اس مضمون میں دعائے کمیل کی گہری وضاحت پیش کیا گیا ہے اور اسے تین مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے، تاکہ اللہ سے تعلق قائم کرنے کا طریقہ سمجھایا جاسکے۔ پہلے مرحلے میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ اپنے گناہوں کے پردے ہٹا کر، عاجزی کے ساتھ خدا کے سامنے کھڑا ہو اور مغفرت و قربِ الٰہی کی دعا کرے۔ بندہ اپنی کمزوری، دنیا کے دھوکے، لمبی خواہشوں اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ سے درخواست کرتا ہے کہ اس کی برائیاں اس کی دعا میں رکاوٹ نہ بنیں۔ چونکہ خدا کے سوا کوئی پناہ نہیں، اس لیے اس ابتدائی مرحلے میں سچی ندامت اور انکساری ضروری ہے۔
اس کے بعد دوسرے مرحلے میں بندہ مختلف وسائط اور دینی اہم مقامات کا واسطہ دے کر اللہ سے قلبی تعلق مضبوط کرتا ہے اور اپنی دعا کو قبولیت کے قریب لاتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں مولائے کائنات (ع) نہایت ترتیب کے ساتھ اپنی حاجات خدا کے حضور پیش کرتے ہیں، جو بندے کی پستی کے اعتراف سے شروع ہو کر آقا کی بے پایاں رحمت کی طلب پر ختم ہوتی ہیں۔
دعا کا پہلا مرحلہ: خدا کے حضور گناہوں کا اعتراف
یہ مرحلہ دعا کے شروع کرنے کے حکم ميں ہے جس ميں دعا کرنے والا الله کی بارگاہ ميں کهڑا ہوکر دعا کرتا ہے۔ گڑگڑاتا ہے اور خدا سے مانگتا ہے، چونکہ گناہ انسان اور الله کے درميان حائل ہوکر دعا کو مقيد کر دیتے ہيں اور اگر بندہ خدا کے سامنے کهڑا ہوکر دعا کرنے کا موقف اپناتا ہے تو اس کےلئے اس پہلے مرحلے کی رعایت کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔
اس مرحلے (ابتدائے دعا) ميں الله سے مانگنے، طلب کرنے کے طریقے کی ابتداء بيان کرتے ہيں ان ميں سے ایک الله سے مغفرت طلب کرنا ہے:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَهْتِكُ الْعِصَمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَم۔
اے معبود میرے ان گناہوں کو معاف کر دے جو پردہ فاش کرتے ہیں، خدایا! میرے وہ گناہ معاف کر دے جن سے عذاب نازل ہوتا ہے۔
اور دوسرے مرحلے ميں خدا کی یاد، شکر اور اس کا تقرب طلب کيا گيا ہے:
وَٲَسْٲَلُكَ بِجُوْدِكَ ٲَنْ تُدْنِیَنِیْ مِنْ قُرْبِكَ وَٲَنْ تُوْزِعَنِیْ شُكْرَكَ وَٲَنْ تُلْھِمَنِیْ ذِكْرَكَ۔
تیرے جود کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اپنا قرب عطا فرما، اور توفیق دے کہ تیرا شکر ادا کروں اور میری زبان پر اپنا ذکر جاری فرما۔
پہلے تو انسان کےلئے خداوند عالم کی بارگاہ ميں دعا کرنے کےلئے کهڑا ہونا ضروری ہے۔
جس کے نتيجے ميں خداوند عالم اس کے گناہوں کو معاف کرے گا، اس کے دل سے پردے ہڻا دے گا۔
