ماہ رمضان کے تئیسویں دن کی دعا: طہارت ذنوب

ماہ رمضان کے تئیسویں دن کی دعا: طہارت ذنوب

کپی کردن لینک

ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ جاری ہے اور آج کی دعا ایک "روحانی غسل” کی مانند ہے۔ تئیسویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے گناہوں کی صفائی، عیبوں کی طہارت اور دلوں کے تقویٰ کے ذریعے آزمائش میں کامیابی کی درخواست کرتا ہے۔ یہ دعا انسان کو ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی نجاستوں سے پاک کرنے کا منشور ہے۔

ماہ رمضان کے تئیسویں دن کی دعا

أَللّهُمَّ اغْسِلْنى فيهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَ طَهِّرْنى فيهِ مِنَ الْعُيُوبِ وَ امْتَحِنْ قَلْبى فيهِ بِتَقْوَى الْقُلُوبِ يا مُقيلَ عَثَراتِ الْمُذْنِبينَ۔
ترجمہ: ”اے میرے معبود! اس دن میرے وجود کو گناہوں کی آلودگی سے صاف کر دے، اور مجھے عیوب و نقائص کی گندگی سے پاک کر دے، اور آج دلوں کی پرہیزگاری کے لیے میرے قلب کو آزما لے (سرخرو کر دے)، اے گناہگاروں کی لغزشوں سے درگزر کرنے والے۔“

گناہوں سے غسل: مطلق اور نسبی گناہ

رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سایہ فگن ہے، اور خاص طور پر تئیسویں رات کو شب قدر کی راتوں میں انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ اسی مناسبت سے تئیسویں دن کی دعا ایک عام دعا نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی مکمل روحانی صفائی اور باطنی تبدیلی کا ایک جامع اور گہرا نصاب ہے۔ اس دعا میں ہم محض ظاہری معافی نہیں مانگتے، بلکہ اپنے وجود کو گناہوں کی گندگی، دل کو چھپے ہوئے عیوب اور اپنی نیتوں کو کڑے امتحان سے گزارنے کی بات کرتے ہیں۔ تئیسویں دن کی دعا ہمیں بیداری کا وہ سبق دیتی ہے جس سے ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنور سکتی ہیں۔

دعا کے پہلے اور نہایت اہم حصے میں گناہوں سے مکمل طور پر دھل جانے کی درخواست کی گئی ہے: أَللّهُمَّ اغْسِلْنى فيهِ مِنَ الذُّنُوبِ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں گناہوں سے غسل دے دے / دھو ڈال)۔ تئیسویں دن کی دعا میں "معاف کرنے” کے بجائے "دھونے” یا غسل دینے کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معافی کا مطلب سزا سے بچنا ہے، لیکن غسل کا مطلب اس گندگی اور سیاہ دھبے کو بھی صاف کرنا ہے جو گناہ کے نتیجے میں روح پر لگ جاتا ہے۔

عام طور پر معاشرے میں گناہ کا تصور صرف "حرام کام کرنے” (جیسے جھوٹ، چوری، غیبت) تک محدود سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اسلام کی نظر میں "واجب کام نہ کرنا” (جیسے نماز چھوڑنا، حقوق ادا نہ کرنا) بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے۔ تئیسویں دن کی دعا کی روشنی میں گناہ کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں جنہیں سمجھنا ہماری روحانی تربیت کے لیے ضروری ہے:

  1. گناہ مطلق: اس سے مراد شریعت کے وہ واضح حرام کام کرنا یا واجبات کو ترک کرنا ہے، جو ہر عام و خاص انسان کے لیے گناہ شمار ہوتے ہیں۔

  2. گناہ نسبی: اس سے مراد کسی انتہائی بلند مرتبہ اور مقرب شخص کا کوئی ایسا کام کرنا ہے جو عام انسان کے لیے تو جائز ہو، لیکن اس مقرب ہستی کے بلند مقام اور شان کے خلاف ہو۔ اسے دینی اصطلاح میں "ترکِ اولیٰ” (بہتر کام کو چھوڑ دینا) کہتے ہیں۔

