یتیم نوازی اسلام کی اس تعلیم کا نام ہے جو معاشرے میں سب سے کمزور طبقے کو سہارا دینے کا درس دیتی ہے۔ ہر بچہ جو باپ کے سائے سے محروم ہو جائے وہ صرف مالی مدد کا نہیں بلکہ محبت اور توجہ کا بھی حقدار بن جاتا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث اہل بیت (ع) میں یتیم نوازی کو ایمان کی نشانی اور جنت کے قریب لے جانے والا عمل قرار دیا گیا ہے۔ یہ مضمون اسی روشنی میں یتیم نوازی کے مفہوم، یتیم کے معنی، اس کے حقوق اور یتیم نوازی کے حوالے سے معاشرے پر عائد ذمہ داریوں کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
یتیم کون ہے؟
لغت کے ماہرین نے لفظ "یتیم” کو تنہائی اور کسی وابستہ شخص سے جدائی کے معنی میں بیان کیا ہے۔ اہل لغت نے لکھا ہے کہ اس کا اصل مفہوم کسی چیز سے کٹ جانا اور علیحدہ ہو جانا ہے، اور اسی بنا پر ایک نایاب موتی کو بھی "درۃ یتیمۃ” کہا جاتا رہا ہے۔ اس اعتبار سے یتیم وہ ہستی ہے جو تنہائی، بے سہارگی اور نگہبان کی کمی کے حالات میں زندگی گزار رہی ہو۔ [۱]۔
کچھ لغت نگاروں نے اس لفظ میں تاخیر اور غفلت کا پہلو بھی تلاش کیا، یعنی جس بچے کی دیکھ بھال میں کوتاہی ہو جائے وہ بھی اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ ان تمام آراء کو ملا کر دیکھیں تو یتیم وہ شخص ٹھہرتا ہے جو تنہائی، بے استقلالی اور حاجت کی کیفیت میں مبتلا ہو [۲]۔
قرآن کریم میں یہ لفظ اپنی اصطلاحی صورت میں مختلف مقامات پر آیا ہے اور اس کی جمع "یتامیٰ” کے نام سے مشہور ہے۔ راغب اصفہانی نے اس اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے ایک نہایت جامع تعریف پیش کی ہے جو آج بھی بنیادی حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ "الیتم: انقطاع الصبی عن أبیه قبل بلوغ” [۳]۔
اس تعریف سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنی اصطلاح میں یتیم اس بچے کو کہا جاتا ہے جو بلوغت سے پہلے اپنے باپ سے جدا ہو جائے، اور یہی مفہوم عام طور پر معاشرے میں رائج بھی ہے۔
روایات اہل بیت (ع) میں یہ لفظ ایک نہایت لطیف حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حدیث نبوی (ص) میں ارشاد ہوا ہے کہ اصل یتیمی وہ نہیں جو ماں باپ سے جدائی سے پیدا ہو بلکہ اس سے شدید تر یتیمی وہ ہے جو امام (ع) سے دوری کے باعث پیدا ہوتی ہے۔
«أَشَدُّ مِنْ يُتْمِ الْيَتِيمِ الَّذِي انْقَطَعَ عَنْ أُمِّهِ وَ أَبِيهِ يُتْمُ يَتِيمٍ انْقَطَعَ عَنْ إِمَامِهِ وَ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْوُصُولِ إِلَيْهِ"باپ اور ماں سے جدا ہونے والے یتیم کی یتیمی سے زیادہ سخت اس یتیم کی یتیمی ہے جو اپنے امام سے جدا ہو گیا ہو اور اس تک پہنچنے کی قدرت نہ رکھتا ہو” [۴]۔
اسی روایت کی بنیاد پر ایسے افراد کو "یتیم آل محمد(ص)” کہا جانے لگا، یعنی وہ لوگ جو امام (ع) کی رہنمائی اور شریعت کے علم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس توسیع سے واضح ہوتا ہے کہ اہل بیت(ع) نے یتیمی کے تصور کو مادی محرومی سے بڑھا کر روحانی اور علمی محرومی تک وسیع کر دیا ہے۔
اسلام سے پہلے یتیموں کی حالت زار
