پڑوسی کے حقوق سیرت و فرامین نبویؐ کی روشنی میں

پڑوسی کے حقوق سیرت و فرامین نبویﷺ کی روشنی میں

کپی کردن لینک

پڑوسی کے حقوق کو اسلامی معاشرت میں بنیادی اور کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ خاندان کے بعد، یہ انسان کا سب سے چھوٹا اور بنیادی سماجی یونٹ ہے، پڑوسیوں کا حلقہ وہ اکائی ہے جو باہمی محبت، ہم آہنگی، اور جذباتی وابستگی کے ذریعے معاشرے کی انسانی اور اخلاقی اقدار کی حفاظت کرتی ہے اور سماجی ڈھانچے کے استحکام کی ضامن بنتی ہے، یہ مقالہ پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت اور فرامین کی روشنی میں پڑوسی کے حقوق کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے تاکہ دیگر ادیان کے مقابلے میں دینِ اسلام کی عظمت اور جامعیت واضح ہو سکے۔

اسلام میں پڑوسی کی اہمیت

اسلام نے ہمسایوں کے لیے بھی عزیز و اقارب کی طرح حقوق مقرر کیے ہیں، جنہیں نظرانداز کرنا یا پامال کرنا سنگین گناہ اور زیادتی ہے۔ قرآنِ مجید کی سورہ نساء کی آیت ۳۶ میں اللہ تعالیٰ نے ایک سچے اور مخلص مسلمان سے یہ تقاضا کیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت اور اطاعت کے بعد دیگر بندوں کے حقوق اور معاشرتی آداب کا خیال رکھے۔ درحقیقت، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حق اور بندوں کے حقوق سے متعلق دس نہایت اہم احکامات صادر فرمائے ہیں، جن میں چھٹا اور ساتواں حکم قریبی اور دور کے ہمسایوں سے متعلق ہے۔[1] اس آیت کے مطابق، اولاً تو ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی اللہ کے واجب حکم کی تعمیل ہے اور ثانیاً یہ عمل اللہ کی عبادت اور شرک سے پرہیز کے ساتھ ایک ہی صف میں بیان ہوا ہے، جو اس کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

مفسرین نے اس آیت میں مذکور "الْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ” (قرابت دار پڑوسی) اور "الْجَارِ الْجُنُبِ” (اجنبی پڑوسی) کی مختلف تشریحات پیش کی ہیں۔[2] امام صادق (ع) نے فرمایا: "تم پر لازم ہے کہ پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو، کیونکہ اللہ عزوجل نے اسی کا حکم دیا ہے”۔[3] آپ (ع) نے ایک اور مقام پر فرمایا کہ رسول اکرم (ص) کی بعثت کا ایک اہم مقصد تقویٰ، دین کے معاملے میں کوشش، سچائی، امانت کی ادائیگی، طویل سجدے، اور پڑوسی کے حقوق کے تحت ان سے بہترین سلوک کا قیام تھا۔[4] خود پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: "اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم سے محبت کریں تو امانت ادا کرو، سچ بولو، اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ نیکی کرو”۔[5]

پڑوسی کی حد اور اس کے اثرات

رسول اکرم (ص) نے پڑوسی کی ایک واضح حد مقرر فرمائی: "ہر سمت سے چالیس گھر—سامنے، پیچھے، دائیں اور بائیں—پڑوسی شمار ہوتے ہیں”۔[6] جب آپ (ص) سے پڑوسی کی حد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (ص) نے فرمایا: "پڑوسی کی حد چالیس گھر ہے”۔[7]

امام صادق (ع) سے منقول ہے کہ ایک انصاری شخص نے رسول اللہ (ص) سے شکایت کی کہ اس کا قریبی پڑوسی اسے نقصان پہنچاتا ہے۔ آپ (ص) نے حضرت علی (ع) اور ابوذر کو حکم دیا کہ مسجد میں اعلان کریں: "وہ شخص مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو”۔[8] یہ اعلان تین بار دہرایا گیا، اور آپ (ص) نے چاروں طرف چالیس گھروں تک اشارہ فرمایا۔

اگر معاشرے میں ان ہدایات پر عمل کیا جائے اور چالیس گھروں تک پھیلے اس وسیع دائرے میں حقوقِ ہمسایگان کی پاسداری کی جائے تو شہروں، محلوں، دیہاتوں اور یہاں تک کہ خانہ بدوش قبیلوں میں رہنے والے لوگ ایک وسیع علاقے تک باہمی محبت، سکون، اعتماد اور اطمینان کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس طرح کا ماحول افراد کی جذباتی اور ثقافتی نشوونما، سماجی ڈھانچے کی بہتری اور معاشی ترقی پر گہرے مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ لوگ مل کر مشکلات کا سامنا کریں گے، مصیبت میں ایک دوسرے کی مدد کو پہنچیں گے اور زندگی کی گتھیوں کو سلجھانے میں ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں گے۔

