عہد الٰہی سے مراد آیت امامت «إِنِّی جَاعِلُکَ» میں کیا ہے؟

عہد الٰہی سے مراد آیت امامت «إِنِّی جَاعِلُکَ» میں کیا ہے؟

کپی کردن لینک

"عہد الٰہی” سے مراد وہ خاص الٰہی ذمہ داری اور منصب ہے جو صرف برگزیدہ و معصوم افراد کو دیا جاتا ہے اور جو ظلم و گناہ سے پاک لوگوں تک محدود رہتا ہے۔ جبکہ واضح ہے کہ قرآن مجید، ہدایت کا وہ سرچشمہ ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے، بالخصوص قیادت و رہبری کے اصولوں پر۔ انہی اصولوں میں سے ایک بنیادی اصول آیتِ امامت، یعنی سورہ بقرہ کی آیت 124 میں بیان ہوا ہے۔ یہ آیت نہ صرف حضرت ابراہیم (ع) کے بلند مقام کو بیان کرتی ہے بلکہ امامت کے الٰہی منصب کے لیے ایک غیر متزلزل معیار بھی قائم کرتی ہے۔ اس مقالے میں ہم قرآن و سنت اور جلیل القدر مفسرین کی آراء کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیتِ امامت میں عہد الٰہی سے کیا مراد ہے اور اس کی شرائط کیا ہیں۔

آیتِ امامت کا پس منظر اور بنیادی پیغام

اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم (ع) کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: «وَإِذِ ابْتَلَی إِبْرَاهِیمَ رَبُّهُ بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَمِن ذُرِّیَّتِی قَالَ لاَ یَنَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ»[1] ترجمہ: "اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم کا ان کے رب نے چند کلمات کے ذریعے امتحان لیا تو انہوں نے اسے پورا کر دکھایا۔ (اللہ نے) فرمایا: میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ (ابراہیم نے) عرض کیا: اور میری اولاد میں سے بھی؟ (اللہ نے) فرمایا: میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔”

یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت ابراہیم (ع) نبوت کے منصب پر فائز تھے اور اللہ کے سخت ترین امتحانات، جیسے کہ بیٹے کی قربانی، آگ میں ڈالے جانا، اور وطن چھوڑنا، میں کامیاب ہو چکے تھے۔ ان عظیم آزمائشوں میں پورا اترنے کے بعد اللہ نے انہیں ایک نئے اور عظیم تر منصب، یعنی "امامت” سے نوازا۔ جب حضرت ابراہیم (ع) نے یہی منصب اپنی اولاد کے لیے بھی مانگا تو اللہ نے ایک واضح شرط عائد کر دی: "میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔” اس آیت کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ امامت ایک عہد الٰہی ہے اور اس عہد کے حاملین کا ظالم نہ ہونا لازمی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عہد الٰہی سے مراد کیا ہے اور "ظالم” کون ہے؟

عہد الٰہی کی تعریف: دو مکاتب فکر

قرآن کی اس آیت میں لفظ عہد کی تشریح کے حوالے سے اہل سنت اور شیعہ علماء کے درمیان دو بنیادی نظریات پائے جاتے ہیں۔ دونوں مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ایک الٰہی منصب ہے، لیکن اس کی نوعیت پر اختلاف ہے۔

اہل سنت کا نقطہ نظر

اہل سنت کے بعض علماء کے نزدیک اس آیت میں عہد الٰہی سے مراد "نبوت” ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امامت اور نبوت ایک ہی چیز ہیں اور اللہ کا یہ عہد یعنی نبوت، ظالموں کو نہیں مل سکتی۔ مثال کے طور پر، مشہور مفسر آلوسی بغدادی اور فخر الدین رازی فرماتے ہیں کہ عہد سے ذہن میں آنے والا پہلا معنی امامت ہی ہے، لیکن ان کے نزدیک امامت دراصل نبوت ہی کا دوسرا نام ہے جو اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے۔ ان کے مطابق، حضرت ابراہیم (ع) کی نسل میں آنے والے انبیاء کی امامت کوئی الگ اور مستقل منصب نہیں، بلکہ وہ ان کی نبوت اور حضرت ابراہیم (ع) کی قیادت کے تسلسل کا حصہ ہے جو اپنے اپنے زمانے میں ان تک پہنچی۔[2]

