ماہ رمضان کا پہلا عشرہ اپنے اختتام کی جانب رواں دواں ہے۔ رمضان المبارک کے ساتویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے عبادات کی ادائیگی میں مدد، گناہوں سے بچنے کی توفیق اور یادِ الٰہی میں ہمیشگی کا سوال کرتا ہے۔ رمضان المبارک کی یہ دعا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ انسان اپنی کوشش کے باوجود خدا کی مدد کے بغیر نیکی کے راستے پر گامزن نہیں رہ سکتا۔
ماہ رمضان کے ساتویں دن کی دعا
اللَّهُمَّ أَعِنِّي فِيهِ عَلَى صِيَامِهِ وَ قِيَامِهِ وَ جَنِّبْنِي فِيهِ مِنْ هَفَوَاتِهِ وَ آثَامِهِ وَ ارْزُقْنِي فِيهِ ذِكْرَكَ بِدَوَامِهِ بِتَوْفِيقِكَ يَا هَادِيَ الْمُضِلِّينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! اس مہینے (دن) کے دوران اس کے روزے رکھنے اور شب زندہ داری میں میری مدد فرما، اور مجھے اس مہینے کے گناہوں اور لغزشوں سے دور رکھ، اور اپنا ذکر اور اپنی یاد جاری رکھنے کی توفیق عطا فرما، اپنی توفیق کے واسطے اے گم گشتہ راہ کی ہدایت کرنے والے۔“
روزہ: اخلاص کا بہترین مظہر
ماہِ رمضان المبارک کا پہلا ہفتہ مکمل ہو رہا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسانی جسم بھوک اور پیاس کا عادی ہونے لگتا ہے، لیکن ساتھ ہی شیطانی وسوسے اور نفس کی سستی انسان کو گھیرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسے میں ساتویں دن کی دعا ایک ڈھال بن کر سامنے آتی ہے۔ یہ دعا مومن کو پہلے ہفتے کی تھکاوٹ سے نکال کر دوسرے عشرے کی تیاری کے لیے تازہ دم کرتی ہے۔ ساتویں دن کی دعا میں ہم اللہ سے چار بنیادی چیزوں کی توفیق اور مدد مانگتے ہیں: روزے کی مشقت پر مدد، قیام (نماز) کی طاقت، گناہوں اور لغزشوں سے دوری، اور ذکرِ الٰہی کا تسلسل۔
رمضان المبارک کی اس دعا کے پہلے حصے میں روزے کی ادائیگی پر مدد طلب کی گئی ہے: اللَّهُمَّ أَعِنِّي فِيهِ عَلَى صِيَامِهِ (اے اللہ! اس میں میری مدد فرما اس کے روزے رکھنے پر)۔ ساتویں دن کی دعا کا یہ جملہ بظاہر بہت سادہ لگتا ہے، لیکن اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے۔ ہم اللہ سے مدد کیوں مانگ رہے ہیں؟ کیا ہم صحت مند نہیں ہیں؟ دراصل، ساتویں دن کی دعا ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ روزہ رکھنا محض ہماری جسمانی طاقت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ خالصتاً اللہ کی توفیق ہے۔
روزہ دیگر عبادات کے مقابلے میں اخلاص کا بہترین اور کامل نمونہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ ایک "امری عدمی” (Negative Action) ہے، یعنی اس میں انسان کچھ کرنے کے بجائے کچھ چیزوں (کھانا، پینا، خواہشات) کو ترک کرتا ہے۔ نماز، حج یا زکوٰۃ میں انسان لوگوں کو نظر آتا ہے، لیکن روزہ دار کے ماتھے پر نہیں لکھا ہوتا کہ وہ روزے سے ہے۔ چونکہ ترک کرنے کا عمل ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتا، اس لیے اس میں ریاکاری اور دکھاوے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”الصوم لی وانا اجزی به“ (روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزا ہوں)[1]۔ یعنی باقی عبادات کا بدلہ جنت ہو سکتا ہے، لیکن روزے کا بدلہ خود رب ہے۔ چونکہ روزہ سال بھر کے مختلف موسموں میں گردش کرتا ہے اور کبھی سخت گرمی، شدید پیاس اور طویل دورانیے کا بھی ہوتا ہے، اس لیے بندہ ساتویں دن کی دعا کے ذریعے اپنے رب سے استقامت اور مدد کا طلبگار ہوتا ہے کہ ”مولا! میری بھوک اور پیاس کو اپنی رضا کا ذریعہ بنا دے اور مجھے ہمت دے کہ میں نفس کی سرکشی پر قابو پا سکوں“۔
