اسماء بنت عمیس کی زندگی: ایمان، ہجرت اور وفاداری کی ایک مثال

اسماء بنت عمیس کی زندگی: ایمان، ہجرت اور وفاداری کی ایک مثال

2026-08-11

10 مشاہدات

کپی کردن لینک

اسماء بنت عمیس ابتدائے اسلام کی ان عظیم خواتین میں سے ایک ہیں جن کی زندگی ایمان، قربانی، اور تاریخ کے اہم ترین گھرانوں سے وابستگی کی ایک روشن مثال ہے۔ آپ کی زندگی کا مطالعہ نہ صرف ایک باکمال خاتون کی سیرت کو آشکار کرتا ہے بلکہ صدر اسلام کے معاشرتی اور خاندانی تعلقات کی گہرائی کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ اس مقالے میں ہم اسماء بنت عمیس کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔

اسماء بنت عمیس کا نسب اور خاندان

آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے: اسماء بنت عمیس بن مَعد بن تَیم بن حارث بن کعب بن مالک بن قحافہ بن عامر بن ربیعہ بن عامر بن معاویہ بن زید بن مالک بن نَسر بن وہب اللہ بن شہران بن عفرس بن خلف بن اَفتَل (خَثعَم) [۱]۔ آپ کی والدہ کا نام ہند (خولہ) بنت عوف بن زہیر الحارث بن حَماطہ بن جُرَش تھا [۲]۔

آپ کی والدہ کی طرف سے آٹھ یا نو بہنیں تھیں، جبکہ چھ بہنیں سگی تھیں۔ ان میں سے چار بہنیں تاریخ میں بہت مشہور ہوئیں اور رسول اکرم (ص) نے ان کے بارے میں فرمایا: "اسماء بنت عمیس، سلمیٰ، ام الفضل، اور میمونہ، یہ چار مومن بہنیں ہیں جن سے ان کے ایمان کی وجہ سے محبت کی جاتی ہے” [۳]۔ ان بہنوں کے نکاح بھی تاریخ کی عظیم شخصیات سے ہوئیں: اسماء بنت عمیس، حضرت جعفر بن ابی طالب (ع) اور بعد میں ابوبکر اور پھر حضرت علی (ع) کی زوجہ بنیں۔ سلمیٰ بنت عمیس، حضرت حمزہ بن عبدالمطلب (ع) کی زوجہ تھیں۔ لبابہ (ام الفضل)، حضرت عباس بن عبدالمطلب (ع) کی زوجہ تھیں۔ میمونہ (ام المومنین)، نبی اکرم (ص) کی زوجہ تھیں۔ اسی بنا پر رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ اسماء بنت عمیس کی والدہ ہند، دامادوں کے اعتبار سے معزز ترین خاتون ہیں[۴]۔

حبشہ کی طرف ہجرت

اسماء بنت عمیس نے مکہ میں، رسول اللہ (ص) کے دارِ ارقم میں مستقر ہونے سے پہلے ہی اسلام قبول کیا اور آپ (ص) کے دستِ مبارک پر بیعت کی [۵]۔ جب قریش کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو آپ نے اپنے شوہر حضرت جعفر بن ابی طالب (ع) کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔

حبشہ میں، اسماء بنت عمیس نے مہاجرین کی سرپرستی میں اپنے شوہر کا بھرپور ساتھ دیا۔ وہاں کے حاکم نجاشی کے دربار میں انہیں بہت عزت و احترام حاصل تھا۔ اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب عبداللہ بن جعفر کی ولادت ہوئی تو اس کے چند روز بعد نجاشی کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا۔ نجاشی نے حضرت جعفر (ع) کی تقلید میں اپنے بیٹے کا نام عبداللہ رکھا اور اسماء بنت عمیس نے اپنے بیٹے عبداللہ کے ساتھ نجاشی کے بیٹے کو بھی دودھ پلایا، جس سے نجاشی کے دل میں ان کی قدر و منزلت اور بڑھ گئی [۶]۔

