ماہ رمضان المبارک اپنے اختتام کے قریب ہے۔ انتیسویں دن کی دعا الوداعی لمحات میں بندے کو اللہ کی رحمت کی چادر میں پناہ لینے، گناہوں سے بچنے کی توفیق اور دل کو بدگمانی اور تہمت کی تاریکیوں سے پاک کرنے کا درس دیتی ہے۔ یہ دعا انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر رحمت کے اجالوں میں لے آتی ہے۔
ماہ رمضان کے انتیسویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ غَشِّنى فيهِ بِالرَّحْمَةِ وَ ارْزُقْنى فيهِ التَّوْفيقَ وَ الْعِصْمَةَ وَ طَهِّرْ قَلْبى مِنْ غَياهِبِ التُّهَمَةِ يا رَحيماً بِعِبادِهِ الْمُؤْمِنينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! اس مہینے میں مجھے اپنی چادرِ رحمت میں ڈھانپ لے، مجھے اس میں توفیق اور تحفظ (عصمت) دے، اور میرے قلب کو تہمت کی تیرگیوں سے پاک کر دے، اے اپنے با ایمان بندوں پر بہت مہربان۔“
رحمت کی چادر: امید کا سہارا
ماہِ رمضان المبارک اپنی تمام تر روحانی تجلیوں، برکتوں اور مغفرت کے وعدوں کے ساتھ بالکل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ الوداعی لمحات میں مومن کا دل ایک عجیب کیفیت کا شکار ہوتا ہے؛ ایک جانب فراق کا ملال ہے اور دوسری جانب اللہ کی بے پایاں رحمتوں کے حصول کی امید۔ انتیسویں دن کی دعا درحقیقت ایک ایسے مسافر کی آخری اور فیصلہ کن پکار ہے جو اپنے سفر کے اختتام پر اپنے پروردگار سے سب سے قیمتی زادِ راہ طلب کر رہا ہے۔
اس دعا میں انسان محض عبادات کا ثواب نہیں مانگتا، بلکہ وہ اللہ کی رحمت کی مکمل چادر، نیکی کی توفیق، گناہوں سے تحفظ اور اپنے دل کو بدگمانیوں کی گہری تاریکیوں سے پاک کرنے کی التجا کرتا ہے۔ انتیسویں دن کی دعا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کمالِ بندگی یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال پر بھروسہ کرنے کے بجائے، فقط خالق کی رحمت اور اس کی دی گئی توفیق پر انحصار کرے۔
دعا کے پہلے حصے میں رحمتِ الٰہی سے مکمل طور پر ڈھانپ لینے کی درخواست کی گئی ہے: أَللّهُمَّ غَشِّنى فيهِ بِالرَّحْمَةِ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں اپنی رحمت سے ڈھانپ لے / اوڑھا دے)۔
یہاں لفظ "غشّنی” (مجھے ڈھانپ لے) انتہائی معنی خیز ہے۔ جس طرح شدید سردی میں انسان ایک گرم چادر اوڑھ کر خود کو محفوظ کر لیتا ہے، اسی طرح انتیسویں دن کی دعا میں بندہ التجا کرتا ہے کہ یا رب! میرے اعمال ناقص ہیں، میری عبادتیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، مجھے اپنے عدل کے کٹہرے میں نہ کھڑا کرنا بلکہ اپنی رحمت کی چادر میں ایسے چھپا لینا کہ میرے تمام نقصانات اور کوتاہیاں اس میں مستور ہو جائیں۔
اللہ رب العزت نے یہ کائنات محض اپنے غضب یا جلال کے لیے نہیں، بلکہ اپنی رحمت کے کامل ظہور کے لیے تخلیق کی ہے۔ اس کی رحمت کائنات کے ہر ذرے پر محیط ہے، لیکن اس کے فیض کا انحصار انسان کے اپنے عمل اور ارادے پر ہوتا ہے۔ اگر انسان خلوصِ نیت سے نیکی کا ارادہ کرے تو اللہ اس کے لیے حالات کو سازگار بنا دیتا ہے، اور اگر وہ برائی کا ارادہ کرے تو اسے فوراً سزا دینے کے بجائے مہلت دیتا ہے۔ یہ مہلت اللہ کی رحمت بھی ہو سکتی ہے تاکہ بندہ توبہ کر لے، اور اگر بندہ سرکشی میں بڑھ جائے تو یہ مہلت آزمائش (استدراج) بھی بن سکتی ہے۔
