کمیل بن زیاد اپنے وقت کے ایک عابد، زاہد، عارف اور امام علی (ع) کے مشہور اصحاب میں سے تھے۔ کمیل بن زیاد نے اپنی بے شمار خدمات کے ساتھ اہلِ بیت (ع) سے گہری محبت کا اظہار کیا۔ آپ نے خلافت عثمان پر اعتراض کیا اور حق و سچائی کے موقف پر قائم رہے۔ جنگوں میں آپ کی شجاعت اور بہادری نمایاں تھی، اور آپ نے دین کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔
ولادت و نسب
کمیل بن زیاد بن نہیک بن ہیثم بن سعد بن مالک بن حارث بن صہبان بن سعد بن مالک بن نخع قبیلہ مذحج سے تھے۔[1] وہ حضرت علی (ع) کے معروف اصحاب میں سے تھے اور اپنی قوم میں باعزت اور بااثر شخص تھے۔ کمیل بن زیاد کی صحیح تاریخ پیدائش کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم، اس حقیقت کے پیش نظر کہ 83 ہجری (شہادت کے سال) ان کی عمر 90 سال تھی، ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ان کی پیدائش نبی ﷺ کی ہجرت سے 7 سال قبل، یعنی بعثت کے پانچویں سال میں ہوئی تھی۔[2]
وہ کوفہ کے عابدوں میں سے تھے۔[3] انہوں نے عمر، حضرت علی (ع) اور بشمول ابن مسعود بہت سے تابعین سے بھی حدیث نقل کی ہے۔[4] ان کی احادیث معتبر ہیں۔ وہ کم حدیث بیان کرتے تھے لیکن ان کی احادیث پر اعتماد کیا جاتا تھا۔[5] امام ابن معین اور امام ابن حبان جیسے محدثین نے ان کی توثیق کی ہے۔[6] ان سے عبدالرحمن بن جندب، ابوحمزہ ثمالی، عبدالرحمن بن عابس، ابواسحاق سبیعی، اعمش اور دیگر بہت سے لوگوں نے روایات نقل کی ہیں۔[7]
عثمان کی مخالفت اور اس پر اعتراض
کمیل بن زیاد ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے عثمان کے خلاف آواز اٹھائی اور حضرت علی (ع) کی بیعت کی۔[8] کوفہ کے معززین اور قادسیہ کے سردار، جن میں کمیل بن زیاد اور مالک اشتر بھی شامل تھے، رات دیر تک سعید بن العاص کے پاس بیٹھا کرتے تھے اور گذشتہ واقعات، جنگوں، نسبوں اور لوگوں کے حالات پر بات چیت کرتے تھے۔ بعض اوقات یہ گفتگو بد کلامی اور جھگڑے تک پہنچ جاتی تھی۔ ایسی صورت میں سعید بن العاص کے محافظ انہیں ڈانٹتے یا باہر نکال دیتے۔
ایک دن جب مالک اشتر نے سعید بن العاص سے سواد (زرخیز زمینوں) کے بارے میں بات کی تو بات جھگڑے تک جا پہنچی۔ اس کے بعد سعید نے اپنی راتوں کی مجلسیں بند کر دیں اور یہ اشراف کہیں اور جمع ہونے لگے اور سعید اور عثمان کے خلاف باتیں کرنے لگے۔[9] کمیل بن زیاد، مالک اشتر اور چند دیگر اصحاب عثمان کے پاس گئے اور کوفہ کے گورنر سعید بن العاص کی برطرفی کا مطالبہ کیا، لیکن عثمان نے انہیں برطرف کرنے سے انکار کر دیا۔[10]
33 ہجری میں کوفہ کے چند معززین اور عرب کے نیک خواہش رکھنے والے افراد، جن میں مالک اشتر اور کمیل بن زیاد بھی شامل تھے، انہوں نے عثمان پر تنقید کی تو اس بات پر عثمان نے ان سب کو شام جلاوطن کر دیا۔[11] کمیل بن زیاد دیگر بزرگان کے ہمراہ شام کے لئے روانہ ہوئے اور معاویہ کے پاس پہنچے۔
معاویہ نے ان کا احترام کیا اور کہا: اے قوم! اللہ سے ڈرو اور ان لوگوں کی طرح نہ بنو جنہوں نے واضح دلائل دیکھنے کے بعد بھی مخالفت کی اور تفرقے میں پڑ گئے۔ اس موقع پر کمیل بن زیاد نے کہا: اے معاویہ! اللہ نے ایمان لانے والی جماعت کو اختلاف کی صورت میں بھی اپنی رضا اور دین کی خاطر سیدھا راستہ دکھایا ہے اور اللہ کی قسم! ہم وہی جماعت ہیں۔
کمیل بن زیاد اور شہر ہیت کی حاکمیت
