بنی امیہ کے زمانے میں زید اور یحییٰ بن زید کا قیام

بنی امیہ کے زمانے میں زید اور یحییٰ بن زید کا قیام

کپی کردن لینک

بنی امیہ کے دور میں ظلم اور ظلم کے خلاف، محبتِ اہل بیت (ع) اور عقیدت کی بنا پر زید اور یحییٰ بن زید کے قیام ہوئے، جو سیاسی، سماجی اور مذہبی محرومیوں کے رد عمل تھے۔ یہ قیام علوی قیادت کے بغیر، شیعہ علماء اور پاک دامن افراد کی قیادت میں، عقیدتی و سیاسی دونوں حیثیتوں سے مظلوموں کی حمایت اور حق کی بلندید کا اظہار تھے، جنہوں نے شیعہ محبت اور عقائد کو قوم میں مستحکم کیا، جس میں زید کا قیام بھی اہم مرجعیت رکھتا ہے۔

شیعوں کا مسلحانہ قیام

شیعوں کا قیام اور ان کا مسلحانہ برتاؤ کربلا اور قیام عاشورہ سے شروع ہوتا ہے لیکن ہم فی الحال کربلا کی بحث کو دوسری جگہ کے لئے چھوڑتے ہیں ٦٠ھ امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد دو شیعہ قیام، قیام توابین اور قیام مختار، وجود میں آیا، ان دونوں قیاموں کے رہنما علوی نہیں تھے بلکہ پاک دامن شیعہ. ان دونوں قیام کی ماہیت جیسا کہ ان کے نعروں سے خود معلوم ہے مکمل طور پر شیعی تھا، توابین کے رہبروں کے بارے میں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ وہ اصحاب پیغمبر (ص) اور شیعیان علی (ع) میں سے تھے۔[1]

تشیع کے فروغ کے حوالے سے انقلابات کے مؤثر ہونے کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ قیام توابین کا زمانہ بہت کم تھا جس کی وجہ سے تشیع کو ترویج کی فرصت نہیں ملی اگر چہ کیفیت کے لحاظ سے تشیع کے مقاصد بہت زیادہ اہمیت کے حامل تھے اس قیام کی وجہ سے محبت اہل بیت (ع) دلوں میں راسخ ہوگئی اور شیعہ اپنے عقیدہ میں شدید اور مستحکم تر ہوگئے لیکن اس بات کی بہ نسبت قیام مختار شیعیت کی توسیع میں زیادہ مؤثر ثابت ہوا اور مختار نے موالیان اور غیر عرب کو بھی شیعوں کی صف میں داخل کر دیا حالانکہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا۔[2]

اس زمانے میں شرق اسلام میں تشیع کی بنیاد پڑی کہ جس کا عروج ہمیں عباسیوں اور عباسی انقلاب کی تحریکوں میں نظر آتا ہے، بنی امیہ کے آخری دور میں علویوں کی جانب سے جو قیام عمل میں آیا اس کا عباسیوں کے قیام کے ساتھ ایک طرح کا رابطہ تھا اس لئے کہ علوی خواہ بنی ہاشم ہو ں یا عباسی، بنی امیہ کے دور میں متحد تھے اور ان کے درمیان اختلاف نہیں تھا، یہاں تک کہ سفاح اور منصور ان دونوں خلیفہ نے محمد نفس زکیہ سے پہلے امام حسن (ع) کی اولاد کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی لیکن عباسیوں کی کامیابی کے بعد یہی محمد اپنے خاندان کے چند افراد کے ساتھ منصور عباسی کے ہاتھوں قتل کر دیئے گئے، دوسری صدی ہجری میں علویوں کی جانب سے جو قیام وجود میں آئے وہ زیادہ تر زیدی نظریات و عقائد پر استوار تھے، اگرچہ عباسیوں نے زید کے قیام سے زیادہ فائدہ اٹھایا، جیسا کہ مؤرخ معاصر امیر علی اس بارے میں بیان کرتا ہے۔

