نماز جعفر طیار کا شمار ان عظیم عبادات میں ہوتا ہے جو بزرگانِ دین اور علمائے ربانی کے معمولات کا ایک لازمی حصہ رہی ہیں۔ عظیم شخصیات نے اپنی زندگیوں کو عبادتِ الٰہی کے لیے وقف کر دیا تھا، کیونکہ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد ہی بندگی ہے اور یقین کے اعلیٰ مدارج تک پہنچنے کا راستہ صرف عبادت سے ہو کر گزرتا ہے۔ اہلِ بیت (ع) کی پیروی میں یہ ہستیاں مستحب عبادات کو بھی کلیدی اہمیت دیتی تھیں۔ ان عارفانِ الٰہی کا ماننا تھا کہ نجات کا انحصار اللہ کے فضل و کرم پر ہے، لیکن وہ بندگی کے تقاضوں سے کبھی غافل نہیں ہوئے۔ امیرالمومنین حضرت علی (ع) کا یہ قول گویا ان کی زندگیوں کا عکاس تھا:
"ان لوگوں میں سے نہ بنو جو عمل کے بغیر آخرت کی امید رکھتے ہیں… جو صالحین سے محبت تو کرتے ہیں لیکن ان جیسے اعمال نہیں کرتے، اور گناہ گاروں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں لیکن خود ان ہی میں سے ایک ہیں۔ جب عمل کا وقت آتا ہے تو کوتاہی کرتے ہیں اور جب مانگنے کا وقت آتا ہے تو حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ وہ گفتار کے غازی ہیں اور کردار کے فقیر” [۱]۔
اس مبارک نماز کو، جو اہلِ معرفت کے لیے ایک روحانی شراب کی حیثیت رکھتی ہے، انہیں دنیا کی ظلمتوں سے نکال کر عالمِ غیب سے متصل کر دیتی ہے۔ اس مقالے میں ہم اس عظیم نماز کی تاریخ، فضیلت، روحانی اثرات اور اسے ادا کرنے کے مکمل طریقے پر روشنی ڈالیں گے۔
حضرت جعفر طیار (ع) کا تعارف اور فضائل
جعفر، حضرت ابوطالب کے فرزند، پیغمبر اکرم (ص) کے چچا زاد بھائی اور امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) کے حقیقی بھائی تھے۔ آپ ان اولین شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہمیشہ رسول اللہ (ص) کی خاص شفقت اور محبت کے مرکز رہے۔ آپ کی شان اور فضیلت میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔ خود نبی اکرم (ص) نے آپ سے فرمایا: "اے جعفر! تم ظاہری حلیے اور اخلاق میں مجھ سے شباہت رکھتے ہو” [۲]۔ اس نبی (ص) کی طرف سے ایسی گواہی جس کے اخلاق کو خود اللہ نے "خُلقِ عظیم” کہا ہو، جناب جعفر طیار (ع) کی عظمتِ کردار کی ناقابلِ تردید دلیل ہے۔
روایات میں آپ کے دیگر فضائل بھی بیان ہوئے ہیں:
- اللہ تعالیٰ نے شہداء میں سے چار افراد کو منتخب فرمایا ہے، جن میں دو حمزہ اور جعفر ہیں [۳]۔
- حضرت جعفر (ع) اور حضرت حمزہ (ع) قیامت کے دن انبیاء کے گواہ ہوں گے [۴]۔
- قیامت کے دن حضرت علی (ع) نور کے ایک منبر پر تشریف فرما ہوں گے، جبکہ حضرت حمزہ (ع) ان کے دائیں اور حضرت جعفر (ع) ان کے بائیں جانب ہوں گے [۵]۔