امام علی (ع) نے کمیل بن زیاد کو عراق کے علاقے میں واقع شہر ہیت کا حاکم مقرر کیا۔ تاہم، اگرچہ وہ ایک قابل اعتماد شخص تھے، لیکن انہوں نے اپنی کارکردگی میں بہتر مظاہرہ نہیں کیا۔ کمیل، معاویہ کے لوگوں کے عراق کے علاقوں پر حملوں کو روکنے میں ناکام رہے اور اپنی کمزوری کے ازالے اور جوابی کاروائی کے لئے انہوں نے معاویہ کے زیر کنٹرول کچھ علاقوں پر خود حملے کر دیے۔ اس کے نتیجے میں، معاویہ کے اہلکار سفیان بن عوف نے ان کی اور ان کی فوج کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھایا اور بغیر کسی رکاوٹ کے ہیت سے گزر کر شہر انبار کو لوٹ لیا۔ امام علی (ع) نے ان کے طریقہ کار کو پسند نہیں کیا اور ایک خط میں دشمن کو پیچھے دھکیلنے میں ناکامی پر انہیں سرزنش کی۔[12]
اس کے بعد سے، کمیل بن زیاد اپنی کوتاہی کو دور کرنے اور امام کی ناراضی ختم کرنے کے لئے ہمیشہ موقعے کی تاک میں رہے، یہاں تک کہ انہیں معلوم ہوا کہ معاویہ نے عراق کے علاقے کی طرف ایک فوج بھیجی ہے۔ کمیل بن زیاد نے دشمن کی فوج کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ وہ چار سو سواروں کے ساتھ ان کی طرف روانہ ہوئے اور معاویہ کی فوج کو غیر متوقع طور پر شکست دینے میں کامیاب ہو گئے۔ کمیل بن زیاد نے ایک خط میں اپنی فتح کی خبر امام (ع) کو لکھ بھیجی۔ امام (ع) اس خبر سے بہت خوش ہوئے، ان کی کارکردگی اور حمایت کی تعریف کی اور ان کے بارے میں اپنی نیک گمانی کا اظہار کیا۔ لیکن ساتھ ہی انہیں ہر کاروائی سے پہلے امام (ع) سے اجازت لینے کی تاکید بھی کی۔[13]
کمیل بن زیاد کی جنگوں میں شرکت
کمیل بن زیاد تینوں جنگوں میں شریک تھے جو امیرالمؤمنین (ع) کے زمانے میں پیش آئیں۔ جنگ صفین کے بارے میں محمد بن سعد زہری (متوفی 230ھ) جو اہل سنت کے مشہور مؤرخ ہیں، لکھتے ہیں:
”و شهد مع علي صفين“[14] کمیل بن زیاد، (ع) کے ساتھ جنگ صفین میں شریک ہوئے۔
جنگ جمل (36ھ) کے بارے میں ابن اثیر لکھتے ہیں:
”حضرت علی (ع) کو خبر ملی کہ عائشہ، طلحہ اور زبیر نے ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے اور ان کا ارادہ حکومت کے خلاف خروج کرنے کا ہے۔ حضرت علی (ع) نے اہل مدینہ کو اطلاع دی اور ان سے دشمن کے مقابلے کے لیے مدد طلب کی، مگر وہ سست ثابت ہوئے۔ اس کے بعد علی (ع) نے کمیل بن زیاد کو عبداللہ بن عمر کے پاس بھیجا تاکہ اس سے مدد طلب کریں، لیکن عبداللہ بن عمر نے اپنی مدد کو اہل مدینہ کی شمولیت سے مشروط کر دیا“۔[15]
کمیل بن زیاد کی ایک اور شجاعانہ جدوجہد، خونخوار حجاج بن یوسف ثقفی کے خلاف ہے۔ یہ واقعہ سال 82 ہجری میں پیش آیا جسے ”دیر الجماجم“ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ حجاج اور عبدالرحمان بن محمد کے درمیان ہوئی تھی، جو بالآخر حجاج کی شکست پر ختم ہوئی۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ: کمیل بن زیاد اس جنگ میں قاریانِ قرآن کے ساتھ شامل تھے اور انہیں اہم شخصیت شمار کیا جاتا تھا: ”و كان رجلا ركينا“ وہ ایک باوقار اور استوار شخصیت تھے۔[16]
کمیل بن زیاد امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کے دور میں
