کتاب الغدیر، بقلم علامہ عبدالحسین امینی (رح)، ایک ایسا تحقیقی اور علمی سمندر ہے جو اسلامی تاریخ کے ایک اہم ترین واقعے یعنی "غدیر خم” کو مرکز بنا کر امت مسلمہ کے درمیان فکری اور علمی اتحاد کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ یہ کتاب محض ایک تاریخی واقعہ کا بیان نہیں، بلکہ ایک ایسی جامع دستاویز ہے جو اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے اور مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرونے کی مخلصانہ کوشش ہے۔
علامہ امینی (رح) نے اپنی زندگی کے چالیس سال اس عظیم کام کے لیے وقف کر دیے، جس کا مقصد محض علمی تحقیق نہیں بلکہ مسلمانوں کے ذہنوں کو ان زہریلے اور تفرقہ انگیز مواد سے پاک کرنا تھا جو صدیوں سے اسلامی اتحاد کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے تھے۔ انہوں نے اخلاص اور سچی لگن کے ساتھ کتاب الغدیر کی تدوین کی، جسے بجا طور پر "اسلامی اتحاد کی چلتی پھرتی درسگاہ” کہا جا سکتا ہے۔ اس کتاب نے عالمِ اسلام کے سینکڑوں دانشوروں، مفکرین اور اصلاح پسندوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور ولایتِ علی (ع) کے پرچم تلے، جو اسلامی اخوت کی مضبوط ترین کڑی ہے، سب کو جمع کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔
علامہ امینی (رح) کا تعارف اور الغدیر کا مقصد
شیخ عبدالحسین امینی، جو دنیائے علم میں "علامہ امینی” کے نام سے مشہور ہیں، ۱۳۲۰ ہجری قمری کو ایران کے شہر تبریز میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شیخ احمد امینی ایک متقی اور پرہیزگار عالم دین تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کے زیر سایہ حاصل کی اور پھر نجف اشرف کا رخ کیا، جو اس وقت عالم اسلام کا سب سے بڑا علمی مرکز تھا۔ وہاں آپ نے سید محمد فیروزآبادی اور سید ابو تراب خوانساری جیسے جید اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ جوانی میں ہی آپ علمی بلندیوں کو چھونے لگے اور سید ابوالحسن اصفہانی، مرزا محمد حسین نائینی اور شیخ عبدالکریم حائری یزدی جیسے وقت کے عظیم مراجع سے اجتہاد کی اجازت حاصل کی۔[۱]
کتاب الغدیر کی تحقیقی بنیاد اور مصادر
کتاب الغدیر کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی مضبوط تحقیقی بنیاد ہے۔ علامہ امینی (رح) نے اس کتاب کی تدوین کے لیے ایک محتاط اور غیر معمولی تحقیقی طریقہ کار اپنایا۔ انہوں نے خود فرمایا: "میں نے الغدیر لکھنے کے لیے ۱۰ ہزار کتابوں کا حرف بہ حرف مطالعہ کیا ہے اور ایک لاکھ کتابوں کی طرف بار بار مراجعت کی ہے۔”[۲] یہ عدیم المثال تحقیقی کاوش ہی اس کتاب کی علمی قدر و قیمت کی ضامن ہے۔
اہل سنت کے مصادر پر انحصار
کتاب الغدیر کا ایک امتیازی پہلو یہ ہے کہ اس میں تمام دلائل اور استنادات کے لیے بنیادی طور پر اہل سنت کے معتبر ترین مصادر پر انحصار کیا گیا ہے۔ یہ علامہ امینی (رح) کی علمی حکمت اور منطقی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے منطق کے اصول "جدل” کو استعمال کیا، جس کا مطلب ہے کہ مخالف کو اسی کے تسلیم شدہ اصولوں اور حوالوں سے قائل کیا جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شیعہ مکتب فکر کے منابع ناقابل اعتبار ہیں، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ مخالفین کے لیے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ علامہ امینی (رح) خود فرماتے ہیں: "جو باتیں ہم نے الغدیر میں کہی ہیں وہ مذہبی نہیں بلکہ اسلامی ہیں، یعنی یہ ایسے مسائل نہیں ہیں جن پر صرف شیعہ یقین رکھتے ہوں، بلکہ یہ وہ باتیں ہیں جن پر تمام اسلامی مکاتب فکر متفق ہیں۔”[۳] اس طریقہ کار نے کتاب الغدیر کو ایک ایسی آفاقی دستاویز بنا دیا ہے جسے کوئی بھی انصاف پسند محقق نظرانداز نہیں کر سکتا۔