- جنگ میں کٹ جانے والے دو ہاتھوں کے بدلے اللہ نے انہیں دو پَر عطا فرمائے ہیں، جن سے وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں پرواز کرتے ہیں [۶]۔ اسی وجہ سے آپ کو "طیار” (اڑنے والا) اور "ذوالجناحین” (دو بازوؤں والا) کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
- امام باقر (ع) نے فرمایا کہ اللہ نے رسول اللہ (ص) پر وحی نازل کی کہ "میں جعفر کا چار خصلتوں کی وجہ سے شکر گزار ہوں”۔ جب نبی اکرم (ص) نے جناب جعفر (ع) کو یہ خبر دی تو انہوں نے عرض کیا: "اگر اللہ آپ کو نہ بتاتا تو میں کبھی ظاہر نہ کرتا۔ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی کبھی بت پرستی کی…” [۷]۔
نماز جعفر طیار کی ابتدا
بعثت کے پانچویں سال جب کفارِ مکہ کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو مسلمانوں کی ایک جماعت نے نبی اکرم (ص) کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ اس گروہ کے امیر اور نگراں جناب جعفر طیار (ع) تھے۔ آپ نے اپنی ذہانت اور شجاعت سے نہ صرف اس گروہ کی بہترین رہنمائی کی بلکہ شاہِ حبشہ نجاشی کے دربار میں اسلام کا ایسا مؤثر دفاع کیا کہ مشرکینِ مکہ کی تمام سازشیں ناکام ہو گئیں۔ آپ ہی کی دعوت پر شاہِ حبشہ نے اسلام قبول کیا۔
ساتویں ہجری میں جناب جعفر (ع) اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ واپس تشریف لائے۔ آپ کی واپسی کا دن مسلمانوں کے لیے فتحِ خیبر کی خوشی کا دن بھی تھا۔ جب رسول اللہ (ص) کو بیک وقت فتحِ خیبر اور جناب جعفر (ع) کی واپسی کی اطلاع ملی تو آپ (ص) نے فرمایا: "میں نہیں جانتا کہ مجھے جعفر کے آنے کی زیادہ خوشی ہے یا خیبر کی فتح کی”[۸]۔ یہ فرمان جناب جعفر (ع) کی قدر و منزلت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ رسول اللہ (ص) آپ کے استقبال کے لیے بارہ قدم آگے بڑھے [۹]، آپ کو گلے لگایا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا [۱۰]۔
اس موقع پر نبی اکرم (ص) نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایک عطیہ نہ دوں؟ کیا میں تمہیں ایک تحفہ پیش نہ کروں؟”
جناب جعفر (ع) نے عرض کیا: "جی ہاں، یا رسول اللہ!”۔
چونکہ جنگِ خیبر سے مسلمانوں کو بہت سا مالِ غنیمت حاصل ہوا تھا، اس لیے سب نے یہی سوچا کہ شاید آپ (ص) انہیں سونا یا چاندی عطا فرمائیں گے۔ لیکن رسولِ خدا (ص) نے انہیں ایک ایسا آسمانی تحفہ عطا فرمایا جو دنیا و مافیہا سے بہتر تھا۔
آپ (ص) نے فرمایا: "جو چیز میں تمہیں عطا کر رہا ہوں، اگر تم اسے ہر روز انجام دو تو یہ تمہارے لیے پوری دنیا اور اس میں موجود ہر شے سے بہتر ہے۔ اگر تم میدانِ جنگ سے فرار بھی ہوئے ہو اور تمہارے گناہ صحرا کی ریت اور سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں، تب بھی اللہ تمہیں معاف فرما دے گا” [۱۱]۔ اس کے بعد آپ (ص) نے انہیں نماز جعفر طیار کی تعلیم دی۔ یہ نماز درحقیقت حبشہ میں جناب جعفر (ع) کی خدمات اور کامیابیوں کا الٰہی انعام تھی جو انہی کے نام سے مشہور ہوئی۔
