مفہوم حیات طیبہ اور اس کے قرآنی و روحانی درجات

مفہوم حیات طیبہ اور اس کے قرآنی و روحانی درجات

کپی کردن لینک

حیات طیبہ دراصل ایک ایسی پاکیزہ اور مطلوبہ زندگی کی عکاسی کرتا ہے جسے قرآن مجید میں اہل ایمان کے لیے ایک عظیم انعام قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ اعلیٰ معیار زندگی ہے جو انسان کو مادی آلودگیوں سے پاک کر کے روحانی سکون اور اطمینان قلب کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ اس زندگی کا بنیادی مقصد انسان کو اس کے خالقِ حقیقی سے جوڑنا اور اسے دنیوی و اخروی کامیابیوں سے ہمکنار کرنا ہے۔

قرآن کریم کی روشنی میں حیات طیبہ کے درجات

قرآن مجید میں یہ اصطلاح ایک خاص مقام رکھتی ہے جو ایمان اور عمل صالح کے بدلے میں عطا ہونے والی نعمتوں کو بیان کرتی ہے۔ اس حوالے سے سورہ نحل کی آیت ستانوے ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:

﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَیٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهُ حَیَاةً طَیِّبَةً وَلَنَجْزِیَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ﴾

جس کا ترجمہ ہے "جو کوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اس حال میں کہ وہ صاحب ایمان ہو، اسے ہم ضرور ایک پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور ان کے بہترین اعمال کے بدلے میں ان کا اجر ضرور عطا کریں گے”۔

یہ آیت مبارکہ اس بات کی دلیل ہے کہ حیات طیبہ کا حصول صرف اور صرف خالص ایمان اور نیک اعمال سے ہی ممکن ہے۔ قرآنی آیات میں لفظ طیب "خبیث” کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہر قسم کی ظاہری اور باطنی پلیدی سے پاک ہونا ہے۔ [۱]

حیات طیبہ کے حوالے سے مفسرین کی آراء

مفسرین کرام کے درمیان اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں کہ آیا یہ پاکیزہ زندگی یعنی حیات طیبہ اس دنیا سے تعلق رکھتی ہے یا اس کا تعلق خالصتاً آخرت سے ہے۔ ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل ہے کہ حیات طیبہ کا تعلق اسی دنیوی زندگی سے ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ مذکورہ آیت میں اخروی جزا کا وعدہ الگ سے موجود ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکیزہ زندگی کا انعام اسی دنیا میں دیا جائے گا۔ ان علماء کے نزدیک قناعت اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا ہی اصل کامیابی ہے جو دنیوی زندگی میں مٹھاس گھول دیتی ہے۔ [۲]

دوسری جانب کچھ مفسرین کا ماننا ہے کہ چونکہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے، اس لیے یہ زندگی صرف آخرت میں ہی مل سکتی ہے۔ ان کے نزدیک مکمل سلامتی، بے پناہ خوشی اور مطلق بے نیازی جیسی خصوصیات اس دنیا میں ممکن نہیں ہیں۔ ایک تیسرا گروہ ان دونوں آراء کو ملا کر حیات طیبہ کو دنیا، برزخ اور آخرت تینوں ادوار پر محیط قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق آیت میں استعمال ہونے والے افعال استمرار اور ہمیشگی پر دلالت کرتے ہیں جن میں کوئی قید زمانی نہیں رکھی گئی۔ [۳]

حیات طیبہ کے عملی اور روحانی مصادیق

اگر اس پاکیزہ زندگی کو آخرت سے منسوب کیا جائے تو اس کا واضح مطلب مومنین کی جنت میں ابدی زندگی ہے۔ دوسری صورت میں اگر حیات طیبہ کو دنیوی زندگی پر محمول کیا جائے تو اس کے کئی خوبصورت مصادیق سامنے آتے ہیں۔ ان میں رزق حلال، قناعت، اللہ کی تقسیم پر مکمل رضامندی اور معاملات کو اسی کی ذات پر چھوڑ دینا شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر اللہ سے بے نیازی، عبادات کی مٹھاس کا احساس، دلی سکون اور فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بننا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ [۴]