اس نقطہ نظر کے مطابق، چونکہ حضرت ابراہیم (ع) کی دعا اپنی پوری ذریت کے لیے تھی اور ان کی نسل میں نیک و بد ہر طرح کے لوگ تھے، اللہ نے واضح کر دیا کہ نبوت کا یہ عہد صرف ان کی نسل کے صالح افراد کو ملے گا، ظالموں کو نہیں۔

شیعہ نقطہ نظر

دوسری طرف، شیعہ مکتب فکر کے مطابق اس آیت میں عہد الٰہی سے مراد "امامت” ہے، جو نبوت سے ایک الگ اور اعلیٰ منصب ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (ع) کو امامت کا یہ عہد اس وقت عطا کیا گیا جب وہ پہلے سے ہی نبی اور رسول کے منصب پر فائز تھے اور تمام سخت آزمائشوں سے گزر چکے تھے۔ اگر امامت اور نبوت ایک ہی چیز ہوتی تو ایک نبی کو دوبارہ نبی بنانے کا کوئی معنی نہیں ہوتا۔

مشہور شیعہ مفسرین علامہ طبرسی اور علامہ طباطبائی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں عہد الٰہی سے مراد وہی امامت ہے جو حضرت ابراہیم (ع) کو ان کی زندگی کے آخری حصے میں عطا کی گئی۔ لہٰذا، امامت نبوت سے ایک مختلف منصب ہے۔[3] علامہ طبرسی نے امام محمد باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) سے ایک روایت بھی نقل کی ہے جس میں ان دونوں آئمہ نے فرمایا: "آیت میں عہد الٰہی سے مراد امامت ہے۔”[4] اس نظریے کے مطابق، امامت دین کی حفاظت اور انسانی معاشرے کی ہمہ جہت رہبری کا وہ الٰہی نظام ہے جو نبوت کے بعد بھی جاری رہتا ہے اور یہ عہد الٰہی صرف معصوم ہستیوں کو ہی مل سکتا ہے۔

اہل سنت مفسرین کا اقرار: عہد سے مراد امامت ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ بعض سنی علماء نے عہد کی تعبیر نبوت سے کی ہے، لیکن اہل سنت کے اکابر اور مستند مفسرین کی ایک بڑی تعداد نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ اس آیت میں عہد الٰہی سے مراد "امامت” ہی ہے، نبوت نہیں۔ وہ سیاق و سباق اور الفاظ کی دلالت کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آیت کا موضوع ہی امامت ہے۔ آئیے ان میں سے چند اہم مفسرین کی آراء کا جائزہ لیتے ہیں:

امام طبری (جامع البیان)

امام محمد بن جریر طبری، جو "شیخ المفسرین” کہلاتے ہیں، اپنی مشہور تفسیر "جامع البیان” میں آیت «لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ» کی تشریح کرتے ہوئے مشہور تابعی مفسر، مجاہد، کا قول نقل کرتے ہیں: "لا یکون إماماً ظالماً” یعنی "کوئی ظالم امام نہیں ہو سکتا۔”[5] امام طبری کا مجاہد کے اس قول کو نقل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ابتدائی دور کے مفسرین کے نزدیک بھی اس عہد الٰہی سے مراد امامت ہی تھی۔

علامہ بیضاوی (انوار التنزیل)