دوسرا خداوند عالم کا بندے کو خود سے قریب ہونے اس کا شکر کرنے اور اس کے دل ميں تذکرہ کرنے کی اجازت دینا ضروری ہے۔ یہ دعا ميں وارد ہونے کے ابتدائی فقرے ہيں۔
اس کا دوسرا فقرہ الله کی بارگاہ ميں اپنی ضرورتوں کو پيش کرنا اور اس کی طرف راغب ہونا ہے:
اللَّهُمَّ وَ أَسْأَلُكَ سُؤَالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فَاقَتُهُ وَ أَنْزَلَ بِكَ عِنْدَ الشَّدَائِدِ حَاجَتَهُ وَ عَظُمَ فِيمَا عِنْدَكَ رَغْبَتُه۔
یا اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس شخص کی طرح جو سخت تنگی میں ہو، سختیوں میں پڑا ہو، اپنی حاجت لے کر تیرے پاس آیا ہوں، اور جو کچھ تیرے پاس ہے اس میں زیادہ رغبت رکھتا ہوں۔
الله سے کوئی فرار نہيں کرسکتا اور نہ ہی خدا کے علاوہ بندے کی کوئی اور پناہ گاہ ہے۔ یہ دو حقيقتيں ہيں:
الف۔ الله سے کوئی مفر نہيں ہے
اللَّهُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُكَ وَ عَلَا مَكَانُكَ وَ خَفِيَ مَكْرُكَ وَ ظَهَرَ أَمْرُكَ وَ غَلَبَ قَهْرُكَ وَ جَرَتْ قُدْرَتُكَ وَ لَا يُمْكِنُ الْفِرَارُ مِنْ حُكُومَتِك۔
اے اللہ تیری عظیم سلطلنت اور تیرا مقام بلند ہے، تیری تدبیر پوشیدہ اور تیرا امر ظاہر ہے، تیرا قہر غالب تیری قدرت کارگر ہے، اور تیری حکومت سے فرار ممکن نہیں۔
ب: الله کے علاوہ کوئی اور پناہ گاہ نہيں ہے
اللَّهُمَّ لَا أَجِدُ لِذُنُوبِي غَافِراً وَ لَا لِقَبَائِحِي سَاتِراً وَ لَا لِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِيَ الْقَبِيحِ بِالْحَسَنِ مُبَدِّلًا غَيْرَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْت۔
خداوندا میں تیرے سوا کسی کو نہیں پاتا جو میرے گناہ بخشنے والا، میری برائیوں کو چھپانے والا، اور میرے برے عمل کو نیکی میں بدل دینے والا ہو، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
یہ اس ابتدائی مرحلہ کا دوسرا فقرہ ہے اور اس مرحلہ کے تيسرے فقرے ميں حضرت علی (ع) انسان کی مایوسی اور اس کی طویل شقاوت کے بارے ميں فرماتے ہيں:
اَللّٰھُمَّ عَظُمَ بَلَائِیْ، وَٲَفْرَطَ بِیْ سُوْءُ حَالِیْ،ْ وَقَصُرَتْ بِیْ ٲَعْمَالِیْ، وَقَعَدَتْ بِیْ ٲَغْلَالِیْ، وَحَبَسَنِیْ عَنْ نَفْعِیْ بُعْدُ اٰمَالِیْ وَخَدَعَتْنِی الدُّنْیَا بِغُرُوْرِہَا، وَنَفْسِیْ بِجِنَایَتِہَا، وَمِطَالِیْ، یَا سَیِّدِیْ۔
اے معبود! میری مصیبت عظیم ہے، بدحالی کچھ زیادہ ہی بڑھ چکی ہے، میرے اعمال بہت کم ہیں، گناہوں کی زنجیر نے مجھے جکڑ لیا ہے، لمبی آرزوؤں نے مجھے اپنا قیدی بنا رکھا ہے، دنیا نے دھوکہ بازی سے مجھ کو فریب دیا ہے، اور نفس نے جرائم اور حیلہ سازی سے، اے میرے آقا۔