نبی اکرم (ص) کا نہایت روح پرور فرمان ہے: ”اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں، جن میں سے اس نے صرف ایک حصہ زمین پر نازل کیا ہے، اور اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوقات میں محبت اور شفقت پائی جاتی ہے (یہاں تک کہ ایک جانور بھی اپنے بچے سے محبت کرتا ہے)، جبکہ نناوے حصے اس نے قیامت کے دن اپنے بندوں کے لیے مخصوص کر رکھے ہیں“[1]۔ انتیسویں دن کی دعا ہمیں انھی نناوے حصوں کی وسیع رحمت کا امیدوار بناتی ہے تاکہ روزِ محشر کوئی خوف اور ملال دامن گیر نہ ہو۔
توفیق اور عصمت: اطاعت کی کلید
دعا کا دوسرا اہم اور عملی جزو توفیق اور عصمت کی طلب ہے: وَ ارْزُقْنى فيهِ التَّوْفيقَ وَ الْعِصْمَةَ (اور مجھے اس میں توفیق اور عصمت عطا فرما)۔
انتیسویں دن کی دعا کا یہ حصہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی اپنی سعی و کوشش اللہ کی توفیق کے بغیر ہرگز کارگر نہیں ہو سکتی۔ توفیق: توفیق کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے لیے نیکی اور اطاعت کے اسباب مہیا کر دے اور برائی کے راستے بند کر دے۔ مولانا جلال الدین رومی نے ایک نہایت سبق آموز حکایت لکھی ہے کہ ایک آقا اور اس کا غلام سفر پر تھے۔ راستے میں ایک مسجد آئی۔
غلام اندر نماز پڑھنے چلا گیا اور آقا باہر انتظار کرنے لگا۔ بہت دیر گزر گئی، جب غلام باہر نہ آیا تو آقا نے دروازے سے آواز دی کہ باہر کیوں نہیں آتے؟ غلام نے اندر سے جواب دیا: ”اے آقا! جس نے آپ کو اندر آنے کی توفیق نہیں دی، اسی ذات نے مجھے باہر جانے سے روک رکھا ہے“۔ انتیسویں دن کی دعا میں ہم یہی توفیق مانگتے ہیں کہ اللہ ہمیں اپنے گھر اور اپنی اطاعت سے جڑے رہنے کی سعادت عطا کرے۔
عصمت: یہاں عصمت سے مراد انبیاء اور ائمہ (ع) والی پیدائشی اور قطعی عصمت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد عام انسان کا گناہوں، برائیوں اور لغزشوں سے محفوظ رہنا ہے۔ امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: ”خدا اس شخص کو گناہوں سے بچا لیتا ہے (یعصم) جو اس کی سچے دل سے اطاعت کرتا ہے“[2]۔ جب انسان مسلسل 29 دن روزے رکھتا ہے تو اس کے گرد تقویٰ کا ایک حصار بن جاتا ہے۔ انتیسویں دن کی دعا درحقیقت اسی حصار اور عصمت کو رمضان کے بعد بھی باقی رکھنے کی التجا ہے۔
تہمت کی تاریکیاں: قلب کی صفائی
انتیسویں دن کی دعا کا تیسرا تقاضا دل کو تہمت اور بدگمانی سے پاک کرنا ہے: وَ طَهِّرْ قَلْبى مِنْ غَياهِبِ التُّهَمَةِ (اور میرے دل کو تہمت کی گہری تاریکیوں سے پاک کر دے)۔
انتیسویں دن کی دعا کا یہ پہلو انتہائی حساس اور معاشرتی ہے۔ تہمت اور بے بنیاد الزام تراشی ایک ایسا گناہِ کبیرہ ہے جس کا بوجھ آسمانوں اور پہاڑوں سے زیادہ وزنی ہے۔ غیبت میں تو انسان وہ برائی بیان کرتا ہے جو کسی میں موجود ہو، لیکن تہمت کا مطلب کسی بے گناہ پر وہ الزام لگانا ہے جس کا اس نے ارتکاب ہی نہ کیا ہو۔ یہ عمل معاشرتی انصاف کو جڑ سے ختم کر دیتا ہے اور رشتوں میں زہر گھول دیتا ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ امام صادق (ع) نے اپنے ایک قریبی صحابی سے صرف اس بنیاد پر ہمیشہ کے لیے قطع تعلق کر لیا تھا کہ اس نے غصے میں آ کر اپنے غلام کی ماں پر تہمت لگائی تھی۔
تہمت بنیادی طور پر دو طرح کی ہوتی ہے جن سے انتیسویں دن کی دعا میں پناہ مانگی گئی ہے:
-