نماز جعفر طیار کی فضیلت
نماز جعفر طیار کی فضیلت میں کثیر روایات وارد ہوئی ہیں، جن سے نماز جعفر طیار کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ نماز جعفر طیار گناہوں کی بخشش اور حاجات کی تکمیل کے لیے ایک اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔
۱۔ گناہوں کی بخشش: رسول اللہ (ص) نے فرمایا: "نماز جعفر طیار دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے بہتر ہے اور گناہوں کی بخشش کا سبب بنتی ہے، خواہ وہ صحرا کی ریت اور سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر تم یہ نماز ہر روز، یا ہر جمعہ، یا ہر مہینے، یا ہر سال بھی پڑھو گے تو اللہ ان تمام گناہوں کو معاف کر دے گا جو تم نے اس دوران کیے ہوں گے” [۱۲]۔ امام موسیٰ کاظم (ع) سے منقول ہے: "جو شخص یہ نماز پڑھے گا، اگر اس کے گناہ بیابان کے ذروں اور سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو اللہ ان سب کو بخش دے گا” [۱۳]۔
۲۔ نیکیوں کا اجر اور درجات کی بلندی: امام صادق (ع) سے روایت ہے: "جو شخص ہر روز نماز جعفر طیار پڑھے گا، اس کے گناہ نہیں لکھے جائیں گے اور اس نماز میں پڑھی جانے والی ہر تسبیح کے بدلے اللہ اسے ایک ثواب عطا فرمائے گا اور جنت میں اس کا ایک درجہ بلند کرے گا” [۱۴]۔ امام باقر (ع) فرماتے ہیں کہ اس نماز کی چار رکعتوں میں کل ۱۲۰۰ تسبیحات (سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر) پڑھی جاتی ہیں، جنہیں اللہ دگنا کر دیتا ہے اور ہر نیکی کے بدلے دس گنا اجر کے وعدے کے مطابق، نماز پڑھنے والے کے لیے ۱۲۰۰۰ نیکیاں لکھی جاتی ہیں، جن میں سے ہر نیکی قدر و قیمت میں کوہِ احد سے بھی بڑی ہے”۔
۳۔ حاجات کا پورا ہونا: یہ نماز حاجات کی قبولیت کے لیے بھی بے حد مؤثر ہے۔ امام صادق (ع) نے اپنے صحابی مفضل بن عمر سے فرمایا: "اے مفضل! جب بھی تمہیں کوئی اہم حاجت درپیش ہو تو نماز جعفر طیار پڑھو اور اس کے بعد مخصوص دعا پڑھ کر اپنی حاجت طلب کرو، اللہ کے فضل سے وہ ضرور پوری ہوگی” [۱۵]۔ آیت اللہ بہجت جیسی عظیم روحانی شخصیات بھی مشکلات کے حل، خصوصاً شادی میں رکاوٹ دور کرنے کے لیے اس نماز کو پڑھنے کی بہت تاکید فرماتے تھے۔
نماز جعفر طیار پڑھنے کا طریقہ
نماز جعفر طیار چار رکعت پر مشتمل ہے، جو دو دو رکعت کر کے دو سلام کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔ نماز جعفر طیار میں کل ۳۰۰ مرتبہ تسبیحاتِ اربعہ "سُبْحَانَ اللَّهِ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ اللَّهُ أَکْبَرُ” پڑھی جاتی ہے۔
پہلی دو رکعتیں:
نیت: نماز جعفر طیار پڑھتا ہوں/پڑھتی ہوں قُربةً اِلی اللہ۔
