ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ، جو نجات کا عشرہ ہے، اپنے عروج پر ہے۔ بائیسویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے اس کے فضل و کرم کے دروازے کھولنے، برکتوں کے نزول، رضائے الٰہی کے حصول اور جنت کے بہترین مقام (وسطِ جنت) میں سکونت کی درخواست کرتا ہے۔ یہ دعا انسان کو دنیوی اور اخروی دونوں جہانوں میں سُرخروئی کی نوید سناتی ہے۔
ماہ رمضان کے بائیسویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ افْتَحْ لى فيهِ أَبْوابَ فَضْلِكَ وَ أَنْزِلْ عَلَىَّ فيهِ بَرَكاتِكَ وَ وَفِّقْنى فيهِ لِمُوجِباتِ مَرْضاتِكَ وَ أَسْكِنّى فيهِ بُحْبُوحاتِ جَنّاتِكَ يا مُجيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرّينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! آج کے دن میرے لیے اپنے فضل و کرم کے دروازے کھول دے، اور اس میں اپنی برکتیں مجھ پر نازل فرما، اور اس میں مجھے اپنی خوشنودی کے اسباب فراہم کرنے کی توفیق عطا کر، اور اس کے دوران مجھے اپنے بہشتوں کے درمیان بسا دے، اے بے بسوں کی دعا قبول کرنے والے۔“
ابواب فضل: معصومین (ع) کا وسیلہ
بائیسویں دن کی دعا کے پہلے حصے میں ہم اللہ سے اس کے فضل کے دروازے کھولنے کی مانگ کرتے ہیں: أَللّهُمَّ افْتَحْ لى فيهِ أَبْوابَ فَضْلِكَ۔
اللہ کے فضل تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ سیدھے راستے ہوں۔ بائیسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ شارٹ کٹ تلاش کرنے والے اور غلط راستوں پر چلنے والے اکثر بھٹک جاتے ہیں۔ جب اللہ کا فضل کسی انسان پر ہوتا ہے تو وہ اسے ہمیشہ اپنی توجہ کا مرکز بنا لیتا ہے۔ اسی لیے ہم ہر نماز میں سیدھے راستے کی ہدایت مانگتے ہیں۔
فضل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہمیں ہمارے عمل سے بڑھ کر بدلہ دے۔ اگر اللہ ہم سے صرف انصاف (عدل) کرے گا تو ہمارے عمل اتنے کمزور ہیں کہ ہم پکڑے جائیں گے، اس لیے ہم بائیسویں دن کی دعا میں اس کا فضل مانگتے ہیں۔ اللہ کے فضل کا سب سے بڑا دروازہ ہمارے پیارے نبی (ص) اور ان کی پاک آل (ع) ہیں۔
جس طرح ایک باغ کا رکھوالا بہترین پھلوں کو چنتا ہے، اسی طرح اللہ نے ان پاک ہستیوں کو چن کر ہم پر اپنے کرم اور فضل کا دروازہ کھول دیا ہے۔ بائیسویں دن کی دعا پڑھتے ہوئے ہمیں یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اگر ان کی نظر کرم ہو جائے تو ایک معمولی ذرہ بھی چمکتا ہوا سورج بن سکتا ہے۔
برکات الٰہی: دنیا و آخرت کی بھلائی
بائیسویں دن کی دعا کا دوسرا اہم حصہ برکتوں کے اترنے کی درخواست ہے: وَ أَنْزِلْ عَلَىَّ فيهِ بَرَكاتِكَ۔
ہم اس دعا میں صرف ایک برکت نہیں بلکہ ہر طرح کی برکتوں کے طلبگار ہیں۔ بائیسویں دن کی دعا ہمیں وہ سلیقہ سکھاتی ہے جو قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی دے[1]۔