اس بے بسی، رنج و غم اور شقاوت کے اسباب انسان کا عمل اور اس کی کوششيں ہيں لہٰذا وہ خداوند عالم سے دعا کرے کہ اس کے گناہوں کو معاف کردے اور ان گناہوں کو اپنے اور دعا کے درميان حائل نہ ہونے دے۔
فَأَسْأَلُكَ بِعِزَّتِكَ أَنْ لَا يَحْجُبَ عَنْكَ دُعَائِي سُوءُ عَمَلِي وَ فَعَالِي وَ لَا تَفْضَحْنِي بِخَفِيِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَيْهِ مِنْ سِرِّي وَ لَا تُعَاجِلْنِي بِالْعُقُوبَةِ عَلَى مَا عَمِلْتُهُ فِي خَلَوَاتِي مِنْ سُوءِ فِعْلِي وَ إِسَاءَتِي وَ دَوَامِ تَفْرِيطِي وَ جَهَالَتِي وَ كَثْرَةِ شَهَوَاتِي وَ غَفْلَتِي۔
میں تیری عزت کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں، کہ میری بدعملی و بدکرداری میری دعا کو تجھ سے نہ روکے، اور تو مجھے میرے پوشیدہ کاموں سے رسوا نہ کرے جن میں تو میرے راز کو جانتا ہے، اور مجھے اس پر سزا دینے میں جلدی نہ کر جو میں نے خلوت میں، غلط کام کیا، برائی کی، ہمیشہ کوتاہی کی، اس میں میری نادانی، خواہشوں کی کثرت اور غفلت بھی ہے۔
اس مرحلہ کے چوتهے فقرے ميں ایک بہت بڑے مطلب کی طرف اشارہ کيا گيا ہے کہ بندے کا اپنے نقصان اور مایوسی کے وقت خدا کے علاوہ اس کا کوئی ملجا و ماویٰ نہيں ہے:
اِلٰھِیْ وَرَبِّیْ مَنْ لِیْ غَیْرُكَ، ٲَسْٲَلُہٗ كَشْفَ ضُرِّیْ، وَالنَّظَرَ فِیْ ٲَمْرِیْ۔
میرے معبود میرے رب تیرے سوا میرا کون ہے، جس سے سوال کروں کہ میری تکلیف دور کر دے اور میرے معاملے پر نظر رکھ۔
اس مرحلہ کے پانچویں فقرے ميں دوباتوں کا اعتراف کيا گيا ہے:
۱۔ گناہوں کا اعتراف۔
۲۔ اس چيز کا اعتراف کہ بندہ جب الله کے حدود و احکام کی مخالفت کرتا ہے اور اپنی خواہشات نفسانی ميں غرق ہوجاتا ہے تو وہ خدا کے سامنے کوئی حجت پيش نہيں کرسکتا۔
اس مرحلے کے آخری اور چهڻے حصے ميں بندے کا اپنے گناہوں، معصيت، نا اميدی و شقاوت کا اعتراف کرنا ہے اور یہ اعلان کہ خدا سے کوئی فرار اختيار نہيں کرسکتا اور اس کے علاوہ بندے کی کوئی پناہ گاہ نہيں ہے، اور الله سے یہ درخواست کرنا کہ وہ بندے سے اس کے برے افعال، جرم و جرائم کا مواخذہ نہ کرے۔
الله کے سامنے گریہ و زاری اور اپنے مسکين ہونے کا اعتراف کرنے کے بعد بندہ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے مولا کی بارگاہ ميں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہے، اس سے نادم ہے، انکساری کرتا ہے چونکہ وہ یہ جانتا ہے کہ خدا کے علاوہ کسی اور کی طرف فرار نہيں کيا جاسکتا ہے اور وہ اپنے نقصان اور رنج و غم کے وقت الله کے علاوہ کسی اور کے سامنے گڑگڑا نہيں سکتا ہے:
وَ قَدْ أَتَيْتُكَ يَا إِلَهِي بَعْدَ تَقْصِيرِي وَ إِسْرَافِي عَلَى نَفْسِي مُعْتَذِراً نَادِماً مُنْكَسِراً مُسْتَقِيلًا مُسْتَغْفِراً مُنِيباً مُقِرّاً مُذْعِناً مُعْتَرِفاً لَا أَجِدُ مَفَرّاً مِمَّا كَانَ مِنِّي وَ لَا مَفْزَعاً أَتَوَجَّهُ إِلَيْهِ فِي أَمْرِي غَيْرَ قَبُولِكَ عُذْرِي وَ إِدْخَالِكَ إِيَّايَ فِي سَعَةٍ مِنْ رَحْمَتِك۔
اور اے اللہ میں تیرے حضور آیا ہوں جب کہ میں نے کو تاہی کی اور اپنے نفس پر زیادتی کی ہے، میں عذر خواہ و پشیماں، ہارا ہوا، معافی کا طالب، بخشش کا سوالی، تائب، گناہوں کا اقراری، سرنگوں اور اقبال جرم کرتا ہوں، جو کچھ مجھ سے ہوا نہ اس سے فرار کی راہ ہے، نہ کوئی جائے پناہ کہ اپنے معاملے میں اس کی طرف توجہ کروں، سوائے اس کے کہ تو میرا عذر قبول کرے، اور مجھے اپنی وسیع تر رحمت میں داخل کر لے۔
اس مقام پر یہ مرحلہ ختم ہو جاتا ہے۔ اور اس جملے و قد اتيتکَ کے ذریعے انسان خداوند عالم کی بارگاہ ميں دعا اور تضرع کرنے کا اعلان کرتا ہے۔
دعا کا دوسرا مرحلہ: توجهِ قلب اور اللہ سے لو لگانے کا مقام
یہاں سے دعا کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے اس مرحلے ميں امام علی (ع) ان وسائل کا تذکرہ فرماتے ہيں جن کے ذریعے الله سے متوسل ہوا جاتا ہے جو ہمارے (مولف) نظریے کے مطابق، چار وسائل ہيں:
پہلا وسيلہ
خداوند عالم کا اپنے بندوں پر فضل و کرم و رحمت اور ان سے محبت کرنا ہے:
يَا مَنْ بَدَأَ خَلْقِي وَ ذِكْرِي وَ تَرْبِيَتِي وَ بِرِّيِ وَ تَغْذِيَتِي هَبْنِي لِابْتِدَاءِ كَرَمِكَ وَ سَالِفِ بِرِّكَ بِي۔
اے وہ ذات جس نے میری خلقت، ذکر، پرورش، نیکی اور غذا کا آغاز کیا، اپنے پہلے کرم اور گزشتہ نیکی کے تحت مجھے معاف فرما۔
دوسرا وسيلہ
ہمارا خداوند عالم سے محبت (لو لگانا) کرنا اور اس کی وحدانيت کا اقرار کرنا ہے:
أَ تُرَاكَ مُعَذِّبِي بِنَارِكَ بَعْدَ تَوْحِيدِكَ وَ بَعْدَ مَا انْطَوَى عَلَيْهِ قَلْبِي مِنْ مَعْرِفَتِكَ وَ لَهِجَ بِهِ لِسَانِي مِنْ ذِكْرِكَ وَ اعْتَقَدَهُ ضَمِيرِي مِنْ حُبِّكَ وَ بَعْدَ صِدْقِ اعْتِرَافِي وَ دُعَائِي خَاضِعاً لِرُبُوبِيَّتِكَ۔
کیا میں یہ سمجھوں کہ تو مجھے اپنی آگ کا عذاب دے گا جبکہ تیری توحید کا معترف ہوں، اس کے ساتھ میرا دل تیری معرفت سے لبریز ہے، اور میری زبان تیرے ذکر میں لگی ہوئی ہے، میرا ضمیر تیری محبت سے جڑا ہوا ہے، اور اپنے گناہوں کے سچے اعتراف اور تیری ربوبیت کے آگے میری عاجزانہ پکار کے بعد بھی تو مجھے عذاب دے گا؟
تيسرا وسيلہ
ہمارا عذاب کے تحمل کرنے ميں کمزوری کا اعتراف ہے اپنی کهال کی کمزوری اور ہڈیوں کے ناتوان ہونے کا اقرار کرنا ہے:
وَ أَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفِي عَنْ قَلِيلٍ مِنْ بَلَاءِ الدُّنْيَا وَ عُقُوبَاتِهَا وَ مَا يَجْرِي فِيهَا مِنَ الْمَكَارِهِ عَلَى أَهْلِهَا عَلَى أَنَّ ذَلِكَ بَلَاءٌ وَ مَكْرُوهٌ قَلِيلٌ مَكْثُهُ يَسِيرُ بَقَاؤُهُ قَصِيرٌ مُدَّتُهُ فَكَيْفَ احْتِمَالِي لِبَلَاءِ الْآخِرَةِ وَ حُلُولِ (وَ جَلِيلِ) وُقُوعِ الْمَكَارِهِ فِيهَا وَ هُوَ بَلَاءٌ تَطُولُ مُدَّتُهُ۔
اے پروردگار! تو میری ناتوانی کو جانتا ہے، دنیا کی مختصر تکلیفوں اور مصیبتوں کے مقابل، اور اہل دنیا پر جو تنگیاں آتی ہیں (میں انہیں برداشت نہیں کر سکتا)، اگرچہ اس تنگی و سختی کا ٹھہراؤ کم ہے، اور بقاء کا وقت تھوڑا اور مدت کوتاہ ہے، تو پھر کیونکر میں آخرت کی مشکلوں کو جھیل سکوں گا، جو بڑی سخت ہیں، اور وہ ایسی تکلیفیں ہیں جن کی مدت طولانی۔
چوتھا وسيلہ
امام علی (ع) نے اس دعا ميں بيان فرمایا ہے وہ اس بهاگے ہوئے غلام کی طرح ہے جس نے اپنے آقا کی نافرمانی کی ہو اور وہ پهر اپنے آقا کی پناہ اور اس کی مدد چاہتا ہو جب اس کے تمام راستے بند ہو گئے ہوں اور اس کی اپنے مولا کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہ ہو۔
اس وسيلے کی امام علی (ع) ان کلمات ميں عکاسی فرماتے ہيں:
لَئِنْ تَرَكْتَنِي نَاطِقاً لَأِضِجَّنَّ إِلَيْكَ مِنْ بَيْنِ أَهْلِهَا ضَجِيجَ الْآمِلِينَ وَ لَأَصْرُخَنَّ إِلَيْكَ صُرَاخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ وَ لَأَبْكِيَنَّ عَلَيْكَ بُكَاءَ الْفَاقِدِينَ وَ لَأُنَادِيَنَّكَ أَيْنَ كُنْتَ يَا وَلِيَّ الْمُؤْمِنِينَ يَا غَايَةَ آمَالِ الْعَارِفِينَ يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيثِينَ يَا حَبِيبَ قُلُوبِ الصَّادِقِينَ وَ يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ۔
اگر تو نے میری گویائی باقی رہنے دی، تو میں اہل نار کے درمیان تیرے حضور فریاد کروں گا آرزو مندوں کی طرح، اور تیرے سامنے نالہ کروں گا جیسے مددگار کے متلاشی کرتے ہیں، تیرے فراق میں یوں گریہ کروں گا جیسے ناامید ہونے والے گریہ کرتے ہیں، اور تجھے پکاروں گا کہاں ہے تو اے مومنوں کے مددگار، اے عارفوں کی امیدوں کے مرکز، اے بے چاروں کی داد رسی کرنے والے، اے سچے لوگوں کے دوست، اور اے عالمین کے معبود۔
یہاں پر اس دعائے شریفہ کے چاروں وسيلے پيش کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ ختم ہو جاتا ہے جن کے ذریعے بندہ الله سے دعا اور سوال کرنے کےلئے لو لگاتا ہے۔
دعا کا تیسرا مرحلہ: خدا کی بارگاہ ميں حاجات پيش کرنا
