ماہ رمضان کے انیسویں دن کی دعا: خیرات کی راہ میں آسانی

ماہ رمضان کے انیسویں دن کی دعا: خیرات کی راہ میں آسانی

کپی کردن لینک

ماہ رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ شروع ہو چکا ہے، اور آج کی رات (انیسویں رمضان المبارک) ایک عظیم سانحے کی یادگار بھی ہے جس نے تاریخِ انسانیت کو سوگوار کر دیا۔ انیسویں دن کی دعا ہمیں اس ماہ کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے، نیکیوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور حسنات (جس کا ایک مصداق ولایتِ علیؑ ہے) کی قبولیت کی درخواست کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔

ماہ رمضان کے انیسویں دن کی دعا

أَللّهُمَّ وَفِّرْ فيهِ حَظّى مِنْ بَرَكاتِهِ وَ سَهِّلْ سَبيلى اِلى خَيْراتِهِ وَ لا تَحْرِمْنى قَبُولَ حَسَناتِهِ يا هادِياً اِلَى الْحَقِّ الْمُبينِ۔
ترجمہ: ”اے معبود! آج کے دن اس ماہ کی برکتوں میں میرا حصہ بڑھا دے، اور اس کی نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف میرا راستہ ہموار اور آسان فرما، اور میری نیکیوں کی قبولیت سے مجھے محروم نہ کر، اے روشن اور آشکار حق و حقیقت کی طرف ہدایت کرنے والے۔“

برکات سے وافر حصہ: فیض کی تکمیل

ماہ رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کا آخری حصہ اور شبِ قدر کے ایام کا آغاز ہو چکا ہے۔ انیسویں دن کی دعا ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن موڑ پر آتی ہے۔ یہ وہ دن ہے جب آسمان سے تقدیر کے فیصلے زمین پر اترتے ہیں اور مسجد کوفہ کا محراب خون سے رنگین ہوتا ہے۔ انیسویں دن کی دعا محض الفاظ کی تکرار نہیں، بلکہ یہ انسان کی روحانی پیاس، اس کی عملی جدوجہد اور اس کے عقیدے کی درستگی کا ایک مکمل منشور ہے۔ اس دعا میں ہم اللہ سے تین بنیادی درخواستیں کرتے ہیں: برکات سے بھرپور حصہ، نیکیوں کی طرف آسان راستہ، اور حسنات (ولایت) کی قبولیت۔

دعا کے پہلے اور بنیادی حصے میں برکات میں اضافے اور وافر حصے کی درخواست کی گئی ہے: أَللّهُمَّ وَفِّرْ فيهِ حَظّى مِنْ بَرَكاتِهِ (اے اللہ! میرے لیے اس مہینے کی برکتوں میں سے وافر حصہ قرار دے)۔ انیسویں دن کی دعا میں لفظ ”وفر“ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے کسی چیز کا بھرپور، مکمل اور زیادہ سے زیادہ حصہ لینا۔ ہم اللہ سے یہ نہیں کہہ رہے کہ بس تھوڑی سی برکت دے دے، بلکہ ہم کہہ رہے ہیں کہ برکتوں کا سیلاب ہماری جھولی میں ڈال دے۔

برکت کا تعلق کبھی اشخاص سے ہوتا ہے (جیسے رسول اللہ (ص) اور علی (ع) کی ذاتِ مبارکہ)، کبھی مکان سے ہوتا ہے (جیسے مکہ، مدینہ اور کربلا کی زمین)، اور کبھی زمان سے ہوتا ہے (جیسے شبِ جمعہ یا ماہِ رمضان المبارک)۔ انیسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ برکت کا مطلب محض ”زیادتی“ نہیں، بلکہ ”نمو، خیر اور نفع بخش ہونا“ ہے۔ جس طرح حضرت عیسیٰ (ع) کو اللہ نے "مبارک” قرار دیا یعنی نفع پہنچانے والا[1]، اسی طرح ماہ رمضان المبارک برکتوں کا مہینہ ہے۔

یہاں انیسویں دن کی دعا کا ایک گہرا تعلق ”لیلة القدر“ سے بھی ہے۔ روایات کے مطابق 19 رمضان کی رات، شب قدر کی پہلی ممکنہ رات ہے۔ اس رات اللہ کی برکتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں۔ اس میں انسان کا رزق، عمر اور خوشبختی لکھی جاتی ہے۔ لہٰذا، انیسویں دن کی دعا مانگنے والا بندہ اللہ سے عرض کرتا ہے کہ ”یا رب! جب تو آج رات اپنی مخلوق میں رزق اور رحمت تقسیم کرے، تو میرا حصہ کم نہ رکھنا، بلکہ مجھے ’وفر‘ (بھرپور) حصہ عطا کرنا“۔