اسلام سے پہلے کے عرب معاشرے میں جنگ و جدل ایک مستقل طرزِ زندگی بن چکا تھا اور قبائل کے درمیان خون خرابہ رکنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ اس مسلسل کشت و خون کے نتیجے میں بے شمار مرد جوانی میں مارے جاتے اور ان کے بچے بے سہارا رہ جاتے تھے۔ ایسے حالات میں یتیم بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور یتیم نوازی کے لیے انہیں سنبھالنے والا کوئی منظم نظام موجود نہیں تھا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اسلام نے یتیموں کے حقوق اور یتیم نوازی کی طرف خصوصی توجہ مبذول کروائی [۵]۔
اس دور کی ایک اور المناک حقیقت وراثت کی غیر منصفانہ تقسیم تھی جس میں چھوٹے بچوں، عورتوں اور یتیموں کو کسی قسم کا حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔ یتیم نوازی کے تقاضوں کے برخلاف وراثت کا حق صرف ان جوان بیٹوں کے لیے مخصوص تھا جو ہتھیار اٹھا کر گھوڑے پر سوار ہو سکیں اور جنگ میں شریک ہو سکیں۔ قرآن کریم نے اس ظالمانہ رسم کی اصلاح کرتے ہوئے وصیت اور وراثت کے واضح اصول بیان کیے۔
﴿کُتِبَ عَلَیۡکُمۡ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ إِنۡ تَرَکَ خَیۡرًا ٱلۡوَصِیَّةُ لِلۡوَٰلِدَیۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِینَ﴾ "تم پر لکھ دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے اور وہ مال چھوڑ جائے تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کرے” [۶]۔
اس آیت کے نزول سے پہلے وصیت اور وراثت میں کمزور طبقات کا خیال رکھنا رواج ہی نہیں تھا، اور یتیم بچے اس نظام کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے تھے۔ یتیم نوازی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے حقوق سے محروم رہتے تھے [۷]۔
جاہلی معاشرے میں عورت اور بالخصوص یتیم بچی کا مقام نہایت پست تھا اور بیٹی کی پیدائش کو باعثِ ننگ سمجھا جاتا تھا۔ اسی زوال آمیز فکر کے باعث یتیم نوازی کے برخلاف یتیم بچیوں کے ساتھ ایک نہایت ظالمانہ سلوک رائج تھا جس کی طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے۔ سرپرست خود اپنی زیرِ کفالت یتیم بچی سے، اس کا مال ہڑپ کرنے کی نیت سے، بغیر مہر ادا کیے نکاح کر لیا کرتا تھا۔ یتیم نوازی سے عاری اس ظلم نے یتیم بچیوں کی زندگی کو دوہری مشکل میں ڈال دیا تھا، ایک طرف باپ کی جدائی اور دوسری طرف مالی استحصال [۸]۔
ابن عباس سے منقول ایک روایت اس دور کی تلخ حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے، جس میں بتایا گیا کہ سرپرست کس طرح یتیم بچی کے مستقبل پر قابض ہو جاتا تھا۔ اس صورتِ حال میں یتیم نوازی کی ضرورت اور اہمیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔
جاہلیت میں جس شخص کے پاس یتیم لڑکی ہوتی، وہ اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور اس کے بعد کوئی دوسرا شخص اس سے نکاح نہیں کر سکتا تھا؛ اگر وہ خوبصورت ہوتی تو خود اس سے نکاح کر کے اس کا مال کھا جاتا، اور اگر نہ چاہتا تو مرنے تک کسی اور سے نکاح نہ ہونے دیتا تاکہ اس کے مال کا وارث بن جائے [۹]۔
یتیم نوازی قرآن و احادیث کی روشنی میں
