ماہ رمضان کے نویں دن کی دعا: رضائے الٰہی کی جستجو

ماہ رمضان کے نویں دن کی دعا: رضائے الہی کی جستجو

کپی کردن لینک

ماہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا عشرہ کہلاتا ہے، اور رمضان المبارک کے نویں دن کی دعا اسی رحمت کے حصول کی ایک پرزور اپیل ہے۔ رمضان المبارک کی اس دعا میں بندہ اپنے رب سے تین بنیادی چیزوں کا تقاضا کرتا ہے: اس کی وسیع رحمت میں حصہ، روشن دلائل (براہین) کی طرف رہنمائی، اور اس کی جامع رضا کی طرف پیش قدمی۔ یہ دعا انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید اور یقین کی روشنی میں لے آتی ہے۔

ماہ رمضان کے نویں دن کی دعا

أَللّهُمَّ اجْعَلْ لى فيهِ نَصيباً مِنْ رَحْمَتِكَ الْواسِعَةِ وَ اهْدِنى فيهِ لِبَراهينِكَ السّاطِعَةِ وَ خُذْ بِناصِيَتى اِلى مَرْضاتِكَ الْجامِعَةِ بِمَحَبَّتِكَ يا أَمَلَ الْمُشْتاقينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! آج کے دن میرے لیے اپنی وسیع رحمت میں سے ایک حصہ قرار دے، اور اپنے تابندہ برہانوں سے میری رہنمائی فرما، اور جہاں کہیں بھی تیری رضا اور خوشنودی ہو میرا رخ اسی جانب موڑ دے، تجھے تیری محبت کا واسطہ، اے مشتاقوں کی آرزو۔“

رحمتِ واسعہ: امید کا سہارا

ماہِ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ (عشرہ رحمت) اپنے اختتام کے قریب ہے۔ ایسے میں نویں دن کی دعا بندے کو رحمت کے سمندر میں غوطہ زن ہونے، یقین کی روشنی پانے اور اللہ کی رضا میں مکمل طور پر فنا ہو جانے کا درس دیتی ہے۔ یہ دعا مومن کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کے اجالوں میں لا کھڑی کرتی ہے۔ نویں دن کی دعا میں ہم اللہ سے تین ایسی چیزوں کا سوال کرتے ہیں جو کامیاب زندگی کی بنیاد ہیں: وسیع رحمت میں حصہ، روشن دلائل کی طرف رہنمائی، اور پیشانی سے پکڑ کر اپنی رضا کی طرف لے جانا۔

رمضان المبارک کی اس دعا کے پہلے حصے میں خدا کی وسیع رحمت میں حصہ مانگا گیا ہے: أَللّهُمَّ اجْعَلْ لى فيهِ نَصيباً مِنْ رَحْمَتِكَ الْواسِعَةِ (اے اللہ! میرے لیے اس مہینے میں اپنی وسیع رحمت میں سے حصہ قرار دے)۔ نویں دن کی دعا کا آغاز ہی امید کی ایک ایسی کرن سے ہوتا ہے جو گنہگار سے گنہگار شخص کو بھی اللہ کے قریب لے آتی ہے۔

اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ کائنات کے ہر ذرے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: ”اور میری رحمت (کا یہ حال ہے کہ وہ) ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے“[1]۔ یہ رحمت صرف نیک لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ گنہگاروں کے لیے بھی ہے۔

نویں دن کی دعا میں ہم صرف رحمت نہیں مانگ رہے، بلکہ اس میں اپنا ”نصیب“ (حصہ) مانگ رہے ہیں۔ کیونکہ بارش تو سب پر ہوتی ہے، لیکن فائدہ وہی اٹھاتا ہے جس کا برتن سیدھا ہو۔ اسی طرح رحمتِ خداوندی عام ہے، لیکن نویں دن کی دعا ہمیں اپنا دل (ظرف) سیدھا کرنے کی تلقین کرتی ہے تاکہ ہم اس رحمت کو اپنے اندر جذب کر سکیں۔