پڑوسیوں کے درجات اور ان کے حقوق

اسلام میں پڑوسیوں کو ان کے عقیدے اور رشتے کے اعتبار سے تین درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نبی اکرم (ص) نے فرمایا: "پڑوسی تین قسم کے ہیں: پہلا وہ جس کے تین حق ہیں؛ دوسرا وہ جس کے دو حق ہیں؛ اور تیسرا وہ جس کا ایک حق ہے”۔

تین حقوق والا پڑوسی: وہ جو مسلمان اور رشتہ دار ہو، اس پر پڑوسی کا حق، اسلام کا حق، اور رشتہ داری کا حق ہے۔

دو حقوق والا پڑوسی: وہ جو صرف مسلمان ہو، اس پر پڑوسی کا حق اور اسلام کا حق ہے۔

ایک حق والا پڑوسی: وہ جو مشرک ہو، اس پر صرف پڑوسی کا حق ہے۔[9]

ملا محسن فیض کاشانی فرماتے ہیں: "غور کرو کہ کس طرح ایک غیر مسلم کے لیے بھی محض پڑوسی کی بنیاد پر حقوق قائم کیے گئے ہیں!”۔[10] یہ تقسیم اس بات کی دلیل ہے کہ پڑوسی کے حقوق کے معاملے میں ہماری ذمہ داری کتنی وسیع ہے۔

سیرتِ نبوی (ص) میں پڑوسی کے حقوق کی تفصیل

رسول اللہ (ص) نے پڑوسی کے حقوق کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: "ہمسائے کا حق وہی ادا کر سکتا ہے جس پر اللہ نے رحم فرمایا ہو”۔[11] آپ (ص) نے ان حقوق کی وضاحت کی:

اگر پڑوسی بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو۔

اگر فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو۔

اگر قرض مانگے تو اسے قرض دو۔

اگر خوشی ملے تو مبارکباد دو۔

اگر مصیبت آئے تو تعزیت کرو۔

اپنی عمارت کو اس کی عمارت سے اتنا اونچا نہ کرو کہ اس کی ہوا رک جائے۔[12]

آپ (ص) نے مزید فرمایا: "جب تم کوئی پھل خریدو تو اس میں سے کچھ اسے ہدیہ کرو، یا چھپا کر گھر لاؤ تاکہ اس کا بچہ آزردہ نہ ہو”۔[13] آپ (ص) نے دکھاوے کے لیے عمارت بنانے سے منع کیا، کیونکہ یہ تکبر اور پڑوسیوں پر برتری کا باعث بنتا ہے۔[14] ایک واقعے میں آپ (ص) نے ایک انصاری کی بلند عمارت دیکھ کر ناراضی ظاہر کی، اور اسے گرا دینے پر خوشی کا اظہار کیا۔[15]

البتہ وسیع گھر میں کوئی حرج نہیں، لیکن غریبوں کی جھونپڑیوں کے درمیان ایک پرتعیش محل تعمیر کرنا نہ صرف ہمسایوں کی روزمرہ زندگی میں خلل ڈالتا ہے بلکہ ان کے جذباتی اور سماجی تعلقات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ایسی بلند عمارتیں مالک میں تکبر پیدا کرتی ہیں، حرام نگاہی اور گناہ کے زہریلے تیروں کے لیے راہ ہموار کرتی ہیں اور بعض اوقات خطرناک گناہوں کا سبب بنتی ہیں۔

پہلے پڑوسی، پھر گھر

اسلامی نکتہ نظر اس بات پر زور دیتا ہے کہ گھر خریدنے سے پہلے اس کے پڑوس اور ہمسایوں کے بارے میں تحقیق کی جائے۔  رسول اکرم (ص) نے فرمایا: "گھر خریدنے سے پہلے پڑوسی کو تلاش کرو”۔[16] آپ (ص) نے اچھے پڑوسی کو نعمت اور برے پڑوسی کو رنج کا باعث قرار دیا۔[17]

پڑوسی کا احترام اور عزت

پڑوسی کی عزت اور اس کی انسانی اقدار کا خیال رکھنا ایک اہم اخلاقی فریضہ ہے۔ نبی اکرم (ص) نے فرمایا: "جو شخص اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے”۔[18] امام صادق (ع) نے نقل کیا کہ پڑوسی کی حرمت ماں کی حرمت کے برابر ہے۔[19]