اسلام نے یتیم کی صرف بھوک اور برہنگی دور کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یتیم نوازی کے تصور کو محبت اور جذباتی تسکین تک وسیع کر دیا۔ قرآن کریم میں عام "اطعام” یعنی کھانا کھلانے سے بڑھ کر "اکرام” یعنی عزت و تکریم کی تلقین کی گئی ہے۔ اس فرق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام یتیم نوازی میں یتیم کو صرف ایک محتاج نہیں بلکہ عزت کا حقدار انسان سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورہ فجر میں یتیم کے اکرام نہ کرنے کو ایک بڑی کوتاہی قرار دیا گیا ہے [۱۰]۔
قرآن کریم نے یتیم کے ساتھ احسان اور یتیم نوازی کو والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کے فوراً بعد ذکر کیا ہے، جس سے یتیم نوازی کی اہمیت مزید نمایاں ہوتی ہے۔ ﴿وَبِٱلۡوَٰلِدَیۡنِ إِحۡسَٰنٗا وَبِذِی ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡیَتَٰمَىٰ﴾ "اور والدین کے ساتھ نیکی کرو اور قریبی رشتہ داروں اور یتیموں کے ساتھ بھی” [۱۱]۔
یہی حکم سورہ بقرہ میں بھی دہرایا گیا ہے [۱۲]، اور مفسرین کے مطابق ترتیب سے ذکر ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یتیم کے ساتھ احسان، عام مسکین کے ساتھ احسان سے بھی زیادہ اہم قرار دیا گیا ہے [۱۳]۔
قرآن کریم نے یتیم نوازی کے مثبت پہلو کے ساتھ ساتھ یتیم کی تحقیر اور بدسلوکی سے بھی سختی سے منع فرمایا ہے۔ سورہ ماعون میں یتیم کو دھکے دینے والے کو دین کا جھٹلانے والا قرار دیا گیا ہے، اور سورہ ضحیٰ میں براہِ راست حکم دیا گیا ہے کہ یتیم پر سختی نہ کی جائے۔ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تنبیہ کی ہے جو اپنی اولاد کے مستقبل سے پریشان رہتے ہیں مگر دوسروں کے یتیموں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے۔ یتیم نوازی کے تقاضوں میں یتیم کی عزت، اس کے حقوق کی حفاظت اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک بھی شامل ہے۔
حضرت علی (ع) نے اسی اصول کو مزید واضح انداز میں بیان فرمایا کہ جو شخص یتیم نوازی کرتے ہوئے یتیم کا خیال رکھتا ہے، اس کی اپنی اولاد کا خیال بھی جاتا ہے [۱۴]۔ حضرت علی (ع) کی سیرتِ مبارکہ میں یتیم نوازی اور یتیموں سے محبت کی ایک خوبصورت مثال ملتی ہے جسے سیرت نگاروں نے نہایت محبت سے قلمبند کیا ہے۔
حضرت علی(ع) نہ صرف یتیم بچوں کی بھوک اور پیاس دور کرتے تھے بلکہ ان کے ساتھ کھیل کر انہیں خوش بھی کیا کرتے تھے [۱۵]۔ رسول اکرم(ص) نے یتیم کی سرپرستی کا معیار ایک شفیق باپ کی مثال سے بیان فرمایا، جس میں محبت کی گہرائی اور مستقل مزاجی دونوں شامل ہیں۔ «کُنْ لِلْیَتِیمِ کَالْأَبِ الرَّحِیمِ» "یتیم کے ساتھ ایسے ہو جاؤ جیسے ایک مہربان باپ ہوتا ہے” [۱۶]۔
یتیم کی سرپرستی اور کفالت کے فضائل
یتیم بچے کو صرف کھانا اور کپڑا نہیں چاہیے ہوتا بلکہ اسے ایک خاندانی ماحول اور ایک ایسے فرد کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے مسائل میں سہارا بنے۔ اسی بنا پر اسلامی تعلیمات میں تجویز کیا گیا ہے کہ یتیم بچوں کو خاندان کا حصہ بنا لیا جائے تاکہ وہ خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔ سرپرستی کا درجہ صرف اطعام اور اکرام سے بلند تر ہے کیونکہ اس میں تربیت اور رہنمائی کی ذمہ داری بھی شامل ہو جاتی ہے۔ قرآن کریم اور روایاتِ معصومین (ع) نے اسی اہم ذمہ داری کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے [۱۷]۔