قیام: قربِ الٰہی کا کوڈ
رمضان المبارک کی اس دعا کا دوسرا اہم جزو قیام اور نماز ہے: وَ قِيَامِهِ (اور اس کے قیام/نماز پر مدد فرما)۔ ساتویں دن کی دعا روزے (دن کی عبادت) کے ساتھ قیام (رات کی عبادت) کو جوڑتی ہے۔
یہاں قیام سے مراد شب زندہ داری، نمازِ شب، اور واجب نمازوں کا اہتمام ہے۔ قرآن میں اللہ نے اپنے نیک بندوں کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ راتیں سجدے اور قیام میں گزارتے ہیں۔ روایات کے مطابق نماز دین کا ستون اور ہر پرہیزگار کے لیے قربِ الٰہی کا وسیلہ ہے: ”الصلاۃ قربان کل تقی“[2]۔
آج کی زبان میں اگر سمجھا جائے تو نماز اعمال کی قبولیت کا "پاسورڈ” یا "کوڈ” ہے۔ جس طرح درست کوڈ کے بغیر سسٹم تک رسائی ممکن نہیں، اسی طرح نماز کے بغیر کوئی بھی عمل بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ نہیں پاتا۔ اگر کوئی شخص سارا دن بھوکا رہے لیکن نماز (قیام) ترک کر دے، تو اس کا روزہ بے جان جسم کی طرح ہے۔
ساتویں دن کی دعا ہمیں اس کوڈ کی حفاظت کی تلقین کرتی ہے۔ قیام کا ایک مطلب ”کھڑا ہونا“ بھی ہے، یعنی حق کے لیے کھڑا ہونا اور اپنے نفس کے خلاف ڈٹ جانا۔ ساتویں دن کی دعا مانگنے والا اللہ سے یہ قوت مانگتا ہے کہ وہ تھکے ہوئے جسم کے ساتھ بھی اپنے رب کے سامنے کھڑا رہ سکے۔ نماز کی اہمیت اتنی ہے کہ اسے بسترِ مرگ پر بھی ترک نہیں کیا جا سکتا۔
گناہوں اور لغزشوں سے دوری
تیسرا اہم اور حساس نکتہ گناہوں سے بچاؤ ہے: وَ جَنِّبْنِي فِيهِ مِنْ هَفَوَاتِهِ وَ آثَامِهِ (اور مجھے اس میں بچائے رکھ لغزشوں اور گناہوں سے)۔ ساتویں دن کی دعا میں دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں: ”ہفوات“ اور ”آثام“۔
-
ہفوات: اس سے مراد وہ چھوٹی چھوٹی لغزشیں یا غلطیاں ہیں جو انسان سے غیر ارادی طور پر یا غفلت میں سرزد ہو جاتی ہیں۔
-
آثام: اس سے مراد وہ بڑے اور سنگین گناہ ہیں جو انسان جان بوجھ کر کرتا ہے۔
ساتویں دن کی دعا کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ ہمیں دونوں طرح کی برائیوں سے بچنے کی دعا سکھاتی ہے۔ گناہ انسان کو روحانی طور پر تباہی کے دہانے پر لے جاتے ہیں۔ جس طرح ایک سفید کپڑے پر سیاہ دھبہ برا لگتا ہے، اسی طرح روزے کے نورانی ماحول میں گناہ کا دھبہ بہت نمایاں ہوتا ہے۔
اگر انسان اپنی لغزشوں کا تدارک نہ کرے تو سقوط اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اور حکمران گناہوں کے دلدل میں پھنسے تو ان کا انجام عبرتناک ہوا۔ ساتویں دن کی دعا ہمیں اس تباہی سے بچنے کا شعور دیتی ہے اور اللہ سے یہ التجا کرتی ہے کہ ”ہمیں گناہوں سے ایسے دور رکھ (جنبنی) جیسے دو چیزوں کو ایک دوسرے سے دور (اجنبی) رکھا جاتا ہے“۔
ذکرِ مسلسل اور خدا کی یاد
رمضان المبارک کے اس دن چوتھا تقاضا یادِ الٰہی کا تسلسل ہے: وَ ارْزُقْنِي فِيهِ ذِكْرَكَ بِدَوَامِهِ (اور مجھے نصیب فرما کہ میں ہمیشہ تیرے ذکر میں رہوں)۔ ساتویں دن کی دعا میں لفظ ”دوام“ (ہمیشہ/مسلسل) کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ذکر سے مراد صرف زبان کی حرکت یا تسبیح پڑھنا نہیں ہے، بلکہ ”ذکرِ قلبی“ ہے، یعنی ہر حال میں خدا کو حاضر و ناظر جاننا۔ دفتر میں کام کرتے وقت، بازار میں چلتے وقت، اور گھر میں رہتے وقت—اگر انسان کے دل میں یہ احساس ہو کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، تو یہ سب سے بڑا ذکر ہے۔ خمینی (رح) کا مشہور جملہ ہے: "عالم محضرِ خدا ہے، اور محضرِ خدا میں گناہ نہیں کرنا چاہیے”[3]۔
امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں: ”الذکر لذۃ المحبین“ (ذکر محبت کرنے والوں کے لیے لطف و سرور ہے)[4]۔ ساتویں دن کی دعا ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حقیقی ذکر یہ ہے کہ انسان خلوت ہو یا جلوت، ہر جگہ خدا کو اپنا نگہبان سمجھے۔ جب ذکر مسلسل ہوتا ہے تو دل زندہ رہتا ہے، اور جب ذکر رک جاتا ہے تو دل غفلت کی موت مر جاتا ہے۔
توفیقِ الٰہی: ہدایت کی کلید
دعا کا اختتام خدا کی توفیق اور ہدایت پر ہوتا ہے: بِتَوْفِيقِكَ يَا هَادِيَ الْمُضِلِّينَ (اپنی توفیق سے، اے گمراہوں کو ہدایت دینے والے)۔
ساتویں دن کی دعا کا یہ آخری حصہ انتہائی امید افزا ہے۔ اللہ کو ”هَادِيَ الْمُضِلِّينَ“ کہہ کر پکارنا اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم بھٹک سکتے ہیں، لیکن وہ ذات ہے جو بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھاتی ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں "توفیق” کا مطلب کاموں کا آسان ہو جانا اور اسباب کا مہیا ہونا ہے۔ جب اللہ کسی کو توفیق دیتا ہے تو نیکی کے راستے اس کے لیے ہموار کر دیتا ہے اور اس کے دل کو اپنی اطاعت کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اس کے برعکس بے توفیقی یہ ہے کہ انسان کا رجحان گناہوں کی طرف بڑھ جائے۔
امام رضا (ع) فرماتے ہیں: ”جو کوئی خدا سے توفیق کا تو طالب ہو مگر تلاش و کوشش نہ کرتا ہو، تو گویا اس نے اپنا مذاق اڑایا ہے“[5]۔ لہٰذا، ساتویں دن کی دعا ہمیں صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا نہیں کہتی، بلکہ کوشش کرنے کے بعد نتیجے کو اللہ کی توفیق پر چھوڑنے کا درس دیتی ہے۔ یہ دعا پہلے عشرے کے اختتام پر ہماری روحانی بیٹری کو دوبارہ چارج کر دیتی ہے تاکہ ہم باقی رمضان بھی اسی جوش و جذبے سے گزار سکیں۔
نتیجہ
ماہ رمضان المبارک کے ساتویں دن کی دعا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ روزہ اور نماز محض رسم نہیں بلکہ روح کی غذا ہیں۔ ان کی درست ادائیگی اور گناہوں سے بچنے کے لیے ہمیں قدم قدم پر خدا کی مدد اور توفیق کی ضرورت ہے۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی کوشش جاری رکھیں اور نتیجے کے لیے اس "ہادی” (ہدایت دینے والے) کی طرف دیکھیں جو گمراہوں کو بھی سیدھا راستہ دکھانے پر قادر ہے۔
حوالہ جات
[1] صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج 2، ص 75۔
[2] کلینی، الکافی، ج 3، ص 265۔
[3] خمینی، صحیفہ امام، ج 13، ص 461۔
[4] لیثی، عیون الحکم و المواعظ، ص 32۔
[5] ری شہری، میزان الحکمہ، ج 2، ص 862۔
فہرست منابع
1۔ خمینی، روح اللہ، صحیفہ امام، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی۔
2۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق۔
3۔ لیثی واسطی، علی بن محمد، عیون الحکم و المواعظ، قم، دار الحدیث، 1376ش۔
4۔ ری شہری، محمد، میزان الحکمہ، قم، دار الحدیث، 1416ق۔
5۔ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، قم، جامعہ مدرسین، 1413ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