قاضی ناصر الدین بیضاوی اپنی معروف تفسیر "انوار التنزیل” میں لکھتے ہیں کہ اللہ کا جواب «لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ» حضرت ابراہیم (ع) کی درخواست کے جواب میں ہے اور اس بات پر تنبیہ ہے کہ ان کی نسل میں ظالم لوگ بھی ہوں گے اور وہ امامت کے اہل نہیں ہوں گے۔ وہ مزید وضاحت کرتے ہیں: "کیونکہ امامت اللہ کی طرف سے ایک امانت اور عہد ہے اور ظالم اس کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ عہد الٰہی صرف ان کی نسل کے نیک اور پرہیزگار لوگوں کو ہی ملے گا۔”[6] بیضاوی نے واضح طور پر امامت کو ایک عہد اور امانت قرار دیا ہے جس کا اہل ظالم نہیں ہو سکتا۔

ابو حیان اندلسی (تفسیر البحر المحیط)

مشہور مفسر اور ماہر لغت، ابو حیان اندلسی، نے اپنی تفسیر "البحر المحیط” میں نہایت مضبوط علمی استدلال کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ عہد الٰہی سے مراد امامت ہی ہے۔ وہ دیگر اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "ان تمام اقوال میں سب سے ظاہر یہی ہے کہ عہد سے مراد امامت ہے، کیونکہ آیت کے شروع میں اسی کا ذکر ہوا ہے۔ پس اللہ نے ابراہیم (ع) کو یہ سمجھا دیا کہ امامت کا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔”

وہ مزید ایک عقلی دلیل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں: "اس بات پر دلیل کہ عہد سے مراد امامت ہے، خود جملہ «لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ» کا ظاہری مفہوم ہے۔ یہ جملہ حضرت ابراہیم (ع) کی دعا «وَ مِن ذُرِّيَّتِي» کا جواب ہے جو ایک اصول اور قاعدے کے طور پر دیا گیا ہے۔ اگر اللہ کا مقصد ابراہیم (ع) کی نسل میں سے کسی کو بھی امام نہ بنانا ہوتا تو جواب میں صرف ‘نہیں’ کہہ دیتا یا یہ فرماتا کہ ‘میرا عہد تیری ذریت کو نہیں ملے گا’ اور اس عہد الٰہی کے نہ ملنے کو ظلم کے ساتھ مشروط نہ کرتا۔”[7]

ابن کثیر دمشقی (تفسیر القرآن العظیم)

حافظ ابن کثیر، جو اہل سنت کے ہاں ایک انتہائی معتبر مفسر اور مؤرخ مانے جاتے ہیں، اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: "اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے خلیل ابراہیم (ع) کی شان اور شرافت بیان کرتے ہوئے آگاہ فرما رہا ہے کہ اللہ نے انہیں لوگوں کا امام (پیشوا) بنایا ہے۔”[8] ابن کثیر کے نزدیک بھی آیت کا مرکزی موضوع حضرت ابراہیم (ع) کو امامت کا عہد عطا کیا جانا ہے۔

علامہ ثعالبی مالکی (تفسیر الثعالبی)

علامہ ثعالبی نے دیگر اقوال کو ذکر کیے بغیر صرف مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ عہد الٰہی سے مراد امامت ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "اللہ تعالیٰ کے قول «لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ» میں عہد الٰہی سے مراد، جیسا کہ مجاہد نے کہا، امامت ہے۔”[9]

ابن جوزی حنبلی (زاد المسیر)

ابن جوزی اپنی تفسیر "زاد المسیر” میں عہد الٰہی کے بارے میں سات مختلف اقوال نقل کرتے ہیں: (1) امامت، (2) اطاعت، (3) رحمت، (4) دین، (5) نبوت، (6) امان، اور (7) میثاق۔ ان تمام اقوال کو ذکر کرنے کے بعد وہ اپنا فیصلہ کن تبصرہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "والأوّل أصحّ” یعنی "پہلا قول (امامت) ہی سب سے زیادہ صحیح ہے۔”[10] ایک حنبلی مفسر کا اتنی صراحت کے ساتھ امامت والے قول کو ترجیح دینا اس کی علمی مضبوطی کی واضح دلیل ہے۔