یتیم کی کفالت قبول کرنے والے کے لیے رسول اکرم (ص) نے ایک نہایت بلند مقام کی خوشخبری سنائی ہے جس میں آپ (ص) نے اپنی اور کفیل یتیم کی قربت کو دو انگلیوں سے تشبیہ دی ہے۔ «أنا و كافِلُ اليَتيمِ كَهاتَينِ في الجَنَّةِ إذا اتَّقَى اللّه َ عَزَّ و جلَّ» "میں اور یتیم کا کفیل جنت میں ایسے ساتھ ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں، بشرطیکہ وہ اللہ سے ڈرے” [۱۸]۔
یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے کو بھی احادیث میں ایک خاص فضیلت کا حامل بتایا گیا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کے دل میں سختی محسوس ہوتی ہو۔ رسول اکرم (ص) کا ارشاد ہے کہ جو شخص اپنے دل کی سختی دور کرنا چاہے، وہ یتیم کو اپنے قریب بلا کر اس سے شفقت کرے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرے۔ ایک اور روایت میں فرمایا گیا کہ اگر یتیم کو اپنے دستر خوان پر بٹھایا جائے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا جائے تو دل کی سختی نرمی میں بدل جاتی ہے۔ [۱۹]۔
سرپرستی کے فضائل میں ایک نہایت دلچسپ روایت وہ ہے جس میں ایک شخص کے یتیم پرور بیٹے کی وجہ سے خود اس کے باپ کو قبر کے عذاب سے نجات مل گئی۔ یہ روایت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یتیم کی کفالت کے اثرات صرف کفیل تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان اور اگلی نسلوں تک پھیل جاتے ہیں۔ اس طرح کی روایات معاشرے کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ نیکی کا یہ عمل ایک زنجیر کی طرح برکت پھیلاتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشروں میں یتیم خانوں اور کفالتی نظاموں کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی رہی ہے [۲۰]۔
یتیم کے مال کی حفاظت اور اس کے احکام
اسلام نے یتیم نوازی میں یتیم کی جان و عزت کے ساتھ ساتھ اس کے مال کی حفاظت کو بھی نہایت اہمیت دی ہے، کیونکہ یہی مال اس کے مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے یتیم نوازی کے سلسلے میں سرپرست اور یتیم کے مال کے آپس میں ملنے کو مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں دیا بلکہ اسے ایک خاص حد کے اندر جائز رکھا ہے۔
امام صادق (ع) سے ایک سائل نے پوچھا کہ اس کی زیرِ کفالت ایک یتیم بھتیجی ہے جس کے لیے آنے والا تحفہ وہ خود بھی کھا لیتا ہے اور بدلے میں اپنے مال سے اسے کھانا دیتا ہے، تو امام (ع) نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں [۲۱]۔ یتیم نوازی کے اس جواب سے واضح ہوتا ہے کہ نیک نیتی اور توازن کے ساتھ زندگی گزارنا ممنوع نہیں بلکہ فطری ہے۔
یتیم نوازی کے موضوع سے متعلق ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ سرپرست اپنی محنت کے بدلے یتیم کے مال میں سے کچھ حصہ لے سکتا ہے، مگر اس کے لیے بھی شرائط رکھی گئی ہیں۔ ﴿وَمَن کَانَ غَنِیّٗا فَلۡیَسۡتَعۡفِفۡ وَمَن کَانَ فَقِیرٗا فَلۡیَأۡکُلۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ﴾ "اگر (یتیم کا سرپرست ) مالدار ہے تو وہ (کچھ کھانے سے) اجتناب کرے اور اگر غریب ہے تو معمول کے مطابق کھاسکتا ہے ” [۲۲]۔
