ماہ رمضان المبارک کا روحانی سفر اپنی نصف منزل طے کرنے کے قریب ہے۔ چودھویں دن کی دعا انسان کو اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کا احساس دلاتی ہے اور اسے رب کریم سے معافی اور پناہ طلب کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ اس دعا میں بندہ اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کرتا ہے: لغزشوں پر گرفت نہ کرنا، خطاؤں کو معاف (اقالہ) کرنا، اور دنیوی و روحانی آفات کا نشانہ بننے سے بچانا۔ یہ دعا اعترافِ جرم اور طلبِ رحمت کا بہترین امتزاج ہے۔
ماہ رمضان کے چودھویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ لا تُؤاخِذْنى فيهِ بِالْعَثَراتِ وَ أَقِلْنى فيهِ مِنَ الْخَطايا وَ الْهَفَواتِ وَ لا تَجْعَلْنى فيهِ غَرَضاً لِلْبَلايا وَ الاْفاتِ بِعِزَّتِكَ يا عِزَّ الْمُسْلِمينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! آج کے دن (اور ماہ) میں میری لغزشوں پر میرا مؤاخذہ نہ فرما، اور خطاؤں اور گناہوں سے دوچار ہونے سے دور رکھ (معاف کر)، مجھے آزمائشوں اور آفات کا نشانہ قرار نہ دے، تیری عزت کے واسطے، اے مسلمانوں کی عزت و عظمت۔“
لغزشوں پر عدم مؤاخذہ: اخلاقی رذائل سے نجات
ماہ رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ (عشرہ مغفرت) تیزی سے گزر رہا ہے۔ چودھویں دن کی دعا اس عشرے کا ایک اہم موڑ ہے جہاں بندہ اپنے رب کے حضور اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہے اور اپنی لغزشوں کو معاف کروا کر ایک نئی شروعات کرنا چاہتا ہے۔ یہ دعا انسان کو مایوسی کے گڑھے سے نکال کر امید کی چوٹی پر لے جاتی ہے۔ چودھویں دن کی دعا میں ہم اللہ سے تین بنیادی درخواستیں کرتے ہیں: لغزشوں پر پکڑ نہ کرنا، گناہوں کے سودے کو منسوخ کرنا (اقالہ)، اور بلاؤں کا نشانہ بننے سے بچنا۔
دعا کے پہلے اور انتہائی عاجزانہ حصے میں لغزشوں پر گرفت نہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے: أَللّهُمَّ لا تُؤاخِذْنى فيهِ بِالْعَثَراتِ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں میری لغزشوں پر نہ پکڑ)۔ چودھویں دن کی دعا یہاں انسانی فطرت کی کمزوری کو پیش کرتی ہے۔
"عثرات” سے مراد وہ لغزشیں، پھسلن اور ٹھوکریں ہیں جو انسان کو گرنے کے قریب کر دیتی ہیں۔ انسان فرشتہ نہیں ہے، اس سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن اگر انسان مسلسل اخلاقی رذائل کا شکار رہے اور خدا کے احکامات کی پرواہ نہ کرے تو اس کے دل و دماغ پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: ”خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے کہ نہ کچھ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں“[1]۔ چودھویں دن کی دعا ہمیں اسی خطرناک انجام سے بچانے کے لیے ہے۔
انسان کی آنکھ، کان، زبان اور دل ایک دکان کی مانند ہیں جو جنت کا سودا کرنے کے لیے اسے امانت دیے گئے ہیں۔ اگر یہ اعضاء مسلسل گناہ کریں تو اللہ انہیں "سیل” (Seal) کر دیتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ہدایت کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ چودھویں دن کی دعا دراصل اس بات کا اقرار ہے کہ "یا اللہ! مجھ سے جو چھوٹی موٹی غلطیاں سرزد ہو گئی ہیں، انہیں بڑے جرائم کے کھاتے میں نہ لکھنا، بلکہ اپنی رحمت سے درگزر فرما”۔