اب ہم اس دعائے شریفہ کے تيسرے مرحلے کو پيش کرتے ہيں۔ (امام علی (ع) ان چاروں وسيلوں سے الله سے متوسل ہونے کے بعد) جس ميں امام علی (ع) اپنی حاجات و مطالب کو یکے بعد دیگرے خدا کی بارگاہ ميں پيش کرتے ہيں یہ تمام حاجتيں ایک پست نقطہ یعنی بندے کی حيثيت اور اس کے عمل سے شروع ہوتی ہيں اور بلند ترین نقطہ قمہ یعنی انسان کا اپنے آقا کی رحمت کے سلسلے ميں وسيع شوق پر ختم ہوتی ہيں۔
ہم پستی کے مقام پر اس طرح پڑهتے ہيں:
أَنْ تَهَبَ لِي فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ كُلَّ جُرْمٍ أَجْرَمْتُهُ وَ كُلَّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ وَ كُلَّ قَبِيحٍ أَسْرَرْتُهُ۔
(اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں) بخش دے اس شب میں اور اس ساعت میں، میرے تمام وہ جرم جو میں نے کیے، تمام وہ گناہ جو مجھ سے سرزد ہوئے، وہ سب برائیاں جو میں نے چھپائی ہیں۔
اور بلند نظری کے سلسلہ ميں ہم اس طرح پڑهتے ہيں:
وَ اجْعَلْنِي مِنْ أَحْسَنَ عِبَادِكَ نَصِيباً عِنْدَكَ وَ أَقْرَبِهِمْ مَنْزِلَةً مِنْكَ وَ أَخَصِّهِمْ زُلْفَةً لَدَيْكَ۔
مجھے اپنے بندوں میں قرار دے جو نصیب میں بہتر ہیں، جو منزلت میں تیرے قریب ہیں، جو تیرے حضور تقرب میں مخصوص ہیں۔
اور جن حاجتوں کو امام علی (ع) نے ان فقروں ميں بيان فرمایا ہے ان کے چار گروہ ہيں۔
پہلا گروہ
خداوند عالم ہم کو بخش دے اور ہم سے ہمارے گناہوں کا مواخذہ نہ کرے ہماری برایئوں سے درگزر فرما ہمارے جرم اور جن برائيوں کا ہم نے ارتکاب کيا ان کو معاف فرما:
أَنْ تَهَبَ لِي فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ كُلَّ جُرْمٍ أَجْرَمْتُهُ وَ كُلَّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ وَ كُلَّ قَبِيحٍ أَسْرَرْتُهُ وَ كُلَّ جَهْلٍ عَمِلْتُهُ كَتَمْتُهُ أَوْ أَعْلَنْتُهُ أَخْفَيْتُهُ أَوْ أَظْهَرْتُهُ وَ كُلَّ سَيِّئَةٍ أَمَرْتَ بِإِثْبَاتِهَا الْكِرَامَ الْكَاتِبِينَ الَّذِينَ وَكَّلْتَهُمْ بِحِفْظِ مَا يَكُونُ مِنِّي وَ جَعَلْتَهُمْ شُهُوداً عَلَيَّ مَعَ جَوَارِحِي۔
(سوال کرتا ہوں) بخش دے اس شب میں اور اس ساعت میں، میرے تمام وہ جرم جو میں نے کیے، تمام وہ گناہ جو مجھ سے سرزد ہوئے، وہ سب برائیاں جو میں نے چھپائی ہیں، جو نادانیاں میں نے جہل کی وجہ سے کیں ہیں، علی الاعلان یا پوشیدہ رکھی ہوں یا ظاہر کیں ہیں، اور (معاف فرما) میری بدیاں جن کے لکھنے کا تو نے معزز کاتبین کو حکم دیا ہے، جنہیں تو نے مقرر کیا ہے کہ جو کچھ میں کروں اسے محفوظ کریں، اور ان کو میرے اعضاء کے ساتھ مجھ پر گواہ بنایا۔
دوسرا گروہ
دوسرے گروہ ميں امام علی (ع) الله سے رحمت نازل کرنے کےلئے عرض کرتے ہيں اور خدا سے عرض کرتے ہيں اے پروردگار وہ ہر شان، ہر رزق اور خير جو تو نازل کرتا ہے اس ميں ميرا حصہ قرار دے۔
