مہر السنۃ، اسلام میں حق مہر کا وہ نبوی معیار ہے جو نکاح میں آسانی اور برکت کا ذریعہ ہے۔ لیکن آج کل مہر کی مقدار پر غلط فہمیوں اور زیادہ مہر کے رواج کی وجہ سے بہت سے نوجوان پریشانی کا شکار ہیں۔
مہر کی صحیح مقدار کیا ہونی چاہیے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر شادی کے موقع پر زیرِ بحث آتا ہے۔ آج کل معاشرے میں زیادہ مہر کے رجحان نے نکاح کو مشکل بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے نوجوان پریشان ہیں۔ اس مسئلے کا بہترین حل سنتِ نبوی (ص) میں موجود ہے۔
یہ مقالہ اسی نبوی معیار یعنی "مَہرالسُنَّہ” کی مکمل وضاحت پیش کرتا ہے۔ اس میں ہم جانیں گے کہ مہر السنۃ کیا ہے، اس کی مقدار کیا ہے، اور شیعہ فقہ کی روشنی میں اسلام میں مہر کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ اس تحریر کا مقصد مہر کے حقیقی فلسفے کو اجاگر کرنا اور اس کی موجودہ دور میں قابلِ عمل مالیت پر رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
مہر السنۃ کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس غلط فہمی کو دور کرنا ضروری ہے کہ مہر عورت کا معاوضہ یا قیمت ہے۔ قرآن مجید نے مہر کے لیے "صَدَاق” اور "نِحْلَة” کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ "صداق” صدق سے مشتق ہے، جس کا مطلب سچائی ہے۔ گویا مہر مرد کی طرف سے اپنے رشتے کی سچائی اور محبت کا عملی ثبوت ہے۔
اسی طرح "نحلۃ” کا معنی ایک ایسا عطیہ ہے جو خوش دلی سے بغیر کسی عوض کے دیا جائے۔ [1] قرآن فرماتا ہے: "وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً” "اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے بطور ایک عطیہ ادا کرو” [2]۔ یہ عورت کے احترام اور مرد کی طرف سے رشتے کے آغاز میں اس کی مالی ذمہ داری قبول کرنے کا ایک عملی اظہار ہے۔[3] جس سے مہر السنۃ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
مہر السنۃ: نبوی معیار اور اس کی مقدار
اسلامی تعلیمات میں جو چیز کسی عمل کو سب سے زیادہ بابرکت اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ بناتی ہے، وہ اس کا سنت نبوی (ص) اور سیرت اہل بیت (ع) کے مطابق ہونا ہے۔ مہر کے معاملے میں بھی ایک خاص مقدار کو "مہر السنۃ” یعنی سنت کے مطابق مہر قرار دیا گیا ہے، اور اسی کو ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ "مہر السنۃ” کی مقدار پانچ سو درہم چاندی ہے۔
یہ وہ مقدار ہے جسے پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی اکثر ازواج اور سب سے اہم اپنی لخت جگر، سیدۃ نساء العالمین حضرت فاطمۃ زہراء (س) کے لیے مقرر فرمایا[4]۔ مہر السنۃ کی یہ مقدار خود ایک معیار اور ایک ابدی نمونہ بن گئی۔ اس کی تعریف میں کہا گیا ہے: المـهر الّذی سـنّه رسول اللّه صلی اللّه علیه و آله و سلم جعله لعامة أزواجه و هو خمسمائه درهم۔[5]
متعدد احادیث میں ائمہ اہل بیت (ع) نے مہر السنۃ کی اس مقدار کی وضاحت اور اس پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ مثال کے طور پر، امام صادق (ع) سے ایک روایت میں منقول ہے: "صَدَاقُ النِّسَاءِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ص كَانَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَ نَشّاً قِيمَتُهُ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَأَمَّا مَهْرُ السُّنَّةِ فَهُوَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ” "رسول اللہ (ص) کے زمانے میں عورتوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا جس کی چاندی میں قیمت پانچ سو درہم بنتی تھی، اس لیے مہر السنۃ پانچ سو درہم ہے”[6]۔
