بچوں میں نماز کی ترغیب اور عملی تربیت کے اصول

بچوں میں نماز کی ترغیب اور عملی تربیت کے اصول

کپی کردن لینک

نماز کی ترغیب کا ایسا طریقہ اپنانا ہر باشعور والدین کی دلی خواہش ہے جس سے بچے بخوشی خالق کے حضور جھکیں۔ نوعمری چونکہ ایک نہایت نازک اور باغیانہ جذباتی موڑ ہے، اس لیے یہاں زبردستی بالکل کام نہیں آتی۔ اس اہم دور میں بچوں کے دلوں پر بوجھ ڈالے بغیر انہیں نماز کی ترغیب دینا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ محض آپ کا نرم اور شفقت بھرا رویہ ہی ان کے کچے ذہنوں پر بندگی کا گہرا اور انمٹ نقش چھوڑ سکتا ہے۔

بچوں کے دلوں میں عبادت کا بیج بونا

اسلام نے لڑکپن کے اس دور کو بہت اہمیت دی ہے اور اسے انسان کی شخصیت بننے کا بنیادی مرحلہ قرار دیا ہے۔ رسول اکرم (ص) کی تعلیمات کے مطابق بچے کے ابتدائی سات سال کھیل کود کے، اگلے سات سال سیکھنے کے اور اس کے بعد کے سات سال وہ والدین کا مشیر ہوتا ہے [۱]۔ اس خوبصورت تقسیم کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہم عمر کے ہر حصے میں بچے کی نفسیات کو سمجھ کر اس کی تربیت کریں۔

اگر ہم اس دور میں سختی سے کام لیں گے تو بچہ دین سے باغی ہو سکتا ہے اور محبت ہی اسے قریب رکھ سکتی ہے۔ اسی لیے ہمیں اعتدال کا راستہ اپناتے ہوئے ان کے دلوں میں نماز کی ترغیب کے لیے نرمی کے بیج بونے کی ضرورت ہے۔

اس خاص عمر میں نوعمر بچوں کی نفسیات کو سمجھنا اور ان کے سوالات کو خندہ پیشانی سے سننا بے حد ضروری ہے۔ جب وہ ہم سے عبادات کے حوالے سے الجھے ہوئے سوالات پوچھیں تو ہمیں گھبرانے کے بجائے انہیں تسلی بخش جوابات دینے چاہئیں۔ بصیرت اور سمجھ بوجھ کے ساتھ سکھائی گئی یہ دینی بنیاد انہیں تمام زندگی ثابت قدم رکھتی ہے۔

ہمارے یہ محبت بھرے جوابات دراصل ان کے باطن کو اللہ کی سچی محبت سے سرشار کرنے کا بہترین ذریعہ بنتے ہیں۔ ایسی کھلی اور دوستانہ گفتگو ہی ایک مؤثر نماز کی ترغیب ہے جو ان کے دلوں میں کبھی کوئی شبہہ پیدا نہیں ہونے دیتی۔

پیدائش کے ابتدائی مراحل اور ماحول کی پاکیزگی

دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ بچے کی تربیت کا آغاز اس کی پیدائش کے پہلے دن سے ہی ہو جاتا ہے۔ جب بچہ اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو کانوں میں اذان دراصل اس کے لیے نماز کی ترغیب کا پہلا پیغام ہوتی ہے۔ نبی اکرم (ص) کا فرمان ہے «مَنْ وُلِدَ لَهُ مَوْلُودٌ فَلْيُؤَذِّن فِى اذُنِهِ الْيُمْنَى بِاذانِ الصَّلَاة وَلْيُقِمْ فِى الْيُسْرَى فَانَّ ذَلِكَ عِصْمَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَ الْافْزاعِ لَهُ» جس کا مطلب ہے "جس کے یہاں بچہ پیدا ہو، اسے چاہیے کہ اس کے دائیں کان میں نماز کی اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے، یہ عمل بچے کو شیطان مردود سے محفوظ رکھتا ہے” [۲]۔

اذان کے بعد ایک خوبصورت اور بامعنی نام رکھنا بھی اس کی شخصیت سازی کا ایک انتہائی اہم حصہ شمار ہوتا ہے۔ حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ والدین پر بچے کا یہ حق ہے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھیں، اسے بہترین ادب سکھائیں اور اسے قرآن کی تعلیم دیں [۳]۔

