عزاداری پر اعتراضات کا سلسلہ محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی برصغیر کے معاشرے میں اکثر شروع ہو جاتا ہے۔ ایک باشعور انسان جب دل میں درد لے کر ان سوالات پر غور کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ عزاداری پر اعتراضات حقائق سے دوری کا نتیجہ ہیں۔ آج کے اس پرفتن دور میں عزاداری پر اعتراضات کو سمجھنا اور ان کا مدلل جواب دینا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ ہم انتہائی ہمدردی اور شفقت کے ساتھ عزاداری پر اعتراضات اور ان تمام شکوک کا جائزہ لیں گے جو عام ذہنوں میں پیدا کیے جاتے ہیں۔ آئیے ان حقائق کو تاریخ اور مستند حوالوں کی روشنی میں کھلے دل سے سمجھنے کی مخلصانہ کوشش کریں۔
شبہہ ۱
کیا گریہ و زاری کا کوئی قرآنی ثبوت موجود ہے؟
جواب:
عزاداری پر اعتراضات کا یہ شبہہ بہت پرانا ہے جس کا جواب یوں دیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں انبیاء (ع) کی سیرت میں غم منانے کو انتہائی خوبصورت اور فطری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ حضرت یعقوب (ع) اپنے فرزند حضرت یوسف (ع) کی جدائی میں بہت زیادہ روئے۔ قرآن میں ہے ﴿وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ اور انہوں نے منہ پھیرا اور کہا ہائے یوسف اور آنکھیں غم سے سفید ہو گئیں۔ [۱] یہ قرآنی گریہ کی ایک بہت ہی واضح دلیل ہے۔
عزاداری پر اعتراضات کرنے والے اکثر بھول جاتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے بھی پیاروں کے جانے پر آنسو بہائے ہیں۔ جب آپ (ص) کے فرزند جناب ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ (ص) کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ لوگوں نے حیرت سے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ (ص) نے اسے دل کا درد قرار دیا۔ آپ (ص) نے واضح فرمایا کہ غم منانا اور رونا دل کی نرمی کی علامت ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی عظیم نقصان پر دل کا دکھی ہونا عین انسانی فطرت ہے۔
امام حسین (ع) کی شہادت پر گریہ کرنا محض رسم نہیں بلکہ ظلم کے خلاف عظیم احتجاج ہے۔ روایات میں بیان ہوا ہے کہ امام حسین (ع) خود فرماتے ہیں کہ میں کشتۂ اشک ہوں۔ حدیث کے الفاظ ہیں «أنَا قَتيلُ العَبَرَةِ لايَذكُرُني مُؤمِنٌ إلاّ استَعبَرَ» "میں کشتۂ اشک ہوں (آنسوؤں کا شہید ہوں)، کوئی مومن مجھے یاد نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔” [۲] یہ آنسو ظالم کی مخالفت کا ابدی ثبوت مانے جاتے ہیں۔ اس مقدس عمل کو غیر شرعی قرار دینا یا عزاداری پر اعتراضات کرنا حقائق کے بالکل خلاف ہے۔
شبہہ ۲
کیا عزاداری کرنے سے معاشرے اور نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور افسردگی نہیں پھیلتی؟
جواب:
عزاداری پر اعتراضات کی اس کڑی میں کہا جاتا ہے کہ انسانی نفسیات میں خوشی اور غم دونوں ہی انسان کی اہم اور فطری ضرورت سمجھے جاتے ہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ سوگ منانے سے نفسیاتی دباؤ بڑھتا ہے وہ جذبات کے اخراج کو نہیں سمجھتے۔ جب انسان اپنا غم آنسوؤں کی صورت میں باہر نکالتا ہے تو اسے سکون اور طہارت ملتی ہے۔ یہ پاکیزہ عزاداری محض ذاتی غم نہیں بلکہ اسلامی تہذیب میں بیداری پیدا کرنے والی زبردست تحریک ہے۔ محرم میں غم منانا دراصل معاشرے کو ظلم کے خلاف متحد اور شعور یافتہ بنانے کا مؤثر طریقہ ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ عظیم مقصد کے لیے کھڑے ہونے پر دل میں سچی حرارت پیدا ہوتی ہے اور عزاداری پر اعتراضات خود بخود دم توڑ جاتے ہیں۔ کربلا کا غم انسان کو پژمردہ نہیں کرتا بلکہ ظالم سے ٹکرانے کا ایک مضبوط حوصلہ عطا کرتا ہے۔ مجالس میں شریک افراد ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے مکمل طور پر تیار رہتے ہیں۔ یہ آنسو دلوں کو غفلت سے جگاتے ہیں اور حق کی راہ میں قربانی کا عظیم جذبہ ابھارتے ہیں۔ اس غم کو افسردگی کے بجائے بیداری اور شعور کا سرچشمہ سمجھنا چاہیے جو ہماری روح کو مضبوط کرتا ہے نہ کہ عزاداری پر اعتراضات کا جواز بنائیں۔
شبہہ ۳
سینہ زنی کرنے کا کیا شرعی جواز ہے اور کیا یہ عمل درست ہے؟
جواب:
سینہ زنی کے حوالے سے عزاداری پر اعتراضات کو سمجھنے کے لیے ہمیں روایات اور تاریخ کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے۔ شدتِ غم کے موقع پر انسان کا بے ساختہ سینے پر ضرب لگانا ایک فطری عمل ہے۔ پیاروں کی جدائی میں ایسا ردعمل سچی محبت اور بے پناہ قلبی دکھ کی عکاسی کرتا ہے۔ تاریخ اسلام میں اس عمل کی مستند مثالیں موجود ہیں جو اس کے جائز ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ مستند منابع سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت (ع) کی خواتین نے بھی مصیبت پر شدتِ غم دکھایا تھا۔
ائمہ معصومین (ع) کے ارشادات اس معاملے میں رہنمائی کرتے ہوئے عزاداری پر اعتراضات کے تمام شکوک کو مکمل دور کر دیتے ہیں۔ احادیث میں ہے کہ امام حسین (ع) پر شدتِ غم دکھانا اور رخساروں پر ماتم کرنا جائز ہے۔ امام صادق (ع) فرماتے ہیں «كُلُّ الْجَزَعِ وَالْبُكَاءِ مَكْرُوهٌ سِوَى الْجَزَعِ وَالْبُكَاءِ عَلَى الْحُسَيْنِ» ہر جزع اور رونا مکروہ ہے سوائے حسین (ع) پر رونے کے۔ [۳] اس سے واضح ہے کہ سید الشہداء (ع) پر کیا جانے والا جزع و گریہ عام اموات سے مختلف عمل ہے۔ یہ سچا گریہ عبادت ہے جو انسان کو اللہ کے مقرب بندوں کے قریب لانے کا بہترین وسیلہ ہے۔
عزاداری پر اعتراضات کی بنیاد پر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ماتم میں جسم کو تکلیف دینا شریعت کے اصولوں کے سخت خلاف ہے۔ اس کا تسلی بخش جواب یہ ہے کہ جو تکلیف سچی محبت اور دین کی سربلندی کے لیے اٹھائی جائے وہ باعثِ ثواب ہے۔ سید الشہداء (ع) کی بے مثال قربانی کی یاد میں یہ گریہ اور سینہ زنی مخلصانہ عقیدت کا ایک خوبصورت مظہر ہے۔ اس پاکیزہ عمل کو شرعی لحاظ سے غلط قرار دینا درست نہیں کیونکہ یہ محبتِ اہل بیت (ع) کی علامت ہے۔
شبہہ ۴
کیا لعن کرنے سے انسان کی روح پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا؟
جواب:
عزاداری پر اعتراضات کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ لعن کرنے سے انسان کے اندر منفی توانائی جنم لیتی ہے جو درست نہیں۔ درحقیقت لعن گالی نہیں بلکہ ظالموں اور خدا کے کٹر دشمنوں سے دوری کے کھلے اعلان کا نام ہے۔ ہم قرآن کا مطالعہ کریں تو اللہ نے ظالموں پر کئی مقامات پر صراحت کے ساتھ لعنت فرمائی ہے۔ قرآن میں ہے ﴿أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ سن لو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ [۴] اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان ظالموں سے اپنے دل میں شدید ترین نفرت اور بےزاری پیدا کرے۔