کتاب الغدیر اور اتحادِ اسلامی کا فروغ
بعض لوگ یہ غلط فہمی رکھتے ہیں کہ کتاب الغدیر جیسی کتابیں مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اختلاف کو ہوا دیتی ہیں۔ یہ سوچ دراصل اس کتاب کے اصل مقصد اور اس کے اثرات سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ علامہ امینی (رح) نے اس کتاب کو اس وقت تحریر کیا جب مصر اور دیگر اسلامی ممالک میں شیعہ عقائد کے خلاف ایک منظم تحریری مہم چلائی جا رہی تھی اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے تھے۔ علامہ نے اس کا جواب الزام تراشی سے نہیں، بلکہ علمی اور ادبی پیرائے میں دیا۔
کتاب الغدیر فتنہ اور نفاق کے بیج نہیں بوتی، بلکہ بڑی حکمت اور ذہانت سے یہ واضح کرتی ہے کہ تفرقے کی جڑیں کہاں ہیں اور نفاق کا سرچشمہ کیا ہے۔ علامہ امینی (رح) کا سب سے بڑا ہدف مسلمانوں کے درمیان اسی اتحاد اور یکجہتی کو دوبارہ قائم کرنا تھا جو صدرِ اسلام میں موجود تھا۔ وہ جگہ جگہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کا اتحاد صرف "حبل اللہ” یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے سے ہی ممکن ہے، اور قرآن کی آیت "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"[۴] کی تفسیر میں اہل سنت کے متعدد علماء نے بھی لکھا ہے کہ یہاں "حبل اللہ” سے مراد ولایتِ علی بن ابی طالب (ع) ہے۔[۵]
علامہ امینی (رح) نے کتاب الغدیر کے مختلف مقامات پر اپنے اتحاد پر مبنی نظریے کو واضح کیا ہے۔ وہ تیسری جلد کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ وہ تفرقہ انگیز کتابوں پر تنقید اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ "وہ ہر شر اور فساد کا بیج بوتی ہیں، مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ تعصبات پیدا کرتی ہیں اور اسلامی معاشرے کو بکھیر دیتی ہیں۔”[۶] اسی طرح وہ آٹهویں جلد کے آغاز میں لکھتے ہیں: "کتاب الغدیر اسلامی قوموں کو ایک متحدہ صف میں کھڑا کرتی ہے۔”[۷] آپ کا واضح مؤقف تھا کہ علمی مباحثے چاہے کتنے ہی شدید کیوں نہ ہو جائیں، وہ اس اسلامی اخوت کے رشتے کو نہیں توڑ سکتے جس کا حکم قرآن نے دیا ہے۔
کتاب الغدیر کی علمی و ادبی خصوصیات
کتاب الغدیر صرف ایک کلامی یا تاریخی کتاب نہیں، بلکہ اپنے اندر متعدد علمی اور ادبی جہات رکھتی ہے جس کی وجہ سے اسے ایک بے مثال شاہکار کا درجہ حاصل ہے۔
۱۔ ادبی شاہکار: کتاب الغدیر عربی ادب کا ایک عظیم نمونہ ہے۔ اس کی نثر انتہائی پختہ، روان اور بلیغ ہے۔ یہ بات اس وقت اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس کے مصنف ایک غیر عرب (ایرانی ترک زبان) عالم تھے۔ یہ ان کی غیر معمولی علمی قابلیت اور زبان پر عبور کا ثبوت ہے۔