ان روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں تھا، بلکہ ائمہ (ع) نے مہر السنۃ کو ایک مستقل سنت کے طور پر متعارف کروایا اور اپنے پیروکاروں کو مہر السنۃ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ مہر السنۃ کی اس خاص مقدار میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ اس کی چند وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں:
1۔اعتدال اور میانہ روی: مہر السنۃ کی یہ مقدار نہ تو اتنی کم ہے کہ عورت کے احترام میں کمی کا شائبہ ہو اور نہ ہی اتنی زیادہ ہے کہ مرد کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن جائے۔ یہ اسلام کے مزاج، یعنی ہر معاملے میں اعتدال اور میانہ روی کی بہترین مثال ہے۔
2۔روحانی برکت: چونکہ یہ مقدار اللہ کے محبوب ترین بندوں، یعنی رسول اکرم (ص) اور ان کے اہل بیت (ع) سے منسوب ہے، اس لیے اس میں ایک خاص روحانی برکت اور تقدس شامل ہو گیا ہے۔ اس مقدار پر رضامند ہونا گویا اس نورانی سلسلے سے اپنی وابستگی کا اظہار کرنا ہے۔
3۔نکاح میں آسانی: اس معیار کو قائم کرنے کا ایک بڑا مقصد معاشرے میں نکاح کو آسان بنانا تھا۔ جب مہر کی مقدار ایک مناسب اور قابل حصول حد میں رہے گی تو نوجوانوں کے لیے شادی کرنا آسان ہوگا، جس سے معاشرہ بہت سی اخلاقی برائیوں سے محفوظ رہے گا۔[7]
مہرِ فاطمۃ الزہراء (س): آسمانی جوڑے کا زمینی معیار
مہر السنۃ کو سمجھنے کے لیے سب سے بہترین اور روشن مثال حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ (س) کے نکاح کی ہے۔ جب امیرالمومنین حضرت علی (ع) نے رسول اکرم (ص) کی خدمت میں حضرت فاطمہ (س) کے لیے رشتہ پیش کیا تو آپ (ص) نے دریافت فرمایا: "تمہارے پاس مہر کے طور پر دینے کے لیے کیا ہے؟” حضرت علی (ع) نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرے پاس میری تلوار، میری زرہ اور پانی لانے والا اونٹ ہے۔” رسول اکرم (ص) نے فرمایا: "تمہاری تلوار کی تمہیں جہاد کے لیے ضرورت ہے، اور اونٹ کی پانی لانے اور سفر کے لیے۔ تم اپنی زرہ فروخت کردو۔”[8]
امیرالمومنین (ع) نے وہ زرہ فروخت کی اور اس کی قیمت، جو روایات کے مطابق 480 یا 500 درہم تھی، لا کر رسول اللہ (ص) کی خدمت میں پیش کر دی۔ یہی رقم حضرت فاطمہ زہراء (س) کا مہر قرار پائی۔ رسول اکرم (ص) نے اس رقم میں سے کچھ حصہ بلال حبشی کو دیا تاکہ وہ خوشبو خرید لائیں اور باقی رقم ام سلمہ کے پاس رکھوا دی تاکہ وہ جہیز کا سامان خریدیں۔[9]
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی سب سے عظیم خاتون کا مہر بھی سادگی اور حقیقت پسندی کا شاہکار تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کی عظمت اور اس کا مقام مہر کی مادی قیمت سے ماورا ہے۔ حضرت فاطمہ (س) کا مہر آج بھی امت کی بیٹیوں کے لیے ایک نمونہ ہے کہ حقیقی عزت اور برکت سنت پر عمل کرنے میں ہے، نہ کہ دنیوی نمود و نمائش میں۔
شیعہ فقہ میں مہر کی مقدار
یہاں ایک اہم فقہی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ اگرچہ "مہر السنۃ” (500 درہم) کو مستحب اور افضل قرار دیا گیا ہے، لیکن شرعی اور فقہی اعتبار سے مہر کی کوئی کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ حد مقرر نہیں ہے۔ شیعہ فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہر وہ چیز جو مالیت رکھتی ہو اور جس پر فریقین (لڑکا اور لڑکی) رضامند ہوں، مہر کے طور پر مقرر کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک قرآن کی آیت کی تعلیم بھی ہو سکتی ہے، کوئی ہنر سکھانا بھی ہو سکتا ہے، یا کوئی بھی مالی قدر رکھنے والی شے ہوسکتی ہے [10]۔
لہٰذا، اگر کوئی شخص اپنی استطاعت کے مطابق مہر السنۃ سے کم یا زیادہ مہر مقرر کرتا ہے تو شرعی طور پر وہ نکاح صحیح ہے۔ تاہم، ائمہ اہل بیت (ع) کی تعلیمات کی روشنی میں اصل روح اور فضیلت اسی میں ہے کہ مہر السنۃ کو معیار بنایا جائے۔
