ماہ رمضان کے دسویں دن کی دعا: قرب الہی کی جستجو

ماہ رمضان کے دسویں دن کی دعا: قرب الہی کی جستجو

2026-02-27

38 مشاہدات

کپی کردن لینک

ماہ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ اپنی برکتوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ رمضان المبارک کے دسویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے تین عظیم ترین مراتب کا سوال کرتا ہے: توکل کی طاقت، اخروی کامیابی اور قربِ الٰہی کا شرف۔ رمضان المبارک کی یہ دعا انسان کو دنیوی اسباب سے ہٹا کر مسبب الاسباب (اللہ) پر یقین رکھنے کی دعوت دیتی ہے اور اسے فانی دنیا کی بجائے ابدی فوز و فلاح کا راستہ دکھاتی ہے۔

ماہ رمضان کے دسویں دن کی دعا

أَللّهُمَّ اجْعَلْنى فيهِ مِنَ الْمُتَوَكِّلينَ عَلَيْكَ وَاجْعَلْنى فيهِ مِنَ الْفآئِزينَ لَدَيْكَ وَاجْعَلْنى فيهِ مِنَ الْمُقَرَّبينَ اِلَيْكَ بِاِحْسانِكَ يا غايَةَ الطّالِبينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! مجھے اس مہینے میں تجھ پر توکل اور بھروسہ کرنے والوں کے زمرے میں قرار دے، اور اس میں مجھے اپنے نزدیک کامیابی اور فلاح عطا فرما، اور اپنی بارگاہ کے مقربین میں قرار دے، اپنے احسان کے واسطے، اے تلاش کرنے والوں کی تلاش کے آخری مقصود۔“

توکل: حرکت اور یقین کا امتزاج

ماہِ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ (عشرہ رحمت) اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ دسویں دن کی دعا اس عشرے کا نچوڑ اور ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ وہ دن ہے جب انسان اپنی دس دنوں کی ریاضت کو سمیٹتے ہوئے اللہ کے حضور اپنی حتمی منزل کا تعین کرتا ہے۔ دسویں دن کی دعا میں مومن اپنے رب سے عام لوگوں کی طرح دنیا نہیں مانگتا، بلکہ وہ توکل، کامیابی (فوز) اور قربت کے بلند ترین درجات کا سوال کرتا ہے۔ یہ دعا انسان کو ”اسلامِ ظاہری“ سے نکال کر ”ایمانِ حقیقی“ کی گہرائیوں میں لے جاتی ہے۔

رمضان المبارک کی اس دعا کے پہلے حصے میں توکل کی درخواست کی گئی ہے: أَللّهُمَّ اجْعَلْنى فيهِ مِنَ الْمُتَوَكِّلينَ عَلَيْكَ۔

اسلام میں توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں، بلکہ اپنی تمام تر کوشش کے بعد نتیجے کو اللہ پر چھوڑ دینا ہے۔ کچھ لوگ توکل اور "تواکل” (سستی و کاہلی) میں فرق نہیں کرتے۔

ایک مرتبہ رسول خدا (ص) سے کسی نے پوچھا کہ کیا میں اونٹ کو اللہ کے بھروسے پر کھلا چھوڑ دوں؟ آپ (ص) نے فرمایا: ”پہلے اسے باندھو، پھر توکل کرو“[1]۔

اسی طرح جب کچھ لوگ آیتِ کریمہ ”اور جو کوئی خدا کی پرواہ کرتا ہے وہ اس کے لیے (مشکل سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے…“[2] سن کر گھر بیٹھ گئے اور عبادت میں مشغول ہو گئے، تو پیغمبر (ص) نے انہیں ٹوکا اور فرمایا: ”تم توکل کرنے والے نہیں بلکہ سستی کرنے والے ہو، جاؤ اور کام کرو، ورنہ تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی“[3]۔

توکل درحقیقت ایک نفسیاتی اطمینان کا نام ہے کہ انسان اپنا فرض ادا کرنے کے بعد نتیجہ خدا کے سپرد کر دے۔

