ماہ رمضان کے سولھویں دن کی دعا: دارالقرار کی طلب

ماہ رمضان کے سولھویں دن کی دعا: دارالقرار کی طلب

کپی کردن لینک

ماہ رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ، جو مغفرت کا عشرہ ہے، اب اپنی تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سولھویں دن کی دعا انسان کو معاشرتی زندگی کے ایک اہم ترین پہلو "انتخابِ رفیق” اور "سیاسی بصیرت” کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس دعا میں بندہ اپنے رب سے نیک لوگوں (ابرار) کا ساتھ دینے، برے لوگوں (اشرار) سے دور رہنے اور آخرت میں سکون کے گھر (دارالقرار) کی درخواست کرتا ہے۔ یہ دعا محض ذاتی اصلاح نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور بیدار کرنے کا نام ہے۔

ماہ رمضان کے سولھویں دن کی دعا

أَللّهُمَّ وَفِّقْنى فيهِ لِمُوافَقَةِ الاَبْرارِ وَ جَنِّبْنى فيهِ مُرافَقَةَ الاَشْرارِ وَآوِنى فيهِ بِرَحْمَتِكَ اِلى دارِالْقَرارِ بِاِلهِيَّتِكَ يا اِلهَ الْعالَمينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! آج مجھے (اس مہینے میں) نیک انسانوں کا ساتھ دینے اور ہمراہ ہونے کی توفیق عطا فرما، اور بروں کا ساتھ دینے سے دور کر دے، اور اپنی رحمت سے مجھے سکون کے گھر میں پناہ دے، تیری معبودیت کے واسطے اے تمام جہانوں کے معبود۔“

موافقتِ ابرار اور اجتنابِ اشرار: بصیرت کا امتحان

ماہِ رمضان المبارک کا نصف اول گزر چکا ہے اور اب ہم دوسرے نصف میں داخل ہو چکے ہیں۔ سولھویں دن کی دعا اس نئے مرحلے کا آغاز ایک بہت بڑے ”سماجی اور سیاسی شعور“ کے ساتھ کرتی ہے۔ یہ دعا محض ذاتی عبادات (نماز روزہ) تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کو سکھاتی ہے کہ معاشرے میں اسے کس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور کس سے دوری اختیار کرنی ہے۔ سولھویں دن کی دعا میں ہم اللہ سے دوستی اور دشمنی کا معیار مانگتے ہیں: نیک لوگوں کی ہمراہی، برے لوگوں سے دوری، اور آخرت کا ابدی سکون۔

دعا کے پہلے اور انتہائی حساس حصے میں ابرار کی ہمراہی اور اشرار سے دوری مانگی گئی ہے: أَللّهُمَّ وَفِّقْنى فيهِ لِمُوافَقَةِ الاَبْرارِ وَ جَنِّبْنى فيهِ مُرافَقَةَ الاَشْرارِ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں نیکوکاروں کی موافقت/ہمراہی کی توفیق دے اور شریروں کی رفاقت سے بچا لے)۔ سولھویں دن کی دعا میں لفظ ”موافقت“ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب صرف دوستی نہیں بلکہ ”نظریاتی ہم آہنگی“ ہے۔ یعنی میرا اٹھنا بیٹھنا، میرا سوچنا اور میرا موقف وہی ہو جو ”ابرار“ (نیکوکاروں) کا ہے۔

یہاں ”اشرار“ (شریروں) سے مراد صرف وہ لوگ نہیں جو چوری یا ڈاکہ کرتے ہیں، بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو معاشرے میں فکری انتشار پھیلاتے ہیں، جو حق اور باطل کو خلط ملط کرتے ہیں اور جو ظالم کا ساتھ دیتے ہیں۔ سولھویں دن کی دعا ہمیں خبردار کرتی ہے کہ انسان کا انجام اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس کی دنیا میں موافقت تھی۔

غیر جانبداری: زہد یا دھوکہ؟

بعض لوگ فتنوں کے دور میں امیر المومنین (ع) کے اس قول کا غلط مفہوم لیتے ہیں: ”فتنہ میں اونٹ کے اس بچے کی طرح ہو جاؤ جس کی پیٹھ نہیں کہ سواری کی جائے اور تھن نہیں کہ دودھ دوہا جائے“[1]۔ سولھویں دن کی دعا اس غلط فہمی کا ازالہ کرتی ہے۔

اس حدیث کا مطلب گوشہ نشینی یا غیر جانبداری نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان اتنا ہوشیار رہے کہ فتنہ پرور اور ظالم لوگ اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ یعنی تم ظالم کے لیے نہ سواری بنو اور نہ دودھ دینے والا جانور۔ لیکن جہاں حق اور باطل کا معرکہ واضح ہو، وہاں خاموشی بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے۔ غیر جانبدار رہنا درحقیقت باطل کا ساتھ دینا ہے۔ سولھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ دین میں ”نیوٹرل“ (Neutral) ہونے کی کوئی گنجائش نہیں جب حق پکار رہا ہو۔