علامہ شوکانی (فتح القدیر)

علامہ شوکانی بھی اپنی تفسیر "فتح القدیر” میں عہد الٰہی کے متعلق مختلف آراء نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "اس بارے میں اختلاف ہے کہ عہد الٰہی سے کیا مراد ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امامت ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نبوت… لیکن پہلا قول (یعنی امامت) ہی زیادہ ظاہر ہے، جیسا کہ آیت کا سیاق و سباق اسی کا تقاضا کرتا ہے۔”[11]

ان تمام مستند سنی مفسرین کے اقوال سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ آیتِ امامت میں عہد الٰہی سے مراد کوئی اور چیز نہیں بلکہ منصبِ امامت ہی ہے۔ یہ ایک ایسا عہدِ الٰہی ہے جسے اللہ نے حضرت ابراہیم (ع) کو عطا فرمایا۔

جب یہ ثابت ہو گیا کہ عہد الٰہی سے مراد امامت ہے تو آیت کا دوسرا حصہ «لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ» (میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچے گا) امامت کی سب سے بنیادی اور اہم ترین شرط کو بیان کرتا ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن کی اصطلاح میں "ظلم” کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ظلم صرف دوسروں پر زیادتی کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کی نافرمانی اور گناہ بھی ظلم ہے۔ قرآن نے شرک کو "ظلمِ عظیم” قرار دیا ہے۔[12] اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی زندگی میں کبھی بھی، چاہے ایک لمحے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، کوئی گناہ کیا ہو، شرک کیا ہو یا اللہ کی نافرمانی کی ہو، وہ "ظالم” کے زمرے میں آتا ہے۔

اللہ کا فرمان ایک مطلق اور غیر مشروط قاعدہ بیان کر رہا ہے۔ اس نے یہ نہیں فرمایا کہ "میرا عہد اس ظالم کو نہیں ملے گا جو ظلم پر قائم رہے”، بلکہ مطلق طور پر ظالم کی نفی کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امامت کے الٰہی عہد کا اہل صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جس کی پوری زندگی گناہ، شرک اور ہر قسم کی نافرمانی سے پاک ہو، یعنی وہ "معصوم” ہو۔

یہ آیت امامت کے لیے "عصمت” کی شرط پر قرآن کی واضح ترین دلیل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی کے کسی بھی حصے میں، چاہے منصب پر آنے سے پہلے ہی کیوں نہ ہو، ظلم کا مرتکب ہوا ہو، تو وہ اللہ کے اس عہد الٰہی کا اہل نہیں ہو سکتا۔ اللہ کا یہ قانون ابدی ہے اور قیامت تک آنے والے ہر امام اور رہبر کے لیے ایک معیار فراہم کرتا ہے۔ الٰہی نمائندہ وہی ہو سکتا ہے جس کا دامن ہر قسم کے ظلم اور گناہ سے پاک ہو۔

نتیجہ

قرآن مجید کی سورہ بقرہ کی آیت 124 امامت کے موضوع پر ایک بنیادی اور محکم آیت ہے۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امامت ایک عہد الٰہی ہے، یہ کوئی عوامی یا انتخابی عہدہ نہیں جسے لوگ اپنی مرضی سے کسی کو دے دیں، بلکہ یہ ایک عہدِ الٰہی ہے جسے اللہ خود اپنے خاص بندوں کو عطا کرتا ہے۔ عہد الٰہی سے مراد امامت ہے، اگرچہ کچھ علماء نے اس کی تعبیر نبوت سے کی ہے، لیکن شیعہ مفسرین کے ساتھ ساتھ اہل سنت کے جلیل القدر مفسرین جیسے طبری، بیضاوی، ابو حیان، ابن جوزی اور شوکانی نے بھی دلائل کی بنیاد پر تسلیم کیا ہے کہ یہاں عہد سے مراد منصبِ امامت ہے۔