۲۔ نقل میں امانت داری: علامہ امینی (رح) کی ایک سب سے بڑی خوبی نقلِ قول میں انتہائی امانت داری تھی۔ انہوں نے ہزاروں کتابوں سے حوالے نقل کیے لیکن کہیں بھی خیانت سے کام نہیں لیا۔ وہ پہلے مخالف کا پورا متن بغیر کسی کمی بیشی کے نقل کرتے، اور پھر اس کا علمی اور منطقی جواب دیتے۔ اسی وجہ سے انہیں "امینِ نقل” کا لقب دیا گیا۔[۸]
۳۔ تنقید کا ایک مکتب: کتاب الغدیر کی بنیاد ہی علمی تنقید پر رکھی گئی ہے۔ علامہ امینی (رح) نے منفی اور تفرقہ انگیز کتابوں، تاریخی شخصیات (جیسے عمرو عاص اور معاویہ) اور غلط نظریات (جیسے ابن تیمیہ اور رشید رضا کے افکار) پر بھرپور تنقید کی ہے۔ لیکن یہ تنقید ذاتی دشمنی یا بغض کی بنیاد پر نہیں، بلکہ امت مسلمہ کی اصلاح اور صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے پاکیزہ مقصد کے تحت تھی۔[۹]
۴۔ ایک بے مثال تصنیف: اسلامی تاریخ میں مکتبِ تشیع کے دفاع اور حقانیتِ امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) کے اثبات پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں، لیکن کتاب الغدیر اپنے مواد کی پختگی، جدت، جامعیت اور وسعت کے اعتبار سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ آج تک کوئی ایسی دوسری کتاب تصنیف نہیں ہوئی جس کا ہر پہلو سے الغدیر سے موازنہ کیا جا سکے۔
الغدیر کی جلدوں کا ایک مختصر جائزہ
کتاب الغدیر عربی زبان میں ۲۰ جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم منصوبہ تھا، جن میں سے ۱۱ جلدیں مصنف کی زندگی میں شائع ہوئیں۔ ان شائع شدہ جلدوں کا مختصر تعارف درج ذیل ہے:
جلد اول: اس جلد میں علامہ امینی (رح) نے حدیث غدیر کو ۱۱۰ صحابہ اور ۸۴ تابعین سے اہل سنت کی کتب کے حوالوں سے نقل کیا ہے اور اس کی سند اور دلالت پر تفصیلی بحث کی ہے۔
دوسری جلد: اس جلد میں پہلی اور دوسری صدی ہجری کے ان شعراء کا تذکرہ ہے جنہوں نے واقعہ غدیر کو اپنے اشعار میں بیان کیا، جن میں امیرالمؤمنین (ع)، حسان بن ثابت اور کمیت جیسے شعراء شامل ہیں۔ [۹]
تیسری جلد: تیسری اور چوتھی صدی کے غدیریہ شعراء کے کلام کے ساتھ ساتھ، اس جلد میں ۱۶ ایسی کتابوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے جو توہین اور افترا سے بھری ہوئی تھیں۔
چوتھی جلد: چوتھی، پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کے ۳۱ غدیریہ شعراء کے حالات اور ان کے کلام کا ادبی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
پانچویں پنجم: چھٹی اور ساتویں صدی کے شعراء کے ذکر کے ساتھ ساتھ، اس جلد میں "جعلِ حدیث” یعنی حدیثیں گھڑنے کے موضوع پر ایک نہایت عمیق تحقیق شامل ہے۔ علامہ نے ۷۰۰ جھوٹے راویوں کے نام اور ۱۰۰ جعلی حدیثوں کی نشاندہی کی ہے۔[۱۰]
چھٹی جلد: آٹھویں صدی کے شعراء اور ان کے کلام کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت علی (ع) کے علم جیسے فضائل پر بحث کی گئی ہے اور اس ضمن میں اہل سنت کی کتب سے ۱۵۰ مصادر پیش کیے گئے ہیں۔
ساتویں جلد: نویں صدی کے شعراء کے تذکرے کے ساتھ، اس جلد میں شیعہ اور سنی نقطہ نظر سے "ولایت” کے مفہوم پر عمیق بحث شامل ہے۔[۱۱]
بقیہ جلدیں (۸ تا ۱۱): ان جلدوں میں بھی شعراء کے تذکرے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم کلامی اور تاریخی مباحث، جیسے خلفاء کے فضائل میں گھڑی گئی روایات پر تنقید، کو جگہ دی گئی ہے۔
الغدیر پر مسلم دنیا کے دانشوروں کے تاثرات