روحانی تربیت کے ساتھ جسمانی پرورش کا پاکیزہ ہونا بھی بچے کے دل میں نماز کی ترغیب اور عبادات کا شوق بیدار کرنے کی شرط ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کیسی خوراک کھلا رہے ہیں، اس کا سیدھا اثر ان کی روح پر مرتب ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ﴿فَلْيَنْظُرِ الْإنسَنُ إلَي طَعَامِهِ﴾ جس کا ترجمہ ہے "انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی خوراک کی طرف دیکھے” [۴]۔

حلال رزق بچے کے دل کو روشن کرتا ہے اور اسے اللہ کی فرمانبرداری کی طرف کھینچ کر نیکی پر آمادہ کرتا ہے۔ جب بچہ پاکیزہ غذا کھا کر بڑا ہوتا ہے تو اس کے دل میں نماز کی ترغیب خود بخود ایک فطری عمل بن جاتی ہے۔

دسترخوان پر کھانے پینے کے اسلامی آداب سکھانا خاندانی تربیت کا وہ پہلو ہے جو بچے کی زندگی کو دین کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ جب والدین دسترخوان پر اسلامی آداب کا خیال رکھتے ہیں تو بچے بھی انہیں دیکھ کر ویسا ہی کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ جناب فاطمہ زہرا (س) کی سیرت طیبہ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ آپ رات کو بچوں کو ہلکی غذا دیتیں تاکہ وہ صبح نماز کے لیے بآسانی اٹھ سکیں [۵]۔

یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بظاہر معمولی لگتی ہیں لیکن بچوں کو سچی نماز کی ترغیب دینے میں ان کا کردار حیرت انگیز ہوتا ہے۔ خاندانی سطح پر کھانے پینے کی عادات کو عبادات کے مطابق بنانا ایک شاندار اور کامیاب حکمت عملی ہے۔

محبت اور عزت کے سائے میں شخصیت کی تعمیر

جب ایک نوعمر بچے کو گھر کے اندر پوری عزت دی جاتی ہے تو وہ کسی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتا۔ عزت نفس کا یہ احساس اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ والدین کی بات کو بوجھ سمجھنے کے بجائے دل سے مانے۔ اگر ہم اسے محفل میں ٹوکنے کے بجائے تنہائی میں پیار سے سمجھائیں گے تو نماز کی ترغیب اس کے دل پر زیادہ اثر کرے گی۔

محبت بھرا رویہ ہی وہ چابی ہے جو بچوں کے دلوں کے بند دروازے کھول کر ان کے اندر نیکی داخل کرتی ہے۔ یہی عزت اور احترام ان کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے جو انہیں دینی احکامات پر خوش دلی سے عمل کرنے پر ابھارتا ہے۔

بچوں کو پیار اور شفقت فراہم کرنا محض ایک دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ یہ ہماری اسلامی تربیت کا ایک لازمی اور بنیادی حصہ ہے۔ دین اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ سختی اور غصے سے معاملات بگاڑنے کے بجائے نرمی سے سلجھائے جائیں۔ رسول خدا (ص) کا فرمان مبارک ہے «أَحِبُّوا الصِّبْيَانَ وَ ارْحَمُوهُم» جس کا واضح مفہوم ہے "بچوں سے محبت کرو اور ان پر رحم کرو” [۶]۔

اس مضبوط جذباتی تعلق کی بنیاد پر جب ہم انہیں نماز کی ترغیب دیتے ہیں تو وہ ہماری بات کو رد نہیں کرتے۔ جب ہم انہیں غلطیوں پر معاف کرتے ہیں تو وہ ہم سے دلی طور پر جڑ کر ہمارے مطیع بن جاتے ہیں۔

سیرت نبوی (ص) ہمیں قدم قدم پر بچوں کے ساتھ انتہائی شفقت اور محبت کے عملی مناظر دکھاتی ہے۔ نبی کریم (ص) کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت کے دوران بھی بچوں کی جذباتی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بچوں کو مساجد اور عبادات سے پیار کے ساتھ جوڑ کر رکھنا چاہیے۔ ایسا محبت بھرا ماحول ہی ان کے نرم دلوں میں نماز کی ترغیب کا ایک نہ مٹنے والا نقش قائم کر دیتا ہے۔

