ابرہہ، حبشہ کا وہ طاقتور گورنر تھا جس نے اسلام سے قبل مکہ پر حملہ کر کے خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کی کوشش کی۔ اس کا یہ حملہ قرآن مجید کی سورہ فیل میں بیان کیا گیا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے ابابیل نامی پرندوں کے ذریعے اس کے لشکر کو تباہ و برباد کر دیا۔ یہ واقعہ اتنا اہم تھا کہ اس سال کو "عام الفیل” یعنی "ہاتھی کا سال” کہا جانے لگا اور یہ عرب میں ایک طویل عرصے تک تاریخ کا مبدا بنا رہا۔ خاص بات یہ ہے کہ اسی سال نبی اکرم (ص) کی ولادت باسعادت بھی ہوئی۔ یہ مضمون ابرہہ کے خانۂ کعبہ پر حملے کی تفصیلات، اس کے پس پردہ محرکات، اور اس کے نتائج پر روشنی ڈالتا ہے، تاکہ قارئین اس تاریخی واقعے کی گہرائی اور اہمیت کو سمجھ سکیں۔
ابرہہ کی شخصیت اور اس کا پس منظر
ابرہہ ایک حبشی نام ہے جو عربوں میں رائج نہیں تھا۔ بعض ماہرین نے اس کا عربی الاصل ہونا بھی بیان کیا ہے جس کا مطلب چہرے کی سفیدی یا کسی چیز کا ظاہر ہونا ہے۔تاریخی منابع میں اس کا پورا نام ابرہہ بن صباح یا ابرہۃ الاشرم بھی ملتا ہے، لیکن زیادہ تر مؤرخین اس کو "ابرہۃ الاشرم” اور کنیت "ابو یکسوم” سے یاد کرتے ہیں۔ابرہہ قد میں چھوٹا، کٹی ہوئی ناک والا (اشرم)، انتہائی چالاک اور مکار شخص تھا۔ اس کے دو بیٹے یکسوم اور مسروق تھے جو اس کے بعد یمن کے بادشاہ بنے۔[1]
یمن پر ابرہہ کی حکمرانی
تاریخی روایات کے مطابق، حبشہ کے بادشاہ نے یمن کے یہودی بادشاہ ذونواس کے عیسائیوں پر ظلم و ستم کو روکنے اور عیسائیت کو فروغ دینے کے لیے اریاط نامی کمانڈر کی قیادت میں 70,000 کا لشکر یمن بھیجا۔ ابرہہ بھی اسی لشکر کا حصہ تھا۔ اریاط نے ذونواس کو شکست دے کر یمن پر قبضہ کر لیا۔
کچھ سال حکومت کرنے کے بعد ابرہہ اور اریاط کے درمیان اقتدار پر جھگڑا شروع ہو گیا، جس سے حبشی فوج دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ جنگ کے دوران اریاط نے نیزے سے ابرہہ کی ناک پر وار کیا جس کی وجہ سے اس کی ناک کٹ گئی اور وہ "اشرم” کہلایا۔ ابرہہ نے ایک چالاکی سے اریاط پر قابو پا لیا اور اسے قتل کر کے خود کو یمن کا بادشاہ قرار دے دیا۔ اس نے نجاشی، حبشہ کے بادشاہ، کو کوئی حصہ بھیجے بغیر یمن میں قتل و غارت اور تباہی مچائی۔
نجاشی اس کی اس حرکت پر سخت ناراض ہوا اور مسیح کی قسم کھائی کہ وہ اسے قتل کر دے گا۔ ابرہہ نجاشی کے غصے سے ڈر گیا اور معافی مانگنے کے لیے تحائف اور ایک خط بھیجا جس میں اس نے اپنی وفاداری کا یقین دلایا۔ نجاشی نے اسے معاف کر دیا اور یمن کی بادشاہت ابرہہ کے ہاتھ میں رہی۔[2]
مکہ پر حملے کے محرکات
یمن پر اپنی حکومت مستحکم کرنے کے بعد ابرہہ کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ تاریخی روایات کے مطابق، جب اس نے حج کے موسم میں عرب قبائل کو کعبہ کی طرف جاتے دیکھا تو اس نے کعبہ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اپنے مسیحی مذہب کے دفاع اور نجاشی کو خوش کرنے کے لیے اس نے صنعا میں ایک عظیم الشان کلیسا تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ لوگ حج کے لیے مکہ جانے کے بجائے اس کلیسا کی طرف آئیں۔