ایک مرتبہ کسی نے چوتھے امام، حضرت امام سجاد (ع) کے سامنے حسن بصری کا یہ قول دہرایا کہ "اس شخص پر تعجب ہے جو گمراہی کے کثیر اسباب کے باوجود نجات پا جاتا ہے”۔ اس پر امام (ع) نے فرمایا: ”میں یوں کہتا ہوں کہ اس شخص پر تعجب نہیں جو نجات پا جاتا ہے، بلکہ تعجب اس شخص پر ہے جو اللہ کی وسیع رحمت کے باوجود ہلاک ہو جاتا ہے“[2]۔

نویں دن کی دعا کا یہ جملہ انسان کو مثبت سوچ دیتا ہے کہ خدا کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ مایوسی کفر ہے۔ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار مایوسی ہے، جبکہ نویں دن کی دعا امید کا ہتھیار ہے۔ اس رحمت کے نزول کا بہترین ذریعہ خدا کا ذکر اور مخلوق پر رحم کرنا ہے۔ امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں: ”خدا کے ذکر اور یاد کے ذریعے رحمت نازل ہوتی ہے“[3]۔

برہانِ ساطع: یقین کا راستہ

دعا کا دوسرا اہم اور عقلی جزو روشن دلائل کی طرف ہدایت ہے: وَ اهْدِنى فيهِ لِبَراهينِكَ السّاطِعَةِ (اور مجھے اس میں اپنے روشن دلائل کی طرف ہدایت فرما)۔ نویں دن کی دعا یہاں جذبات سے نکل کر ”عقل و شعور“ کی بات کرتی ہے۔

"برہان” کے معنی قوی ترین دلیل اور ایسی حجت کے ہیں جو ہر قسم کے شک و شبہ کو کاٹ کر رکھ دے[4]۔ اور "ساطعہ” کا مطلب ہے چمکتی ہوئی، روشن۔ یعنی ایسی دلیل جو سورج کی طرح عیاں ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ انبیاء و مرسلین (ع) خدا کے وہ روشن دلائل تھے جن کے سامنے باطل بے بس تھا۔ نویں دن کی دعا میں ہم جس برہان کی طرف ہدایت مانگ رہے ہیں، وہ قرآن اور اہلِ بیت (ع) ہیں۔ امام باقر (ع) فرماتے ہیں: ”برہان، رسول خدا (ص) ہیں“[5]۔

آج کے دور میں جب ہر طرف فکری انتشار (Intellectual Chaos) ہے، الحاد اور شک کے بادل چھائے ہوئے ہیں، نویں دن کی دعا ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ذہنوں کو شکوک و شبہات سے پاک کر کے یقین کی روشنی عطا کر۔ اسی طرح زیارتِ غدیر میں امیر المومنین (ع) کو "حجتِ بالغہ” اور "روشن راستہ” کہا گیا ہے۔

اس دعا میں ہم خدا سے مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ان روشن دلائل کی معرفت عطا کرے تاکہ ہم دنیا طلبی، مادیت پرستی اور نفسانی خواہشات کے حجاب سے نکل کر حق کو پہچان سکیں۔ نویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ دین صرف اندھی تقلید کا نام نہیں، بلکہ بصیرت اور دلیل کے ساتھ ماننے کا نام ہے۔

رضائے جامعہ: ناصیہ کی گرفت

تیسرا اور سب سے لطیف تقاضا خدا کی رضا کی طرف کھنچے چلے جانا ہے: وَ خُذْ بِناصِيَتى اِلى مَرْضاتِكَ الْجامِعَةِ (اور میری پیشانی کے بال پکڑ کر اپنی ہمہ گیر رضا کی طرف لے چل)۔ نویں دن کی دعا کا یہ حصہ بندگی کی انتہا ہے۔

"ناصیہ” پیشانی کے بالوں کو کہتے ہیں۔ عرب کلچر میں جب کوئی کسی پر مکمل قابو پا لیتا تھا یا کسی جانور کو قابو کرنا ہوتا تھا تو اس کی ناصیہ (پیشانی کے بال) پکڑ لی جاتی تھی۔ یہاں بندہ خدا سے "جبر” کا تقاضا نہیں کر رہا، بلکہ اپنی نادانی اور کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے یہ چاہ رہا ہے کہ اے خدا! میں نادان ہوں، میں بار بار پھسل جاتا ہوں، مجھے میرے حال پر نہ چھوڑ۔ تو خود میرا ہاتھ پکڑ لے، بلکہ میری پیشانی پکڑ کر مجھے زبردستی اس راستے پر لے چل جو تیری خوشنودی کا باعث ہے۔