بہت سے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ ہر وہ چیز جو انسان کے لیے حقیقی سکون اور راحت کا باعث بنے وہ حیات طیبہ کا حصہ ہے۔ یہ ایک ایسا وسیع دائرہ کار ہے جس میں زندگی کو ہر قسم کی آلودگی، ظلم، خیانت، دشمنی، غلامی، ذلت اور پریشانی سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان کے وجود سے وہ تمام عناصر خارج ہو جاتے ہیں جو زندگی کے صاف اور شفاف پانی کو گدلا کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی روحانی بلندی ہے جہاں انسان صرف اپنے پروردگار کی رضا کا طالب بن جاتا ہے۔ [۵]

اسلامی روایات کی روشنی میں حیات طیبہ

بہت سی احادیث اور روایات میں حیات طیبہ کو قناعت اور دلی سکون سے تعبیر کیا گیا ہے اور روحانی طہارت ہی اصل کامیابی کی کنجی ہے۔ [۶]

مختلف مواقع پر پڑھی جانے والی دعاؤں میں بھی اللہ تعالیٰ سے اسی پاکیزہ زندگی کی التجا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ عرفہ کا دن ہو، مباہلہ کا موقع ہو، غدیر کی خوشی ہو یا پیغمبر اکرم (ص) کی ولادت کا دن، ہر جگہ حیات طیبہ کی طلب نمایاں نظر آتی ہے۔ خاص طور پر ماہ رمضان کی راتوں اور سحر کے اوقات میں یہ دعا مانگنے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہفتے کے مختلف دنوں اور زندگی کی سختیوں میں بھی اسی زندگی کے حصول کے لیے پروردگار کے حضور ہاتھ پھیلانے کی ہدایت ملتی ہے۔ [۷]

امام زین العابدین (ع) کی دعاؤں کے مجموعے صحیفہ سجادیہ میں بھی اس حوالے سے انتہائی خوبصورت اور جامع التجا موجود ہے۔ یوم عرفہ کی دعا میں آپ (ع) اللہ کے حضور عرض کرتے ہیں: «فَأَحْیِنِی حَیَاةً طَیِّبَةً تَنْتَظِمُ بِمَا أُرِیدُ، وَ تَبْلُغُ مَا أُحِبُّ مِنْ حَیْثُ لَا آتِی مَا تَکْرَهُ، وَ لَا أَرْتَکِبُ مَا نَهَیْتَ عَنْه»

جس کا ترجمہ ہے: "مجھے ایسی پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھ جو میری جائز چاہتوں سے ہم آہنگ ہو اور مجھے میری پسندیدہ منزل تک پہنچائے، اس طرح کہ میں کوئی ایسا کام نہ کروں جو تجھے ناپسند ہو اور کسی ایسی چیز کا ارتکاب نہ کروں جس سے تو نے منع فرمایا ہے”۔ یہ دعا انسان کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے۔ [۸]

اس دعا کے کلمات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حیات طیبہ کا اصل مقصد اللہ کی نافرمانی سے بچنا اور اس کی رضا پر راضی رہنا ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جہاں انسان کی خواہشات اللہ کی مرضی کے تابع ہو جاتی ہیں۔ جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی زندگی کا ہر لمحہ عبادت بن جاتا ہے اور وہ روحانیت کی ان بلندیوں کو چھونے لگتا ہے جس کا وعدہ اللہ نے اپنے نیک بندوں سے کیا ہے۔ یہی وہ منزل ہے جہاں خوف اور غم انسان کے دل سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جاتے ہیں۔

حیات طیبہ کے حصول کے عملی راستے

قرآن اور احادیث کے مطالعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ حیات طیبہ تک پہنچنے کا بنیادی اور سب سے اہم راستہ خالص ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ اس منزل کو پانے کے لیے عمر، نسل، جنس یا معاشرتی مرتبے کی کوئی قید نہیں ہے، بلکہ ہر وہ شخص جو صدق دل سے اللہ کی طرف رجوع کرے وہ اس کا مستحق بن سکتا ہے۔

اللہ کی ذات کی پہچان، غیر اللہ سے مکمل دوری اور اللہ کے فیصلوں پر سر تسلیم خم کرنا اس سفر کے لازمی جزو ہیں۔ ان صفات کو اپنائے بغیر کوئی بھی انسان حقیقی سکون کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ [۹]

پیغمبر اسلام (ص) اور ائمہ معصومین (ع) کی روایات میں اس زندگی تک رسائی کے لیے شکر گزاری کو ایک بہترین ذریعہ بتایا گیا ہے۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر اور والدین کے احسانات کا اعتراف انسان کو آفات سے محفوظ رکھتا ہے اور اس کی عمر میں برکت کا باعث بنتا ہے۔ دنیا کی بے ثباتی کا احساس اور اس سے دلی لگاؤ نہ رکھنا حیات طیبہ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ رات کے اوقات بالخصوص نماز عشاء کے بعد سورہ مزمل کی تلاوت بھی انسان کے لیے پاکیزہ زندگی اور پرسکون موت کا ذریعہ بنتی ہے۔ [۱۰]

