ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ چوبیسویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے ایسی چیزوں کا سوال کرتا ہے جو اسے راضی کر دیں، ان چیزوں سے پناہ مانگتا ہے جو اسے ناراض کریں، اور اطاعت و بندگی کی توفیق طلب کرتا ہے۔ یہ دعا بندے اور رب کے درمیان تعلق کو "رضا اور اطاعت” کے محور پر استوار کرتی ہے۔
ماہ رمضان کے چوبیسویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ اِنّى أَسْئَلُكَ فيهِ ما يُرْضيكَ وَ أَعُوذُ بِكَ مِمّا يُؤْذيكَ وَ أَسْئَلُكَ التَّوْفيقَ فيهِ لِاَنْ اُطيعَكَ وَ لا أَعْصيَكَ يا جَوادَ السّآئِلينَ۔
ترجمہ: ”بار الٰہ! میں اس دن (اور مہینہ) میں تجھ سے ان چیزوں کی درخواست کرتا ہوں جو تجھے راضی کر دیں، اور خدایا! تیری بارگاہِ بے کس پناہ کو جو چیزیں ناپسند ہیں ان سے مجھے بچا لے، تیرے حضور توفیق کا خواہاں ہوں تاکہ تیری اطاعت میں سرگرم اور تیری نافرمانی سے دور رہ سکوں، اے سائلوں کو حد سے سوا دینے والے۔“
رضائے الٰہی: سستی سوداگری
رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سایہ فگن ہے، اور شبِ قدر کی عظیم راتوں سے گزرنے کے بعد اب ہم چوبیسویں دن میں داخل ہو چکے ہیں۔ شبِ قدر میں مقدرات طے پا جانے کے بعد، چوبیسویں دن کی دعا ایک عام دعا نہیں ہے، بلکہ یہ ان طے شدہ مقدرات اور روحانی صفائی کو پوری زندگی پر محیط کرنے کا ایک جامع اور گہرا نصاب ہے۔
اس دعا میں ہم محض ظاہری معافی نہیں مانگتے، بلکہ اپنے وجود کو گناہوں کی گندگی سے بچانے، دل کو چھپے ہوئے عیوب سے پاک رکھنے اور اپنی نیتوں کو رضائے الٰہی کے کڑے معیار پر پورا اتارنے کی بات کرتے ہیں۔ چوبیسویں دن کی دعا ہمیں بیداری کا وہ ابدی سبق دیتی ہے جس سے ہماری دنیا اور آخرت دونوں حقیقی معنوں میں سنور سکتی ہیں۔
دعا کے پہلے اور بنیادی حصے میں خدا کو راضی کرنے والی چیزوں کا سوال کیا گیا ہے: أَللّهُمَّ اِنّى أَسْئَلُكَ فيهِ ما يُرْضيكَ (اے اللہ! میں اس مہینے میں تجھ سے ان کاموں کا سوال کرتا ہوں جو تجھے راضی کر دیں)۔
چوبیسویں دن کی دعا کا یہ حصہ ہمیں بتاتا ہے کہ خالق کو راضی کرنا، مخلوق کو راضی کرنے سے کتنا مختلف اور کس قدر آسان ہے۔ ہم انسانوں کو خوش کرنے کے لیے مہنگے تحفے خریدتے ہیں، ان کی خوشامد کرتے ہیں، اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں اور پھر بھی ان کی رضا کی کوئی حتمی ضمانت نہیں ہوتی۔ انسان کی رضا مشروط اور بدلتی رہتی ہے۔ حالانکہ خدا کو راضی کرنا بہت آسان ہے۔ چوبیسویں دن کی دعا ہمیں اس عظیم مگر "سستی سوداگری” کی طرف بلاتی ہے۔ امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں: ”مسواک منہ کی صفائی اور رب کی رضا کا باعث ہے“[1]۔
خدا کو راضی کرنے کے لیے کسی بھاری سرمائے، بڑی جائیداد یا دکھاوے کی عبادت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک مسواک کا استعمال، راستے سے پتھر ہٹانا، کسی یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھنا، پیاسے پرندے کو پانی پلانا، کسی روتے ہوئے بچے کے چہرے پر مسکراہٹ لانا، یا سچے دل سے اہل بیت (ع) کی محبت رکھنا اس کی رضا کے لیے کافی ہے۔ وہ دعائے کمیل کے الفاظ میں "سریع الرضا” (بہت جلد راضی ہونے والا) ہے۔ اسے راضی کرنا دنیا کا آسان ترین کام ہے بشرطیکہ نیت خالص ہو۔ چوبیسویں دن کی دعا پڑھتے ہوئے انسان دراصل اپنی پوری زندگی کا رخ اللہ کی مرضی کی طرف موڑنے کا پختہ عہد کرتا ہے۔