یتیم نوازی کے اسی اصول کی روشنی میں فقہاء نے بیان کیا ہے کہ یتیم نوازی کا خیال رکھتے ہوئے متمول سرپرست کو یتیم کے مال کو ہرگز ہاتھ نہیں لگانا چاہیے جبکہ نادار سرپرست اپنی محنت کے تناسب سے حق الزحمہ لے سکتا ہے [۲۳]۔
یتیم نوازی کے سلسلے سے یتیم کے مال سے قرض لینے اور تجارت کرنے کے بھی واضح احکام بیان کیے گئے ہیں تاکہ اس کا مال کسی نقصان سے محفوظ رہے۔ یتیم نوازی کے اس پہلو پر امام صادق (ع) سے منقول ہے کہ سرپرست یتیم کے مال سے قرض تو لے سکتا ہے مگر اس کی نیت واپسی کی ہونی چاہیے تاکہ وہ یتیم کا مال کھانے والوں میں شمار نہ ہو۔
یتیم نوازی کے اس پہلو کو دھیان میں رکھتے ہوئے اسی طرح تجارت کے سلسلے میں بھی شرط رکھی گئی ہے کہ اگر سرپرست خود اتنا مالدار نہیں کہ نقصان کی صورت میں یتیم کے مال کی تلافی کر سکے تو اسے یتیم کے مال سے تجارت نہیں کرنی چاہیے۔ [۲۴]
یتیم نوازی کے موضوع کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے یتیم کے مال میں ظالمانہ تصرف کے لیے قرآن کریم نے نہایت سخت زبان استعمال کی ہے اور اسے آگ کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلۡيَتَٰمَىٰ ظُلۡمًا إِنَّمَا يَأۡكُلُونَ فِي بُطُونِهِمۡ نَارࣰا وَسَيَصۡلَوۡنَ سَعِيرࣰا﴾ "جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور وہ جلد ہی جہنم کی بھڑکتی آگ میں تپائے جائیںگے۔” [۲۵]۔
روایات کے مطابق یتیم نوازی نہ کرنے کے اس ظلم کی سزا دو حصوں میں ملتی ہے، ایک دنیوی صورت میں جس میں ظالم کی اپنی اولاد کو اسی طرح کے ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور دوسری اخروی صورت میں جو قیامت کے دن آگ کی شکل میں ظاہر ہو گی [۲۶]۔
یتیم آل محمد (ص) ایک اہم تر ذمہ داری
احادیث اہل بیت (ع) میں جس یتیم کا ذکر سب سے زیادہ عمیق انداز میں کیا گیا ہے وہ یتیم آل محمد (ص) ہے، یعنی وہ فرد جو امام کی معرفت اور شریعت کے علم سے محروم رہ گیا ہو۔ اس یتیم کی حالت عام یتیم سے کہیں زیادہ سخت قرار دی گئی ہے کیونکہ اسے راہنمائی، شبہات کا ازالہ اور دینی علم کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح کے افراد کی کفالت کا فریضہ خاص طور پر اہل علم اور دین کے داعیوں پر عائد ہوتا ہے جو لوگوں کو صراطِ مستقیم کی طرف بلاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کی ذمہ داری کو عام سرپرستی سے کہیں بڑھ کر بیان کیا گیا ہے [۲۷]۔
امام ہادی (ع) نے علماء کی اس ذمہ داری کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ اگر دورِ غیبت میں ایسے علماء نہ ہوں جو لوگوں کو دین کی طرف بلائیں اور شیطانی جالوں سے بچائیں تو لوگ دین سے پھر جائیں گے۔
«لَوْلاَ مَنْ يَبْقَى بَعْدَ غَيْبَةِ قَائِمِنَا مِنَ اَلْعُلَمَاءِ اَلدَّاعِينَ إِلَيْهِ وَ اَلدَّالِّينَ عَلَيْهِ وَ اَلذَّابِّينَ عَنْ دِينِهِ بِحُجَجِ اَللَّهِ وَ اَلْمُنْقِذِينَ لِضُعَفَاءِ عِبَادِ اَللَّهِ مِنْ شِبَاكِ إِبْلِيسَ وَ مَرَدَتِهِ وَ مِنْ فِخَاخِ اَلنَّوَاصِبِ اَلَّذِينَ يُمْسِكُونَ قُلُوبَ ضُعَفَاءِ اَلشِّيعَةِ كَمَا يُمْسِكُ اَلسَّفِينَةَ سُكَّانُهَا لَمَا بَقِيَ أَحَدٌ إِلاَّ اِرْتدَّ عَنْ دِينِ اَللَّهِ، أُولَئِكَ هُمُ اَلْأَفْضَلُونَ عِنْدَ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ.»