کتاب الغدیر کی اشاعت نے پوری مسلم دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ عرب اور اسلامی ممالک کے اخبارات و جرائد نے اس پر تبصرے شائع کیے اور ہر طرف سے علامہ امینی (رح) کے نام توصیفی خطوط اور تقریظوں کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کتاب کی تعریف کرنے والوں میں بڑی تعداد اہل سنت کے جید علماء، دانشوروں اور ادیبوں کی تھی۔ ان تقریظوں میں سے چند مثالیں یہ ہیں:
محمد عبدالغنی حسن (مصر): "میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کے اس صاف و شفاف چشمے (غدیر) کو شیعہ اور سنی بھائیوں کے درمیان صلح و صفائی کا ذریعہ بنا دے تاکہ وہ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر امتِ اسلامیہ کی عمارت تعمیر کریں۔”[۱۲]
عادل غضبان (مدیر، مجلہ الکتاب، مصر): "یہ کتاب شیعہ منطق کو واضح کرتی ہے اور اہل سنت اس کتاب کے ذریعے شیعوں کو صحیح طور پر پہچان سکتے ہیں۔ یہ صحیح پہچان شیعہ اور سنی آراء کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا سبب بنے گی اور سب مل کر ایک متحدہ صف تشکیل دیں گے۔”[۱۳]
ڈاکٹر محمد غلاب (استاد، جامعۃ الازہر، مصر): "آپ کی کتاب میرے لیے بہت مددگار ثابت ہو گی اور میں دوسروں کی طرح شیعوں کے بارے میں غلطی نہیں کروں گا۔”[۱۴]
ڈاکٹر عبدالرحمن کیالی (حلب، شام): "کتاب الغدیر اور اس کا گراں قدر مواد ہر مسلمان کے لیے آگاہی کا باعث ہے۔ ہمیں اس کے ذریعے ماضی کی تلافی کرنی چاہیے اور مسلمانوں کے اتحاد کی راہ میں کوشش کر کے اجر و ثواب حاصل کرنا چاہیے۔”[۱۵]
یہ تاثرات واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ انصاف پسند علمی دنیا نے کتاب الغدیر کو تفرقہ کا باعث نہیں، بلکہ باہمی افہام و تفہیم اور اتحاد کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
اردو ترجمہ ایک عظیم علمی خدمت
کتاب الغدیر فی الکتاب و السنّة و الأدب جیسی عظیم کتاب کی اردو زبان میں عدم موجودگی ایک بہت بڑا خلا تھا۔ اس خلا کو پُر کرنے کا سہرا عالی جناب مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری (مرحوم) کے سر جاتا ہے۔ آپ نے حضرت آیۃ اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی کی فرمائش پر اپنے تمام اہم کام چھوڑ کر اس کتاب کے ترجمے کا بیڑا اٹھایا اور بہت کم مدت میں تمام گیارہ جلدوں کا ترجمہ مکمل کر لیا۔
ترجمے کی پہلی جلد ۱۹۹۳ء میں شائع ہوئی، لیکن پھر نامساعد حالات کے باعث اشاعت کا سلسلہ رک گیا۔ ایک طویل عرصے کے بعد، ۲۰۱۰ء میں "قرآن و عترت فاؤنڈیشن” نے اس عظیم کام کی اشاعت کی ذمہ داری سنبھالی اور اسے بہترین انداز میں منظرِ عام پر لایا۔
کتاب الغدیر کے اس ترجمے کی اشاعت کی داستان میں ایک دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک سفر کے دوران مولانا مرحوم سے ترجمے کی دو جلدیں (چھٹی اور گیارہویں) چوری ہو گئی تھیں، جس کا انہیں آخر عمر تک قلق رہا۔ جب اشاعت کا مرحلہ آیا تو مترجم کے فرزند، سید شاہد جمال رضوی نے اپنی کوششوں سے ان مفقودہ جلدوں کا ترجمہ مکمل کیا تاکہ یہ عظیم علمی ورثہ مکمل صورت میں قارئین تک پہنچ سکے۔