جنگِ احد میں جن لوگوں نے پیٹھ پھیری اور میدان چھوڑ دیا، قرآن ان کے بارے میں کہتا ہے کہ ”یہ وہی ہیں جنہیں شیطان نے ان کے کیے دھرے کی بنا پر بہکا دیا ہے“[2]۔ یعنی چھوٹی لغزشیں شیطان کو موقع دیتی ہیں کہ وہ انسان کو بڑے گناہوں کی طرف دھکیل دے۔ چودھویں دن کی دعا ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ اپنی چھوٹی غلطیوں کو معمولی نہ سمجھیں، کیونکہ یہی ”عثرات“ جمع ہو کر تباہی کا پہاڑ بن جاتی ہیں۔
خطاؤں کا اقالہ: واپسی کا راستہ
دعا کا دوسرا اہم اور امید افزا جزو خطاؤں کا اقالہ ہے: وَ أَقِلْنى فيهِ مِنَ الْخَطايا وَ الْهَفَواتِ (اور میری خطاؤں اور لغزشوں کو معاف کر دے/میرا اقالہ فرما)۔ چودھویں دن کی دعا میں استعمال ہونے والا لفظ ”اقالہ“ فقہی اور تجارتی اصطلاح میں بہت گہرا مفہوم رکھتا ہے۔
"اقالہ” سودا منسوخ کرنے کو کہتے ہیں۔ جب کوئی خریدار چیز خرید لے لیکن بعد میں اسے پتا چلے کہ یہ چیز اس کے کام کی نہیں یا اس میں عیب ہے، اور وہ دکاندار کے پاس جا کر کہے کہ ”یہ واپس لے لو“، تو دکاندار کا اسے قبول کر لینا "اقالہ” کہلاتا ہے۔ اسلام میں اقالہ کرنا مستحب ہے اور اس کا بڑا اجر ہے۔
چودھویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے کہہ رہا ہے کہ ”اے خدا! میں نے دنیا کی محبت میں گرفتار ہو کر گناہوں کا جو گھاٹے والا سودا کر لیا ہے، میں اس پر شرمندہ ہوں۔ میں یہ گناہوں کا بوجھ واپس کرنا چاہتا ہوں، تو اپنی رحمت سے اس سودے کو منسوخ (اقالہ) کر دے اور مجھے پاک صاف کر دے“۔
چودھویں دن کی دعا ہمیں یہ حوصلہ دیتی ہے کہ خدا وہ رحیم دکاندار ہے جو ٹوٹی پھوٹی اور عیب دار چیزیں بھی واپس لے لیتا ہے۔ شجاع اور بہادر انسان وہ ہے جو اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور خدا کی عدالت میں پیش ہو کر کہے: ”اللّهم اغفر لی کلَّ ذنبٍ اَذنبته“ (خدایا! میرے تمام گناہوں کو بخش دے)۔ اپنی غلطی مان لینا کمزوری نہیں بلکہ اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے۔ چودھویں دن کی دعا ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ توبہ کے ذریعے ہم اپنے نامہ اعمال کو دوبارہ صاف (Reset) کر سکتے ہیں۔
آفات و بلیات سے پناہ: گناہوں کا اثر
تیسرا اور خوفناک پہلو آفات کا نشانہ بننے سے بچنا ہے: وَ لا تَجْعَلْنى فيهِ غَرَضاً لِلْبَلايا وَ الاْفاتِ (اور مجھے اس مہینے میں مصیبتوں اور آفات کا نشانہ/ہدف نہ بنا)۔ چودھویں دن کی دعا میں لفظ ”غرض“ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے ”ہدف“ (Target)۔ جیسے تیر انداز نشانے پر تیر مارتا ہے، اسی طرح گناہ انسان کو بلاؤں کا ہدف بنا دیتے ہیں۔
دنیوی آفات، بیماریاں، اور ناگہانی بلائیں اکثر انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ قرآن کریم واضح کرتا ہے: ”خشکی اور تری میں فساد لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ظاہر ہوا“[3]۔ چودھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے گناہ کائنات کے توازن کو بگاڑتے ہیں۔