برکت کی حقیقت یہ ہے کہ تھوڑی چیز بھی کفایت کر جائے۔ اگر وقت میں برکت ہو تو انسان تھوڑی عمر میں وہ کام کر جاتا ہے جو صدیاں زندہ رہتا ہے (جیسے کربلا کے شہداء)۔ اگر مال میں برکت ہو تو تھوڑا رزق بھی سکون دیتا ہے۔ اس دعا میں ہم محض دنیاوی فائدے کے طلبگار نہیں بلکہ "توفیر” (وافر حصے) کے متمنی ہیں تاکہ ہماری روحانی اور دنیوی زندگی سیراب ہو سکے۔ انیسویں دن کی دعا ہمیں لالچ (Greed) نہیں بلکہ ”عالی ظرفی“ سکھاتی ہے کہ اللہ کے خزانے لامحدود ہیں، اس لیے مانگتے وقت کنجوسی نہ کرو۔

خیرات کی راہ میں آسانی: سبقت الی الخیر

دعا کا دوسرا اہم اور عملی جزو نیکیوں کی طرف راستہ ہموار کرنا ہے: وَ سَهِّلْ سَبيلى اِلى خَيْراتِهِ (اور اس کی نیکیوں کی طرف میرا راستہ آسان کر دے)۔ انیسویں دن کی دعا یہاں انسانی نفسیات اور شیطان کی دشمنی کو مدنظر رکھتی ہے۔

نیکی کا راستہ اکثر دشوار گزار، کٹھن اور کانٹوں بھرا ہوتا ہے، جبکہ گناہ کا راستہ بظاہر آسان اور ڈھلوان والا ہوتا ہے۔ جب انسان نیکی (نماز، روزہ، صدقہ) کا ارادہ کرتا ہے، تو نفس کی سستی اور شیطان کے وسوسے رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ کبھی دوستوں کا دباؤ، کبھی مال کی محبت اور کبھی وقت کی کمی آڑے آتی ہے۔ انیسویں دن کی دعا میں ہم اللہ سے ”تسہیل“ (آسانی) مانگ رہے ہیں۔ ہم کہہ رہے ہیں: ”یا اللہ! نیکی کرنا مشکل ہے، تو اپنی توفیق سے اسے میرے لیے اتنا آسان بنا دے جیسے پانی کا بہاؤ“۔

قرآن کا حکم ہے: ”نیکیوں کی طرف سبقت کرو (تیزی سے بڑھو)“[2]۔ یہ سبقت تبھی ممکن ہے جب راستے کی رکاوٹیں ہٹ جائیں۔ انیسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ اصل رکاوٹ باہر نہیں، ہمارے اندر ہے۔

امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں کہ حقیقی "خیر” مال و اولاد کی کثرت نہیں، کیونکہ یہ چیزیں تو کافر کے پاس بھی ہو سکتی ہیں، بلکہ حقیقی خیر ”علم کی زیادتی اور حلم کی عظمت“ ہے[3]۔ یعنی انسان علم کے ذریعے خدا کو پہچانے اور حلم (برداشت) کے ذریعے مخلوق کی خدمت کرے۔

امام موسیٰ کاظم (ع) نے آیت "رکوع و سجود کرو اور کارِ خیر انجام دو” کی تفسیر میں ایک بہت بڑا راز افشا فرمایا کہ "کارِ خیر” سے مراد رسول اللہ (ص) کے بعد امیر المومنین علی (ع) کی اطاعت اور معرفت ہے[4]۔ پس، انیسویں دن کی دعا میں جب ہم خیرات کی طرف آسانی مانگتے ہیں، تو درحقیقت ہم ولایتِ علی (ع) کے راستے پر چلنے کی استقامت مانگ رہے ہوتے ہیں۔

حسنات کی قبولیت اور حب علی (ع)

تیسرا اور سب سے اہم تقاضا نیکیوں کی قبولیت سے محرومی کا نہ ہونا ہے: وَ لا تَجْعَلْنى فيهِ مَحْرُوماً مِنْ قَبُولِ حَسَناتِهِ (اور مجھے اس مہینے کی نیکیوں کی قبولیت سے محروم نہ کر)۔ انیسویں دن کی دعا کا یہ حصہ آج کے دن کی مناسبت سے دل دہلا دینے والا ہے۔

عمل کرنا ایک بات ہے اور عمل کا ”قبول“ ہونا دوسری بات ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو دن بھر بھوکے پیاسے رہتے ہیں لیکن انہیں بھوک کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ انیسویں دن کی دعا ہمیں خبردار کرتی ہے کہ کہیں ہماری ٹوکری میں سوراخ تو نہیں؟ کہیں ہم نیکی کما رہے ہوں اور وہ ضائع ہو رہی ہو؟