"اگر ہمارے قائم کی غیبت کے بعد ایسے علماء باقی نہ رہتے جو لوگوں کو ان کی طرف دعوت دیتے، ان کی معرفت کی رہنمائی کرتے، اللہ کی حجتوں کے ذریعے ان کے دین کا دفاع کرتے، اور اللہ کے کمزور بندوں کو ابلیس اور اس کے سرکش پیروکاروں کے جال سے، نیز ناصبیوں کے پھندوں سے نجات دلاتے، جو کمزور شیعوں کے دلوں کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں، جس طرح کشتی کے مسافر کشتی کو قابو میں رکھتے ہیں، تو کوئی شخص باقی نہ رہتا مگر یہ کہ وہ اللہ کے دین سے پھر جاتا۔ یہی علماء اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے افضل لوگ ہیں۔” [۲۸]۔
اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ علماء کی رہنمائی کے بغیر عام لوگ اپنے دین پر قائم نہیں رہ سکتے، اور اسی بنا پر یتیم آل محمد (ص) کی کفالت کو ایک قومی اور اجتماعی امانت قرار دیا گیا ہے۔
امام رضا (ع) کی ایک روایت میں قیامت کے دن ایک عابد اور ایک عالم کے درمیان فرق کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ عابد سے کہا جائے گا کہ وہ اپنی ذات کی حفاظت کر کے بہشت کی طرف چلا جائے، جبکہ عالم سے کہا جائے گا کہ وہ ٹھہر جائے اور اپنے شاگردوں کی شفاعت کرے۔ اس مرحلے پر عالم کو "یتیموں کے سرپرست” کے لقب سے پکارا جائے گا اور اسے اجازت دی جائے گی کہ وہ گروہ در گروہ لوگوں کو بہشت میں داخل کرائے۔ یہ روایت اس بات کی گواہ ہے کہ علمی یتیم نوازی کا اجر عبادت کے اجر سے بھی کہیں زیادہ وسیع ہے [۲۹]۔
نتیجہ
یتیم نوازی صرف ایک صدقہ یا وقتی احسان نہیں بلکہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو یتیم کے جسمانی، مالی اور جذباتی حقوق کا احاطہ کرتا ہے۔ سرپرستوں اور رشتہ داروں کو چاہیے کہ یتیم نوازی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے یتیم کے مال اور جذبات دونوں کی حفاظت کو یکساں اہمیت دیں تاکہ اس کا مستقبل محفوظ رہے۔ آج کے معاشرے میں یتیم نوازی کی یہ ذمہ داری صرف انفرادی سطح پر نہیں بلکہ فلاحی اداروں اور یتیم خانوں کے ذریعے بھی نبھائی جا سکتی ہے، جہاں یتیم نوازی کے تحت تعلیم، تربیت اور محبت ایک ساتھ فراہم کی جا سکتی ہے۔
حوالہ جات
[۱] ابن اثیر، النہایۃ، ج۵، ص۲۹۲۔
[۲] مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ج۱۴، ص۱۵۔
[۳] راغب اصفہانی، مفردات، ص۸۸۹۔
[۴] طبرسی، الإحتجاج، ج۱، ص۱۵۔
[۵] خزعلی، تصویر عصر جاہلی در قرآن، ص۱۹۹۔
[۶] سورہ بقرہ آیت ۱۸۰۔
[۷] خزعلی، تصویر عصر جاہلی در قرآن، ص۱۳۰-۱۳۲۔
[۸] فائز، سیمای عرب جاہلی از زبان قرآن و روایات، ص۱۲۴-۱۲۵۔
[۹] طباطبایی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج۵، ص۱۰۰۔
[۱۰] مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۲۶، ص۴۶۳۔
[۱۱] سورہ نساء آیت ۳۶۔
[۱۲] سورہ بقرہ آیت ۸۳۔
[۱۳] جوادی آملی، تسنیم، ج۵، ص۳۶۱-۳۶۲۔
[۱۴] تمیمی آمدی، غرر الحکم و درر الکلم، ص۵۸۱۔
