حضرت سلمان فارسی صحابی رسول اکرم ﷺ کی شخصیت

حضرت سلمان فارسی صحابی رسول اکرم ﷺ کی شخصیت

کپی کردن لینک

یثرب پہنچ کر سلمان فارسی نے رسول اکرم ﷺ سے ملاقات کی اور نبوت کی نشانیوں کی تصدیق کے بعد اسلام قبول کیا۔ آپ معجزانہ طور پر، شرط کے تحت غلامی سے آزاد ہوئے جس میں سینکڑوں کھجور کے درخت لگانا شامل تھا۔ غزوہ خندق میں آپ کا ایرانی طرز پر خندق کھودنے کا مشورہ مسلمانوں کی کامیابی کا سبب بنا۔ اس کارنامے پر رسول اکرم ﷺ نے سلمان کے بارے میں فرمایا: ”مِنّا أهلَ البَيتِ“۔

نام و نسب

سلمان فارسی وہ نام ہے جو رسول اکرم ﷺ نے ”روزبہ“ ایرانی کےلئے منتخب کیا اور انہیں سلمان فارسی کہا۔ سلمان کا نام اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں مبہم رہا ہے۔ قدیم مآخذ میں ان کے سابقہ نام کا کوئی ذکر نہیں ملتا، لیکن چھٹی صدی ہجری سے ایسی کتب میں، جیسے کہ (مجمل التواریخ والقصص) ان کا قبل از اسلام نام (ماہبہ بن بدخشان بن آذرجسس بن مرد سالار) درج ہوا ہے۔[۱]

اس کے بعد کے مصادر میں بھی اسی طرح کے نام ملتے ہیں، جو غالباً لفظ ” ”ماہ بہ“ کی تصحیف ہیں اور ”روزبہ“ اور ”سال بہ“ جیسے ناموں کی طرح جو کہ ایران میں اسلام سے قبل رائج تھے۔ لفظ ”آذرجسس“ بھی دراصل ”آذر کشنسب“ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔[۲] سلمان اسلام قبول کرنے کے بعد ابو ”عبداللہ“ کی کنیت سے مشہور ہوئے۔ آپ اصفہان کے نواحی گاؤں ”جی“ کے رہنے والے تھے۔ آپ کے والد گاؤں کے سردار اور متدین زرتشتی تھے اور سلمان بھی بچپن میں اسی دین کے پیروکار تھے۔[۳]

دینِ مسیحیت اور سلمان فارسی

مسیحیت کا نور سب سے پہلے ”سلمان“ کے دل پر بجلی کی مانند چمکا۔ ایک دن جب وہ کھیت کی نگرانی کےلئے گئے، راستے میں ایک عبادت گاہ دیکھی جہاں لوگ عبادت میں مصروف تھے۔ سلمان فارسی کی جستجو اور سوال کرنے والی طبیعت نے انہیں مجبور کیا کہ اس نئے دین کی حقیقت جاننے کےلئے پادریوں سے سوال کریں۔ اس کے بعد سلمان نے اپنی دلچسپی ظاہر کی اور ان کی رہنمائی میں مسیحیت قبول کر لی۔ اس عمل پر اسے باپ اور گھر والوں کی طرف سے ملامت کا سامنا کرنا پڑا۔[۴]

آخرکار سلمان ایک قافلے کے ساتھ شام، جو اس وقت مسیحیت کا مرکز تھا، روانہ ہوئے اور وہاں ایک گرجا گھر میں سات سال تک خدمت میں لگے رہے۔ اس کے بعد وہ موصل میں ایک راہب کے پاس اور پھر ”عموریہ“ شہر چلے گئے۔ وہاں سے وہ ایک قافلے کے ساتھ نبی اسلام ﷺ کو تلاش کرنے حجاز پہنچ گئے، لیکن قافلے والوں نے سلمان کو ایک یہودی کو بیچ دیا، جس نے بعد میں سلمان فارسی کو ”خلیصہ“ نامی ایک عورت کو یثرب میں فروخت کر دیا۔