پڑوسیوں سے حسنِ سلوک اور اس کے ثمرات

حسنِ سلوک پر رسول اکرم (ص) نے بارہا تاکید کی: "اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم سے محبت کریں، تو اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو”۔[20] آپ (ص) نے فرمایا: "جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، وہی دوسروں کے لیے پسند کرے تو مومن بن جاتا ہے”۔[21]

حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر بن ابی طالب (ع) کا مکالمہ اس حوالے سے بہت اہم ہے۔ جب نجاشی نے مسلمانوں سے ان کے نئے دین کے بارے میں پوچھا تو حضرت جعفر (ع) نے زمانہ جاہلیت کی برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "ہم بت پرست قوم تھے، مردار کھاتے تھے، برے کام کرتے تھے، رشتہ داروں سے لڑتے تھے اور پڑوسیوں کے حقوقِ کو پامال کرتے تھے۔ کمزور کو طاقتور کچل دیتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ نے ہم میں سے ہی ایک رسول (ص) مبعوث فرمایا جس نے ہمیں توحید کی دعوت دی، امانت داری کا حکم دیا، ناپاکی سے منع کیا اور رشتہ داروں اور ہمسایوں سے اچھے سلوک کی تعلیم دی۔”[22]

ایک غیر مسلم بادشاہ کے سامنے اسلام کا تعارف کرواتے ہوئے پڑوسیوں کے حقوقِ کو ایک کلیدی اصلاحی نقطے کے طور پر پیش کرنا اس کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

رسول اللہ (ص) پر جبرائیل امین کی طرف سے حقوقِ ہمسایگان کی اس قدر تاکید کی جاتی تھی کہ آپ (ص) نے فرمایا: "جبرائیل مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔[23]

حاتم طائی کی بیٹی کا واقعہ بھی اس ضمن میں قابلِ ذکر ہے۔ جب وہ قیدی بن کر نبی اکرم (ص) کے سامنے لائی گئی تو اس نے اپنے باپ کی سخاوت اور ہمسایہ پروری کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "میرے والد غلاموں کو آزاد کرتے تھے، ہمسایوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کرتے تھے اور مصیبت میں لوگوں کی مدد کرتے تھے۔” رسول اکرم (ص) نے اس کے باپ کے اچھے اخلاق کی قدر کرتے ہوئے فرمایا: "یہ مومنوں اور مسلمانوں کی خصلتیں ہیں۔ اگر تمہارا باپ مسلمان ہوتا تو ہم اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے۔” پھر آپ (ص) نے حکم دیا: "اس کے باپ کے اچھے کردار کے احترام میں اسے آزاد کر دو۔” یہی حسنِ سلوک اس کے بھائی عدی بن حاتم کے اسلام لانے کا سبب بنا۔[24]

 

نتیجہ

سیرتِ نبوی (ص) اور اسلامی تعلیمات میں پڑوسیوں کے حقوقِ محض ایک اخلاقی سفارش نہیں بلکہ ایک واجب دینی فریضہ ہیں جن کی جڑیں ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر میں پیوست ہیں۔ نبی اکرم (ص) نے ہمسایگی کی حد چالیس گھروں تک وسیع کرکے ایک ایسے فلاحی اور مربوط معاشرے کا تصور پیش کیا ہے جہاں ہر فرد اپنے اردگرد کے ایک وسیع حلقے کی خوشی، غمی، ضرورت اور آسائش کا خیال رکھے۔ یہ حقوق صرف مسلمان ہمسایوں تک محدود نہیں، بلکہ ایک غیر مسلم ہمسائے کو بھی بنیادی انسانی اور اخلاقی حقوق فراہم کرتے ہیں، جو اسلام کی عالمگیر انسانیت دوستی کا مظہر ہے۔

حوالہ جات

[1] طباطبائی، تفسیر المیزان، ذیل آیات ۳۶-۴۲ سورہ نساء۔

[2] رازی، روض الجنان، ج ۳، ص ۱۷۶-۱۷۷؛ شبر، تفسیر القرآن الکریم، سید عبداللہ شبر، ص ۱۱۴۔

[3] مجلسی، بحار الانوار، ج ۷۱، ص ۱۵۰۔

[4] حر عاملی، آداب معاشرت از دیدگاہ معصومین، ص ۱۷۔

[5] ری شهری، میزان الحکمہ، ج ۲، ص ۱۹۰؛ پاینده، نہج الفصاحہ، ص ۱۱۰ و ۴۶۳۔

[6] کلینی، کافی، ج ۲، ص ۶۹۹؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج ۸، باب ۹۰۔