حد سے زیادہ مہر: سنت سے انحراف اور اس کی مذمت
جس طرح مہر السنۃ پر عمل کرنے کی فضیلت اور برکت بیان کی گئی ہے، اسی طرح حد سے زیادہ اور کمر توڑ مہر مقرر کرنے کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ اہل بیت (ع) کی احادیث میں بھاری مہر کو نحوست، دشمنی اور بدبختی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
امام صادق (ع) فرماتے ہیں: "إِنَّ مِنْ بَرَكَةِ الْمَرْأَةِ قِلَّةَ مَهْرِهَا وَ مِنْ شُؤْمِهَا كَثْرَةَ مَهْرِهَا” (عورت کی برکت اس کے مہر کے کم ہونے میں ہے، اور اس کی نحوست اس کے مہر کے زیادہ ہونے میں ہے) [11]۔
ایک اور روایت میں امام علی (ع) کا ارشاد نقل ہوا ہے: " لا تغالوا بمهور النساء فتكون عداوة” (عورتوں کے مہر میں مبالغہ نہ کرو، کیونکہ یہ دشمنی کا باعث بنتا ہے) [12]۔
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ مہر میں مبالغہ آرائی نہ صرف اسلامی روح کے خلاف ہے بلکہ اس کے عملی نتائج بھی منفی ہوتے ہیں۔ یہ عمل:
•نکاح کو مشکل بناتا ہے: بہت سے اہل اور دیندار نوجوان محض بھاری مہر کی وجہ سے نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے۔
•رشتوں میں تلخی پیدا کرتا ہے: جب مہر ایک ناقابل برداشت بوجھ بن جائے تو یہ محبت کی جگہ کڑواہٹ کو جنم دیتا ہے۔
•عورت کی حقیقی قدر کو کم کرتا ہے: جب عورت کی شناخت اس کے بھاری مہر سے ہونے لگے تو اس کی علمی اور اخلاقی حیثیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
•سنت کی خلاف ورزی ہے: سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ عمل رسول اکرم (ص) اور ان کی آل پاک (ع) کی قائم کردہ سادگی کی سنت سے کھلا انحراف ہے۔
مہر السنۃ کی موجودہ دور میں مالیت
زمانے کی گردش جہاں بہت سی اقدار کو دھندلا دیتی ہے، وہیں کچھ مقدس روایات کی ظاہری قدر و قیمت کو بھی پرکھتی ہے۔ "مہر السنۃ” (پانچ سو درہم چاندی) کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، جو اپنے تاریخی پس منظر میں ایک نہایت مناسب اور قابلِ قدر مالیت کا حامل تھا، مگر آج کے معاشی پیمانوں پر اس کی ظاہری چمک ماند پڑ گئی ہے۔
مہر السنۃ کی عصری تعبیر: روحِ سنت کی تلاش
مہر السنۃ کی اصل روح اس کی عددی مقدار میں نہیں، بلکہ اس کے فلسفے میں پوشیدہ ہے۔ یہ کوئی جامد اور منجمد مالیاتی حکم نہیں، بلکہ ہر دور کے لیے ایک متحرک اصول ہے۔ اس کا جوہر یہ ہے کہ مہر اتنا ہو جو عورت کے وقار کا آئینہ دار بھی ہو اور مرد کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بھی نہ بنے۔ لہٰذا، اس کی حقیقی پیروی یہ نہیں کہ ہم چودہ صدیاں پرانی کرنسی کی آج کی قیمت نکالیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے زمانے کی معاشی حقیقتوں کے مطابق ایک ایسی ہی متوازن اور بابرکت مقدار کا تعین کریں۔
اس عصری تعبیر کے لیے دو خوبصورت راستے بیان کیے گئے ہیں:
پہلا یہ کہ ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں اور دیکھیں کہ ماضی کے فقہاء اسے پچاس دینار (مثقال) سونے کے مساوی سمجھتے تھے۔ یہ طریقہ ہمیں چاندی کی گھٹتی ہوئی قدر سے نکال کر سونے کے مستحکم معیار پر لے آتا ہے۔
دوسرا راستہ، جو زیادہ روحانی اور سیرت سے قریب ہے، یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ رسولِ اکرم (ص) نے اپنی شہزادی (س) کے مہر سے ایک نئی زندگی کے لیے کس قدر سادگی سے ضروریات کا بندوبست فرمایا تھا۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ مہر السنۃ کی مقدار اتنی ہونی چاہیے جو آج کے دور میں ایک سادہ اور باوقار زندگی کے آغاز کے لیے کافی ہو۔