سلمان یثرب میں اس عورت کے کھیتوں اور نخلستانوں کا کام کرتے تھے۔ اسی دوران انہیں خبر ملی کہ رسول اکرم ﷺ مکہ میں مبعوث ہو چکے ہیں، مگر وہ آپ کو اس وقت نہ دیکھ سکے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ملاقات ممکن ہوئی۔[۵]

قبولِ اسلام

سلمان پہلے سے جانتے تھے کہ اس سرزمین میں ایک نبی مبعوث ہوں گے جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ صدقہ قبول نہیں کریں گے، ہدیہ قبول کریں گے اور ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی۔ چنانچہ جب انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے ”قبا“ کے مقام پر ملاقات کی تو کچھ کھجوریں صدقہ کے طور پر پیش کیں۔

سلمان نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے یہ کھجوریں صحابہ کو کھانے کےلئے دے دیں اور خود نہیں کھائیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ صدقہ ہے۔ پھر ایک دن مدینے میں سلمان دوبارہ کچھ کھجوریں بطور ہدیہ لائے تو آپ ﷺ نے ان کھجوروں کو تناول فرمایا۔

اور تیسری نشانی تب دیکھی جب پیغمبر اکرم ﷺ اپنے ایک صحابی کی نماز جنازہ میں ”مقیع الفرقد“ تشریف لائے، سلمان فارسی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے تھے کہ آپ ﷺ کی کمر مبارک سے کپڑا ہٹ گیا اور سلمان نے مہر نبوت دیکھ لی، اس کا بوسہ لیا اور گریہ کیا اس کے بعد اسلام قبول کیا اور سارا ماجرا پیغمبر اکرم ﷺ کو سنا دیا۔[۶]

سلمان فارسی کی غلامی سے نجات

سلمان کی غلامی سے آزادی کی بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں، لیکن وہ روایت جو زیادہ قابل اعتماد ہے اس طرح سے ہے کہ: سلمان نے پیغمبر اکرم ﷺ کے حکم سے اپنے مالک کے ساتھ قول و قرار کیا کہ اگر ۳۰۰ سے ۴۰۰ زرد اور سرخ کھجوروں کے درخت لگائے اور وہ پھل دینا شروع ہو جائیں تو اس وقت ان کو آزاد کر دیا جائے۔

لیکن اس کام کےلئے کئی سال درکار تھے تو، پیغمبر اکرم ﷺ کے معجزے سے کھجور کے درخت بہت تیزی کے ساتھ پروان چڑھے اور تازہ پھل دینا شروع ہوگئے اور سلمان فارسی شرط کے مطابق آزاد ہو گئے۔ اسی وجہ سے اسلام کی ابتدائی جنگوں میں سلمان فارسی شرکت نہیں کرسکے اور پہلی جنگ جس میں شریک ہوئے جنگ خندق تھی۔[۷]

جنگ خندق میں سلمان فارسی کا کردار

سلمان فارسی کی شہرت جنگِ خندق میں شرکت کے بعد ہوئی۔ جب ابتدائے اسلام میں، مساواتِ مسلمین کے تحت رسول اکرم ﷺ کے حکم سے لوگوں مابین بھائی چارے کا معاہدہ کیا گیا۔ سلمان کا بھائی چارہ ابودرداء کے ساتھ قائم ہوا[۸]۔ اسی دوران قبیلۂ خزاعہ کے گھڑسوار مکہ سے مدینہ کی جانب صرف ۴ دن کے فاصلے پر موجود تھے اور پیغمبر ﷺ کو قریش اور عرب کی ایک بہت بڑے لشکر کی مدینہ کی جانب حرکت سے مطلع کیا۔