زید کی موت نے عباسی مبلغین کو تقویت بخشی اور وہ تبلیغیں جو اولاد عباس کی خلافت کے سلسلے میں جاری تھی اس کی تائید کی کیونکہ اس نے احتمالی خطروں کو بھی راستے سے دور کر دیا اس ماجرا کو ابو مسلم کے حالات کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے جو بنی امیہ کی حکومت کو اکھاڑنے کے لئے بنائی گئی تھی۔[3]

 

(الف) زید کا قیام

امام سجاد (ع) کے فرزند ارجمند اور امام باقر (ع) کے بھائی زید نے اموی خلیفہ ہشام اور اس کے ظلم کے مقابلے میں قیام کیا، زید عراق کے حاکم یوسف بن عمرو کی شکایت کرنے ہشام کے پاس دمشق گئے تھے، ہشام کے یہاں ان کی توہین کی گئی اور شام سے کوفہ واپس آنے کے بعد بہت سے شیعہ ان کے ارد گرد اکٹھا ہوگئے اور بنی امیہ کے مقابلہ میں قیام کرنے کی انہیں ترغیب کی لیکن جنگ میں تیر کھانے کی وجہ سے ان کا قیام شکست کھا گیا اور خود شہید ہوگئے۔[4]

زید کی شخصیت اور قیام کے بارے میں متعدد روایتیں نقل ہوئی ہیں ان میں سے بعض روایتیں ان کی سرزنش پر دلالت کرتی ہیں، لیکن شیعہ علماء اور صاحبان فکر و نظر کا عقیدہ یہ ہے کہ زید ایک مرد وارستہ اور قابل ستائش فرد تھے اور ان کے منحرف ہونے کا ثبوت ہماری دسترس میں نہیں ہے۔

شیخ مفید کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ بعض مذہب شیعہ ان کو امام مانتے ہیں اور اس کی علت یہ ہے کہ زید نے خروج کیا اور لوگوں کو رضائے آل محمد (ص) کی طرف دعوت دی، لوگوں نے اس سے یہ مطلب نکالا کہ یہ اپنے بارے میں کہہ رہے ہیں حالانکہ ان کا مقصد یہ نہیں تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے بھائی محمد باقر (ع) امام برحق ہیں اور خود انہوں نے اپنے بیٹے امام صادق (ع) کی امامت کی تاکید کی ہے۔[5]

علامہ مجلسی بھی زید سے مربوط روایتیں نقل کرتے ہیں کہ زید کے بارے میں گوناگوں اور اختلافی روایتیں موجود ہیں لیکن وہ روایات جو ان کی عظمت و جلالت کی حکایت کرتی ہیں اور یہ کہ ان کا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا، وہ بہت زیادہ ہیں اکثر علمائے شیعہ نے زید کی بلند عظمت اور شخصیت کے بارے میں اپنے آراء و نظریات کا اظہار کیا ہے، اس بنا پر مناسب یہ ہے کہ ان کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے اور ان کی مذمت نہ کی جائے۔[6]

آیة اللہ خوئی زید کے بارے میں فرماتے ہیں: روایات زید کی مدح ان کی قدر و منزلت کے بارے میں نیز یہ کہ انہوں نے امر بالمعروف و نہی از منکر کے لئے قیام کیا ہے مستفیض ہیں اور ان کی مذمت میں تمام روایات ضعیف ہیں۔[7]

کافی شواہد و ادلہ گواہی دیتے ہیں کہ زید کا قیام امام صادق (ع) کی خفیہ اجازت و موافقت سے تھا، ان شواہد میں سے امام رضا (ع) کا مامون کے جواب میں یہ فرمانا کہ میرے والد امام موسی بن جعفر (ع) نے نقل کیا کہ انہوں نے جعفر بن محمد (ع) سے سنا تھا کہ زید نے اپنے قیام سے متعلق مجھ سے مشورہ لیا تھا تو میں نے ان سے کہا: اے عمو جان! اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو کناسہ میں پھانسی دی جائے تو آپ کا راستہ صحیح ہے۔[8]

جس وقت زید امام کے حضور سے باہر چلے گئے تو امام (ع) نے فرمایا: افسوس ہے اس پر جو زید کی آواز کو سنے اور اس کی مدد کو نہ جائے۔[9]