دنیا کی ظالم طاقتوں کی ہمیشہ یہ بھرپور کوشش رہی ہے کہ مظلوم ان کے خلاف کبھی زبان نہ کھولیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ظالموں پر لعنت نہ کی جائے تاکہ ان کے کالے کارنامے تاریخ کے اوراق میں دب جائیں۔ اگر کوئی شخص ظلم سے نفرت نہ کرے تو وہ بہت جلد اسی ظالمانہ نظام کا خاموش حصہ بنتا ہے۔ سچا لعن انسان کو بیدار رکھتا ہے اور سکھاتا ہے کہ باطل قوتوں سے کبھی دوستی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ براءت کا عمل شعور کو جلا بخشتا ہے اور دین کی سچی راہ پر ہمیشہ ثابت قدم رکھتا ہے۔
زيارت عاشورہ ميں دشمنوں پر لعن دراصل اسلام اور انسانيت كے قاتلوں كے خلاف ايك دائمی اور اٹل فيصلہ ہے۔ اس لعن کے ذریعے عزادار اپنے امام (ع) کے مقدس مشن کے ساتھ سچی وفاداری کا پکا حلف اٹھاتا ہے۔ یہ عمل دل میں محبت بڑھاتا ہے اور باطل کو پہچاننے کی بھرپور بصیرت اور طاقت عطا کرتا ہے۔ لعن سے منفی جذبہ پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ حق کی حمایت میں ایک طاقتور اور مثبت روحانی لہر ہے۔ مسلمانوں کو اس عمل کی سچی روح سمجھ کر زندگی میں حق و باطل کی پہچان کا معیار بنانا چاہیے۔
شبہہ ۵
کیا امام حسین (ع) کو اپنے انجام کا علم نہیں تھا، پھر انہوں نے موت کے منہ میں قدم کیوں رکھا؟
جواب:
عزاداری پر اعتراضات کا یہ پہلو بے بنیاد ہے کہ امام (ع) نے جان بوجھ کر موت کیوں چنی۔ یہ حقیقت ہے کہ آپ (ع) اپنی عظیم شہادت کے بارے میں پہلے سے مکمل علم رکھتے تھے۔ آپ (ع) نے مدینہ سے نکلتے وقت ساتھیوں کو اس قربانی کی واضح خبر دے دی تھی۔ اگر آپ (ع) علمِ غیب استعمال کر کے بچ جاتے تو حق کا راستہ مبہم رہ جاتا۔ آپ (ع) نے ثابت کیا کہ دین کی حفاظت کے لیے جان کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
کوفہ والوں کے خطوط ملنے پر امام (ع) پر ظاہری اتمامِ حجت ہو چکا تھا جسے نبھانا ضروری تھا۔ عزاداری پر اعتراضات کرنے والے نہیں سمجھتے کہ امام (ع) فساد کے لیے نہیں نکلے تھے۔ آپ (ع) کا فرمان ہے «وَإِنَّما خَرَجْتُ لِطَلَبِ الإصْلاحِ فى أُمَّةِ جَدّى» میں فقط اپنی جد کی امت میں اصلاح کی خاطر نکلا ہوں۔ [۵] یہ اصلاح اس وقت تک ناممکن تھی جب تک ظالم کا چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب نہ ہوتا۔ اس حکمت عملی نے یزیدیت کو ہمیشہ کے لیے رسوا کر کے اسلام کو محفوظ کر دیا۔
یہ سمجھنا اہم ہے کہ امام (ع) کا علم غیب ان کے شرعی اور ظاہری فرائض میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ وہ اللہ کے قانون کے مطابق عام انسانوں کی طرح ظاہری اسباب کی بنیاد پر ہی فیصلے کرتے تھے۔ عزاداری پر اعتراضات کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ اگر وہ معجزات کا سہارا لیتے تو بہترین نمونہ نہ بنتے۔ ان کا ہر قدم ہماری تربیت کے لیے تھا تاکہ ہم مشکل حالات میں بھی باطل کے سامنے سر نہ جھکائیں۔ یہی وہ عظیم پیغام ہے جو ہمیں عاشورہ کی یاد سے ہمیشہ سیکھنے کی سچی دعوت دیتا ہے۔
شبہہ ۶
حضرت مسلم بن عقیل کی المناک شہادت کی خبر سن کر امام حسین (ع) واپس مدینہ کیوں نہیں لوٹے؟
جواب:
عزاداری پر اعتراضات کے اس شبہہ کے جواب میں واضح رہے کہ عظیم الٰہی مشن پر نکلنے والے ابتدائی قربانیوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ حضرت مسلم اور ہانی کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس نے امام (ع) کو رنجیدہ ضرور کیا۔ امام (ع) کا یہ مبارک سفر محض کوفہ والوں کی ظاہری دعوت پر پوری طرح منحصر نہیں تھا۔ آپ (ع) کا بنیادی مقصد اسلام سے ظلم کے داغ دھونا اور امر بالمعروف کا اہم فریضہ ادا کرنا تھا۔ اس عظیم مقصد کی تکمیل کے لیے ان شہادتوں کے بعد بھی سفر جاری رکھنا دین کی بقا کے لیے ضروری تھا۔
بعض لوگ عزاداری پر اعتراضات کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ امام حسین (ع) واپس کیوں نہیں لوٹے۔ اگر امام (ع) راستے سے واپس لوٹتے تو تاریخ سوال اٹھاتی کہ آپ (ع) نے قیام کا آغاز کیوں کیا تھا۔ لوگ یہی سمجھتے کہ آپ (ع) اقتدار کے لیے نکلے تھے اور حالات خراب دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔ امام (ع) نے ثابت کرنا تھا کہ سچے راستے میں مصائب دیکھ کر باطل سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ آپ (ع) کا ثابت قدم رہنا ہمارے لیے ہمت کی ایک شاندار مثال ہے جس کی مکمل پیروی لازم ہے۔
کوفہ والوں کی بدعہدی کے باوجود امام (ع) کا سفر پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی لاجواب کوشش تھی۔ آپ (ع) نے دکھا دیا کہ بات اللہ کی رضا کی ہو تو دوستوں کی بیوفائی بھی قدموں کو ڈگمگاتی نہیں۔ عزاداری پر اعتراضات کرنے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ حسینی کردار میں پسپائی کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ یہ استقامت ظالموں کے لیے واضح پیغام تھا کہ حق کے علمبردار اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتے۔ آپ (ع) کا یہ عظیم فیصلہ قیامت تک آنے والے مجاہدوں کے لیے شجاعت کا لازوال نمونہ ہے۔
شبہہ ۷
کوفہ اور کربلا کے جغرافیائی فاصلے کے باوجود، امام حسین (ع) مکہ سے کوفہ جاتے ہوئے کربلا کیسے پہنچ گئے؟
جواب:
عزاداری پر اعتراضات کرنے والے کہتے ہیں کہ مکہ جنوب اور کربلا کوفہ کے شمال مغرب میں واقع ہے، تو امام حسین (ع) کربلا کیسے پہنچے۔ عبیداللہ ابن زیاد نے امام (ع) کا راستہ روکنے کے لیے حر بن یزید ریاحی کو ایک بھاری لشکر کے ساتھ روانہ کیا تھا۔ یزیدی حکومت اس بات سے سخت خوفزدہ تھی کہ آپ (ع) کے کوفہ پہنچنے سے عوام ان کے گرد جمع ہو جائیں گے۔ اسی لیے ظالم حکومت نے خصوصی حکم دیا کہ امام (ع) کو کوفہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی راستے میں روک لیا جائے۔
مقام ذو حسم پر جب حر کے لشکر نے راستہ روکا، تو امام (ع) نے بے وفائی دیکھ کر واپس مدینہ جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ حر نے سخت احکامات کے باعث امام (ع) کو واپس لوٹنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ عزاداری پر اعتراضات کرنے والے اس جبری مداخلت کو نظر انداز کرتے ہیں جس سے قافلے کا رخ کوفہ سے ہٹ گیا۔ اسی دباؤ اور راستے کی تبدیلی کی بدولت امام (ع) کا قافلہ دو محرم کو سرزمین کربلا میں جا پہنچا۔ [۶]
تاریخی حقائق ثابت کرتے ہیں کہ امام حسین (ع) کا کربلا پہنچنا یزیدی فوج کی ظالمانہ ناکہ بندی کا نتیجہ تھا۔ ابن زیاد جانتا تھا کہ اگر امام (ع) کوفہ پہنچ گئے تو اس کی حکومت کا خاتمہ یقینی ہے۔ اسی لیے اس نے امام (ع) کو ایک غیر آباد علاقے میں محصور کر کے پانی تک بند کر دیا۔ عزاداری پر اعتراضات کرنے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ امام (ع) کو جبراً کربلا دھکیلا گیا تھا۔ اس زبردستی کے باوجود آپ (ع) نے اسلام کی بقا کے عظیم مقصد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