ان تمام تشریحات کا نتیجہ ایک ہی ہے: مہر السنۃ کا مقصد ہرگز کوئی بھاری بھرکم اور کمر توڑ رقم کا تعین نہیں ہے۔ چاہے اسے سونے کے معیار سے پرکھا جائے یا سیدہ (س) کے جہیز کی سادگی سے، اس کا پیغام ہمیشہ اعتدال، آسانی اور برکت ہی رہتا ہے۔ اصل سنت، ظاہری عدد کی پیروی نہیں، بلکہ اس روح کو اپنانا ہے جو نکاح کو ایک آسان اور مقدس فریضہ بناتی ہے۔[13]
نتیجہ
اسلام میں مہر کی بہترین اور مستحب مقدار "مہر السنۃ” ہے، جو پانچ سو درہم چاندی کے برابر ہے۔ یہ کوئی معمولی رقم نہیں بلکہ وہ بابرکت معیار ہے جو رسول اللہ (ص) نے قائم فرمایا اور جس کی سب سے روشن مثال مہرِ فاطمہ (س) ہے۔ ہمارا دین زیادہ مہر اور دکھاوے کی سختی سے مذمت کرتا ہے کیونکہ یہ عمل نکاح کو آسان بنانے کے بجائے سماجی بگاڑ اور رشتوں میں تلخی کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا، حق مہر کے تعین میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق مہر السنۃ کی روح (یعنی اعتدال اور سادگی) کو اپنائیں، کیونکہ حقیقی عزت و برکت پیسے کی کثرت میں نہیں بلکہ سنتِ رسول (ص) کی پیروی میں ہے۔
حوالہ جات
[1] فیروزآبادی، القاموس المحیط، ج2 ص631۔
[2] سورۃ النساء، آیت 4۔
[3] مفید، رسالۃ فی المهر،ص3۔
[4] صدوق، المقنع، ص302۔
[5] حلی،شرائع الاسلام،ج2 ص545۔
[6] حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج21، ص248۔
[7] مسعودی، «پژوهشى درباره مَهرُ السُّنّه (مهر محمّدى)»، ص115-116۔
[8] صدوق، المقنع، ص302 ۔
[9] اربلی، کشف الغمه، ج1، ص358۔
[10] فاضل مقداد، ج2 ص 302۔
[11] حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج15، ص10۔
[12] حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج15، ص11۔
[13] مسعودی، «پژوہشى دربارہ مہر السنۃ (مہر محمّدى)»، ص115-116۔
فہرست منابع
1. اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمة فی معرفة الائمة، تصحیح: سید هاشم رسولی محلاتی، تبریز: بنیهاشمی، ۱۳۸۱ق۔
2. حلّی، ابو القاسم نجم الدین جعفر بن حسن (محقق حلّی)، شرائع الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام، تحقیق: صادق شیرازی، تهران: انتشارات استقلال، چاپ دوم، ۱۴۰۴ق۔
3. شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، تصحیح: مؤسسة البعثة، قم: دار الثقافه، ۱۴۱۴ق۔
4. شیخ صدوق، محمد بن علی، المقنع، قم: مؤسسه امام هادی(ع)، چاپ اول، ۱۴۱۵ق۔
5. عاملی، محمد بن حسن حر، وسایل الشیعه، تهران: الاسلامیه، ۱۴۰۳ق۔
6. العکبری البغدادی، محمد بن محمد النعمان (شیخ مفید)، رساله فی المهر، تحقیق: شیخ مهدی نجف، ناشر: المؤتمر العالمی لألفیه الشیخ المفید۔
7. فاضل مقداد سیوری، کنز العرفان فی فقه القرآن، ناشر: المکتبه المرتضویه لإحیاء الآثار الجعفریه۔
8. فیروزآبادی شیرازی، محمد بن یعقوب، القاموس المحیط، لوح فشرده المعجم الفقهی، نسخه سوم۔
9. مسعودی، عبدالهادی، «پژوهشى درباره مہر السنۃ (مهر محمّدى)»، در: محمدی ری شهری، محمد، تحکیم خانواده از نگاه قرآن و حدیث، ترجمه: حمیدرضا شیخی، قم: سازمان چاپ و نشر دار الحدیث، چاپ دوم، ۱۳۸۹ش۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
1. پورمحمدی، رضا، «مطالعات فقه امامیه»، بهار و تابستان ۱۳۹۸، شماره ۱۲، رتبه: علمی-ترویجی، صص ۳۷–۶۸۔
2. حیدری، عباس علی، «فقه و تاریخ تمدن»، زمستان ۱۳۸۶، سال چهارم، شماره ۴، رتبه: علمی-پژوهشی ، صص ۵۱–۷۰۔
3. کاهرکامدم سورن ماریاتو، زینب برجی نژاد، «حق مهریه زن در ادیان ابراهیمی»، مجله پژوهش های اسلامی جنسیت و خانواده، ۲(۲)، ۱۳۹۸، صص ۱۹–۳۴۔
4. مسعودی، عبدالهادی، «پژوهشى درباره مہر السنۃ (مهر محمّدى)»، در: محمدی ری شهری، محمد، تحکیم خانواده از نگاه قرآن و حدیث، ترجمه: حمیدرضا شیخی، قم: سازمان چاپ و نشر دار الحدیث، چاپ دوم، ۱۳۸۹ش، ص 113-116۔