اذیتِ الٰہی سے پناہ: غفلت سے گریز
دعا کا دوسرا اہم جزو خدا کو ناپسند چیزوں سے پناہ مانگنا ہے: وَ أَعُوذُ بِكَ مِمّا يُؤْذيكَ (اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز سے جو تجھے ناپسند ہو/اذیت دے)۔
یہاں "ایذا” (اذیت) سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ (نعوذ باللہ) خدا کو کوئی جسمانی یا جذباتی تکلیف پہنچتی ہے، بلکہ اس سے مراد وہ کام اور گناہ ہیں جو خدا کی ناراضگی اور اس کے غضب کا سبب بنتے ہیں۔ چوبیسویں دن کی دعا ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہم جانے انجانے میں ایسے کاموں سے بچیں جو ہمارے خالق کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہیں۔ عارفین کے نزدیک غفلت کی حالت میں لی گئی ہر سانس حرام ہے۔ دنیا کی رنگینیوں، جھوٹی محفلوں اور حرام فنونِ لطیفہ میں کھو کر اپنی ابدی منزل (آخرت) کو بھول جانا خدا کو سخت ناپسند ہے۔
بندگی کا اولین تقاضا یہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنے رب کی حضوری کا احساس رکھے اور ان تمام کاموں سے بچے جو اس کے اور اس کے رب کے درمیان دوری کا سبب بنیں۔ چوبیسویں دن کی دعا میں پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے نفسِ امارہ کی شرارتوں سے بچنے کے لیے اللہ ہی کی طاقت اور پناہ کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ دعا ہمیں احساس دلاتی ہے کہ جھوٹ، غیبت، تہمت اور دوسروں کا حق مارنا وہ افعال ہیں جو بارگاہِ الٰہی میں انتہائی ناپسندیدہ ہیں، اور چوبیسویں دن کی دعا کے ذریعے ہم ان تمام روحانی بیماریوں سے مکمل براءت کا اعلان کرتے ہیں۔
اطاعت کی توفیق: کامیابی کا زینہ
تیسرا تقاضا اطاعت کی توفیق اور نافرمانی سے مکمل پرہیز ہے: وَ أَسْئَلُكَ التَّوْفيقَ فيهِ لِاَنْ اُطيعَكَ وَ لاأَعْصيَكَ (اور میں تجھ سے توفیق مانگتا ہوں کہ میں تیری اطاعت کروں اور تیری نافرمانی نہ کروں)۔
چوبیسویں دن کی دعا کا یہ حصہ بندگی کی معراج ہے۔ خدا غنیِ مطلق ہے، وہ ہماری اطاعت اور سجدوں سے بے نیاز ہے اور نہ ہی ہماری نافرمانی سے اس کی خدائی میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے۔ اس کے بنائے ہوئے تمام احکام درحقیقت ہماری ہی بھلائی، کمال اور تحفظ کے لیے ہیں۔ نافرمانی درحقیقت خدا پر نہیں بلکہ اپنی ہی ذات پر کیا گیا ایک سنگین ظلم ہے۔
قرآن مجید واضح طور پر فرماتا ہے: ”اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے والوں کو پیدا کیا“[2]۔ اطاعت کا یہ راستہ انسان کو انبیاء، صدیقین اور شہداء کی شاندار رفاقت میں لے جاتا ہے[3]۔
چوبیسویں دن کی دعا میں لفظ ”توفیق“ کا مانگنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انسان اپنے زورِ بازو پر مغرور نہیں ہوتا، بلکہ وہ جانتا ہے کہ جب تک اللہ کی غیبی مدد شاملِ حال نہ ہو، وہ ایک چھوٹی سی نیکی بھی انجام نہیں دے سکتا۔ اطاعت کا یہ نور انسان کے دل سے کینہ، حسد اور غرور نکال کر اسے محبت اور الفت سے بھر دیتا ہے[4]۔ چوبیسویں دن کی دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیا کے فانی عہدے نہیں، بلکہ خالق کی کامل فرمانبرداری اور مقامِ تسلیم و رضا ہے۔