آج کے دور میں لوگوں کے پاس پیسہ اور وسائل تو بہت ہیں، لیکن زندگیوں سے برکت اٹھ گئی ہے۔ برکت کا مطلب صرف چیزوں کا زیادہ ہونا نہیں ہے، بلکہ ان کا فائدہ مند ہونا ہے۔ برکت عمر میں ہو، مال میں ہو، یا بچوں میں، اصل چیز اس کا اچھا اور نیک ہونا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگوں کے پاس مال اور بچوں کی بہت زیادتی ہوتی ہے مگر ان کی زندگی میں سکون نہیں ہوتا۔
بائیسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ برکت یہ ہے کہ انسان کا مال اور عمر انسانیت کی بھلائی کے کام آئے۔ محض لمبی عمر برکت نہیں ہے، بلکہ ایسی زندگی جس میں انسان اچھے کام کرے، وہ اصل برکت ہے۔ جب ہم اپنی کمائی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، زکوٰۃ اور خمس دیتے ہیں، تو یہ ہمارے مال میں برکت کا سبب بنتا ہے۔ بائیسویں دن کی دعا کے ذریعے ہم اللہ سے یہی فائدہ مند اور برکت والی زندگی مانگتے ہیں۔
موجبات مرضات: رضائے الٰہی کے اسباب
تیسرا حصہ اللہ کی خوشی حاصل کرنے کے اسباب کی توفیق ہے: وَ وَفِّقْنى فيهِ لِمُوجِباتِ مَرْضاتِكَ۔
اللہ کی خوشی اور رضا دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ بائیسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ اس خوشی کو حاصل کرنے کا سب سے سیدھا راستہ "حلال روزی” اور "اللہ کی مخلوق کی خدمت” ہے۔ حلال روزی کمانا اور کھانا انسان کے دل کو نرم کرتا ہے اور اسے اپنی خامیاں دور کرنے کی طرف لاتا ہے۔ حرام لقمہ انسان کو نیکی سے دور کر دیتا ہے۔
اللہ کی خوشی ان بندوں کی خدمت میں چھپی ہے جو ضرورت مند ہیں۔ بائیسویں دن کی دعا ہمیں اس دکاندار کی مثال یاد دلاتی ہے جس نے ایک غریب عورت کی عزت کا خیال رکھتے ہوئے، اسے احساس دلائے بغیر سستے داموں پھل دیے تاکہ وہ اپنے یتیم بچوں کا پیٹ پال سکے۔ بائیسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ یہی وہ اصل تجارت ہے جو اللہ کے ساتھ کی جاتی ہے۔ اس تجارت میں کوئی نقصان نہیں ہوتا اور اس کا سب سے بڑا منافع اللہ کی خوشنودی ہے۔ بائیسویں دن کی دعا پڑھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے اندر دوسروں کا درد محسوس کرنے کی عادت ڈالیں۔
بحبوحات جنات: جنت کا وسط
چوتھا درجہ جنت کے سب سے اچھے اور درمیانی مقام کی طلب ہے: وَ أَسْكِنّى فيهِ بُحْبُوحاتِ جَنّاتِكَ۔
"بحبوحات” کا مطلب کسی جگہ کا درمیانی اور سب سے اعلیٰ حصہ ہے۔ جس طرح دنیا میں شہر کے مختلف علاقوں کی اہمیت اور قیمت الگ الگ ہوتی ہے، اسی طرح جنت کے درجے بھی مختلف ہیں۔ بائیسویں دن کی دعا ہماری سوچ کو بڑا کرتی ہے اور ہمیں بلند ہمتی سکھاتی ہے۔ جنت کا درمیانی اور سب سے اونچا حصہ نبیوں اور پاک اماموں (ع) کے رہنے کی جگہ ہو سکتا ہے، اس لیے ہم بائیسویں دن کی دعا کے ذریعے وہاں رہنے کی تمنا کرتے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت جعفر طیار (ع) اور حضرت عباس (ع) نے اللہ کی راہ میں اپنے بازو کٹوائے، تو اللہ نے انہیں جنت میں دو پر عطا کیے جن سے وہ جنت میں جہاں چاہیں اڑ سکتے ہیں[2]۔ بائیسویں دن کی دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ اونچا مقام ہر کسی کو آسانی سے نہیں ملتا، اس کے لیے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔ لیکن ہمارا رب بہت کریم ہے، اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں، اس لیے اس سے بڑی سے بڑی چیز مانگنی چاہیے۔ بائیسویں دن کی دعا ہمیں یہ حوصلہ دیتی ہے کہ ہم اپنے گناہوں کو نہ دیکھیں بلکہ اللہ کی رحمت کو دیکھ کر بڑی منزل کی طلب کریں۔