شبہہ ۸
کیا کالے کپڑے پہننا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے؟
جواب:
عزاداری پر اعتراضات کرنے والے اکثر کہتے ہیں کہ کالے کپڑے پہننا درست نہیں ہے۔ تاریخ اسلام سے واضح ہوتا ہے کہ سیاہ لباس غم کی ایک مستند اور فطری علامت ہے۔ حضرت جعفر طیار (ع) کی شہادت پر پیغمبر اکرم (ص) نے ان کی زوجہ کو سوگ کا لباس پہننے کی ہدایت فرمائی تھی۔ رسول خدا (ص) کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ زہرا (ع) نے بھی شدت غم میں سیاہ لباس پہنا تھا۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ مصیبت کے وقت کالا لباس پہننا اہل بیت (ع) کی مبارک سیرت کا حصہ ہے۔
کربلا کے دلخراش واقعے کے بعد اہل بیت (ع) نے سیاہ لباس پہن کر اپنے بے پناہ غم کا اظہار کیا تھا۔ کتاب محاسن میں نقل ہے کہ امام حسین (ع) کی شہادت پر بنی ہاشم کی خواتین نے سیاہ کپڑے پہن لیے تھے۔ وہ خواتین گرمی یا سردی کی پرواہ نہیں کرتی تھیں اور امام سجاد (ع) خود ان کے لیے کھانا تیار فرماتے تھے۔ [۷] امام معصوم (ع) کی موجودگی میں یہ عمل عزاداری پر اعتراضات کو باطل کر دیتا ہے۔ یہ واضح دلیل ہے کہ کالا لباس پہننا شرعی طور پر جائز ہے۔
شبہہ ۹
محرم کے حرام مہینے میں امام حسین (ع) نے جنگ کیوں کی جبکہ اس میں خون بہانا منع ہے؟
جواب:
عزاداری پر اعتراضات کا یہ پہلو بالکل غیر عقلی ہے کہ جنگ کی شروعات امام حسین (ع) نے کی تھی۔ آپ (ع) کا مقصد خون بہانا ہرگز نہیں تھا بلکہ آپ (ع) مدینہ سے پرامن قافلے کی صورت میں تشریف لائے تھے۔ کوئی بھی انسان جنگ کے ارادے سے نکلتا ہے تو وہ ہمراہ بچوں کو کبھی میدان میں نہیں لاتا۔ محرم کی حرمت دراصل یزیدی فوج نے پامال کی جس نے اس پرامن قافلے کا راستہ روکا۔ امام (ع) نے آخری وقت تک بھرپور کوشش کی کہ خون ریزی سے بچا جائے اور امن قائم رہے۔
عزاداری پر اعتراضات کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ اگر حرمت والے مہینوں میں دشمن حملہ آور ہو تو دفاع جائز ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ حرمت والے مہینے میں جنگ گناہ ہے مگر دین سے روکنا اس سے بھی بڑا جرم ہے۔ قرآنی الفاظ ہیں ﴿وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ﴾ "اور فتنہ قتل سے بڑا ہے۔” [۸] یزید اور اس کے کارندے دین کو مٹانے اور معاشرے میں بڑا فتنہ پیدا کرنے کی مکمل کوشش کر رہے تھے۔ امام (ع) کا یہ دفاعی عمل عین قرآن کے مطابق تھا جس کا مقدس مقصد فساد روکنا اور اسلام کو محفوظ کرنا تھا۔
مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے کہ کربلا کوئی عام سیاسی رسہ کشی یا اقتدار کی جنگ ہرگز نہیں تھی۔ یہ وہ معرکہ تھا جس میں یزید نے محرم کے تقدس کو ہوس میں نہایت بے دردی سے پامال کیا۔ سید الشہداء (ع) نے اس مہینے میں اپنا خون بہا کر قیامت تک کے لیے اسلامی اصولوں کو زندہ کیا۔ آپ (ع) کا یہ دفاع ہمارے لیے روشن مثال ہے کہ ظالم حکمران کے سامنے کبھی سر نہیں جھکانا چاہیے۔ عزاداری پر اعتراضات کے بجائے ہمیں اس حکمتِ عملی سے استقامت کا سچا درس حاصل کرنا چاہیے۔
شبہہ ۱۰