زید حقیقی شیعہ اور امام صادق (ع) کی امامت کے معتقد تھے جیسا کہ آپ نے فرمایا: ہر زمانہ میں ہم اہل بیت (ع) میں سے ایک شخص لوگوں پر خدا کی حجت ہے اور ہمارے زمانے میں یہ حجت میرے بھائی کے فرزند جعفر بن محمد (ع) ہیں جو شخص بھی ان کی پیروی کرے گا وہ گمراہ نہیں ہوگا اور جو بھی ان کی مخالفت کرے گا وہ ہدایت نہیں پائے گا۔[10]

زید خود کو امام نہیں سمجھتے تھے اور لوگوں سے بھی منع کرتے تھے اس بارے میں امام صادق (ع) فرماتے ہیں خدا میرے چچا زید پر رحمت نازل کرے وہ جب بھی کامیاب ہوتے اپنے وعدے کو وفا کرتے زید نے جن آل محمد (ع) کی طرف دعوت دی ہے وہ میں ہوں۔[11]

امام صادق (ع) نے زید کی شہادت کے بعد ان کے خاندان کی سرپرستی فرمائی[12] جس خاندان کے افراد زید کے ساتھ شہید ہوگئے تھے ان کی نصرت و مدد کی اور ایک دفعہ تو ایک ہزار دینار ان کے درمیان تقسیم کیا۔[13]

اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ زید کا قیام توابین و مختار کے قیام کی طرح پوری طرح شیعی اور درست موقعیت پر استوار تھا نیز ظلم کے مقابلے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے تھا ان کی روش فرقہ زیدیہ سے بالکل جدا تھی۔

(ب) یحییٰ بن زید کا قیام

زید کی شہادت کے بعد ١٢١ھ میں ان کے فرزند یحییٰ نے اپنے والد کی تحریک کو آگے بڑھایا اور مدائن کے راستے سے خراسان آئے اور شہر بلخ میں ایک مدت تک نا آشنا طریقہ سے زندگی بسر کی، یہاں تک کہ نصر بن سیار نے ان کو گرفتار کرلیا اور ایک عرصہ تک زندان میں رہے یہاں تک کہ اموی خلیفہ ہشام کے مرنے کے بعد جیل سے فرار ہوگئے، خراسان کے شیعہ کافی تعداد میں ان کے اطراف میں جمع ہوگئے وہ نیشاپور آئے اور وہاں کے حاکم عمر بن زرارہ قسری کے ساتھ جنگ کی اور اس کو شکست دی لیکن آخر کار ١٢٥ ھ میں جوزجان میں بنی امیہ کی افواج سے جنگ کرتے ہوئے آپ کی پیشانی پر تیر لگا اور میدان جنگ میں قتل ہوگئے اور ان کی فوج منتشر ہوگئی۔[14]

قیام زید کے بر خلاف ان کے بیٹے یحییٰ بن زید کا قیام کا پوری طرح زیدیہ فرقہ کے مطابق اور اس سے ہماہنگ تھا یہ مطلب متوکل بن ہارون کے درمیان ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہے کہ جو امام صادق (ع) کے اصحاب میں سے تھے وہ ایک طرح سے اپنے باپ کی امامت کے قائل تھے اور خود کو اپنے باپ کا جانشین سمجھتے تھے، امامت کے تمام شرائط کے ساتھ وہ تلوار سے جنگ کرنے کو بھی امامت کے شرائط میں سے جانتے تھے۔

یہاں سے فرقہ زیدیہ کی بنیاد پڑتی ہے ان کا راستہ اور شیعہ اثنا عشری سے بالکل جدا ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ فقہی مسائل میں بھی ائمہ معصومین (ع) کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے۔