پہلی رکعت: تکبیرۃ الاحرام کے بعد سورہ الحمد پڑھیں اور اس کے بعد سورہ "اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ” (سورہ زلزال) پڑھیں۔ اس کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے ۱۵ مرتبہ تسبیحاتِ اربعہ پڑھیں۔
رکوع میں جائیں اور ذکرِ رکوع کے بعد ۱۰ مرتبہ یہی تسبیحات پڑھیں۔
رکوع سے کھڑے ہو کر ۱۰ مرتبہ تسبیحاتِ اربعہ پڑھیں۔
پہلے سجدے میں جائیں اور ذکرِ سجدہ کے بعد ۱۰ مرتبہ تسبیحاتِ اربعہ پڑھیں۔
سجدے سے اٹھ کر بیٹھ جائیں اور ۱۰ مرتبہ تسبیحاتِ اربعہ پڑھیں۔
دوسرے سجدے میں جائیں اور ذکرِ سجدہ کے بعد ۱۰ مرتبہ تسبیحاتِ اربعہ پڑھیں۔
دوسرے سجدے سے اٹھ کر بیٹھیں اور دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے ۱۰ مرتبہ تسبیحاتِ اربعہ پڑھیں۔ (اس طرح پہلی رکعت میں کل ۷۵ تسبیحات ہو جائیں گی)۔
دوسری رکعت: سورہ الحمد کے بعد سورہ "وَالْعَادِیَاتِ” پڑھیں۔ اس کے بعد، پہلی رکعت کی طرح، رکوع سے پہلے ۱۵ مرتبہ تسبیحاتِ اربعہ پڑھیں۔
بقیہ تمام افعال یعنی رکوع، قومہ (رکوع کے بعد کھڑے ہونا)، دونوں سجدے اور سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی حالت میں ۱۰-۱۰ مرتبہ تسبیحات پڑھیں۔
دوسرے سجدے کے بعد تشہد اور سلام پڑھنے سے پہلے ۱۰ مرتبہ تسبیحات پڑھیں۔ اس کے بعد تشہد اور سلام پڑھ کر پہلی دو رکعتیں مکمل کریں۔
دوسری دو رکعتیں:
تیسری رکعت: سورہ الحمد کے بعد سورہ "اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ” (سورہ نصر) پڑھیں۔ باقی تمام طریقہ کار پہلی رکعت کی طرح ہے، یعنی قرأت کے بعد ۱۵ مرتبہ اور دیگر تمام حالتوں میں ۱۰-۱۰ مرتبہ تسبیحات پڑھیں۔
چوتھی رکعت: سورہ الحمد کے بعد سورہ "قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ” (سورہ اخلاص) پڑھیں۔ باقی تمام طریقہ کار دوسری رکعت کی طرح ہے اور آخر میں تشہد و سلام پڑھ کر نماز مکمل کریں۔
نوٹ: اگر کوئی شخص تسبیحات کی گنتی بھول جائے تو جس حالت میں یاد آئے، وہاں چھوٹی ہوئی تسبیحات کو ادا کر سکتا ہے۔ اگر نماز مکمل ہونے کے بعد یاد آئے تو نماز صحیح ہے اور قضا پڑھنا ضروری نہیں۔
نماز کا بہترین وقت اور مستحب سورتیں
نماز جعفر طیار کو دن یا رات کے کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے، لیکن نماز جعفر طیار کو ادا کرنے کا سب سے افضل وقت جمعہ کے دن طلوعِ آفتاب کے بعد کا ہے۔ بزرگانِ دین اسے روزانہ کی نوافل کے طور پر بھی ادا کرتے تھے، یعنی اسے یومیہ نوافل کی جگہ بھی پڑھا جا سکتا ہے اور اس صورت میں دونوں کا ثواب حاصل ہوتا ہے [۱۶]۔
اگرچہ نماز جعفر طیار کے لیے مخصوص سورتیں لازمی نہیں ہیں، لیکن افضل یہی ہے کہ مذکورہ ترتیب کے مطابق (پہلی رکعت میں سورہ زلزال، دوسری میں والعادیات، تیسری میں النصر اور چوتھی میں اخلاص) قرأت کی جائے۔ ایک اور روایت کے مطابق چاروں رکعتوں میں سورہ الحمد کے بعد سورہ اخلاص بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