تاریخ میں ایسے کئی ”نام نہاد زاہدوں“ کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے حق کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مثلاً ربیع بن خثیم (جنہیں کچھ لوگ خواجہ ربیع کہتے ہیں)۔ یہ وہ شخص تھے جو بظاہر بہت عبادت گزار تھے، لیکن ان میں ”سیاسی بصیرت“ نہیں تھی۔ جنگ صفین میں جب امیر المومنین (ع) کا مقابلہ معاویہ سے ہوا، تو ربیع بن خثیم امام کے پاس آئے اور کہا: ”یا علی! ہمیں شک ہے کہ مسلمانوں سے لڑنا جائز ہے یا نہیں، لہٰذا آپ ہمیں کسی ایسی سرحد پر بھیج دیں جہاں ہم کفار سے لڑ سکیں“[2]۔

یہ بظاہر زہد تھا، لیکن درحقیقت یہ ”شیطانی وسوسہ“ تھا، وقت کا امام ان کے سامنے موجود تھا، لیکن وہ حق کو پہچاننے سے قاصر رہے۔ سولھویں دن کی دعا ہمیں ایسے ہی ناقص زہد سے بچنے کی تلقین کرتی ہے۔ امام (ع) نے انہیں سرحدوں کی حفاظت پر بھیج دیا کیونکہ جو شخص حق کے مرکز (امام) کو چھوڑ کر سرحد پر جانا چاہے، اس کی عبادت کا کیا فائدہ؟

اسی طرح حسن بصری کا کردار بھی عبرت ناک ہے۔ جب جنگِ جمل ختم ہوئی تو امیر المومنین (ع) بصرہ میں لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔ حسن بصری وہاں موجود تھے اور کچھ لکھ رہے تھے۔ امام (ع) نے پوچھا: کیا لکھ رہے ہو؟ اس نے کہا: آپ کی باتیں لکھ رہا ہوں۔ امام (ع) نے فرمایا: ”ہر قوم کا ایک سامری ہوتا ہے، اور یہ (حسن بصری) اس امت کا سامری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ موسیٰ (ع) کا سامری کہتا تھا ’مجھے نہ چھونا‘ (لا مساس) اور یہ کہتا ہے ’کوئی جنگ نہیں‘ (لا قتال)“[3]۔

یعنی اس نے امت کو جہاد اور ظلم کے خلاف قیام سے روکا۔ جب اس نے طنزیہ انداز میں امام علی (ع) سے بات کی تو آپ (ع) نے اسے بد دعا دی کہ وہ ہمیشہ غمگین رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حسن بصری ساری زندگی روتے رہے اور ان کا غم کبھی ختم نہ ہوا۔ سولھویں دن کی دعا ہمیں ایسے ”اشرار“ کی رفاقت سے بچنے کا درس دیتی ہے جو دین کے نام پر لوگوں کو جہاد اور حق سے دور کرتے ہیں۔

بصیرت کا معیار: علی (ع) اور حق

حق کا ساتھ دینے کے لیے ”بصیرت“ (Insight) ضروری ہے۔ آج کے دور میں جب میڈیا ہر چیز کو الٹ پلٹ کر دکھاتا ہے، تو حق کو کیسے پہچانا جائے؟ سولھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ معیار یہ ہے کہ دیکھا جائے علی (ع) کس طرف ہیں، کیونکہ فرمانِ رسول (ص) ہے: ”علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے، حق ادھر ہی گھومتا ہے جدھر علی گھومتے ہیں“[4]۔

آج کے دور میں بھی ہمیں دیکھنا ہوگا کہ عالمی استکبار (امریکہ اور اسرائیل) کے مظالم کے خلاف ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم خاموش تماشائی ہیں یا مظلوم کا ساتھ دے رہے ہیں؟ سولھویں دن کی دعا کا تقاضا ہے کہ ہم اشرار (ظالم طاقتوں) سے بیزاری کا اظہار کریں اور ابرار (مظلوموں اور مزاحمت کرنے والوں) کی موافقت کریں۔ اگر ہم فلسطین، یمن یا کشمیر کے مظلوموں پر ہونے والے ظلم پر خاموش ہیں اور اسے ”سیاست“ کہہ کر نظر انداز کر رہے ہیں، تو ہم سولھویں دن کی دعا کی روح کے خلاف جا رہے ہیں۔