مدینہ واپسی اور جعفر بن ابی طالب کی شہادت

اسماء بنت عمیس سن ۷ ہجری تک اپنے شوہر کے ہمراہ حبشہ میں مقیم رہیں۔ اس سال جب وہ دیگر مہاجرین کے ساتھ مدینہ واپس آئیں تو رسول اللہ (ص) خیبر فتح کر چکے تھے۔ آپ (ص) ان کی واپسی پر بے حد خوش ہوئے اور فرمایا: "خدا کی قسم، میں نہیں جانتا کہ مجھے کس بات کی زیادہ خوشی ہے؛ خیبر کی فتح کی یا جعفر کی آمد کی” [۷]۔ آپ (ص) نے انہیں خیبر کے مالِ غنیمت میں سے بھی حصہ عطا فرمایا [۸]۔

مدینہ واپسی کے بعد ایک موقع پر عمر بن خطاب نے اسماء بنت عمیس سے کہا: "ہم نے ہجرت میں تم پر سبقت حاصل کی ہے، لہٰذا ہم رسول اللہ (ص) سے زیادہ قریب ہیں۔” اس پر اسماء بنت عمیس نے جرأت سے جواب دیا: "خدا کی قسم، ایسا نہیں ہے۔ تم لوگ رسول اللہ (ص) کے ساتھ تھے، وہ تمہارے بھوکوں کو کھلاتے اور جاہلوں کو نصیحت کرتے تھے، جبکہ ہم اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے ایک دور دراز سرزمین میں تھے۔” جب یہ بات نبی اکرم (ص) تک پہنچی تو آپ (ص) نے فرمایا: "عمر تم سے زیادہ مجھ پر حق نہیں رکھتے۔ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک ہجرت ہے، جبکہ تمہارے لیے، اے کشتی والو، دو ہجرتیں ہیں؛ ایک نجاشی کی طرف اور دوسری میری طرف” [۹]۔

مدینہ واپسی کے صرف ایک سال بعد سن ۸ ہجری میں جنگِ موتہ کے دوران اسماء بنت عمیس کے شوہر، حضرت جعفر بن ابی طالب (ع)، اسلامی لشکر کی قیادت کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ رسول اللہ (ص) کو جب ان کی شہادت کی خبر ملی تو آپ (ص) خود ان کے گھر تشریف لائے۔ اسماء بنت عمیس فرماتی ہیں کہ اس صبح میں نے چمڑا رنگا، آٹا گوندھا اور بچوں کو نہلا کر تیل لگایا تھا کہ رسول اللہ (ص) تشریف لائے۔ آپ (ص) نے میرے بچوں کو سینے سے لگایا، انہیں پیار کیا اور آپ (ص) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ میں نے پوچھا: "یا رسول اللہ، کیا جعفر کی کوئی خبر آئی ہے؟” آپ (ص) نے فرمایا: "ہاں، جعفر شہید ہو گئے ہیں۔” یہ سن کر میں نے فریاد کی اور عورتیں جمع ہو گئیں۔ نبی اکرم (ص) نے فرمایا: "اے اسماء، واویلا نہ کرنا اور نازیبا کلمات نہ کہنا۔” پھر آپ (ص) نے اہلِ خانہ کو حکم دیا کہ آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ وہ غم میں مشغول ہیں [۱۰]۔

حضرت جعفر (ع) کے تمام فرزند اسماء بنت عمیس کے بطن سے تھے اور ان کی پیدائش حبشہ میں ہوئی۔ ان کے تین بیٹے تھے:

۱. عبداللہ بن جعفر: حضرت جعفر (ع) کے سب سے بڑے بیٹے اور حبشہ میں پیدا ہونے والے پہلے مسلمان بچے تھے۔ رسول اللہ (ص) کو ان سے بے حد محبت تھی۔ حضرت جعفر (ع) کی شہادت کے دن آپ (ص) نے عبداللہ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی: "اے اللہ، جعفر کی نسل میں نیکی عطا فرما اور عبداللہ کی تجارت میں برکت دے۔ عبداللہ خلقت اور خصلت میں مجھ سے مشابہت رکھتا ہے۔ میں دنیا اور آخرت میں تمہارا ولی ہوں” [۱۱]۔ حضرت علی (ع) نے اپنی بیٹی حضرت زینب کبریٰ (س) کا نکاح ان ہی سے کیا تھا۔

۲. عون بن جعفر: عون بن جعفر بھی حبشہ میں پیدا ہوئے اور اپنے والدین کے ساتھ مدینہ آئے۔ حضرت جعفر (ع) کی شہادت کے بعد رسول اللہ (ص) نے ان کے حق میں بھی دعا کی اور فرمایا: "عون خلقت اور اخلاق میں مجھ سے مشابہ ہے” [۱۲]۔ حضرت علی (ع) نے اپنی دوسری بیٹی، حضرت ام کلثوم (س)، کا نکاح ان سے کیا۔ عون بن جعفر کو حضرت علی (ع) کے اصحاب میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی شہادت کے بارے میں مختلف روایات ہیں؛ بعض کے مطابق وہ معرکہ تستر میں شہید ہوئے، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ وہ جنگِ صفین میں شہید ہوئے [۱۳]۔

۳. محمد بن جعفر: آپ بھی حبشہ میں پیدا ہوئے۔ رسول اللہ (ص) نے ان کے بارے میں فرمایا تھا: "محمد ہمارے چچا ابوطالب سے مشابہت رکھتا ہے” [۱۴]۔ وہ رسول اللہ (ص) کے صحابی اور حدیث کے راوی تھے۔

ابوبکر سے شادی اور محمد بن ابی بکر کی پیدائش

حضرت جعفر (ع) کی شہادت کے بعد اسماء بنت عمیس نے رسول الله (ص) کے حکم سے ابوبکر سے نکاح کر لیا۔ یہ نکاح سن ۸ ہجری میں غزوۂ حنین کے موقع پر ہوا [۱۵]۔ اس شادی سے محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے، جن کی ولادت سن ۱۰ ہجری میں حجۃ الوداع کے سفر کے دوران ہوئی۔

اہل بیت (ع) سے قریبی تعلقات

ابوبکر کی زوجیت میں آنے کے باوجود اسماء بنت عمیس کے تعلقات حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ (س) کے گھرانے سے پہلے کی طرح گہرے اور مضبوط رہے۔ خلافت کے معاملے پر سیاسی اختلافات کے باوجود آپ نے اپنی وفاداری اور محبت کو قائم رکھا۔ حضرت فاطمہ الزہرا (س) کے ایامِ علالت میں اسماء بنت عمیس ان کی رازدار اور خدمت گزار تھیں۔ ایک روز حضرت فاطمہ (س) نے ان سے فرمایا: "مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ عورت کے جنازے کو کھلی چارپائی پر لے جایا جائے جس سے اس کا جسم نمایاں ہو۔” اسماء بنت عمیس نے عرض کیا کہ میں نے حبشہ میں ایک طریقہ دیکھا ہے، اگر آپ پسند کریں تو ویسا بناؤں؟ پھر انہوں نے کھجور کی شاخیں منگوا کر چارپائی کے اوپر ایک ڈولی کی شکل بنائی اور اس پر کپڑا ڈال دیا، جس سے ایک پردہ دار تابوت تیار ہو گیا۔ اسے دیکھ کر حضرت فاطمہ (س) نے تبسم فرمایا، جو ان کے والد (ص) کے وصال کے بعد پہلی بار دیکھا گیا تھا [۱۶]۔ یہ اسلام میں بنایا جانے والا پہلا تابوت تھا۔