روحانی نشوونما اور اخلاقی اقدار کی اہمیت

اس بلند پایہ زندگی کا ایک اور اہم پہلو انسان کی روحانی نشوونما اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا فروغ ہے۔ جب معاشرے کا ہر فرد حیات طیبہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتا ہے تو ایک ایسا پرامن اور فلاحی معاشرہ وجود میں آتا ہے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہوتا ہے۔ صداقت، امانت داری، ایثار اور ہمدردی جیسے اوصاف اس زندگی کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ یہ صفات نہ صرف فرد کی اپنی شخصیت کو نکھارتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا دیتی ہیں۔ [۱۱]

اس کے برعکس جھوٹ، فریب، حسد اور تکبر جیسی بیماریاں انسان کو اس پاکیزہ زندگی سے بہت دور لے جاتی ہیں۔ یہ تمام برائیاں روح کو کھوکھلا کر دیتی ہیں اور انسان کو دنیوی اور اخروی دونوں محاذوں پر ناکامی سے دوچار کرتی ہیں۔ حیات طیبہ دراصل ان تمام روحانی اور اخلاقی برائیوں کے خلاف ایک ڈھال کا کام دیتا ہے۔ جو شخص اس راستے کا مسافر بن جاتا ہے وہ دنیا کی عارضی اور جھوٹی چمک دمک سے بے نیاز ہو کر صرف اللہ کی خوشنودی کی تلاش میں مگن رہتا ہے۔ [۱۲]

علماء اور دانشوروں کی بصیرت افروز آراء

مختلف اسلامی مفکرین اور دانشوروں نے حیات طیبہ کو نہایت خوبصورت اور جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ زندگی صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والے ایک روحانی انقلاب کا نام ہے۔ یہ انقلاب انسان کے سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کے تمام پیمانوں کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ جب انسان کا دل اللہ کی محبت سے سرشار ہو جاتا ہے تو اس کے ہر عمل میں اخلاص اور پاکیزگی جھلکنے لگتی ہے۔

علامہ محمد تقی جعفری اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ یہ ایک ایسی باشعور زندگی ہے جو فطری زندگی کی مجبوریوں اور سرگرمیوں کو ایک ارتقائی سفر میں تبدیل کر دیتی ہے۔ انسان رفتہ رفتہ اپنے کردار کو تعمیر کرتے ہوئے زندگی کے سب سے اعلیٰ اور ارفع مقصد میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ اعلیٰ مقصد دراصل اس پوری کائنات کے اس عظیم تر نظام کا حصہ بننا ہے جو ذاتِ باری تعالیٰ کے کمالِ مطلق سے وابستہ ہے۔

یہ بصیرت افروز قول اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حیات طیبہ انسان کو جمود سے نکال کر مسلسل ترقی اور کمال کی طرف گامزن کرتا ہے۔ انسان محض زندہ رہنے کے لیے نہیں جیا کرتا بلکہ وہ اپنے وجود سے اس کائنات کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے اعمال، اس کی سوچ اور اس کا اخلاق سب مل کر ایک ایسی فضا تخلیق کرتے ہیں جو رحمتِ الٰہی کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہی وہ حقیقی زندگی ہے جس کی تڑپ ہر سچے مومن کے دل میں موجود ہوتی ہے۔ [۱۳]

انفرادی اور اجتماعی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات

اس پاکیزہ زندگی کے اثرات صرف انسان کی انفرادی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ جب کوئی شخص حیات طیبہ کے اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے تو اس کے خاندانی، سماجی اور معاشی معاملات میں ایک توازن پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی پوری طرح مستعد رہتا ہے۔ اس کا ہر عمل عدل و انصاف اور محبت کا آئینہ دار ہوتا ہے جو معاشرے میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔

معاشی سطح پر ایسا شخص رزق حلال کو اپنی اولین ترجیح بناتا ہے اور حرام کمانے یا کھانے سے مکمل پرہیز کرتا ہے۔ وہ ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور دھوکہ دہی جیسے جرائم سے کوسوں دور رہتا ہے جس کے نتیجے میں معاشی نظام میں برکت اور خوشحالی آتی ہے۔ اسی طرح سماجی سطح پر وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتا ہے جو برائیوں کے راستے بند کرنے اور اچھائیوں کو پھیلانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ حیات طیبہ دراصل ایک فلاحی اور پرامن معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ [۱۴]