حضرت علی (ع) کی رمضان المبارک 40 ہجری میں شہادت کے بعد، اہل کوفہ نے امام حسن مجتبیٰ (ع) سے بیعت کی۔ جناب کمیل نے بھی، جو حضرت علی (ع) کی تمام خوبیاں ان کے فرزند امام حسن (ع) میں مجسم دیکھ رہے تھے، آپ (ع) سے بیعت کی اور آپ (ع) کے سپاہیوں اور فدائیوں میں شامل ہو گئے۔ مرحوم مجلسی، ابن شہر آشوب سے نقل کرتے ہوئے، کمیل بن زیاد کو امام حسن (ع) کے اصحاب میں شمار کرتے ہیں۔[17]
امام حسین (ع) کے زمانے میں، کمیل بن زیاد اور حضرت علی (ع) کے غلام قنبر اور دیگر لوگوں کو معاویہ اور یزید کے حکم پر، خاندان اہل بیت (ع) سے محبت اور طرفداری کے جرم میں قید خانے میں ڈال دیا گیا اور واقعہ عاشورا کے ٹھیک ایک دن بعد قید سے آزاد کئے گئے۔[18]
دعائے کمیل
کمیل بن زیاد کی زندگی میں قابل ذکر باتوں میں سے ایک دعا ہے جو انہیں کہ نام سے منسوب ہے جسے دعائے کمیل کہا جاتا ہے جو کہ ایک مشہور اور بہترین دعا ہے جو حضرت خضر (ع) سے منسوب ہے۔ حضرت علی (ع) نے یہ دعا کمیل بن زیاد کو سکھائی تھی۔ اس دعا کو نصف شعبان کی رات اور ہر جمعرات کی شب میں پڑھا جاتا ہے۔ یہ دعا دشمنوں کے شر سے حفاظت، رزق میں وسعت اور گناہوں کی بخشش کے لئے نافع ہے۔[19]
کمیل بن زیاد بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ حضرت علی (ع) کے ساتھ مسجد بصرہ میں بیٹھے تھے۔ ایک شخص نے آیت ”فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ“[20] کے بارے میں پوچھا۔ حضرت علی (ع) نے فرمایا کہ اس سے مراد شب نیمہ شعبان ہے۔ اس رات میں آئندہ سال کے تمام مقدرات لکھے جاتے ہیں۔ جو شخص اس رات کو احیاء کرے اور دعائے خضر پڑھے، اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔
اس کے بعد کمیل بن زیاد رات میں حضرت علی (ع) کے گھر گئے اور دعائے خضر کے بارے میں دریافت کیا۔ حضرت علی (ع) نے فرمایا: اے کمیل! اگر تم اس دعا کو حفظ کر لو اور ہر جمعرات کی رات یا سال میں ایک بار پڑھو تو تمہاری مدد کی جائے گی، تمہیں رزق عطا کیا جائے گا اور اللہ تمہیں بخش دے گا۔
پھر حضرت علی (ع) نے یہ دعا سکھائی: ”اللّهُمَّ إنّي أسأَلُكَ بِرَحمَتِكَ الَّتي وَسِعَت كُلَّ شَيءٍ…“[21]
اللہ کی راہ میں آپ کی شہادت
حجاج بن یوسف ثقفی، معاویہ کی طرف سے ظالم حکمران کوفہ، اس فکر میں تھا کہ حضرت علی (ع) کے تمام ساتھیوں کو قتل کر دے تاکہ ہمیشہ کے لیے حضرت علی (ع) کا نام مٹا دے۔ اسی مقصد کے تحت سنہ 82 یا 83 ہجری میں اس نے حکم دیا کہ کمیل بن زیاد، اس مظلوم اور با فضیلت بزرگ کے سر کو بدن سے جدا کر دیا جائے۔ اور جیسا کہ ان کے مولا حضرت علی (ع) نے انہیں خبر دی تھی، وہ شہید کر دیے گئے۔ ان کا پاک جسم ثویہ نامی جگہ (حنانہ مسجد کے نزدیک، نجف اشرف عراق میں، جو آج شیعیان اہل بیت کا مرکز ہے) میں سپرد خاک کیا گیا۔[22]
خاتمہ
کمیل بن زیاد جیسے اہلِ بیت (ع) کے حقیقی محب تاریخ میں بہت کم ملتے ہیں، جنہوں نے محبتِ علی (ع) کے اظہار میں کسی خوف یا خطرے سے نہیں ڈرے، اور آپ (ع) کے حقوق کے دفاع کے لئے ثابت قدم رہے۔ انہوں نے تعلیماتِ آلِ محمد (ص) کو امانتداری اور اخلاص کے ساتھ لوگوں تک پہنچایا اور دین کی حقیقی روشنی کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
حوالہ جات
[1]۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج6، ص217۔
[2]۔ دشتی، ترجمہ نہج البلاغہ، ص599، نامہ61 کی پاورقی کا حاشیہ۔
[3]۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج6، ص217؛ ابنحجر، الاصابۃ، ج5، ص486۔
[4]۔ ابن حجر، الاصابة، ج5، ص486؛ ذہبی، تاریخ الاسلام، ج5، ص516۔