آیت کا دوسرا حصہ «لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ» امامت کے لیے عصمت کی شرط عائد کرتا ہے۔ اس آیت کی روشنی میں حقیقی الٰہی قیادت اور دنیوی قیادت کے فرق کو سمجھا جاسکتا ہے۔ قرآن نے رہبری کا معیار تقویٰ، علم اور قابلیت کے ساتھ ساتھ "عصمت” کو بھی قرار دیا ہے۔ یہ عہد الٰہی صرف ان ہستیوں کو مل سکتا ہے جن کا ماضی اور حال ہر قسم کی آلائش سے پاک ہو، تاکہ وہ بغیر کسی خطا کے انسانیت کی رہنمائی اللہ کے نازل کردہ دین کے مطابق کر سکیں۔ یہ آیت ہمیں دعوتِ فکر دیتی ہے کہ ہم قیادت اور رہبری کے معاملے میں اللہ کے مقرر کردہ معیار کو پہچانیں اور اسی کی پیروی کریں۔

حوالہ جات

[1] سورہ بقرہ آیت 124۔
[2] آلوسی، تفسیر روح المعانی، ج1، ص593؛ فخر رازی، تفسیر کبیر، ج3، ص43۔
[3] طبرسی، مجمع البیان، ج1، ص380؛ طباطبایی، المیزان، ج1، ص267۔
[4] طبرسی، مجمع البیان، ج1، ص380۔
[5] طبری، جامع البیان، ج1، ص738۔
[6] بیضاوی، انوار التنزیل، ج1، ص397۔
[7] ابن‌ حیان، تفسیر البحر المحیط، ج1، ص548۔
[8] ابن‌ کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ج1، ص169۔
[9] ثعالبی، تفسیر الثعالبی، ج1، ص314۔
[10] ابن‌ جوزی، زاد المسیر فی علم التفسیر، ج1، ص108۔
[11] شوکانی، فتح القدیر، ج1، ص160۔
[12] سورہ لقمان آیت 13۔

فہرست منابع

1. ابن‌ جوزی، عبد الرحمن بن علی، زاد المسیر فی علم التفسیر، بیروت، المکتب الاسلامی، 1404 ق۔

2. ابن‌ حیان اندلسی، تفسیر البحر المحیط، بیروت، دار الکتب العلمیة، 1422 ق۔

3. ابن‌ کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دارالفکر، 1401 ق۔

4. آلوسی، شهاب الدین، تفسیر روح المعانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ق۔

5. بیضاوی، عبد الله بن عمر، أنوار التنزیل و أسرار التأویل، بیروت، ‌دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۱۸ق۔

6. ثعالبی، عبد الرحمن بن محمد، تفسیر الثعالبی المسمی بالجواهر الحسان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۱۸ق۔

7. شوکانی، محمد بن علی، فتح القدیر، دمشق – بیروت، دار ابن‌ کثیر – دار الکلم الطیب، چاپ اول، ۱۴۱۴ق۔

8. طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت،‌ مؤسسه اعلمی، چاپ دوم، ۱۳۹۰ق۔

9. طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تهران،‌ ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش۔

10. طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن‌ (تفسیر طبری)،‌ بیروت، دارالمعرفة، چاپ اول، ۱۴۱۲ق۔

11. فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبير (مفاتیح الغیب)، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۲۰ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

1. اسعدی، محمد، «تبیین امامت قرآنی به مثابه مقامی مستقل از نبوت با تأکید بر آیه ابتلا» قرآن شناخت پاییز و زمستان 1389 – شماره 6 (‎16 صفحہ 193 تا 208)۔
2. صفر زاده، ابراهیم، عصمت امامان علیهم السلام از دیدگاه عقل و وحی، ج1۔ قم – ایران: نشر زائر۔۱۳۹۲۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