حقیقی سعادت اور کمال کی جانب سفر

انسان کی تخلیق کا سب سے بنیادی مقصد کمال اور سعادت کا حصول ہے اور یہ مقصد حیات طیبہ کو اپنائے بغیر کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتیں چھپا رکھی ہیں جن کو بیدار کرنے کے لیے روحانی اور اخلاقی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکیزہ زندگی ان خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ جب انسان دنیا کی محبت کو دل سے نکال کر اللہ کی محبت کو جگہ دیتا ہے تو اس کے اندر ایک عجیب سی طاقت اور حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

یہ طاقت اسے زندگی کی ہر مشکل کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کا ہنر سکھاتی ہے۔ وہ مصیبتوں میں گھبرانے کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ حیات طیبہ اسے سکھاتا ہے کہ اصل کامیابی دولت اور شہرت میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور خوشنودی میں پوشیدہ ہے۔ جب یہ حقیقت انسان کے دل میں اتر جاتی ہے تو وہ نفسانی خواہشات کا غلام بننے کے بجائے ان پر حکمرانی کرنے لگتا ہے اور یہی انسان کی سب سے بڑی فتح ہے۔ [۱۵]

مستقبل کی منصوبہ بندی اور آخرت کی تیاری

ایک عقلمند اور دانا انسان وہ ہے جو اپنے آج کے ساتھ ساتھ آنے والے کل کی بھی فکر کرے۔ حیات طیبہ انسان کو مستقبل کی منصوبہ بندی سکھاتا ہے جس میں اصل توجہ آخرت کی تیاری پر مرکوز ہوتی ہے۔ موت کو کثرت سے یاد رکھنا اور اعمال کا محاسبہ کرنا اس سفر کے لازمی عناصر ہیں۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اسے ایک دن اپنے پروردگار کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے وہ کبھی بھی جان بوجھ کر کسی پر ظلم نہیں کر سکتا۔

ایسا شخص اپنی توانائیاں ان کاموں میں صرف کرتا ہے جو اسے اللہ کے قریب کر دیں اور بندوں کے لیے نفع بخش ہوں۔ حیات طیبہ انسان کو ایک ایسا متوازن نقطہ نظر دیتا ہے جس میں وہ دنیا کے جائز کام بھی کرتا ہے لیکن اس کی اصل منزل ہمیشہ آخرت ہی رہتی ہے۔ وہ دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھتا ہے اور اس میں وہی بیج بوتا ہے جس کی فصل وہ قیامت کے دن کاٹنا چاہتا ہے۔ یہ ایک انتہائی دانشمندانہ اور حقیقت پسندانہ سوچ ہے جو انسان کو کبھی بھٹکنے نہیں دیتی۔ [۱۶]

نتیجہ

مختصر الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حیات طیبہ اللہ تعالیٰ کا وہ خاص اور بے بہا تحفہ ہے جو صرف ان لوگوں کو ملتا ہے جو صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ پاکیزہ زندگی انسان کی روح کو تسکین بخشتی ہے اور اسے دنیا اور آخرت دونوں میں سرخروئی عطا کرتی ہے۔ خالص ایمان، نیک اعمال اور رضائے الٰہی کی جستجو ہی وہ روشن راستے ہیں جو ہمیں اس عظیم الشان اور ابدی کامیابی کی منزل تک باآسانی پہنچا سکتے ہیں۔


حوالہ جات

[۱] مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ج۷، ص۱۵۱۔
[۲] اندلسی، البحر المحیط فی التفسیر، ج۶، ص۵۹۲۔
[۳] مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۱۱، ص۳۹۴۔
[۴] طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، ج۱۴، ص۱۱۴۔

[۵] زمخشری، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، ج۲، ص۶۳۳۔
[۶] طبرسی، مشکاة الأنوار، ص۹۴۔
[۷] طوسی، مصباح المتهجّد، ج۲، ص۵۹۹۔
[۸] صحیفہ سجادیہ، دعائے ۴۷۔

[۹] مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۱۱، ص۳۸۹۔
[۱۰] مجلسی، بحار الأنوار، ج۷۴، ص۲۴۔
[۱۱] صدوق، ثواب الأعمال وعقاب الأعمال، ص۱۲۰۔
[۱۲] حر عاملی، تفصیل وسائل الشیعہ، ج۶، ص۱۴۳۔