وَ أَنْ تُوَفِّرَ حَظِّي مِنْ كُلِّ خَيْرٍ أَنْزَلْتَهُ (تُنْزِلُهُ) أَوْ إِحْسَانٍ فَضَّلَتَهُ (تُفَضِّلُهُ) أَوْ بِرٍّ أنشرته (تَنْشُرُهُ) أَوْ رِزْقٍ بَسَطْتَهُ (تَبْسُطُهُ)۔
اور میرے لیے وافر حصہ قرار دے ہر اس خیر میں جسے تو نے نازل کیا، یا ہر اس احسان میں جو تو نے کیا، یا ہر نیکی میں جسے تو نے پھیلایا، یا (اس) رزق میں جسے تو نے وسیع کیا۔
یہ وسيع دعا ان تمام چيزوں کو شامل ہے جو الله کی رحمتوں سے خارج نہيں ہوسکتی ہيں۔
تیسرا گروہ
اس دعا کے تيسرے گروہ ميں طولانی فقرے ہيں اور اس مطلب کی عکاسی کرتے ہيں کہ امام علی (ع) نے الله سے لو لگانے کا بڑا اہتمام فرمایا ہے۔ مولائے کائنات خداوند عالم کی بارگاہ ميں عرض کرتے ہيں کہ ميرے اوقات کو اپنے ذکر سے پر کر دے اپنی خدمت ميں لگے رہنے کی دهن لگا دے، اپنے (خدا) سے ڈرتے رہنے کی توفيق عطا کر، اپنے سے قریب کر اور اپنے جوار ميں جگہ عطا فرما:
رَبِّ أَسْأَلُكَ بِحَقِّكَ وَ قُدْسِكَ وَ أَعْظَمِ صِفَاتِكَ وَ أَسْمَائِكَ أَنْ تَجْعَلَ أَوْقَاتِي فِي (مِنَ) اللَّيْلِ وَ النَّهَارِ بِذِكْرِكَ مَعْمُورَةً وَ بِخِدْمَتِكَ مَوْصُولَةً وَ أَعْمَالِي عِنْدَكَ مَقْبُولَةً۔
میں تجھ سے تیرے حق ہونے، تیری پاکیزگی، تیری عظیم صفات اور اسماء کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں، کہ میرے رات دن کے اوقات اپنے ذکر سے آباد کر، اور مسلسل اپنی حضوری میں رکھ، اور میرے اعمال کو اپنی جناب میں قبولیت عطا فرما،
حَتَّى تَكُونَ أَعْمَالِي وَ أَوْرَادِي وَ إِرَادَاتِي كُلُّهَا وِرْداً وَاحِداً وَ حَالِي فِي خِدْمَتِكَ سَرْمَداً يَا سَيِّدِي يَا مَنْ عَلَيْهِ مُعَوَّلِي يَا مَنْ إِلَيْهِ شَكَوْتُ أَحْوَالِي يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا رَبِّ قَوِّ عَلَى خِدْمَتِكَ جَوَارِحِي وَ اشْدُدْ عَلَى الْعَزِيمَةِ جَوَانِحِي۔
حتیٰ کہ میرے تمام اعمال اور اذکار تیرے حضور ورد قرار پائیں، اور میرا یہ حال تیری بارگاہ میں ہمیشہ قائم رہے، اے میرے آقا اے وہ جس پر میرا تکیہ ہے، یا رب یا رب یا رب، میرے ظاہری اعضاء کو اپنی حضوری میں قوی، اور میرے باطنی ارادوں کو محکم و مضبوط بنا دے۔
وَ هَبْ لِيَ الْجِدَّ فِي خَشْيَتِكَ وَ الدَّوَامَ فِي الِاتِّصَالِ بِخِدْمَتِكَ حَتَّى أَسْرَحَ إِلَيْكَ فِي مَيَادِينِ السَّابِقِينَ وَ أُسْرِعَ إِلَيْكَ فِي الْمُبَادِرِينَ وَ أَشْتَاقَ إِلَى قُرْبِكَ فِي الْمُشْتَاقِينَ وَ أَدْنُوَ مِنْكَ دُنُوَّ الْمُخْلَصِينَ وَ أَخَافَكَ مَخَافَةَ الْمُوقِنِينَ وَ أَجْتَمِعَ فِي جِوَارِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ۔