رات کے اندھیرے اور خیموں میں ہونے والی گفتگو تاریخ کے اوراق اور مقاتل تک اتنی تفصیل سے کیسے پہنچی؟
جواب:
عزاداری پر اعتراضات کرنے والے کہتے ہیں کہ خیموں کی گفتگو کیسے محفوظ رہی؟ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ کربلا میں ہونے والی گفتگو کے عینی شاہدین دوست اور دشمن دونوں خیموں میں موجود تھے۔ بہت سی اہم روایات ہمیں خود ظالم دشمنوں سے ملی ہیں جو امام (ع) کے کلمات حیرت سے بیان کرتے تھے۔ حمید بن مسلم جیسے مشہور یزیدی وقائع نگار نے کئی دردناک واقعات کو پوری تفصیل سے بیان کیا ہے۔ لہٰذا یہ شبہہ بے بنیاد ہے کہ یہ تمام اہم گفتگو محض لوگوں کے گھڑے ہوئے خیالات کی پیداوار ہے۔
ان واقعات کو دنیا تک پہنچانے کا سب سے بڑا ذریعہ خود اہل بیت (ع) کی پاکیزہ ہستیاں تھیں۔ امام سجاد (ع) اور حضرت زینب (ع) نے اس معرکے کو آنکھوں سے دیکھا اور ہر کلمے کو محفوظ کیا۔ ان پاک ہستیوں نے ظالموں کے درباروں میں ان خطبات کو نہایت جرات کے ساتھ دہرایا جس سے عزاداری پر اعتراضات ناکام ہو گئے۔ ان بیانات کی بدولت تاریخ میں کربلا کا ہر گوشہ ہمیشہ کے لیے مکمل محفوظ ہو گیا۔ ان سچی گواہیوں کی موجودگی میں خیموں کی گفتگو پر شک کرنا اور عزاداری پر اعتراضات کرنا قطعی طور پر غلط ہے۔
نتیجہ
کربلا کا عظیم الشان واقعہ انسانیت کو بیدار کرنے اور ظلم کے خلاف سینہ سپر رہنے کا لازوال پیغام ہے۔ عزاداری کا مقدس عمل ہمیں ہر دور کے ظالم کو پہچاننے کی بھرپور بصیرت عطا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ عزاداری پر اعتراضات کو نظر انداز کر کے دلوں میں محبت اہل بیت (ع) کی شمع کو مزید روشن کریں۔ یہ سچے آنسو درحقیقت مظلوم کی حمایت کا وہ خاموش ہتھیار ہیں جو کبھی کمزور نہیں پڑتا۔ کربلا کا سچا پیغام یہی ہے کہ حق کی راہ میں استقامت کا دامن ہمیشہ مضبوطی سے تھاما جائے اور عزاداری پر اعتراضات جیسے مسائل میں نہ الجھا جائے۔
حوالہ جات
[۱] سورہ یوسف، آیت ۸۴۔
[۲] مجلسی، بحار الأنوار، ج ۴۴، ص ۲۸۴۔
[۳] طوسی، امالی، ص ۱۶۲۔
[۴] سورہ ہود، آیت ۱۸۔
[۵] ابن شہر آشوب، مناقب، ج ۴، ص ۸۹۔
[۶] تاریخ طبری، ج ۵، ص ۳۸۹۔
[۷] برقی، المحاسن، ج ۲، ص ۴۲۰۔
[۸] سورہ بقرہ، آیت ۲۱۷۔
فہرست منابع
۱. قرآن مجید
2. ابن شہر آشوب، محمد بن علی؛ مناقب آل ابی طالب، بیروت، دار الاضواء، ۱۴۱۴ھ
3. برقی، احمد بن محمد؛ المحاسن، قم، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۱ھ
4. طبری، محمد بن جریر؛ تاریخ الأمم و الملوک، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۲ھ
5. طوسی، ابوجعفر محمد؛ امالی، قم، دار الثقافہ، ۱۴۱۴ھ
6. مجلسی، محمد باقر؛ بحار الأنوار، تہران، المکتبہ الاسلامیہ، ۱۳۸۵ھ
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
۱. تہامی، طہ؛ «در فضای مجازی چه میگذرد؟ برخی شبهات جدید عاشورا در فضای مجازی» (فضائے مجازی میں کیا ہو رہا ہے؟ سوشل میڈیا میں عاشورا سے متعلق چند جدید شبہات)، مبلغان، شمارہ ۲۵۶، شہریور و مہر ۱۳۹۹ھ ش، ص ۱۰۹۔۱۲۴۔
2. عندلیب، حسین؛ «بررسی تحلیلی مسائل پیرامونی عاشورا (با رویکرد پاسخ به شبهات)» (عاشورا سے متعلق مسائل کا تجزیاتی جائزہ: شبہات کے جوابات کے تناظر میں)، International Multidisciplinary Journal of Pure Life، شمارہ ۷، پاییز ۱۳۹۵ھ ش، ص ۱۔۱۶۔
✍ مؤلف: سید لیاقت علی کاظمی – حوزہ علمیہ قم