج1، ص78۔80؛ الخوئی، البیان، ص36۔
فہرست منابع
1۔ قرآن مجید۔
2۔ ابن بابویه، محمد بن علی، ثواب الاعمال، بیروت، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، 1410ھ ق۔
3۔ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، بیروت، دار إحياء التراث العربي، 1412ھ ق۔
4۔ خوئی، ابوالقاسم، البیان فی تفسیر القرآن، قم، دار الثقلین، 1384ھ ش۔
5۔ قرطبی، محمد بن احمد، قاھرہ، دار الکتب المصریة، 1353ھ ق۔
6۔ کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، تہران، علميه اسلاميه، 1410ھ ق۔
مضمون کا مآخذ (ترمیم کے ساتھ)
ترابی، مرتضی، اہل بیت (ع) کی قرآنی خدمات، ج1، ص151 تا 155، اہل البیت (ع) عالمی اسمبلی قم، 1442ق؛ ترجمہ سید قلبی حسین رضوی۔