[5]۔ ذہبی، تاریخ الاسلام، ج6، ص177؛ زرکلی، الاعلام، ج3، ص234۔
[6]۔ ثقفی، الغارات، ج2، ص944؛ ابن حجر، الاصابۃ، ج5، ص486؛ زرکلی، الاعلام، ج5، ص234۔
[7]۔ ذہبی، تاریخ الاسلام، ج6، ص176۔ زرکلی، الاعلام، ج5، ص234۔
[8]۔ بلاذری، انساب الاشراف، ج5، ص517۔
[9]۔ ابن سعد، الطبقات، الکبری، ج5، ص24؛ ابن کثیر، البدایۃ و النهایۃ، ج7، ص165۔
[10]۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج5، ص24۔
[11]۔ ابن الجوزی، المنتظم، ج5، ص40؛ مجهول المؤلف، مجمل التواریخ و القصص، ص284۔
[12]۔ نهج البلاغه، نامه 61۔
[13]۔ دین پرور، دانشنامه نهجالبلاغه، ج2، ص652-655۔
[14]۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج8، ص299۔
[15]۔ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج3، ص205۔
[16]۔ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج4، ص472۔
[17]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج44، ص111؛ ابن شهر آشوب، المناقب، ج4، ص41.
[18]۔ خانی، کمیل محرم اسرار امیر المومنین (ع)، ص145۔
[19]۔ قمی، مفاتیح الجنان، ص96۔
[20]۔ دخان: 4۔
[21]۔ ابن طاووس، اقبال الاعمال، ص220۔
[22]۔ ابن حجر، الإصابۃ، ج5، ص486.
منابع
1۔ قرآن مجید۔
2۔ ابن اثیر، علی، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، 1385ش۔
3۔ ابن اعثم کوفی، محمد بن علی، الفتوح، بیروت، دار الأضواء، ۱۴۱۱ق۔
4۔ ابن الجوزی، عبد الرحمن، المنتظم فی تاریخ الملوک والامم، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1412ق۔
5۔ ابن حجر العسقلانی، أحمد بن علي، الاصابۃ في تمييز الصحابۃ، بيروت، دار الكتب العلميۃ، 1415 ق۔
6۔ ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1410ق۔
7۔ ابن شهر آشوب، محمد، مناقب آل أبي طالب، قم، انتشارات علامہ، 1379ق۔
8۔ ابن طاووس، علی بن موسی، الإقبال بالأعمال الحسنۃ فيما يعمل مرة في السنۃ، قم، مکتب الإعلام الإسلامي، ۱۴۱۸ق۔
9۔ ابن کثیر، اسماعیل، البدایۃ والنہایۃ، بیروت، دارالفکر، 1407ق۔
10۔ بلاذری، احمد، انساب الاشراف، بیروت، دارالفکر، 1417ق۔
11۔ ثقفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، تہران، انجمن آثار ملی، 1353ش۔
12۔ خانی، حسین حیدر، کمیل محرم اسرار امیرالمومنین (ع)، قم، انتشارات مسجد جمکران، ۱۳۸۶ش۔
13۔ دین پرور، سید حسین، دانشنامہ نہج البلاغہ، تہران، بنياد نهج البلاغه، ۱۳۷۹ش۔
14۔ ذہبی، شمس الدین، تاریخ الاسلام، بیروت، دار الکتب العربی، 1413ق۔
15۔ زرکلی، خیر الدین، الاعلام، بیروت، دار العلم للملایین، 1989م۔
16۔ شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، ترجمہ محمد دشتی، قم، مشہور، 1379ش۔
17۔ طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، بیروت، دار التراث، 1387ش۔
18۔ قمی، عباس، مفاتیح الجنان، قم، دار العرفان، ۱۳۸۸ش۔
19۔ مجلسي، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، بيروت، داراحياء التراث العربي، ۱۴۰۱ق۔
20۔ مجهول المؤلف، مجمل التواریخ والقصص، تہران، کلالہ خاور، بی تا، ۱۳۱۸ش۔
مضمون کا مآخذ (ترمیم اور تلخیص کے ساتھ)
1۔ ربانی، سید جعفر، كميل بن زياد، فرهنگ کوثر، شماره ۶۱، بهار ۱۳۸۴۔
2۔ قدمی، مریم السادات، كميل بن زياد، دانشنامه پژوهه، تاریخ بازیابی: ۵ دی ماه ۱۳۹۲۔