والدین کا اپنا عمل اور گھر کا دینی ماحول

بچے ہمیشہ وہی کچھ سیکھتے اور اپنی زندگی میں نافذ کرتے ہیں جو وہ اپنے گھر کے ماحول میں روزانہ دیکھتے ہیں۔ اگر ماں باپ خود نماز کے پابند ہیں اور اذان کی آواز سنتے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں، تو بچہ بھی یہی اہمیت محسوس کرے گا۔ امیر المؤمنین (ع) فرماتے ہیں کہ اپنے بچوں کو نماز سکھاؤ اور جب وہ آٹھ سال کے ہو جائیں تو انہیں اس فرض کو ادا کرنے کی تلقین کرو [۷]۔

لیکن یہ تلقین اسی وقت اثر دکھاتی ہے جب بچے نے اپنے والدین کو پوری توجہ سے جائے نماز پر جھکتے دیکھا ہو۔ زبانی احکامات کے مقابلے میں والدین کا اپنا عمل بچوں کے لیے نماز کی ترغیب کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔

گھر میں کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے، یہ بات بھی بچے کی دینی تربیت پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔ جن گھرانوں میں دین دار لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے، وہاں کے بچے خود بخود عبادات کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ امام صادق (ع) نے ہدایت فرمائی ہے کہ اپنے دوستوں کو نماز کی پابندی سے پرکھو اور اگر وہ نماز کو اہمیت نہ دیں تو ان سے دوری اختیار کرو [۸]۔ ن

مازی دوستوں کی صحبت نوعمروں کے لیے ایک ایسا خاموش مدرسہ ہے جہاں وہ نیکی کے راستے پر چلنا سیکھتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ایسے خاندانوں سے تعلقات بڑھائیں جو ان کے بچوں کے لیے نماز کی ترغیب کا باعث بنیں۔

روزمرہ کے معمولات جیسے سونے جاگنے کی عادتیں بھی عبادات کی ادائیگی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ رات کو دیر تک جاگنے سے انسان فجر کی نماز کے لیے اٹھنے میں سستی اور بوجھل پن محسوس کرتا ہے۔ اگر والدین گھر کا نظام فطرت کے اصولوں کے مطابق ڈھال لیں تو بچوں کے لیے صبح جلدی اٹھنا آسان ہو جائے گا۔

وقت پر سونے کی عادت ایک بہترین خاندانی روایت ہے جو بچوں کو سستی اور کاہلی کی بیماری سے بچاتی ہے۔ ایک منظم خاندانی زندگی نوعمروں کے لیے نماز کی ترغیب کو ایک مشکل کام کے بجائے خوشگوار معمول بنا دیتی ہے۔

مساجد سے دلی لگاؤ اور اجتماعات کی برکات

اللہ کا گھر ایک ایسی روحانی تربیت گاہ ہے جہاں قدم رکھتے ہی انسان کے دل پر ایک عجیب سا سکون چھا جاتا ہے۔ جب بچے والدین کی انگلی پکڑ کر نماز کے لیے مسجد جاتے ہیں، تو وہ اجتماعی نورانی ماحول سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ ان اجتماعات اور پھر نماز جماعت میں شرکت کے ذریعے نوجوانوں کو اس بات کا خوشگوار احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک بہت بڑی اور مضبوط دینی برادری کا حصہ ہیں۔

اس حوالے سے ایک نامور عالم دین کا قول ہے کہ بچے کو نماز پڑھنے کے لیے ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جو اس کی حوصلہ افزائی کرے، اگر بچہ مسجد نہ جائے اور جمع ہو کر عبادت کرنے والوں کو نہ دیکھے تو اسے اس کام کا شوق پیدا نہیں ہوتا [۹]۔ یہی دلی لگاؤ مسجد کے ماحول کی برکت سے ان کے دلوں میں ایک مستقل اور سچی نماز کی ترغیب کا سبب بنتا ہے۔