رسول اللہ ﷺ نے فوری طور پر اپنے ساتھیوں کو مشورت کےلئے طلب کیا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ مدینہ سے باہر نکل کر جہاں بھی دشمن سے سامنا ہو، وہیں تلوار سے مقابلہ کیا جائے۔

سلمان فارسی سامنے آئے اور انہوں نے اپنا تاریخی مشورہ پیش کیا کہ ایرانیوں کے طریقے کے مطابق جنگ کے موقع پر شہر کے اردگرد خندق کھودی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا مشورہ قبول فرما لیا اور کفار کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بہت بڑے اعزاز کی بات تھی کہ سلمان فارسی کے مشورے کہ وجہ سے یہ کامیابی مسلمانوں کو نصیب ہوئی۔

اسی وجہ سے جنگِ خندق کے دوران مہاجرین اور انصار میں بحث چھڑ گئی کہ سلمان ہمارے گروہ سے ہیں اور ہر فریق سلمان کو اپنا کہتا تھا۔ اس موقع پر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ”سلمان مِنّا أهلَ البَيتِ“ یعنی سلمان میرے اہل بیت میں سے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ”سلمان محمدی“ بھی کہا جاتا ہے۔[۹]

دفاع ولایت

دورِان امامتِ امیرالمؤمنین (ع) سلمان فارسی اپنے مولا علی (ع) کے ساتھ مکمل طور پر وابستہ رہے۔ امام جعفر صادق (ع) کے قول کے مطابق، سلمان اپنی خواہشات پر امیرالمؤمنین (ع) کی مرضی کو ترجیح دیتے تھے۔ انہوں نے غاصبینِ خلافت کے مقابل ہر ممکن طریقہ اپنایا۔

سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعہ میں، موقع پرستوں اور حکومت کے غاصبوں نے اسلام ناب محمدی کا راستہ بدل دیا اور خلافت کو خاندانِ رسالت ﷺ سے چھین لیا۔ لیکن سلمان اکثریت کے پیچھے نہ چلے اور رسولِ خدا ﷺ سے اپنے عہد کے مطابق حق کا نعرہ بلند کیا۔ جب ابوبکر کو پہلا خلیفہ منتخب کیا گیا تو سلمان نے اعتراض کیا۔

امیرالمؤمنین (ع) سے ابوبکر کےلئے بیعت لینے کے موقعے پر وہ ہمیشہ علی (ع) کے ساتھ ساتھ رہے اور ہر موقعے پر ان کا دفاع کرتے رہے اور کبھی بھی امام (ع) کو تنہا نہ چھوڑا۔ انہوں نے فرمایا: ہم نے رسولِ خدا ﷺ سے اس لئے بیعت کی تھی کہ مسلمانوں کے امور میں خیرخواہی اور دلسوزی کریں اور علی بن ابی طالب (ع) کی امامت، دوستی اور پیروی کی تصدیق کریں۔[۱۰]

وفات

سلمان فارسی ۳۶ ہجری میں وفات پا گئے۔ بعض روایات کے مطابق ان کا انتقال خلافتِ عثمان کے زمانے میں ہوا، جبکہ بعض روایات میں ان کی وفات عثمان کی خلافت کے بعد والے مہینوں میں بیان کی گئی ہے۔[۱۱] روایات کے مطابق سلمان نے طویل عمر پائی اور بعض کے نزدیک ان کی عمر ۳۵۰ سال تک رہی۔[۱۲] کچھ تاریخی روایات میں آیا ہے کہ سلمان فارسی کی وفات کے بعد امام علی (ع) مدینہ سے مدائن تشریف لائے، انہیں غسل و کفن دیا، نمازِ جنازہ پڑھائی اور تدفین کی۔[۱۳]