فائزین: حقیقی کامیابی کا معیار

رمضان المبارک کی اس دعا کا دوسرا اور انتہائی اہم تقاضا کامیابی (فوز) ہے: وَاجْعَلْنى فيهِ مِنَ الْفآئِزينَ لَدَيْكَ (اور مجھے اپنے حضور کامیاب ہونے والوں میں قرار دے)۔ دسویں دن کی دعا میں استعمال ہونے والا لفظ ”فائزین“ عربی زبان کے لفظ ”فوز“ سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے ایسی کامیابی جس کے بعد کوئی ناکامی نہ ہو، اور ایسی نجات جس کے بعد کوئی ہلاکت نہ ہو۔

دنیوی اور مادیت پرست معاشرے کی نظر میں کامیابی کا معیار بہت مختلف ہے۔ وہاں مال و دولت کی فراوانی، بلند عہدہ، شہرت اور بنگلہ گاڑی کو کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن دسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام میں حقیقی کامیابی (فوز) آخرت کی کامیابی ہے۔ مال و دولت صرف خدا تک پہنچنے کا وسیلہ ہونا چاہیے، منزل نہیں۔ قرآن کریم نے ”فوزِ عظیم“ (بڑی کامیابی) کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ”جو شخص جہنم کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، پس وہ کامیاب ہو گیا (فاز)“[1]۔

دسویں دن کی دعا کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر انسان ساری دنیا بھی جیت لے لیکن آخرت میں ناکام ہو جائے، تو وہ درحقیقت خسارے میں ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ دنیا میں کچھ نہ پا سکے لیکن آخرت میں خدا کی رضا پا لے، تو وہ ”فائز“ ہے۔ تاریخِ اسلام میں کامیابی کی سب سے بڑی اور روشن مثال امیر المومنین حضرت علی (ع) کا وہ تاریخی جملہ ہے جو آپ نے 19 رمضان المبارک کی صبح محرابِ کوفہ میں سر پر ضرب لگنے کے بعد ادا کیا: فزت و رب الکعبہ (رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا)۔

بظاہر دنیا کی نظر میں آپ (ع) کو قتل کر دیا گیا تھا، لیکن دسویں دن کی دعا کی رو سے وہ شہادت کے ذریعے اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ کر کامیاب ہو چکے تھے۔ اس دعا میں ہم اسی حقیقی، ابدی اور لازوال کامیابی کی آرزو کرتے ہیں جو موت کے بعد بھی ختم نہ ہو۔

مقربین: انقطاع الی اللہ

رمضان المبارک کی اس دعا کا تیسرا اور بلند ترین درجہ قربِ الٰہی ہے: وَاجْعَلْنى فيهِ مِنَ الْمُقَرَّبينَ اِلَيْكَ (اور مجھے اپنے مقربین میں شامل فرما)۔ دسویں دن کی دعا ہمیں عام مسلمان یا عام مومن بننے پر قناعت کرنے سے روکتی ہے، بلکہ یہ ہمیں ”مقربین“ کی صف میں کھڑا کرنا چاہتی ہے۔

قرب سے مراد جسمانی فاصلہ یا مکانی نزدیکی نہیں ہے، کیونکہ اللہ مکان اور زمان سے پاک ہے۔ یہاں قرب سے مراد ”روحانی بلندی“ اور ”صفاتِ الٰہی کا رنگ چڑھنا“ ہے۔ انسان جتنا خدا کی اطاعت میں آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی اس کا مقام بلند ہوتا جاتا ہے۔ دسویں دن کی دعا میں مانگا گیا یہ مقام وہ ہے جہاں انسان غیر خدا سے کٹ کر صرف اسی کا ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر انسان کی اپنی خواہش ختم ہو جاتی ہے اور صرف رب کی رضا باقی رہتی ہے۔

قرآن مجید کی سورہ واقعہ میں لوگوں کی تین اقسام بیان ہوئی ہیں: دائیں ہاتھ والے، بائیں ہاتھ والے، اور السابقون السابقون، اولئک المقربون (سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہیں، وہی تو مقرب بارگاہ ہیں)۔ دسویں دن کی دعا ہمیں ان سابقین میں شامل ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نیکی میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔

مناجاتِ شعبانیہ میں امام علی (ع) اور ائمہ معصومین (ع) یہ دعا مانگتے ہیں: الٰہی ہب لی کمال الانقطاع الیک (خدایا! مجھے اپنی طرف کامل انقطاع عطا کر، یعنی میں تیرے سوا سب سے کٹ جاؤں)[4]۔ دسویں دن کی دعا دراصل اسی ”کمالِ انقطاع“ کی تمہید ہے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کی بصیرت کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، اس کے سامنے سے مادیت اور غفلت کے نورانی اور ظلمانی حجاب ہٹ جاتے ہیں اور وہ عظمتِ الٰہی کے خزانوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ اسے ہر چیز میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے۔

احسانِ الٰہی: مقصودِ طالبین

دعا کا اختتام خدا کے احسان اور اس کی ذات کو آخری مقصود ماننے پر ہوتا ہے: بِاِحْسانِكَ يا غايَةَ الطّالِبينَ (اپنے احسان کے صدقے، اے طالبوں کی آخری منزل)۔

دسویں دن کی دعا کا یہ آخری حصہ انتہائی اہم عقائدی نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہم نے اس دعا میں تین بڑی چیزیں مانگیں: اللہ پر توکل، کامیابی (فوز)، اور قربِ الٰہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ چیزیں صرف ہماری محنت، ہماری نمازوں اور ہمارے روزوں سے مل سکتی ہیں؟ دسویں دن کی دعا جواب دیتی ہے: نہیں! یہ تمام مقامات انسانی کوشش کے ساتھ ساتھ صرف اور صرف ”اللہ کے احسان“ اور فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے۔

ہماری عبادتیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، ان میں ہزاروں نقص ہیں۔ یہ تو اس کا ”احسان“ ہے کہ وہ ان ناقص اعمال کے بدلے ہمیں ”مقربین“ کا درجہ عطا کر دے۔ لفظ ”غایۃ الطالبین“ (طلب کرنے والوں کی آخری منزل) بتا رہا ہے کہ مومن کی نظر میں خدا ہی اس کی تمام تلاش، تمام محبتوں اور تمام جستجو کی آخری منزل ہے۔ دنیا کے سارے راستے، ساری خواہشیں کہیں نہ کہیں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن اللہ کی ذات وہ سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔

دسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ہم نے خدا کو پا لیا تو سب کچھ پا لیا، اور اگر اسے کھو دیا تو ساری دنیا پا کر بھی ہم ناکام ہیں۔

دسویں دن کی دعا پہلے عشرے کا ایک خوبصورت اختتام ہے۔ یہ ہمیں توکل کے ذریعے پریشانیوں سے نکالتی ہے، فوز کے ذریعے ابدی کامیابی کی نوید سناتی ہے، اور قرب کے ذریعے اللہ کے خاص دوستوں کی محفل میں بٹھا دیتی ہے۔ جو شخص دسویں دن کی دعا کو دل کی گہرائی سے پڑھتا ہے، وہ رمضان کے باقی ایام کے لیے ایک مضبوط روحانی بنیاد رکھ لیتا ہے۔

نتیجہ

ماہ رمضان المبارک کے دسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مومن کو ہر حال میں خدا پر بھروسہ (توکل) کرنا چاہیے، لیکن اپنی کوشش کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی کامیابی کا معیار دنیوی آسائشیں نہیں بلکہ رضائے الٰہی ہے، اور اس کا ہدف خدا کا قرب حاصل کرنا ہے۔ قرآن کریم کا وعدہ ہے کہ: ”اور جو خدا پر بھروسہ کرے گا، خدا اس کے لیے کافی ہے“[5]۔

حوالہ جات

[1] طبرسی، مشکاۃ الانوار، ص 319۔
[2] سورہ طلاق، آیت 2-3۔
[3] نوری، مستدرک الوسائل، ج 11، ص 217؛ کلینی، کافی، ج 5، ص 84۔
[4] مناجات شعبانیہ۔
[5] سورہ طلاق، آیت 3۔

فہرست منابع

1۔ قرآن کریم
2۔ طبرسی، علی بن حسن، مشکاۃ الانوار فی غرر الاخبار، نجف، مکتبہ حیدریہ، 1385ق۔
3۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق۔
4۔ نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، قم، موسسہ آل البیت، 1408ق۔
5۔ مفاتیح الجنان (مناجات شعبانیہ)۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