علامہ طباطبائی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کے اعمال اور تکوینی نظام (System of Creation) میں گہرا تعلق ہے۔ جب انسان فطرت کے قوانین توڑتا ہے اور گناہ کرتا ہے تو زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس کا ردعمل زلزلوں، سیلابوں یا وبائی امراض کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے[4]۔ چودھویں دن کی دعا دراصل ایک حفاظتی ڈھال (Shield) ہے جو ہمیں ان تیروں سے بچاتی ہے۔
امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں کہ گناہوں کی وجہ سے خدا آسمان سے بارش کو روک لیتا ہے یا اسے بے آباد جگہوں اور سمندروں پر برساتا ہے جہاں اس کا فائدہ نہیں ہوتا[5]۔ امیر المومنین (ع) بھی دنیا کو بلاؤں سے گھرا ہوا گھر قرار دیتے ہیں: ”الدُّنيا دارٌ بِالبَلاءِ مَحفُوفَة“ (دنیا بلاؤں میں گھرا ہوا گھر ہے)[6]۔
چودھویں دن کی دعا ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ بعض بلائیں آزمائش ہوتی ہیں اور بعض سزا۔ اگر ہم استغفار اور دعا کے حصار میں رہیں گے تو سزا والی بلائیں ٹل جائیں گی اور آزمائش والی بلاؤں میں صبر کی توفیق ملے گی۔
دعا کا اختتام اللہ کی عزت کے واسطے سے ہوتا ہے: بِعِزَّتِكَ يَا عِزَّ الْمُسْلِمِينَ (اپنی عزت کے واسطے، اے مسلمانوں کو عزت دینے والے)۔ یہ آخری جملہ بتاتا ہے کہ اگر ہم گناہوں میں گھرے رہے تو ذلیل ہو جائیں گے، اور اگر اللہ نے ہمیں معاف کر دیا (اقالہ کر لیا) تو یہی ہماری اصل عزت ہے۔ پس، چودھویں دن کی دعا اپنی غلطیوں پر ندامت، واپسی کی امید اور اللہ کی پناہ مانگنے کا ایک مکمل روحانی راستہ ہے۔
جب انسان سچے دل سے اپنی لغزشوں پر نادم ہوتا ہے تو اللہ اس کے نامہ اعمال سے گناہوں کی سیاہی دھو ڈالتا ہے اور اسے اپنی حفاظت کے قلعے میں لے لیتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا کی رسوائی سے بچا کر آخرت کی ابدی عزت اور سربلندی کا حقدار بناتا ہے۔ لہٰذا، یہ دعا ہمارے لیے صرف الفاظ نہیں، بلکہ دنیا و آخرت کی ہلاکتوں سے بچاؤ کی ایک مضبوط ڈھال ہے جسے ہمیں ہر لمحہ تھامے رکھنا چاہیے۔
نتیجہ
ماہ رمضان المبارک کے چودھویں دن کی دعا ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ ہماری لغزشیں اور گناہ نہ صرف ہماری روحانیت کو تباہ کرتے ہیں بلکہ دنیوی آفات کا بھی سبب بنتے ہیں۔ اس لیے نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں، اللہ سے "اقالہ” (معافی) کی درخواست کریں اور اسی کی عزت (یا عِزَّ الْمُسْلِمينَ) کا واسطہ دے کر پناہ مانگیں۔
حوالہ جات
[1] سورہ بقرہ، آیت 7۔
[2] سورہ آل عمران، آیت 155۔
[3] سورہ روم، آیت 41۔
[4] طباطبائی، المیزان، ج 18، ص 59۔
[5] کلینی، الکافی، ج 5، ص 374۔
[6] شریف رضی، نہج البلاغہ، خطبہ 217۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، قم، انتشارات ہجرت، 1414ق۔
3۔ طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، جامعہ مدرسین، 1417ق۔
4۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