اور مجھے توفیق دے کہ تجھ سے ڈرنے کی کوشش کروں، اور تیری حضوری میں ہمیشگی پیدا کروں، تاکہ تیری بارگاہ میں سابقین کی راہوں پر چل پڑوں، اور تیری طرف جانے والوں سے آگے نکل جاؤں، تیرے قرب کا شوق رکھنے والوں میں زیادہ شوق والا بن جاؤں، تیرے خالص بندوں کی طرح تیرے قریب ہو جاؤں، اہل یقین کی مانند تجھ سے ڈروں، اور تیرے آستانہ پر مومنوں کے ساتھ حاضر رہوں۔
ہمارے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ پہلے اور تيسرے گروہ کے دعا کے تمام فقرے بندے کے الله سے لولگانے کےلئے مخصوص ہيں ليکن پہلے گروہ (قسم) ميں سلبی پہلو اختيار کيا گيا ہے اس ميں انسان الله سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہے ان سے در گذر چاہتا ہے؛ اور تيسرے گروہ (قسم) ميں ایجابی (مثبت) پہلو کو مدنظر رکها گيا ہے اس ميں خدا سے اخلاص، خوف، خشيت، حب اور شوق کی بنياد پر الله سے لولگانے کو کہا گيا ہے۔
چوتھا گروہ
چوتهے گروہ ميں ان مطالب کو مد نظر رکها گيا ہے جن ميں امام علی (ع) نے خداوند عالم سے ظالموں کے مکر اور ان کے شر سے بچنے کی درخواست کی ہے اور ان کے شر کو خود ان ہی کی طرف پلڻنانے کو کہا ہے اور ظالموں کے ظلم اور ان کی اذیتوں سے محفوظ رہنے کی درخواست کی ہے:
اللَّهُمَّ وَ مَنْ أَرَادَنِي بِسُوءٍ فَأَرِدْهُ وَ مَنْ كَادَنِي فَكِدْهُ۔
خدایا! جو بهی کوئی ميرے لئے برائی چاہے یا ميرے ساتھ کوئی چال چلے تو اسے ویسا ہی بدلہ دینا۔
وَ اكْفِنِي شَرَّ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ مِنْ أَعْدَائِي۔
اور مجهے تمام دشمنان جن و انس کے شر سے محفوظ فرمانا۔
خاتمہ
یہ دعا اپنے اختتام پر بندے کو اس جگہ لے آتی ہے جہاں وہ اپنے گناہوں، غلطیوں اور کمزوریوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتا ہے، اور خود کو پوری طرح خدا کی رحمت کے سپرد کر دیتا ہے۔ آخر میں بندہ چار اہم حقیقتوں کا ذکر کرتا ہے: اللہ کی وحدانیت، اس کا آغاز سے کیا گیا کرم، اپنی کمزوری خصوصاً آخرت کے عذاب کے مقابلے میں، اور یہ کہ خدا کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ اسی احساس کے ساتھ وہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اس کی کوتاہیوں کو معاف کرے، اس کے اعمال قبول فرمائے، اسے اپنے مخلص بندوں میں جگہ دے، اور اسے ظالموں کے شر سے محفوظ رکھے۔ یوں دعا انسان کی بے بسی اور خدا کی لامحدود رحمت پر اس کے پختہ ایمان کا اظہار بن کر ختم ہوتی ہے۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
آصفی، محمد مہدی، الدعا عند أهل البيت (ع) جلد اول، مترجم: نقوی، سید ضرغام حیدر، قم، جامعة المصطفی العالمية، ۱۴۲۹ق۔