حضرت فاطمہ (س) نے اسماء بنت عمیس کو وصیت کی تھی کہ "مجھے تم اور علی (ع) غسل دینا اور کسی کو اندر آنے کی اجازت نہ دینا” [۱۷]۔ چنانچہ جب حضرت فاطمہ (س) کا وصال ہوا اور عائشہ اندر آنا چاہتی تھیں تو اسماء بنت عمیس نے انہیں روک دیا۔ عائشہ نے اپنے والد ابوبکر سے شکایت کی۔ جب ابوبکر نے اسماء بنت عمیس سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ خود حضرت فاطمہ (س) کی وصیت ہے، جس پر ابوبکر نے کہا: "جیسا انہوں نے کہا ہے، ویسا ہی کرو” [۱۸]۔ یہ واقعات حضرت علی (ع) کے گھرانے میں اسماء بنت عمیس کے اعتماد اور مرتبے کو ظاہر کرتے ہیں۔

ابوبکر کا انتقال سن ۱۳ ہجری میں ہوا۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ انہیں اسماء بنت عمیس غسل دیں، چنانچہ آپ نے اس وصیت پر عمل کیا [۱۹]۔

حضرت علی (ع) سے شادی

ابوبکر کے وفات پانے کے بعد حضرت علی (ع) نے اسماء بنت عمیس سے نکاح کر لیا اور ان کے تمام بچوں کی سرپرستی اپنے ذمہ لے لی۔ اسماء بنت عمیس کے بیٹے محمد بن ابی بکر کی پرورش حضرت علی (ع) کے زیرِ سایہ ہوئی۔ حضرت علی (ع) ان سے اپنے بیٹے کی طرح محبت کرتے تھے اور فرماتے تھے: "محمد میرا بیٹا ہے ابوبکر کی صلب سے” [۲۰]۔ محمد بن ابی بکر نے بھی حضرت علی (ع) کا ہر موقع پر ساتھ دیا، حتیٰ کہ جنگِ جمل میں اپنی بہن عائشہ کے مقابلے میں حضرت علی (ع) کے لشکر میں شامل ہو کر لڑے۔ بعد میں وہ مصر کے گورنر مقرر ہوئے، جہاں انہیں انتہائی بے دردی سے شہید کر کے ان کی لاش کو گدھے کی کھال میں جلا دیا گیا [۲۱]۔ اس خبر نے اسماء بنت عمیس کو شدید صدمہ پہنچایا اور کہا جاتا ہے کہ شدتِ غم سے ان کے سینے سے خون جاری ہو گیا [۲۲]۔

حضرت علی (ع) اور اسماء بنت عمیس سے ایک بیٹے یحییٰ پیدا ہوئے، جو کمسنی میں ہی وفات پا گئے اور ان سے کوئی نسل آگے نہیں چلی [۲۳]۔ بعض منابع میں عون نامی ایک اور بیٹے کا بھی ذکر ہے، لیکن غالب گمان یہی ہے کہ یہ اسماء بنت عمیس کے پہلے شوہر حضرت جعفر (ع) کے بیٹے عون کے ساتھ التباس کا نتیجہ ہے۔

نتیجہ

اسماء بنت عمیس کی زندگی ایک ایسی مومنہ کی داستان ہے جس نے اسلام کے ابتدائی اور مشکل ترین دور میں اپنے ایمان پر ثابت قدمی دکھائی۔ آپ نے حبشہ کی ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں، شوہر کی شہادت کا غم سہا، اور تاریخ کے تین عظیم ترین گھرانوں کی فرد بنیں۔ آپ کی سیرت وفا، جرأت، حکمت اور اہل بیتِ رسول (ص) سے غیر متزلزل محبت کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ ایک عورت معاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں کے باوجود اپنے اصولوں اور تعلقات کو کس طرح استقامت کے ساتھ نبھا سکتی ہے۔ اسماء بنت عمیس کا کردار آج بھی خواتین کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔

حوالہ جات

[۱] ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۲۸۰؛ ابن اثیر، اسدالغابۃ، ج۷، ص۱۲۔
[۲] بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۴۴۔
[۳] صدوق، الخصال، ص۳۶۳۔
[۴] مسعودی، مروج الذہب، ج۱، ص۶۵۷۔
[۵] ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۲۸۰۔
[۶] الزبیری، نسب قریش، ص۸۱۔
[۷] ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، ج۴، ص۳۔
[۸] ابن جوزی، صفۃ الصفوۃ، ج۲، ص۴۴۔
[۹] ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۲۸۱۔
[۱۰] ابن اثیر، الکامل، ج۲، ص۲۳۸۔
[۱۱] ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۳۷۔
[۱۲] ابن اثیر، اسدالغابۃ، ج۴، ص۳۰۲۔
[۱۳] بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۴۵۔
[۱۴] ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۳۷۔
[۱۵] ابن حجر العسقلانی، الاصابۃ، ج۴، ص۲۲۵۔
[۱۶] ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۴، ص۳۶۴۔
[۱۷] ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۴، ص۳۶۷۔
[۱۸] ابن اثیر، اسدالغابۃ، ج۷، ص۲۲۔
[۱۹] ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۲۸۴۔
[۲۰] ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۶، ص۵۳۔
[۲۱] یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۹۹۹۔
[۲۲] الثقفی الکوفی، الغارات، ج۱، ص۲۸۷۔
[۲۳] الزبیری، نسب قریش، ص۴۴۔

فہرست منابع

۱. ابن ابی الحدید، ابوحامد بن ہبۃ اللہ بن محمد، شرح نہج البلاغۃ، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۳۸۵ق۔
2. ابن اثیر، ابوالحسن عزالدین علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر و داربیروت، ۱۳۸۵ق۔
3. ابن اثیر، ابوالحسن عزالدین علی بن محمد، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، تحقیق: علی محمد معوض و معاد احمد عبدالموجود، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ق۔
4. ابن حجر العسقلانی، احمد بن علی بن محمد، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، بیروت، دارالکتاب العربی۔
5. ابن سعد، محمد بن منیع البصری، الطبقات الکبری، بیروت، دارصادر۔
6. ابن عبدالبر، ابوعمریوسف بن عبدالله بن محمد، الاستیعاب فی اسماء الاصحاب، بیروت، دارالکتاب العربی۔
7. ابن جوزی، ابوالفرج عبدالرحمن، صفۃ الصفوۃ، تحقیق: ابراہیم رمضان و سعید اللحام، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۰۹ق۔
8. ابن ہشام، ابومحمد عبدالملک، السیرۃ النبویۃ، تحقیق: مصطفی السقا و دیگران، بیروت، دارالقلم۔
9. الزبیری، ابوعبدالله المصعب بن عبدالله، نسب قریش، بی‌جا، دارالمعارف للطباعۃ والنشر۔
10. الثقفی الکوفی، ابواسحاق ابراہیم بن محمد، الغارات، تحقیق و تعلیقات: سید جلال الدین حسینی ارموی، انتشارات انجمن آثارملی۔
11. بلاذری، احمد بن یحییٰ، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمیداللہ، مصر، دارالمعارف۔
12. شیخ صدوق، ابوجعفر محمد بن الحسین، الخصال، تحقیق: علی اکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین فی الحوزۃ العلمیۃ، ۱۴۰۳ق۔
13. مسعودی، ابوالحسن علی بن حسین، مروج الذہب، ترجمہ: ابوالقاسم پاینده، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی۔
14. یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، ترجمہ: ڈاکٹر محمد آیتی، تہران، بنگاه ترجمہ و نشر کتاب، ۱۳۴۳ش۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

۱. الشافعی، سعدالدین، المرأة الفاضلة: أسماء بنت عمیس الخثعمیة، منبر الاسلام، السنة السابعة، رجب ۱۳۶۹ھ، المجلد ۴، ص۹۲۔
2. مهدویان، محبوب، أسماء بنت عمیس معرفی و نقد، تاریخ اسلام، پاییز ۱۳۸۵ش، شماره ۲۷، ص۵-۳۰۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