خاتمہ

سلمان فارسی ایران کے ایک زرتشتی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور ابتدا میں اسی مذہب کے پیروکار تھے۔ حق کی جستجو نے آپ کو طویل سفر پر روانہ کیا جو بالآخر رسول اکرم (ص) تک پہنچا، جہاں آپ اسلام کے نور سے مشرف ہوئے۔ آپ امام علی (ع) کے نہایت مخلص ساتھی تھے اور مختلف مواقع پر ان کی ولایت و امامت کا بھرپور دفاع کیا۔ سلمان فارسی کی زندگی ہر حق طلب کے لیے ایک کامل نمونہ ہے، جس پر عمل کر کے انسان سعادتِ ابدی اور قربِ الٰہی حاصل کر سکتا ہے۔

حوالہ جات

[۱]۔ مجمل التواریخ، ص۲۴۲۔

[۲]۔ ترکی، پارسای پارسی، ص۱۸۔

[۳]۔ ابن هشام، السیرة النبویة، ج۱، ص۱۴۰۔

[۴]۔ بلاذری، انساب الشراف، ج۱، ص۴۸۶۔

[۵]۔ ابن هشام، السیرة النبویة، ج۱، ص۱۴۰‑۱۴۱۔

[۶]۔ ابن هشام، السیرة النبویة، ج۱، ص۱۴۵۔

[۷]۔ ابن سعد، طبقات الکبری، ج۴، ص۶۷۔

[۸]۔ ابن هشام، السیرة النبویة، ج۱، ص۳۳۸۔

[۹]۔ ابن سعد، طبقات الکبری، ج۴، ص۸۳۔

[۱۰]۔ مدنی، الدرجات الرفیعه فی طبقات الشیعه، ص۲۱۳۔

[۱۱]۔ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۱، ص۴۵۸-۴۵۹۔

[۱۲]۔ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱، ص۱۷۶۔

[۱۳]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۲۲، ص۳۸۰۔

فہرست منابع

۱۔ ابن سعد، محمد بن سعد، طبقات الکبری، ترجمہ: محمود مهدوی دامغانی، تهران، انتشارات فرهنگ و اندیشه، ۱۳۷۴ش۔

۲۔ ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینة دمشق: و ذکر فضلها و تسمیة من حلها من الأماثل أو اجتاز بنواحیها من واردیها و أهلها، بیروت، دار الفکر، ۱۴۱۵ق۔

۳۔ ابن هشام، عبد الملک بن هشام، السیرة النبویة (زندگانى محمد (ص) پيامبر اسلام)، ترجمہ: سيد هاشم رسولى محلاتی، تهران، انتشارات كتابچى، ١٣٧٥ش۔

۴۔ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الشراف، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۷ق۔

۵۔ ترکی، محمدرضا، پارسای پارسی، تهران، توسعة قلم، ١٣٨١ش۔

۶۔ خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، أو، مدینة السلام، بیروت، دار الکتب العلمية، ۱۴۱۷ق۔

۷۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار: الجامعه لدرر أخبار الأئمه الأطهار، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۱۲ق۔

۸۔ مجمل التواريخ والقصص، تصحيح: ملك الشعرا بهار، چاپ دوم، تهران، کلاله خاور۔

۹۔ مدنی، علیخان بن احمد، الدرجات الرفیعه فی طبقات الشیعه، قم، مؤسسة تراث الشيعة، ۱۳۹۵ش۔

مضمون کا مآخذ (ترمیم اور تلخیص کے ساتھ)

۱۔ ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینة دمشق، بیروت، دار الفکر، ۱۴۱۵ق۔

۲۔ خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، أو، مدینة السلام، بیروت، دار الکتب العلمية، ۱۴۱۷ق۔

۳۔ طبیبی پور، فرید، سلمان فارسی کیست؟، مجله: رشد آموزش تاریخ، ش،۵۱، تابستان، ۱۳۹۲ش۔

۴۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۱۲ق۔

۵۔ نساجی زواره، اسماعیل، سلمان فارسی نخستین مسلمان ایرانی، مجله: پاسدار اسلام، آبان و آذر، ۱۳۹۴ش۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