[7] پاینده، نہج الفصاحہ، ص ۲۸۴؛ طبرسی، مجمع البیان، ج ۲، ص ۴۵۔

[8] حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج ۸، باب ۸۶۔

[9] فیض کاشانی، المحجۃ البیضاء، ج ۳، ص ۴۲۲۔

[10] فیض کاشانی، المحجۃ البیضاء، ج ۳، ص ۴۲۲۔

[11] غزالی، کیمیای سعادت، ج ۱، ص ۴۲۸۔

[12] پاینده، نہج الفصاحہ، ص ۲۹۱۔

[13] کلینی، اصول کافی، ج ۲، ص ۶۶۶۔

[14] مجلسی، حلیۃ المتقین، ص ۴۴۶۔

[15] طبرسی، مجمع البیان، ج ۷، ص ۱۹۸۔

[16] کرمانی، کلمات نغز محمد (ص)، ص ۹۔

[17] فیض کاشانی، المحجۃ البیضاء، ج ۳، ص ۴۲۳۔

[18] غزالی، کیمیای سعادت، ج ۱، ص ۴۲۷۔

[19] سمرقندی، تنبیہ الغافلین، ص ۱۰۶۔

[20] پاینده، نہج الفصاحہ، ص ۴۶۳۔

[21] پاینده، نہج الفصاحہ، ص ۱۴۔

[22] سبحانی، فروغ ابدیت، ج ۱، ص ۳۱۴-۳۱۵۔

[23] قمی، سفینۃ البحار، ج ۱، ص ۴۱۳-۴۱۴۔

[24] ﺷﻮﺷﺘﺮﻯ، مجالس المومنین، ج ۱، ص ۶۴۶۔

فہرست منابع

1. پاینده، ابو القاسم، نهج الفصاحه: مجموعه کلمات قصار حضرت رسول اکرم (ص) با ترجمه فارسی، بی‌جا، دنیای دانش، ۱۳۸۰ش.
2. حر عاملی، محمد بن حسن، آداب معاشرت از دیدگاه معصومین(ع)، ترجمه: محمد علی فارابی، مشهد، آستان قدس رضوی، ۱۳۸۰ش.
3. حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، قم، آل البیت، ۱۴۱۴ق.
4. رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، مشهد، بنیاد پژوهشهای اسلامی آستان قدس رضوی.
5. ری شهری، محمد، میزان الحکمه، ترجمه: حمید رضا شیخی، قم، دارالحدیث، ۱۳۸۹ش.
6. سبحانی، جعفر، فروغ ابدیت، قم، بوستان کتاب، چاپ بیست ویکم، ۱۳۸۵ش.
7. شبر، عبد الله، تفسیر شبر، قم، دار الهجره، چاپ هفتم، ۱۴۲۵ق.
8. صابر کرمانی، کلمات نغز محمد (ص) و سخنان نغز علی (ع)، ناشر: اقبال، تہران، ۱۳۷۵ش.
9. طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسه الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ق.
10. طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مصحح: هاشم رسولی، بیروت، دارالمعرفه، ۱۴۰۸ق.
11. فیض کاشانی، محمد بن مرتضی، المحجة البیضاء فی تهذیب الاحیاء، تصحیح: علی اکبر غفاری، قم، دفتر نشر اسلامی وابسته به جامعه مدرسین حوزه علمیه قم، بی‌تا.
12. قمی، عباس، سفینة البحار و مدینة الحکم و الآثار، قم، اسوه.
13. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تهران، اسلامیة، ۱۳۶۲ش.
14. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ق.
15. علامه مجلسی، محمد باقر، حلیة المتقین، قم، لقمان، چاپ دوم، ۱۳۶۹ش.
16. نصربن محمد سمرقندی، تنبیه الغافلین، بیروت، دارالجلیل، بی‌تا.
17. غزالی، محمد بن محمد، کیمیای سعادت، مصحح: احمد آرام، \[بی‌جا]، \[بی‌نا]، ۱۳۳۱ش.
18. شوشترى، نور الله، مجالس المؤمنین، به کوشش: سید احمد الموسوی الکتابچی، تهران، کتابفروشی اسلامیه، ۱۳۵۴ش.

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

غلام رضا گلی زواره. «حقوق همسایگان در سیره و سخن نبوی.» فرهنگ کوثر تابستان 1381 – شماره 50 (‎11 صفحه – از 70 تا 80)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