کتاب کی ضخامت کے پیشِ نظر اصل گیارہ جلدوں کو اردو میں چھ حصوں میں شائع کیا گیا ہے۔ ترجمے کی پہلی جلد میں مترجمِ الغدیر مولانا سید علی اختر رضوی کی سوانح حیات اور ان کے علمی و ادبی مقام پر علماء کے تاثرات پر مشتمل ایک خصوصی گوشہ "گوشۂ شعور” کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مصنفِ کتاب، علامہ امینی (رح) کی ایک جامع سوانح حیات بھی شاملِ اشاعت ہے تاکہ اردو قارئین اس عظیم محقق کی زندگی کے ہر پہلو سے روشناس ہو سکیں۔ یہ ترجمہ اپنی اشاعت کے بعد اس قدر مقبول ہوا کہ اسے ایران، پاکستان اور ہندوستان میں متعدد بار شائع کیا گیا اور علمی حلقوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔[۱۶]
خاتمہ
کتاب الغدیر صرف حدیثِ غدیر کا ایک جامع انسائیکلوپیڈیا نہیں، بلکہ اسلامی اتحاد کا ایک ٹھوس اور عملی منشور بھی ہے۔ علامہ امینی (رح) نے مخالفین کے مصادر سے ہی ان کے اعتراضات کا جواب دے کر یہ ثابت کر دیا کہ شیعہ عقائد کی بنیادیں ہوا میں نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی ٹھوس دلیلوں پر قائم ہیں۔ بلاشبہ، کتاب الغدیر چودھویں صدی ہجری کا ایک عظیم علمی کارنامہ اور اتحاد بین المسلمین کی ایک لازوال دستاویز ہے۔
حوالہ جات
[۱] شہیدی و حکیمی، یادنامۂ علامہ امینی، ص ۲۲۔
[۲] عباسی، رویکرد الغدیر بہ تحریف، ص ۲۵۔
[۳] عباسی، رویکرد الغدیر بہ تحریف، ص ۲۶۔
[۴] سورہ آل عمران آیت ۱۰۳۔
[۵] گودرزنیا، علامہ امینی، ص ۷۲۔
[۶] گودرزنیا، علامہ امینی، ص ۷۱۔
[۷] مطهری، یادنامۂ علامہ امینی، ص ۲۶۸۔
[۸] مرادی، خورشید امامت، ص ۴۶۔
[۹] مرادی، خورشید امامت، ص ۴۷۔
[۹] گودرزنیا، علامہ امینی، ص ۵۸۔
[۱۰] مرادی، خورشید امامت، ص ۶۵۔
[۱۱] مرادی، خورشید امامت، ص ۶۸۔
[۱۲] مطهری، یادنامۂ علامہ امینی، ص ۲۶۹۔
[۱۳] مطهری، یادنامۂ علامہ امینی، ص ۲۷۰۔
[۱۴] مطهری، یادنامۂ علامہ امینی، ص ۲۷۰۔
[۱۵] مطهری، یادنامۂ علامہ امینی، ص ۲۷۰۔
[۱۶] علی اختر، ترجمه الغدیر به اردو، ج۱ ص۱۰۔
فہرست منابع
۱. امینی، عبدالحسین، برگزیدہ الغدیر، تلخیص، ترجمہ و تحقیق: محمد حسن شفیعی شاہرودی، قم، انتشارات موسسہ میراث نبوت، ۱۳۸۸ش.
2. امینی، عبدالحسین، داستان غدیر خم، تدوین، تحقیق و ترجمہ: محمد حسن شفیعی شاہرودی، قم، موسسہ میراث نبوت، ۱۳۸۹ش.
3. انصاری زنجانی، محمد، غدیر در آئینۂ کتاب، قم، انتشارات دلیل ما، ۱۳۹۰ش.
4. ترجمه الغدیر به اردو، سید علی اختر هندی، ترجمه جلد اول، بمبئی، ۱۳۹۰ق.
5. حکیمی، امیر مہدی، نگاہی بہ دریا از دور (علامہ امینی و الغدیر در اندیشہها)، قم، انتشارات دلیل ما، ۱۳۸۱ش.
6. حکیمی، محمدرضا، حماسۂ غدیر، قم، انتشارات دلیل ما، ۱۳۸۹ش.
7. شہیدی، سید جعفر و محمدرضا حکیمی، یادنامۂ علامہ امینی، قم، موسسہ بوستان کتاب، ۱۳۹۵ش.
8. عباسی، روح الله، رویکرد الغدیر بہ تحریف، قم، انتشارات دلیل ما، ۱۳۸۳ش.
9. گودرزنیا، محدثہ، علامہ امینی، تہران، موسسہ فرہنگی مدرسہ برہان (انتشارات مدرسہ)، ۱۳۹۱ش.
10. مرادی، محمد ہاشم، خورشید امامت (۱۲۱ فضیلت از فضائل حضرت علی (ع))، اراک، نشر نویسندہ، ۱۳۹۰ش.
11. مطهری، مرتضی، یادنامۂ علامہ امینی، قم، موسسہ بوستان کتاب، ۱۳۹۵ش.
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
تاج آبادی، رضا؛جایگاه کتاب الغدیر در جهان اسلام و بررسی ویژگیهای آن (عالمِ اسلام میں کتاب الغدیر کا مقام اور اس کی خصوصیات کا جائزہ)، مجلہ رہیافت فرہنگ دینی، بہار و تابستان ۱۴۰۰ – نمبر ۱۳ و ۱۴ (۲۳ صفحہ – ۲۶ سے ۴۸)۔