نماز جعفر طیار کے بعد کی دعائیں
نماز جعفر طیار کی فضیلت کا ایک اہم حصہ اس کے بعد پڑھی جانے والی دعائیں ہیں۔ ان دعاؤں کو پڑھنے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔
آخری سجدے کی دعا: شیخ کلینی نے امام صادق (ع) سے روایت کی ہے کہ چوتھی رکعت کے آخری سجدے میں تسبیحات کے بعد یہ دعا پڑھیں:
"سُبْحَانَ مَنْ لَبِسَ الْعِزَّ وَ الْوَقَارَ، سُبْحَانَ مَنْ تَعَطَّفَ بِالْمَجْدِ وَ تَکَرَّمَ بِهِ، سُبْحَانَ مَنْ لَا یَنْبَغِی التَّسْبِیحُ إِلَّا لَهُ، سُبْحَانَ مَنْ أَحْصَی کُلَّ شَیْءٍ عِلْمُهُ، سُبْحَانَ ذِی الْمَنِّ وَ النِّعَمِ، سُبْحَانَ ذِی الْقُدْرَةِ وَ الْکَرَمِ، اللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ، وَ مُنْتَهَی الرَّحْمَةِ مِنْ کِتَابِکَ، وَ اسْمِکَ الْأَعْظَمِ، وَ کَلِمَاتِکَ التَّامَّةِ الَّتِی تَمَّتْ صِدْقاً وَ عَدْلاً، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَیْتِهِ، وَ افْعَلْ بِی کَذَا وَ کَذَا"۔
(آخری جملے "کذا و کذا” کی جگہ اپنی حاجات طلب کریں) [۱۷]۔
نماز جعفر طیار کے بعد کی دعا: مفضل بن عمر روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام صادق (ع) کو نماز جعفر طیار کے بعد ہاتھ بلند کر کے یہ دعا پڑھتے ہوئے دیکھا:
"یَا رَبِّ یَا رَبِّ” (یہاں تک کہ سانس ختم ہو جائے)،
"یَا رَبَّاهُ یَا رَبَّاهُ” (یہاں تک کہ سانس ختم ہو جائے)،
"رَبِّ رَبِّ” (یہاں تک کہ سانس ختم ہو جائے)،
"یَا اللَّهُ یَا اللَّهُ” (یہاں تک کہ سانس ختم ہو جائے)،
"یَا حَیُّ یَا حَیُّ” (یہاں تک کہ سانس ختم ہو جائے)،
"یَا رَحِیمُ یَا رَحِیمُ” (یہاں تک کہ سانس ختم ہو جائے)،
پھر سات مرتبہ "یَا رَحْمَانُ” اور سات مرتبہ "یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ” کہا۔
اس کے بعد یہ دعا پڑھی:
"اللَّهُمَّ إِنِّي أَفْتَتِحُ الْقَوْلَ بِحَمْدِكَ وَ أَنْطِقُ بِالثَّنَاءِ عَلَيْكَ وَ أُمَجِّدُكَ وَ لاَ غَايَةَ لِمَدْحِكَ وَ أُثْنِي عَلَيْكَ وَ مَنْ يَبْلُغُ غَايَةَ ثَنَائِكَ وَ أَمَدَ مَجْدِكَ وَ أَنَّى لِخَلِيقَتِكَ كُنْهُ مَعْرِفَةِ مَجْدِكَ وَ أَيَّ زَمَنٍ لَمْ تَكُنْ مَمْدُوحاً بِفَضْلِكَ مَوْصُوفاً بِمَجْدِكَ عَوَّاداً عَلَى الْمُذْنِبِينَ بِحِلْمِكَ تَخَلَّفَ سُكَّانُ أَرْضِكَ عَنْ طَاعَتِكَ فَكُنْتَ عَلَيْهِمْ عَطُوفاً بِجُودِكَ جَوَاداً بِفَضْلِكَ عَوَّاداً بِكَرَمِكَ يَا لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ الْمَنَّانُ ذُو الْجَلاَلِ وَ الْإِكْرَامِ” [۱۸]۔
آیت اللہ بہجت نے حاجت روائی کے لیے تاکید فرمائی کہ اس نماز اور اس کے بعد کی دعا (جو کتاب زاد المعاد میں مذکور ہے) پڑھنے کے بعد سجدے میں جا کر گریہ کیا جائے، چاہے آنکھ صرف نم ہی کیوں نہ ہو، اور پھر اپنی حاجت طلب کی جائے۔