جواد السائلین: مانگنے والوں کا داتا
دعا کا انتہائی خوبصورت اور پرامید اختتام خدا کی صفتِ جود و سخا پر ہوتا ہے: يا جَوادَ السّآئِلينَ (اے مانگنے والوں کو بے تحاشا عطا کرنے والے)۔
چوبیسویں دن کی دعا کا یہ آخری فقرہ انسان کے دل میں امید کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن کر دیتا ہے۔ جب بندہ سچے دل سے اطاعت کا ارادہ کر لیتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی گڑگڑا کر التجا کرتا ہے، تو وہ "جواد” (انتہائی سخی) رب اسے نہ صرف توفیق دیتا ہے بلکہ اس کی جھولی کو اپنی انمول رحمتوں سے بھر دیتا ہے۔ خدا کی سخاوت کی کوئی حد مقرر نہیں، وہ مانگنے پر بھی دیتا ہے اور اپنے کرم سے بن مانگے بھی عطا کرتا ہے۔
چوبیسویں دن کی دعا کا یہ جملہ دعائے امام زمانہ (عج) کے ان ابتدائی کلمات سے انتہائی گہری مشابہت رکھتا ہے: ”خدایا! ہمیں اطاعت کی توفیق اور نافرمانی سے دوری عطا کر“[5]۔ یہ مشابہت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ چوبیسویں دن کی دعا دراصل امامِ وقت (عج) کے مشن، ان کے پاکیزہ مقاصد اور ان کی دعاؤں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کا نام ہے۔ جوادِ سائلین کو پکار کر ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس مانگنے کا سلیقہ ہو نہ ہو، اے پروردگار، تیرے پاس عطا کرنے کا بے پناہ اور لازوال خزانہ موجود ہے۔
جب ہم پروردگار کو "جواد” کہہ کر پکارتے ہیں تو درحقیقت ہم اپنے محدود اور ناچیز اعمال کے بدلے اس کے لامحدود فضل کا سوال کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک عام سخی مانگنے پر دیتا ہے، لیکن "جواد” وہ ہے جو سائل کی ضرورت کو اس کے سوال کرنے سے پہلے ہی پوری کر دے اور اسے ذرہ برابر بھی شرمندگی کا احساس نہ ہونے دے۔
چوبیسویں دن کی دعا کے اختتام پر یہ دلنشین پکار اس بات کی پختہ ضمانت ہے کہ رمضان المبارک کے یہ آخری اور قیمتی لمحات کبھی بے ثمر نہیں گزریں گے۔ الغرض، چوبیسویں دن کی دعا ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ جب ہم اپنی نیتوں کو خالص کر کے اس جواد حقیقی کے در پر دستک دیتے ہیں، تو وہ ہماری ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو بھی اپنی شایانِ شان قبولیت سے نواز کر ہمیں ابدی سکون عطا کر دیتا ہے۔
نتیجہ
ماہِ رمضان کے چوبیسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کا اصل مقصد "رضائے الٰہی” کا حصول ہے۔ ہمیں ان تمام کاموں سے بچنا چاہیے جو خدا کو ناپسند ہیں اور اپنی زندگی کو اس کی اطاعت کے سانچے میں ڈھال لینا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا کر فلاح کی منزل تک پہنچاتا ہے۔
حوالہ جات
[1] کلینی، الکافی، ج 6، ص 495۔
[2] سورہ بقرہ، آیت 21۔
[3] سورہ نساء، آیت 69۔
[4] سورہ انفال، آیت 63۔
[5] کفعمی، المصباح۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ کفعمی، ابراہیم بن علی، المصباح، بیروت، اعلمی، 1403ق۔
3۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان؛ ماہِ رمضان کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