اس نے اس کلیسا کا نام "قُلَّیس” رکھا۔یہ کلیسا اپنی خوبصورتی، وسعت، اور سجاوٹ میں یمن میں بے مثال تھا۔ جب عرب قبائل نے یہ خبر سنی تو وہ سخت غضبناک ہوئے۔ بنو فقیم کے ایک شخص نے اس کلیسا میں جا کر اسے آلودہ کر دیا۔ ایک اور روایت کے مطابق، کچھ عربوں نے کلیسا کے قریب آگ جلائی جو ہوا سے اڑ کر کلیسا تک پہنچ گئی اور اسے جلا دیا۔
جب ابرہہ کو اس واقعے کا علم ہوا تو اس نے اس کے ذمہ دار کے بارے میں پوچھا۔ اسے بتایا گیا کہ یہ کام مکہ کے کسی شخص نے کیا ہے۔ یہ سن کر ابرہہ نے غصے میں مسیح کی قسم کھائی کہ وہ کعبہ کو مسمار کر دے گا تاکہ کوئی بھی حج کے لیے مکہ نہ جا سکے۔ اس حملے کا ایک اور مقصد حبشہ کی سلطنت کو شمالی عرب کے علاقوں تک پھیلانا اور مکہ جیسے اہم تجارتی مرکز پر قبضہ کرنا بھی تھا۔[3]
ابرہہ کی مکہ پر لشکر کشی
ابرہہ نے نجاشی کو خط لکھ کر کلیسا کے واقعے کی اطلاع دی اور اس سے مکہ پر حملہ کرنے کے لیے اس کا مشہور اور طاقتور ہاتھی "محمود” مانگا۔ نجاشی نے اس کی درخواست قبول کر لی۔ ابرہہ نے ایک بڑا لشکر تیار کیا جس میں 70,000 فوجی اور کئی ہاتھی شامل تھے (جن کی تعداد مختلف روایات میں ایک سے تیرہ تک بیان کی گئی ہے)۔
راستے میں، ابرہہ نے بنو سلیم قبیلے کے ایک شخص کو بھیجا تاکہ وہ قبائل کو اس کے نئے معبد کی طرف حج کرنے کی ترغیب دے، لیکن قبیلہ کنانہ کے ایک شخص نے اسے قتل کر دیا، جس سے ابرہہ کا غصہ اور بھی بڑھ گیا۔ جب اس کا لشکر طائف پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے اپنی جان بچانے کے لیے ابورغال نامی شخص کو اس کی رہنمائی کے لیے ساتھ بھیج دیا۔ جب لشکر مکہ سے تقریباً چھ کلومیٹر دور "مغمس” نامی جگہ پر پہنچا تو ابرہہ نے اپنے ایک کمانڈر اسود بن مقصود کو مکہ بھیجا جس نے اہل مکہ کے مال مویشی لوٹ لیے، جن میں حضرت عبد المطلب (ع) کے 200 اونٹ بھی شامل تھے۔
اس کے بعد ابرہہ نے حناطہ حمیری کو قریش کے سردار کو بلانے کے لیے مکہ بھیجا اور یہ پیغام دیا کہ وہ ان سے لڑنے نہیں آیا بلکہ صرف کعبہ کو گرانے آیا ہے۔ اگر وہ مزاحمت نہیں کریں گے تو کوئی خونریزی نہیں ہوگی۔ حناطہ نے یہ پیغام حضرت عبد المطلب تک پہنچایا۔ حضرت عبد المطلب نے جواب دیا: "خدا کی قسم! ہم بھی ابرہہ سے لڑنا نہیں چاہتے۔ یہ اللہ کا گھر اور اس کے خلیل ابراہیم کا گھر ہے۔ اگر اللہ کو اس کی حفاظت کرنی ہے تو وہ خود اپنے گھر کی حفاظت کرے گا، اور کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا۔ لیکن اگر اللہ نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا تو ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ اس کا دفاع کر سکیں۔”[4]
حضرت عبد المطلب کی ابرہہ سے گفتگو
حضرت عبد المطلب، جو ایک عظیم، وجیہہ اور پروقار شخصیت کے مالک تھے، ابرہہ سے بات چیت کے لیے اس کے خیمے میں گئے۔ ابرہہ ان کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوا کہ ان کے احترام میں اپنے تخت سے اتر آیا اور انہیں اپنے پاس بٹھایا۔
اس نے مترجم کے ذریعے حضرت عبد المطلب سے ان کی آمد کا مقصد پوچھا۔ حضرت عبد المطلب نے فرمایا: "میں اپنے ان 200 اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ کرنے آیا ہوں جو تمہارے لشکر نے لوٹ لیے ہیں۔” ابرہہ، جو یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ کعبہ کو نہ گرانے کی سفارش کریں گے، یہ جواب سن کر حیران رہ گیا اور کہنے لگا: "جب میں نے تمہیں دیکھا تو تمہاری عظمت کا قائل ہو گیا تھا، لیکن تمہاری اس بات نے تمہیں میری نظروں سے گرا دیا ہے۔ تم مجھ سے اپنے اونٹوں کی بات کر رہے ہو اور اس گھر کے بارے میں کچھ نہیں کہہ رہے جو تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا دین ہے اور جسے میں گرانے آیا ہوں؟”