تئیسویں دن کی دعا ہمیں انبیائے کرام (ع) کی زندگیوں سے یہ باریک نقطہ سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔ مثال کے طور پر حضرت یعقوب (ع) جیسے جلیل القدر نبی کو اپنے چہیتے بیٹے حضرت یوسف (ع) کی جدائی اور فراق کی اتنی طویل اور کٹھن مصیبت اس لیے جھیلنی پڑی کہ ایک سائل (مانگنے والا) ان کے دروازے پر آیا اور خالی ہاتھ لوٹ گیا۔ اگرچہ سائل کو کچھ نہ دینا بذاتِ خود کوئی حرام کام نہیں تھا، لیکن ایک نبی کے سخی اور مہربان دروازے سے کسی کا خالی لوٹ جانا ان کی شان اور مرتبے کے خلاف تھا[1]۔

یہی وجہ ہے کہ تئیسویں دن کی دعا مانگتے ہوئے ہمیں اپنے ان گناہوں پر بھی نظر کرنی چاہیے جنہیں ہم بظاہر معمولی سمجھتے ہیں۔ دعائے کمیل میں ہم اللہ کے حضور رو رو کر ان گناہوں کی معافی مانگتے ہیں جو ہمیں دی گئی نعمتوں کو بدل دیتے ہیں، جو ہماری دعاؤں کی قبولیت کے راستے کو روک دیتے ہیں اور جو آسمان سے بلاؤں کے اترنے کا سبب بنتے ہیں۔ تئیسویں دن کی دعا ہمیں احساس دلاتی ہے کہ جب تک گناہوں کا یہ بوجھ اور گندگی دھل نہیں جاتی، روح ہلکی نہیں ہو سکتی۔

عیوب سے طہارت: باطنی اصلاح

دعا کا دوسرا اہم اور کٹھن جزو اپنے پوشیدہ عیبوں سے پاکی حاصل کرنا ہے: وَ طَهِّرْنى فيهِ مِنَ الْعُيُوبِ (اور مجھے اس مہینے میں تمام عیبوں سے پاک کر دے)۔

تئیسویں دن کی دعا کا یہ حصہ ہماری توجہ معاشرے کی ایک بہت بڑی غلط فہمی کی طرف دلاتا ہے۔ آج کل اکثر لوگ اپنی ظاہری شخصیت، لباس اور رکھ رکھاؤ کو سنوارنے میں دن رات ایک کر دیتے ہیں، لیکن اپنے باطنی اور اندرونی عیوب (جیسے حسد، غرور، دکھاوا، بغض اور لالچ) کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ تئیسویں دن کی دعا ہمیں یہ حقیقت بتاتی ہے کہ ظاہری گناہوں سے زیادہ باطنی عیوب خطرناک ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اندر کی بیماریاں ہی باہر کے ظاہری گناہوں (جیسے قتل، چوری، غیبت) کا سبب بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر قابیل نے ہابیل کا قتل بظاہر ہاتھ سے کیا، لیکن اس قتل کی اصل وجہ وہ "حسد” تھا جو اس کے دل میں چھپا ہوا تھا۔ اسی طرح شیطان کا ظاہری عمل سجدے سے انکار تھا، لیکن اس کی جڑ وہ "غرور” تھا جو اس کے باطن میں موجود تھا۔

تئیسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر دل حسد، کینے اور دکھاوے سے پاک ہو جائے تو انسان کے ظاہری اعمال اور اخلاق خود بخود درست اور خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ قیامت کے دن اصل کامیابی ظاہری حسن، مال یا عہدے میں نہیں ہے، بلکہ اس کا دارومدار صرف اور صرف "قلبِ سلیم” (وہ دل جو ہر برائی اور غیر اللہ کی محبت سے سلامت ہو) میں ہے۔