قرآن کریم میں "حسنہ” کا ذکر ہے: ”جو کوئی نیکی (حسنہ) لائے گا اسے اس سے بہتر اجر ملے گا“[5]۔ عام طور پر حسنہ سے مراد نیکی لی جاتی ہے، لیکن انیسویں دن کی دعا کی گہرائی میں جائیں تو امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ "حسنہ” سے مراد اہل بیت (ع) کی ولایت اور محبت ہے، اور "سیئہ” سے مراد ان کا بغض ہے۔ جو شخص ولایت کے ساتھ آئے گا اسے دس گنا اجر ملے گا، اور جو بغض کے ساتھ آئے گا اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈالا جائے گا[6]۔

آج انیسویں رمضان المبارک ہے، جو تاریخِ اسلام کا وہ المناک دن ہے جب نمازِ فجر کے دوران مسجدِ کوفہ میں امیر المومنین علی (ع) کے سرِ اقدس پر زہر آلود تلوار سے وار کیا گیا۔ یہ وہی علی (ع) ہیں جن کی محبت کو ”حسنہ“ کہا گیا۔ انیسویں دن کی دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آج کے دن ”خیر العمل“ (بہترین عمل) کو شہید کیا گیا۔

رسول اللہ (ص) نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ یا علی! تم ماہِ رمضان میں شہید کیے جاؤ گے اور تمہاری داڑھی تمہارے سر کے خون سے رنگین ہو جائے گی۔ اس وقت علی (ع) نے یہ نہیں پوچھا کہ میرا قاتل کون ہوگا یا مجھے درد کتنا ہوگا؟ بلکہ انہوں نے پوچھا: اَ فِی سَلَامَةٍ مِنْ دِینِی؟ (کیا اس وقت میرا دین سلامت ہوگا؟)۔ آپ (ص) نے فرمایا: "ہاں، تمہارا دین سلامت ہوگا”[7]۔

انیسویں دن کی دعا میں جب ہم ”قبولِ حسنات“ کی بات کرتے ہیں، تو اس کا سیدھا تعلق اسی واقعہ سے ہے۔ علی (ع) نے ضربت کھا کر فرمایا: فزت و رب الکعبہ (رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا)۔ ان کا عمل قبول ہو گیا۔ لیکن ان کے قاتل ابن ملجم (لعین) کا کیا بنا؟ وہ ساری رات عبادت کرتا تھا، حافظ قرآن تھا، لیکن اس کے پاس ”ولایت“ نہیں تھی، اس لیے وہ بدترین مخلوق (اشقی الآخرین) بن گیا۔

انیسویں دن کی دعا ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ عمل کی مقدار پر مت جاؤ، بلکہ عمل کی ”روح“ (ولایت) پر جاؤ۔ اگر دل میں علی (ع) کی محبت نہیں، تو عبادتوں کے ڈھیر بھی قبولیت کے دروازے نہیں کھول سکتے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ولایتِ علی (ع) وہ عظیم "حسنہ” ہے جس کے بغیر کوئی عمل قابلِ قبول نہیں۔ اسی لیے ہم دعا کے آخر میں اللہ کی اس صفت کا واسطہ دیتے ہیں جو ہر حق بات کو واضح کرتی ہے (يَا هَادِياً إِلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ)، کہ اے اللہ! ہمیں حق (علیؑ) کی پہچان کروا دے تاکہ ہماری حسنات قبول ہو سکیں۔

نتیجہ

ماہ رمضان المبارک کے انیسویں دن کی دعا ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ ہمیں اس ماہ کی برکتوں کو سمیٹنے میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔ نیکیوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے خدا سے مدد مانگنی چاہیے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری تمام نیکیوں اور عبادتوں کی قبولیت کی بنیاد "ولایت علی (ع)” ہے، جس کی حفاظت کے لیے ہمیں ہر قربانی دینے کو تیار رہنا چاہیے۔

حوالہ جات

[1] سورہ مریم، آیت 31۔
[2] سورہ بقرہ، آیت 148۔
[3] شریف رضی، نہج البلاغہ، حکمت 94۔
[4] بحرانی، تفسیر البرہان، ج 3، ص 911۔
[5] سورہ نمل، آیت 89۔
[6] مجلسی، بحار الانوار، ج 24، ص 45۔
[7] طبری، بشارۃ المصطفیٰ، ص 58۔

فہرست منابع

1۔ قرآن کریم۔
2۔ بحرانی، سید ہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، قم، موسسہ بعثت، 1374ش۔
3۔ راوندی، قطب الدین، فقہ القرآن، قم، مکتبہ آیۃ اللہ مرعشی، 1405ق۔
4۔ شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، قم، انتشارات ہجرت، 1414ق۔
5۔ طبری، محمد بن ابو القاسم، بشارۃ المصطفیٰ لشیعۃ المرتضیٰ، نجف، مکتبہ حیدریہ، 1383ق۔
6۔ علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، قم، دار الکتاب، 1367ش۔
7۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
8۔ مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ش۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