ابرار کون ہیں؟

قرآن کریم میں ”ابرار“ کا ذکر بار بار آیا ہے اور ان کے لیے عظیم اجر ہے۔ سورہ دہر (سورہ انسان) میں اللہ نے ابرار کی صفات بیان کیں کہ وہ اپنی ضرورت کے باوجود مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔ امام حسن مجتبیٰ (ع) فرماتے ہیں: ”خدا کی قسم قرآن میں جہاں بھی ابرار کا لفظ آیا ہے، اس سے مراد علی (ع)، فاطمہ (ع)، میں اور حسین (ع) ہیں“[5]۔

لہٰذا سولھویں دن کی دعا میں ”موافقتِ ابرار“ کا مطلب اہل بیت (ع) اور ان کے راستے پر چلنے والوں کا ساتھ دینا ہے۔ ابرار وہ ہیں جو اپنی جان، مال اور اولاد کو خدا کی راہ میں قربان کرنے سے نہیں کتراتے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہماری زندگی ان کے اصولوں سے ”موافقت“ رکھتی ہے یا نہیں؟ کیا ہمارا پردہ بی بی فاطمہ (ع) جیسا ہے؟ کیا ہماری غیرت امام حسین (ع) جیسی ہے؟ اگر نہیں، تو ہم نے ابھی تک سولھویں دن کی دعا کا حق ادا نہیں کیا۔

دارالقرار: ابدی سکون

دعا کا دوسرا اور آخری حصہ آخرت کی طلب ہے: وَ آوِنى فيهِ بِرَحْمَتِكَ اِلى دارِالْقَرارِ (اور مجھے اپنی رحمت کے ذریعے دارالقرار/سکون کے گھر میں پناہ دے)۔ سولھویں دن کی دعا دنیا کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔

لفظ ”آوِنی“ (مجھے پناہ دے) بتاتا ہے کہ دنیا میں انسان بے گھر اور غیر محفوظ ہے۔ دنیا ”بے سکونی“ کی جگہ ہے، یہاں خوشی کے ساتھ غم، صحت کے ساتھ بیماری اور جوانی کے ساتھ بڑھاپا لگا ہوا ہے۔ جبکہ آخرت ”دارالقرار“ (سکون کا گھر) ہے۔ وہاں نہ خوف ہے، نہ غم، نہ بھوک ہے اور نہ پیاس۔ قرآن میں اہل ایمان دعا کرتے ہیں: ”اے ہمارے رب! ہمیں ابرار کے ساتھ موت دے“[6]۔

جنت ہی وہ جگہ ہے جہاں انسان کو حقیقی آرام میسر آئے گا۔ لیکن سولھویں دن کی دعا کا ایک لطیف اشارہ یہ بھی ہے کہ جو شخص دنیا میں ”ابرار“ کی موافقت اختیار کر لیتا ہے اور ”اشرار“ سے بچ جاتا ہے، اسے دنیا میں بھی ایک قسم کا روحانی سکون (قرار) نصیب ہو جاتا ہے۔

سولھویں دن کی دعا کا اختتام اللہ کی الوہیت کے واسطے سے ہوتا ہے: بِإِلَهِيَّتِكَ يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ (اپنی الوہیت/خدائی کے واسطے، اے جہانوں کے معبود)۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اے خدا! تو ہی دونوں جہانوں کا مالک ہے، ہمیں دنیا میں بروں کی صحبت سے بچا اور آخرت میں اپنے نیک بندوں (ابرار) کے ساتھ جنت میں جگہ عطا فرما۔

نتیجہ

ماہ رمضان المبارک کے سولھویں دن کی دعا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ایک مسلمان کو معاشرتی اور سیاسی طور پر بیدار ہونا چاہیے۔ اسے حق (ابرار) اور باطل (اشرار) میں تمیز کرنی چاہیے اور غیر جانبداری کے پردے میں چھپنے کے بجائے کھل کر حق کا ساتھ دینا چاہیے۔ یہی راستہ اسے دارالقرار (جنت) کی طرف لے جائے گا۔

حوالہ جات

[1] شریف رضی، نہج البلاغہ، حکمت 1۔
[2] تستری، قاموس الرجال، ج 4، ص 335۔
[3] قمی، الکنی و الالقاب، ج 2، ص 84۔
[4] بغدادی، تاریخ بغداد، ج 14، ص 322۔
[5] حویزی، نور الثقلین، ج 5، ص 533۔
[6] سورہ آل عمران، آیت 193۔

فہرست منابع

1۔ قرآن کریم۔
2۔ آمدی، عبدالواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، 1366ش۔
3۔ بغدادی، خطیب، تاریخ بغداد، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1417ق۔
4۔ تستری، محمد تقی، قاموس الرجال، قم، جامعہ مدرسین، 1410ق۔
5۔ حویزی، عبد علی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، قم، اسماعیلیان، 1415ق۔
6۔ شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، قم، انتشارات ہجرت، 1414ق۔
7۔ قمی، عباس، الکنی و الالقاب، تہران، مکتبہ الصدر، 1368ش۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