خاتمہ
نماز جعفر طیار یہ ایک عظیم خزانہ ہے جو رسول اللہ (ص) نے اپنی امت کو عطا فرمایا۔ نماز جعفر طیار گناہوں کی مغفرت، درجات کی بلندی، اور دنیوی و اخروی حاجات کی قبولیت کے لیے ایک مجرب عمل ہے۔ نماز جعفر طیار کے فضائل اور برکات اس قدر زیادہ ہیں کہ ہر مومن کو اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بزرگانِ دین کا اس نماز پر مداومت کرنا اس کی غیر معمولی اہمیت کی دلیل ہے۔
حوالہ جات
[۱] سید رضی، نہج البلاغہ، حکمت۱۵۰۔
[۲] مجلسی، بحار الانوار، ج۲۲، ص۲۷۶۔
[۳] مجلسی، بحار الانوار، ج۹۴، ص۴۸۔
[۴] مجلسی، بحار الانوار، ج۷، ص۲۸۳۔
[۵] مجلسی، بحار الانوار، ج۱۰، ص۱۴۱۔
[۶] مجلسی، بحار الانوار، ج۷، ص۲۳۲۔
[۷] مجلسی، بحار الانوار، ج۲۲، ص۲۷۳۔
[۸] حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۱۔
[۹] علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج۲۱، ص۲۴۔
[۱۰] حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۸، ص۵۱۔
[۱۱] صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج۱، ص۵۵۳۔
[۱۲] صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج۱، ص ۵۵۳؛ کلینی، الکافی، ج۳، ص۴۶۶۔
[۱۳] صدوق، ثواب الاعمال، ص۴۰۔
[۱۴] حسین نوری، مستدرک الوسائل، ج۶، ص۲۲۴۔
[۱۵] مجلسی، بحار الانوار، ج۸۸، ص۲۰۰۔
[۱۶] مجلسی، زاد المعاد، ص۳۲۴۔
[۱۷] کلینی، الکافی، ج۳، ص۴۶۷۔
[۱۸] مجلسی، بحار الانوار، ج۸۸، ص۲۰۰۔
فہرست منابع
۱. حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۹ھ۔
2. سید رضی، نہج البلاغہ، قم، ہجرت، ۱۴۱۴ق۔
3. صدوق، محمد بن بابویہ، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ترجمہ: علی اکبر غفاری، تہران، انتشارات صدوق، چاپ دوم، ۱۳۷۳ش۔
4. شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، تصحیح: علی اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۳ھ۔
5. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۴۰۷ھ۔
6. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطہار، تحقیق: محمدباقر محمودی و عبدالزہرا علوی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ھ۔
7. مجلسی، محمد باقر، زاد المعاد، بیروت، موسسة الأعلمی للمطبوعات، ۱۴۲۳ھ۔
8. نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، بیروت، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۸ھ۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
۱. قمی، عباس، مفاتیح الجنان جدید (نگارش آسان)، ترجمہ: حسین انصاریان، ج۱، ص۱۲۳۔
2. فیض کاشانی، محمد بن شاه مرتضی، راه روشن: ترجمہ کتاب المحجة البیضاء في تهذیب الإحیاء، مشہد مقدس، آستان قدس رضوی، بنیاد پژوهشهای اسلامی، ۱۳۷۲ش، ج۲، ص۸۲۔