خاتمہ

شیعہ قیامیں، زید اور یحییٰ بن زید کا قیام مظلوموں کی حمایت اور حق کی بلندی کی علامت ہے، جنہوں نے سیاسی اور عقیدتی محروموں کے خلاف جنگیں لڑیں۔ زید کا قیام خصوصاً اس جدوجہد کی نمایاں مثال ہے۔ تاہم ان کی قربانیاں مختلف شرائط اور موقعوں پر انجام پائیں۔ ان کی جدوجہد نے شیعہ فکر کو تقویت بخشی اور مظلوموں کے کردار کو زندہ رکھا۔

 

حوالہ جات

[1] جعفری، تشیع در مسیر تاریخ، ص٢٦٨۔٢٧٣۔

[2] جعفریان، تشیع در ایران از آغاز تا قرن ہفتم ہجری، ص٧٦۔

[3] امیر علی، تاریخ عرب و اسلام، ص١٦٢۔١٦٣۔

[4] مسعودی، مروج الذہب، ج٣، ص٢٢٨۔٢٣٠۔

[5] مفید، الارشاد، ص٥٢٠۔

[6] مجلسی، بحار الانوار، ج٤٦، ص٢٥٠۔

[7] خوئی، معجم رجال حدیث، ج١٨، ص١٠٢۔١٠٣۔

[8] کوفہ کے محلہ میں سے ایک محلہ ہے، حموی، معجم البلدان، ج ٤، ص١٥٣۔

[9] ابن بابویه، عیون اخبار الرضا، ج١، ص٢٢٥، باب ٢٥، حدیث١۔

[10] صدوق، الامالی، ص٣٢٥۔

[11] طوسی، اختیار معرفة الرجال (رجال کشی)، ص٢؛ پیشوائی، سیرۀ پیشوایان، ص ٤٠٧۔٤٠٩۔

[12] ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص٣٣١۔

[13] مفید، الامالی، ص٣٤٥۔

[14] یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٣٢٦، ٣٢٧، ٣٣٢۔

 

کتابیات

1- ابن‌ بابویه، محمد بن علی، الامالی، قم، بنياد بعثت مرکز چاپ و نشر،  ۱۴۱۷ھ۔

۲- ابن‌ بابویه، محمد بن علی، عيون أخبار الرضا، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ١٤٠٤ہجری۔

۳- ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، قم، منشورات الشریف الرضی، ١٤١٦ھ۔

۴- احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، قم، منشورات شریف رضی،  ١٤١٤ہجری۔

۵- امیر علی، تاریخ عرب و اسلام، ترجمہ: فخر داعی گیلانی، تہران، انتشارات گنجینہ، طبع سوم، ١٣٦٦ھ۔

۶:- پیشوائی، مہدی، سیرۀ پیشوایان، قم، موسسہ امام صادق، طبع ہشتم، ١٣٧٨ھ۔

۷- جعفری، سید حسین، تشیع در مسیر تاریخ، ترجمہ، دکتر سید محمد تقی آیت اللہی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ١٣۸۴ش۔

۸- جعفریان، رسول، تشیع در ایران از آغاز تا قرن ہفتم ہجری، شرکت چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، طبع پنجم، ١٣٧٧ھ۔

۹- حموی، یاقوت بن عبد اللہ، معجم البلدان، بیروت، دار احیاء التراث العربی، طبع اول، ١٤١٧ھ۔

۱۰- خوئی، سید ابو القاسم، معجم رجال حدیث، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ١٤٠٤ھ۔

۱۱- طوسی، اختیار معرفة الرجال (رجال کشی)، قم، موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ١٤٠٤ھ۔

۱۲- مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، تہران، دار الکتب الاسلامیة، ۱۳۱۵ ھ.ق۔

۱۳- مفید، محمد بن نعمان، الامالی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ١٣۶۲ھ۔

۱۴- مفید، محمد بن نعمان، الارشاد، ترجمہ مساعدی خراسانی، محمد باقر، کتاب فروشی اسلامیہ، تاریخ کے بغیر۔

۱۵- مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب، بیروت، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات، ١٤١١ھ۔

 

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

محرمی، غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ: سید نسیم رضا آصف، ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)، طبع اول: ١٤٢٩ھ ۔ ٢٠٠٨ء ۔ چوتھی فصل شیعوں اور علویوں کا قیام، ص136-169۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