[۱۳] باقری، درآمدی بر فلسفہ تعلیم و تربیت، ج۱، ص۱۹۔
[۱۴] علی اکبری، نسبت حیات طیبہ و توسعہ دینی، ص۶۵۔
[۱۵] مظاہری سیف، حیات طیبہ از دیدگاہ قرآن، ص۱۱۔
[۱۶] حسینی مطلق، ویژگیہای زندگی مطلوب در روانشناسی مثبت، ص۲۷۔


فہرست منابع

۱. باقری، خسرو؛ درآمدی بر فلسفہ تعلیم و تربیت، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۸۸ش۔
2. اندلسی، محمد بن یوسف؛ البحر المحیط فی التفسیر، بیروت، دار الفکر، ۱۴۲۰ھ۔
3. حسینی مطلق، سید مرتضی؛ ویژگیہای زندگی مطلوب در روانشناسی مثبت، قم، مجلہ پژوہش‌ہای اخلاقی، ۱۳۹۷ش۔
4. زمخشری، محمود؛ الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، بیروت، دار الکتاب العربی، ۱۴۰۷ھ۔

۵. حر عاملی، محمد بن حسن؛ تفصیل وسائل الشیعہ إلی تحصیل مسائل الشریعہ، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، ۱۴۰۹ھ۔
6. صدوق، محمد بن علی؛ ثواب الأعمال وعقاب الأعمال، قم، شریف رضی، ۱۴۰۶ھ۔
7. طوسی، محمد بن حسن؛ مصباح المتہجّد وسلاح المتعبّد، بیروت، دار الکتب الإسلامیہ، ۱۴۱۱ھ۔
8. صحیفہ سجادیہ؛ دعائے یوم عرفہ، قم، نشر الہادی، ۱۴۱۸ھ۔

۹. طباطبائی، ریحانہ؛ حیات طیبہ حیات اخلاقی در راستای مظہریت، قم، مجلہ معرفت، ۱۳۹۲ش۔
10. طبرسی، حسن بن فضل؛ مشکاة الأنوار، نجف، المکتبہ الحیدریہ، ۱۳۸۵ھ۔
11. طبری، أبو جعفر محمد بن جریر؛ جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفہ، ۱۴۱۲ھ۔
12. علی اکبری، حسن؛ نسبت حیات طیبہ و توسعہ دینی، تہران، مجلہ راہبرد توسعہ، ۱۳۸۴ش۔

۱۳. مصطفوی، حسن؛ التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، ۱۳۶۰ش۔
14. مظاہری سیف، حمیدرضا؛ حیات طیبہ از دیدگاہ قرآن، قم، مجلہ معرفت، ۱۳۸۵ش۔
15. مکارم شیرازی، ناصر؛ تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیہ، ۱۳۷۴ش۔
16. مجلسی، محمد باقر؛ بحار الأنوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔


مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

۱. جلائی نوبری، حسین؛ «اشاره‌ای به بعضی از آثار حیات طیبه انسان از دیدگاه آیات و روایات» (آیات و روایات کی روشنی میں حیاتِ طیبہ کے بعض آثار کا جائزہ)، مطالعات و تحقیقات در علوم رفتاری، بہار ۱۴۰۳، شمارہ ۱۸، ص ۱-۱۰۔
2. مرزوقی، رحمت اللہ؛ دیمہ کار حقیقی، فرزانہ؛ جهانی، جعفر؛ ترک زادہ، جعفر؛ «کاوش مفهوم "حیات طیبه” از منظر متون اسلامی: یک مطالعه کیفی» (اسلامی متون کی روشنی میں "حیاتِ طیبہ” کے مفہوم کا مطالعۂ کیفی)، عقل و دین، پاییز و زمستان ۱۳۹۹، شمارہ ۲۳، ص ۱۳۴-۱۵۹۔

۳. مکتب دار، علیرضا؛ «نگاهی به مفهوم و مولفه های حیات طیبه از نگاه قرآن کریم و امیر مؤمنان علیہ السلام» (قرآنِ کریم اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی نظر میں حیاتِ طیبہ کے مفہوم اور اس کے عناصر کا جائزہ)، علوم و معارف قرآن و حدیث، پاییز ۱۳۹۵، شمارہ ۸، ص ۹۹-۱۲۰۔


✍ مؤلف: سید لیاقت علی کاظمی – حوزہ علمیہ قم

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