[۱۵] حلی، کشف الیقین، ص۱۱۵۔
[۱۶] مجلسی، بحار الأنوار، ج۷۴، ص۱۷۱۔
[۱۷] سورہ ضحیٰ آیت ۹؛ سورہ بقرہ آیت ۲۲۰۔
[۱۸] حویزی، تفسیر نور الثقلین، ج۵، ص۵۹۷۔
[۱۹] ابن بابویہ، ثواب الأعمال، ص۱۹۹۔
[۲۰] حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج۱۶، ص۳۳۸۔
[۲۱] مجلسی، بحار الأنوار، ج۷۶، ص۲۷۲۔
[۲۲] سورہ نساء آیت ۶۔
[۲۳] مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۳، ص۲۷۲۔
[۲۴] کلینی، الکافی، ج۹، ص۷۰۴-۷۰۷۔
[۲۵] سورہ نساء آیت ۱۰۔
[۲۶] عیاشی، التفسیر، ج۱، ص۲۲۳۔
[۲۷] طبرسی، الإحتجاج، ج۱، ص۱۶۔
[۲۸] مجلسی، بحار الأنوار، ج۲، ص۶۔
[۲۹] طبرسی، الإحتجاج، ج۱، ص۱۷۔
فہرست منابع
۱. ابن اثیر، مبارک بن محمد؛ النہایۃ فی غریب الحدیث والأثر، قم، مؤسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان، ۱۳۶۷ش۔
2. ابن بابویہ، محمد بن علی؛ ثواب الأعمال وعقاب الأعمال، قم، دار الشریف الرضی للنشر، ۱۴۰۶ھ۔
3. تمیمی آمدی، عبدالواحد بن محمد؛ غرر الحکم و درر الکلم، قم، دار الکتب الاسلامی، ۱۴۱۰ھ۔
4. جوادی آملی، عبداللہ؛ تسنیم تفسیر قرآن کریم، قم، مرکز نشر اسراء، ۱۳۸۲ش۔
5. حر عاملی، محمد بن حسن؛ تفصیل وسائل الشیعۃ إلی تحصیل مسائل الشریعۃ، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، ۱۴۰۹ھ۔
۶. حلی، حسن بن یوسف بن مطہر؛ کشف الیقین فی فضائل أمیر المؤمنین، تہران، وزارت ارشاد، ۱۴۱۱ھ۔
7. حویزی، عبد علی بن جمعہ؛ تفسیر نور الثقلین، قم، اسماعیلیان، ۱۴۱۵ھ۔
8. خزعلی، انسیہ؛ تصویر عصر جاہلی در قرآن، تہران، مؤسسہ انتشارات امیرکبیر، ۱۳۸۸ش۔
9. راغب اصفہانی، حسین بن محمد؛ مفردات ألفاظ القرآن، بیروت، دار القلم، ۱۴۱۲ھ۔
10. طباطبایی، محمدحسین؛ المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ھ۔
۱۱. طبرسی، احمد بن علی؛ الإحتجاج، مشہد، نشر مرتضی، ۱۴۰۳ھ۔
12. عیاشی، محمد بن مسعود؛ التفسیر، تہران، المطبعۃ العلمیۃ، ۱۳۸۰ھ۔
13. فائز، قاسم؛ سیمای عرب جاہلی از زبان قرآن و روایات، تہران، شرکت انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۹۰ش۔
14. کلینی، محمد بن یعقوب؛ الکافی، قم، دار الحدیث، ۱۴۲۹ھ۔
15. مجلسی، محمدباقر؛ بحار الأنوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار(ع)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
16. مصطفوی، حسن؛ التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، بیروت-قاہرہ-لندن، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۳۰ھ۔
17. مکارم شیرازی، ناصر؛ تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۱ش۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مودب، سید رضا؛ و قاسم زادہ خشکرودی، محمود؛ «یتیم و مسائل آن از منظر قرآن و روایات»؛ (یتیم اور اس کے مسائل، قرآن و روایات کی روشنی میں)، مطالعات قرآنی، شمارہ ۴۰، زمستان ۱۳۹۸ش، ص ۴۸۷–۵۱۰۔
✍ مؤلف: سید لیاقت علی کاظمی – حوزہ علمیہ قم