تقویٰ کا امتحان: دل کی کڑی آزمائش

دعا کا تیسرا اور فیصلہ کن تقاضا دلوں کا امتحان اور آزمائش ہے: وَ امْتَحِنْ قَلْبى فيهِ بِتَقْوَى الْقُلُوبِ (اور اس مہینے میں میرے دل کا تقویٰ کے ذریعے امتحان لے / آزما)۔

تئیسویں دن کی دعا کا یہ آخری جملہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ، ہر رشتہ اور ہر صورتحال دراصل ایک امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ”یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے تقویٰ کے لیے آزما لیا ہے“[2]۔ دل کے امتحان کے کئی مقامات اور میدان ہیں جن کی طرف تئیسویں دن کی دعا اشارہ کرتی ہے:

  • عبادت میں امتحان: جب ہم نماز پڑھتے ہیں یا روزہ رکھتے ہیں، تو دل کا امتحان یہ ہوتا ہے کہ کیا اس میں صرف اللہ کی رضا شامل ہے یا لوگوں کو دکھانا مقصود ہے؟[3]۔

  • علم اور قابلیت کا امتحان: جو علم ہم حاصل کرتے ہیں، کیا وہ خدا کی خوشنودی اور لوگوں کی بھلائی کے لیے ہے، یا اس کے پیچھے صرف دنیا کی شہرت، ڈگریاں اور بڑا نام کمانے کی ہوس ہے؟

  • اختلافات اور بحث کا امتحان: جب ہمارا کسی سے اختلاف ہوتا ہے، تو کیا ہماری بحث حق کو ثابت کرنے کے لیے ہوتی ہے، یا محض اپنی انا کی تسکین اور دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے؟[4]۔

  • خواہشات اور مال و اولاد کا امتحان: مال و اولاد کی محبت انسان کی فطرت میں ہے، لیکن آزمائش اس بات میں ہے کہ انسان ان کی خاطر حلال و حرام کی تمیز بھول جاتا ہے یا نہیں؟[5]۔

  • عہدے، کرسی اور خاندانی رتبے کا امتحان: کیا کوئی بڑا عہدہ ملنے پر انسان میں رعونت اور غرور آ جاتا ہے، یا وہ مزید عاجز اور اللہ کے سامنے جھکنے والا بن جاتا ہے؟

تقویٰ کا اصل مقام اور تعلق انسان کے دل سے ہے۔ قرآن مجید واضح الفاظ میں کہتا ہے: ”جو شعائر اللہ کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے“[6]۔ تئیسویں دن کی دعا کا نچوڑ یہی ہے کہ جب تک دل خوفِ خدا کا لباس نہیں پہنے گا اور متقی نہیں ہوگا، تب تک انسان کے اعضاء (آنکھ، کان، ہاتھ، پاؤں) گناہوں کی کشش سے نہیں بچ سکتے۔ لہٰذا یہ دعا درحقیقت دل کو زندہ کرنے اور اسے اللہ کی بارگاہ میں سرخرو کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

نتیجہ

ماہ رمضان المبارک کے تئیسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی طہارت صرف جسمانی غسل سے نہیں بلکہ گناہوں اور عیوب سے پاک ہونے میں ہے۔ اور کامیابی کا راز اس میں ہے کہ ہمارا دل دنیوی آزمائشوں (مال، اولاد، عہدہ) میں تقویٰ پر قائم رہے، اور یہ سب کچھ اسی "مقیل العثرات” (لغزشوں کو معاف کرنے والے) کی توفیق سے ممکن ہے۔

حوالہ جات

[1] حویزی، نور الثقلین، ج 2، ص 411۔
[2] سورہ حجرات، آیت 3۔
[3] سورہ فرقان، آیت 23۔
[4] سورہ نحل، آیت 125۔
[5] سورہ تغابن، آیت 15۔
[6] سورہ حج، آیت 32۔

فہرست منابع

1۔ قرآن کریم۔
2۔ حویزی، عبد علی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، قم، اسماعیلیان، 1415ق۔
3۔ مفاتیح الجنان (دعائے کمیل)۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