اس پر حضرت عبد المطلب نے وہ تاریخی جملہ کہا جو ان کی توحید پر گہری بصیرت کی دلیل ہے: "میں اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر کا بھی ایک مالک ہے جو خود اس کی حفاظت کرے گا۔” (أنا رب الإبل، وللبيت رب سيمنعه)۔ ابرہہ اس جواب سے لاجواب ہو گیا اور اس نے حکم دیا کہ ان کے اونٹ واپس کر دیے جائیں۔ حضرت عبد المطلب نے ان اونٹوں کو حرم کعبہ میں اللہ کے نام پر قربان کر دیا اور ان کا گوشت غریبوں میں تقسیم کر دیا۔ پھر انہوں نے قریش کو حکم دیا کہ وہ مکہ سے نکل کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر پناہ لے لیں تاکہ جنگ کے نقصانات سے محفوظ رہیں۔ اس کے بعد انہوں نے قریش کے چند سرداروں کے ساتھ مل کر کعبہ کا طواف کیا اور اللہ سے ابرہہ کی شکست کے لیے دعا کی۔[5]
لشکر ابرہہ کی خدائی عذاب سے تباہی
اگلی صبح، ابرہہ نے اپنے لشکر کو مکہ میں داخل ہونے اور کعبہ کو مسمار کرنے کا حکم دیا۔ اس نے اپنے سب سے بڑے ہاتھی "محمود” کو آگے رکھا۔ لیکن جب انہوں نے ہاتھی کو کعبہ کی طرف بڑھانے کی کوشش کی تو وہ زمین پر بیٹھ گیا اور آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ جب اس کا رخ یمن کی طرف کرتے تو وہ دوڑنے لگتا، لیکن جیسے ہی کعبہ کی طرف موڑتے، وہ پھر بیٹھ جاتا۔
اسی دوران، اللہ تعالیٰ نے سمندر کی طرف سے ابابیل جیسے پرندوں کے جھنڈ بھیجے، ہر پرندے کے پاس تین کنکریاں تھیں، ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں۔ یہ کنکریاں چنے سے چھوٹی اور مسور سے بڑی تھیں۔ جب یہ کنکری کسی فوجی کے سر پر لگتی تو اس کے جسم کو چیرتی ہوئی نیچے سے نکل جاتی اور وہ فوراً ہلاک ہو جاتا۔ ابرہہ کا پورا لشکر کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہو گیا۔ اس کے بعد اللہ نے ایک سیلاب بھیجا جس نے تمام لاشوں کو بہا کر سمندر میں پھینک دیا۔
ابرہہ اور کچھ بچ جانے والے یمن کی طرف بھاگے۔ ابرہہ کے جسم میں ایک ایسی بیماری لگ گئی کہ اس کے اعضاء ایک ایک کر کے گلنے لگے۔ جب اسے صنعا پہنچایا گیا تو وہ ایک چوزے کی مانند رہ گیا تھا اور اسی حالت میں تڑپ تڑپ کر مر گیا۔[6]
واقعۂ فیل کے نتائج اور اہمیت
ابرہہ کے حملے اور اس کی معجزاتی تباہی کے سال کی غیر معمولی اہمیت کی وجہ سے، یہ سال اسلام سے پہلے عرب میں کیلنڈر کا نقطہ آغاز بن گیا۔اللہ تعالیٰ نے سورہ فیل میں اس واقعے کا ذکر کر کے اپنی قدرت کا اظہار کیا۔ اس معجزے کا نتیجہ سورہ قریش میں بیان کیا گیا، جہاں اللہ فرماتا ہے کہ کعبہ کی حرمت کے تحفظ کی بدولت قریش مکہ کی مقدس سرزمین سے مانوس ہوئےاور بغیر کسی خوف کے شام اور یمن کے تجارتی سفر کرنے لگے۔
اسی لیے اللہ نے سورہ فیل کے بعد سورہ قریش نازل فرمائی، جو درحقیقت اسی کا تسلسل ہے۔ اس احسان کے بدلے میں اللہ نے قریش سے مطالبہ کیا کہ وہ کعبہ کو بتوں سے پاک کریں اور اس کے حقیقی مالک، یعنی خدائے واحد کی عبادت کریں، اور خاتم النبیین (ص) کی پیدائش اور بعثت کے لیے راہ ہموار کریں۔[7]