لوگوں پر تہمت: کسی بے گناہ انسان، خصوصاً پاکدامن افراد پر الزام لگانا، جس سے معاشرے میں بدگمانی اور فتنہ پھیلتا ہے۔
-
خدا پر تہمت: یہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ حدیثِ قدسی میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے: ”میرا سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو مجھ پر تہمت لگاتا ہے“۔ حضرت موسیٰ (ع) نے حیرت سے پوچھا: اے پروردگار! وہ کون ہے جو تجھ پر تہمت لگائے؟ فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جو میری تقدیر اور فیصلوں سے راضی نہیں ہوتا اور یہ گمان کرتا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے لیے بہتر ہوتا“[3]۔ گویا بندہ یہ سمجھتا ہے کہ (نعوذ باللہ) اللہ نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
یہ بدگمانی اور خدا کی حکمت پر شک دل کو مکمل طور پر تاریک کر دیتا ہے، اسی لیے انتیسویں دن کی دعا میں اسے "غیاہب” (تہہ در تہہ گہری تاریکیاں) کہا گیا ہے۔ جب دل ان تاریکیوں سے پاک ہوتا ہے تو اسے "قلبِ سلیم” کہا جاتا ہے۔
رحیم بالعباد: مومنین پر مہربان اور ابدی فلاح
انتیسویں دن کی دعا کا اختتام اللہ کی صفتِ رحیمیت پر ہوتا ہے: يـا رَحيماً بِعِبـادِهِ الْمُؤْمِنـينَ (اے اپنے مومن بندوں پر بے حد رحم کرنے والے)۔
یہاں اللہ کو "رحیم” کہہ کر پکارا گیا ہے۔ اللہ کی دو بڑی صفات "رحمٰن” اور "رحیم” ہیں۔ وہ رحمٰن ہے اور اس کی یہ صفت تمام بندوں (مسلمان، کافر، جانور، نباتات) پر محیط ہے، وہ سب کو رزق دیتا ہے اور دھوپ چھاؤں فراہم کرتا ہے۔ لیکن اس کی صفتِ "رحیمیت” اس کی رحمتِ خاص ہے جو صرف اور صرف "مومنین” کے لیے مخصوص ہے۔
انتیسویں دن کی دعا کا یہ آخری جملہ اس بات کا غماز ہے کہ اے اللہ! رمضان کے اس مبارک مہینے کی ریاضت کے بعد ہمیں ان لوگوں کی فہرست میں شامل فرما لے جن پر تیری رحمتِ خاص (رحیمیت) کا نزول ہوتا ہے۔ یہ وہ رحمت ہے جو انسان کی دستگیری کرتی ہے، اسے گناہوں اور بدگمانیوں کی دلدل سے نکالتی ہے، اور اسے پاکیزگی، ہدایت اور ابدی فلاح کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔ الغرض، انتیسویں دن کی دعا ایک کامل انسان بننے اور بارگاہِ الٰہی میں سرخرو ہونے کا ایک عظیم روحانی منشور ہے۔
نتیجہ
ماہ رمضان کے انتیسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کا سکون اللہ کی رحمت کے سائے میں ہے۔ ہمیں اپنی نیکیوں پر نہیں بلکہ اس کی "توفیق” پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اور سب سے اہم یہ کہ ہمیں اپنے دل کو لوگوں اور خدا کے بارے میں بدگمانی اور تہمت سے پاک رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ تاریکیاں انسان کو ہدایت کے راستے سے بھٹکا دیتی ہیں۔
حوالہ جات
[1] طبرسی، مجمع البیان، ج 1۔
[2] کلینی، الکافی، ج 8، ص 81۔
[3] مجلسی، بحار الانوار، ج 68، ص 142۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار صادر، 1414ق۔
3۔ ری شہری، محمد، میزان الحکمہ، قم، دار الحدیث، 1416ق۔
4۔ طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، 1372ش۔
5۔ فیض کاشانی، محسن، تفسیر الصافی، تہران، مکتبہ الصدر، 1415ق۔
6۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق۔
7۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان؛ ماہِ رمضان کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