دعائے مضطر: بے بسوں کا سہارا
بائیسویں دن کی دعا کا آخری حصہ اس پکے یقین پر ختم ہوتا ہے کہ اللہ ہی بے بسوں اور لاچاروں کی پکار سنتا ہے: يا مُجيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرّينَ۔
جب انسان ہر طرف سے مشکلوں میں گھر جاتا ہے، اس کے سارے راستے بند ہو جاتے ہیں، اور دنیا کا کوئی سہارا باقی نہیں رہتا، تب ہی اس کا دل سچے معنوں میں بے بس اور لاچار ہوتا ہے۔ بالکل اس شخص کی طرح جو بیچ سمندر میں ڈوب رہا ہو اور اسے بچانے والا کوئی نہ ہو۔ بائیسویں دن کی دعا کے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اسی بے بسی اور ٹوٹے ہوئے دل کی حالت میں نکلنے والی دعا اللہ کے ہاں فوراً قبول ہوتی ہے۔
ایک سچا مسلمان ہمیشہ اللہ کی مدد اور توفیق کا محتاج رہتا ہے[3]۔ بائیسویں دن کی دعا ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم دنیا میں چاہے کتنے ہی طاقتور یا مالدار کیوں نہ ہو جائیں، اللہ کے سامنے ہم بالکل بے بس فقیر ہیں۔ اور یہی بے بسی ہماری سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے جب ہم سچے دل سے اللہ کو پکارتے ہیں۔
قرآن مجید کی مشہور آیت (أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذا دَعاهُ) اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ بائیسویں دن کی دعا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کو پکارنے کے لیے بلند آواز کی نہیں، بلکہ تڑپتے ہوئے دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب بندہ اپنے رب کو ”یا اللہ“ کہتا ہے تو اس کی یہ پکار آسمان کے دروازے چیرتی ہوئی عرش تک پہنچ جاتی ہے۔ لہٰذا، بائیسویں دن کی دعا کا یہ حصہ مایوسی کے اندھیروں میں امید کا وہ چراغ ہے جو بتاتا ہے کہ جب سب چھوڑ جائیں، تب بھی وہ رب موجود ہے جو صرف سنتا ہی نہیں، بلکہ جواب بھی دیتا ہے۔
نتیجہ
ماہ رمضان المبارک کے بائیسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے فضل تک پہنچنے کا راستہ اہل بیت (ع) ہیں۔ برکت صرف مال کی زیادتی نہیں بلکہ اس کا صحیح استعمال ہے۔ رضائے الٰہی خدمتِ خلق میں ہے، اور جنت کے اعلیٰ درجات کی تمنا کرنا مومن کا حق ہے، بشرطیکہ وہ "مضطر” ہو کر اپنے رب کو پکارے۔
حوالہ جات
[1] سورہ بقرہ، آیت 201۔
[2] صدوق، خصال، ج 1، ص 68۔
[3] حرانی، تحف العقول، ص 457۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ حرانی، ابن شعبہ، تحف العقول عن آل الرسول، قم، جامعہ مدرسین، 1404ق۔
3۔ صدوق، محمد بن علی، الخصال، قم، جامعہ مدرسین، 1362ش۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