یہ واقعہ صرف کعبہ کا معجزاتی دفاع نہیں تھا، بلکہ یہ حضرت عبد المطلب کی حکمت، ایمان اور توحید پر مبنی قیادت کا بھی ثبوت ہے۔ ان کا ابرہہ کے سامنے مضبوط موقف اور اللہ پر کامل توکل اس بات کی علامت ہے کہ وہ صرف قریش کے سردار نہیں تھے بلکہ الٰہی نمائندے اور آنے والے نبی کے جدِ امجد تھے۔ یہ واقعہ آنے والے نبی آخر الزماں (ص) کی آمد کا ایک مقدمہ تھا، جس نے یہ واضح کر دیا کہ اس گھر اور اس شہر کو ایک عظیم مقصد کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
نتیجہ
ابرہہ کا کعبہ پر حملہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جو صرف ایک فوجی مہم جوئی کی ناکامی نہیں، بلکہ اللہ کی قدرت، کعبہ کی حرمت، اور حضرت عبد المطلب (ع) کے بلند کردار کی ایک روشن مثال ہے۔ یہ واقعہ، جو عام الفیل کے نام سے مشہور ہوا، نبی اکرم (ص) کی ولادت باسعادت کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور اس نے عربوں کے دلوں میں کعبہ کی عظمت کو مزید گہرا کر دیا۔ ابرہہ کی تباہی نے یہ پیغام دیا کہ اس گھر کا محافظ خود اللہ ہے اور کوئی بھی مادی طاقت اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہ واقعہ آج بھی مسلمانوں کے لیے ایمان اور توکل کی ایک لازوال داستان ہے۔
حوالہ جات
[1] ابن کثیر، البدایۃ و النهایۃ، ج۲، ص۱۷۶۔
[2] طبری، تاریخ طبری، ج۲، ص۱۳۰۔
[3] جواد علی، المفصل، ج۳، ص۵۰۷؛ طالقانی، پرتوی از قرآن، ج۴، ص۲۶۰۔
[4] مقدسی، البدء و التاریخ، ج۳، ص۱۸۷؛ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ج۲، ص۶۲۔
[5] طبری، تاریخ طبری، ج۲، ص۱۳۴۔
[6] ثعلبی، تفسیر ثعلبی، ج۱۰، ص۲۹۶؛ ابو الفتوح، روض الجنان، ج۲۰، ص۴۱۱۔
[7] مسعودی، مروج الذهب، ج۲، ص۲۷۴؛ گردیزی، زین الاخبار، ص۴۵۳۔
منابع
1. ابن خلدون، عبد الرحمن، تاریخ ابن خلدون، بیروت: دار احیاء التراث العربی، ۱۳۹۱ ق۔
2. ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النهایۃ، بیروت: مکتبة المعارف، بی تا۔
3. ابو الفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان، مشهد: آستان قدس رضوی، ۱۳۷۵ ش۔
4. ثعلبی، احمد بن محمد، التفسیر الثعلبی (الکشف و البیان)، بیروت: دار احیاء التراث العربی، ۱۴۲۲ ق۔
5. جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الإسلام، بیروت: دار العلم للملایین، ۱۹۷۶ م۔
6. طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، بیروت: اعلمی، ۱۴۰۳ ق۔
7. طالقانی، محمود، پرتوی از قرآن، تهران: شرکت سهامی انتشار، ۱۳۵۰ ش۔
8. گردیزی، ابوسعید عبدالحی، زین الاخبار، تهران: دنیای کتاب، ۱۳۶۳ ش۔
9. مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب و معادن الجوهر، قم: دار الهجرۃ، ۱۴۰۹ ق۔
10. مطهر المقدسی، محمد بن طاهر، البدء و التاریخ، بیروت: دار صادر، ۱۹۰۳ م۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
(1) حمید آریان، «لشکرکشی ابرهه به مکه به روایت تاریخ و قرآن»، تاریخ اسلام در آینه پژوهش، پاییز 1384، شماره 7، ص 25–82، ISC۔
(2) حسن فراهانی، «پژوهشی تاریخی در ماجرای اصحاب فیل»، معرفت، فروردین 1380، شماره 40، ص 43–51، ISC۔
(3) ریاض هاشم النعیمی، «حملة أبرهة الحبشی إلی مکة، أهدافها و نتائجها، دراسة نقدیة»، آفاق الثقافة و التراث، محرم 1423، العدد 37، ص 6–14۔