نویں دن کی دعا میں لفظ ”الجامعہ“ (جامع/ہمہ گیر) استعمال ہوا ہے۔ یعنی مجھے ایسی رضا دے جو ادھوری نہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ میں مسجد میں تو تجھے راضی کروں لیکن بازار میں ناراض کر دوں۔ نہیں! بلکہ میری زندگی کا ہر پہلو—چاہے وہ خوشی ہو یا غم، صحت ہو یا بیماری، امیری ہو یا غریبی—سب کچھ تیری رضا کے تابع ہو جائے۔ ہماری فطرت کمزور ہے اور لغزشوں کا شکار ہو سکتی ہے، لہٰذا یہ خدا کا لطف ہوگا کہ وہ خود ہماری رہنمائی کرے اور ہمیں بھٹکنے سے بچائے۔ یہ جملہ توفیقِ الٰہی کے حصول کی انتہائی عاجزانہ درخواست ہے جو نویں دن کی دعا کی روح ہے۔

محبتِ الٰہی: منزل کا ایندھن

رمضان المبارک کی اس دعا کا اختتام محبت کے واسطے پر ہوتا ہے: بِمَحَبَّتِكَ يا أَمَـلَ الْمُشْتاقينَ (اپنی محبت کے واسطے، اے مشتاق لوگوں کی آرزو)۔

نویں دن کی دعا کا اختتام خوف پر نہیں بلکہ ”محبت“ پر ہوتا ہے۔ جس طرح گاڑی کو چلنے کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح انسان کو گناہوں کی دلدل سے نکل کر قربِ الٰہی کی منزل تک پہنچنے کے لیے "محبتِ الٰہی” درکار ہوتی ہے۔ خوف انسان کو کچھ دیر کے لیے تو گناہ سے روک سکتا ہے، لیکن استقامت صرف محبت سے آتی ہے۔

یہی محبت وہ قوت ہے جو انسان کو مشکلات کے باوجود نیکی کی راہ پر گامزن رکھتی ہے۔ جب بندہ اللہ سے محبت کرتا ہے تو اسے نماز بوجھ نہیں لگتی، روزہ بھوک نہیں لگتا، بلکہ یہ سب محبوب سے ملاقات کے بہانے بن جاتے ہیں۔ نویں دن کی دعا ہمیں ان لوگوں (مشتاقین) کی فہرست میں شامل کرنا چاہتی ہے جو اللہ کی ملاقات کے شوق میں جیتے ہیں۔ الغرض، نویں دن کی دعا رحمت کی امید، عقل کی روشنی اور محبت کی حرارت کا ایک حسین امتزاج ہے۔

نتیجہ

ماہ رمضان المبارک کے نویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ کامیابی کا راز تین چیزوں میں پوشیدہ ہے: اللہ کی رحمت پر غیر متزلزل یقین، حق کے روشن دلائل (قرآن و اہل بیتؑ) کی پیروی، اور اپنی مرضی کو خدا کی رضا کے تابع کر دینا۔ جب انسان ان تینوں اصولوں کو اپنا لیتا ہے تو وہ دنیا کی گمراہیوں سے محفوظ ہو کر اس "امیدوں کے مرکز” (خدا) تک پہنچ جاتا ہے جس کی آرزو ہر مشتاق دل میں موجود ہے۔

حوالہ جات

[1] سورہ اعراف، آیت 156۔
[2] قمی، سفینۃ البحار، ج 1، ص 517۔
[3] لیثی، عیون الحکم و المواعظ، ص 190۔
[4] اصفہانی، المفردات، ص 45۔
[5] نمازی، مستدرک سفینۃ البحار، ج 1، ص 347۔

فہرست منابع

1۔ قرآن کریم
2۔ اصفہانی، راغب، المفردات فی غریب القرآن، دمشق، دار القلم، 1412ق۔
3۔ قمی، عباس، سفینۃ البحار و مدینۃ الحکم و الآثار، قم، اسوہ، 1414ق۔
4۔ لیثی واسطی، علی بن محمد، عیون الحکم و المواعظ، قم، دار الحدیث، 1376ش۔
5۔ نمازی شاہرودی، علی، مستدرک سفینۃ البحار، قم، جامعہ مدرسین، 1419ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