نماز اور مسجد کے ماحول کو بچوں کی نظر میں پرکشش بنانا ہماری ایک بہت اہم اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ مسواک (برش) کا استعمال اور اچھے لباس کا انتخاب عبادات کو بوجھ کے بجائے ایک خوشگوار تجربہ بنا دیتا ہے۔ نبی کریم (ص) کا ارشاد ہے «السِّواكَ مَطْهَرَة لِلْفَمِ مَرضاة لِلرَّبِّ وَ مَجْلاة لِلْبَصَرِ» جس کا ترجمہ ہے "مسواک کرنا منہ کی پاکیزگی، پروردگار کی خوشنودی اور آنکھوں کی روشنی کا باعث ہے” [۱۰]۔

صاف ستھرا لباس پہننا بچوں کے حواس پر اچھا اثر ڈالتا ہے اور وہ نماز کے وقت کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ دلکش ماحول اور صفائی ستھرائی کی عادت بچوں کے اندر از خود نماز کی ترغیب کا جذبہ ابھارتی ہے۔

خوشبو کا استعمال اور اذان کی خوبصورت آواز مسجد کے ماحول کو مزید روح پرور بنانے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ رسول اکرم (ص) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کو بہت پسند فرماتا ہے [۱۱]۔ گھر اور مسجد کو خوشبو سے مہکانا اور خوبصورت آواز میں اذان دینا بچوں کے نازک دلوں کو دین کی طرف کھینچتا ہے۔

جب والدین نماز کا وقت آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں تو بچے بھی اس شادمانی کو دل سے محسوس کرتے ہیں۔ یہ تمام ظاہری خوبصورتیاں مل کر بچوں کی روح کو سیراب کرتی ہیں اور انہیں سچے دل کے ساتھ نماز کی ترغیب دیتی ہیں۔

مناسب حوصلہ افزائی اور بہترین عملی نمونے

بچوں کی دینی تربیت میں پیار بھری تھپکی اور شاباش کا کردار ایک جادو کی طرح تیزی سے کام کرتا ہے۔ جب ایک بچہ اپنی مرضی سے نماز فجر ادا کرتا ہے تو والدین کی محبت بھری نظر اسے دن بھر خوشی سے بھر دیتی ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انعام ہمیشہ قیمتی تحائف کی صورت میں نہیں ہوتا، بلکہ دوستوں کے سامنے تعریف کرنا بھی مؤثر ہوتا ہے۔

ایک متوازن اور سوچ سمجھ کر کی جانے والی حوصلہ افزائی بچوں کے ذہنوں میں ہمیشہ کے لیے نماز کی ترغیب پیدا کرتی ہے۔ مسلسل پیار اور شاباش انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ان کا خالق کی بارگاہ میں جھکنا گھر والوں کے لیے باعث فخر ہے۔

بعض اوقات بچوں کی غلطیوں پر انہیں روکنا بھی پڑتا ہے لیکن سزا کا طریقہ کار انتہائی حکمت سے بھرا ہونا چاہیے۔ مار پیٹ یا سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ بچے کو ڈھیٹ بنا دیتی ہے اور اس کے دل میں دین سے دوری پیدا کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے غلط عمل پر ناراضگی کا اظہار کریں نہ کہ ان کی پوری ذات کو برا بھلا کہیں۔

وقتی خاموشی یا کسی خاص سہولت سے عارضی پابندی ہی بہترین اور مؤثر تنبیہ کا کام کر جاتی ہے۔ اس طرح کا دانشمندانہ رویہ بچوں کی عزت نفس کو مجروح کیے بغیر انہیں دوبارہ نماز کی ترغیب قبول کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

تاریخ اسلام ایسے بے شمار شاندار کرداروں سے بھری پڑی ہے جو نوعمروں کے لیے نماز کی ترغیب میں ایک بہترین نمونہ بن سکتے ہیں۔ قرآنی تعلیمات میں بھی بہترین نمونے کی طرف رجوع کا حکم ہے اور ارشاد ہوتا ہے ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِی رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَهٌ حَسَنَهٌ﴾ جس کا مفہوم ہے "تمہارے لیے رسول اللہ (ص) کی زندگی میں ایک بہترین نمونہ موجود ہے” [۱۲]۔ اگر گھر میں کوئی بڑا بھائی یا بہن نمازی ہے تو اسے چھوٹے بچوں کے لیے ایک شاندار مثال کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔

اچھے لوگوں کی کہانیاں اور ان کا عملی ساتھ بچوں کے دلوں میں سچی نماز کی ترغیب بیدار کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ رات کو سوتے وقت بزرگان دین کے واقعات سنانا تربیت اور نماز کی ترغیب کا ایک بہت ہی میٹھا اور پرکشش انداز ثابت ہوتا ہے۔

نتیجہ

نماز کی ترغیب میں ہماری دلی محبت، شفقت اور بہترین عملی نمونہ ہی نوعمر نسل کو سیدھے راستے پر چلنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ جب ہم خلوص نیت سے گھر کا ماحول پاکیزہ بناتے ہیں اور ان کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہیں، تو یہی رویہ ان کے لیے بہترین نماز کی ترغیب ثابت ہوتا ہے۔ اس پرخلوص اور محبت بھری نماز کی ترغیب کے نتیجے میں ہمارے بچے کسی دباؤ کے بغیر خود بخود سچے نمازی بن جاتے ہیں۔ آئیے آج ہی سے اپنی زندگیوں کو ان کے لیے ایک ایسا سایہ بنائیں جہاں انہیں بندگی کا سچا سکون اور نماز کی ترغیب مل سکے۔


حوالہ جات

[۱] طبرسی، مكارم الأخلاق، ج۱، ص۲۲۲۔

[۲] نوری طبرسی، مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل، ج۱۵، ص۱۳۸۔

[۳] سیّد رضی، نہج البلاغہ، حکمت ۳۳۹

[۴] سورہ عبس، آیت۲۴۔

[۵] فقيهى، شيوه‌هاى ترغيب و جذب به نماز، ص۴۶۔

[۶] كلینی، الكافی، ج۶، ص۴۹۔

[۷] عاملی، وسائل الشیعۃ، ج۳، ص۱۲۔

[۸] كلینی، الكافی، ج۲، ص۶۷۱۔

[۹] مطهری، مجموعه ‏آثار، ج۲۳، ص۵۲۹۔

[۱۰] كلینی، الكافی، ج۶، ص۴۹۵۔

[۱۱] پاينده، نہج الفصاحہ، ج۲، ص۲۹۶۔

[۱۲] سورہ احزاب، آیت۲۱۔


فہرست منابع

۱. قرآن مجید۔
2. پاينده، ابوالقاسم؛ نہج الفصاحہ، انتشارات بدرقہ جاويدان۔
3. سیّد رضی، محمد بن حسن؛ نہج البلاغہ، فقیہ، تہران، ۱۳۶۸ش۔
4. طبرسی، حسن بن فضل؛ مكارم الأخلاق، الشریف الرضی، قم، ۱۳۶۸ش۔

۵. عاملی، شیخ حر، محمد حسن؛ وسائل الشیعۃ، مؤسسہ آل البیت، قم، ۱۴۰۹ق۔
6. فقيهى، على نقى؛ شيوه‌هاى ترغيب و جذب بہ نماز، مؤسسہ انتشاراتى مہرتابان، تہران، ۱۳۷۴ش۔
7. كلینی، محمد بن یعقوب؛ الكافی، دارالكتب الاسلامیہ، تہران، ۱۴۰۷ق۔

۸. مطهری، مرتضی؛ مجموعه آثار، صدرا، تہران۔
9. نوری طبرسی، حسین؛ مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل، آل البیت، قم، ۱۴۰۸ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)


افروز، غلام علی؛ «پرورش احساس مذهبی در کودکان و نوجوانان «نماز»» (بچوں اور نوجوانوں میں مذہبی احساس کی پرورش «نماز»)، پیوند، شمارہ ۱۴۷، دی ۱۳۷۰ھ ش، ص ۹۔۱۷۔

اصلانی، رقیہ؛ «راهکارهای عملی والدین در ترغیب نوجوانان به نماز» (نوجوانوں کو نماز کی طرف راغب کرنے کے لیے والدین کی عملی حکمت عملیاں)، مطالعات روانشناسی و علوم تربیتی (موسسہ آموزش عالی نگارہ)، شمارہ ۹۶، تابستان ۱۴۰۴ھ ش، ص ۳۰۳۔۳۲۲۔


✍ مؤلف: سید لیاقت علی کاظمی – حوزہ علمیہ قم

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